Feminism : روائتی معاشروں میں سرمایہ دارانہ جبر کے پھیلاو کا آلہ کار ——– طلحہ افتخار

0

یہ عورت مارچ اور اس جیسی دوسری حقوقِ نسواں کی تحاریک سرمایہ داری کا آلہ ِکا ر او ر سرمایہ دارانہ Deterritorializational عمل ہے جس میں سرمایہ داری روائتی و مذہبی معاشروں کے اقداری ڈھانچوں کو کمزور و تلف کرتی ہے، ان معاشروں کے مسلمات کی Devaluation کرتی ہے، ان کے مسلمات کی بیخ کنی کرتی ہے اور ساتھ ہی اپنی عینک Capitalism سے ان معاشروں میں نئی اقداری صف بندی قائم کرتی ہیں۔ Feminism کوئی Anti-Capital یا Anti-Liberal تحریک نہیں بلکہ یہ ان دو نوں تحاریک کی Corollary یعنی منطقی نتیجہ ہے۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ Feminism دراصل روائتی معاشروں میں Capitalism اور Liberalism کے دائرہِ کار کو پھیلانے (Stretch out) کے ایک آلہ کار کے علاوہ کچھ نہیں۔ Feminism استحصالی نظام کا خاتمہ نہیں بلکہ استحصالی نظام کے پھیلاو کا ضامن اور اس کی ترویج کا آلہ کار ہے۔ Feminism روائتی، مابعدِنوآبادیاتی معاشروں میں سرمایہ دارانہ جبر کو وسعت دینے اور غیرسرمایہ دارانہ عدل، جیسے کہ روائتی و مذہبی عدل، کو موقو ف کرنے پر مامور ہے۔

سرمایہ دارانہ جبر کیا ہے؟ سرمایہ داری کا فریب یہ ہے کہ فرد کو آزادی کا خواب دیکھا کر اسے اپنے Order میں جکڑ لیتی ہے۔ فرد کی زندگی کے تمام شعبے سرمایہ داری کے حصار میں بند ہو جاتے ہیں اور جس آزادی کے سنہرے باغ اسے دکھائے جاتے ہیں وہ سراب بن کر غائب ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ داری کا جبر سرمایہ دارانہ معاشروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس جبر کا بہتریں اظہار Capitalistic Market میں ہوتا ہے جہاں فرد اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر پاتا اور اسْ کی Choices کا چنائو Market طے کرتی ہے۔ فرد کے صبح شام کے اوقا ت کار Market طے کرتی ہے، فرد کا طعام و لباس، علاج و معالجہ، رہن سہن وغیرہ، غرض یہ کہ اس کا پورا وجود سرمایہ دارانہ عمل کے شکنجے میں ہوتا ہے۔ اس ہی لاچاریت کو سرمایہ دارانہ جبر کہتے ہیں۔

عمومی سطح پر Feminism اور اس جسی دیگر تحاریک کا مقصد روائتی عورت، جو کہ مذہبی و روائتی معاشروں میں ایک مقام رکھتی ہے، کو غیرروائتی و جدید عورت میں تبدیل کرنا ہے۔ اس لیے یہ تحاریک روائتی معاشروں کے مسلمات کو، جن پر سوال پہلے اٹھتا ہی نہیں تھا جیسا کہ عورت گھر کے کام کیوں کر ے؟ عورت گھر کی ذمہ داریاں کیوں نبھائے وغیرہ پر سوال اٹھا ناہے۔ ان تحاریک کے خیال میں عورت گھر میں رہ کر اپنی صلاحیتیں (سرمائے کی بڑھوتری کے عمل میں کردار ادا کرنا) ضائع و برباد کرتی ہے کیوں کہ اصل کام تو ہے ہی سرمائے کی بڑھوتری اور وہ تو سرمائے کے عمل میں شرکت کر کے ہی ممکن ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اور اس جیسی تحاریک کا مقصد عورت کو ’گھر‘ سے باہر نکالنا ہی کیوں ہے؟َ گھوم پھر کر ان تحاریک کا مقصدومنصوبہ یہی نظر آتا ہے کہ کسی طرح روائتی و مذہبی معاشروں کی عورت روائتی گھر سے متنفر ہو جائے، گھر سے باہر نکل کر بڑھوتریِ سرمایہ کے عمل میں شامل ہو جائے۔

Capital کی Expansion کے لیے لازم ہے کہ روائتی عورت کو جدید عورت میں یا “افرادی قوت” میں تبدیل کیا جا ئے تاکہ سرمائے کی بڑ ھوتری اور زیادہ ممکن ہو سکے۔ پر اس کے لیے ضروری ہے کہ عورت (ماں، بہن، بیوی، بیٹی) کو روائتی رشتوں (باپ، بھائی، شوہر، بیٹا) سے بدظن کیا جائے، کیوں کہ یہی وہ روائتی رشتے ہیں جو کہ عورت کو Market کی عمل داری سے باہر رکھنے کا با عث بنتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ عمل اور بڑھوتریِ سرمایہ  Accumulation of Profit ایک لامتناہی عمل ہے، جس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ بڑھوتریِ سرمایہ کا عمل Market میں ممکن ہوتا ہے۔ Market کو افرادی قوت کی مسلسل و مستقل ضرورت رہتی ہے۔ روائتی طور پر افرادی قوت، عمومی سطح پر، مرد حضرات پر مشتمل ہوتی ہے (جن کی لازما کوئی عددی مقدار ہوتی ہے) جس کا مطلب یہی ہوا کے سرمائے کی بڑھوتری کا عمل کہیں نا کہیں رکے گا، سرمائے کی بڑھوتری کی کوئی حد آجائے گی، سرمائے کی بڑھوتری پر قدغن لگ جائے گی جو سرمایہ داری میں گناہِ کبیرہ سے کم نہیں۔ اور جب سرمائے کی بڑھوتری پر قدغن لگتی ہے تو اصل میں یہ آزادی پر قدغن ہے (بڑھوتریِ سرمایہ اور بڑھوتریِ آزادی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جتنا سرمایہ بڑھتا ہے اتنی ہی آزادی ممکن ہوتی ہے) جو کہ جدید مغرب اور جدید مغربی مفکرین کے لیے انسانیت کی تذلیل، انسانیت کے خلاف عزم جرم، IMMATURITY، IGNORANCE، INTOLERANCE ہے۔ یہ ایک ایساجرم ہے کہ جس کی اجازت کسی طور ممکن نہیں۔ لہذا سرمایہ داری کے عمل کو مستقل قائم رکھنے کے لیے، بڑھوتریِ سرمائے کی لامتناہیت کوممکن بنانے کے لیے Market کو ہر وقت اور زیادہ EFFICIENT بنانے کی صرورت رہتی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب Market کے دائر ہ کا ر کو مسلسل پھیلایا جائے۔ Market کی Expansion کے لیے ضروری ہے کہ وہ نفوس جو کہ Market کی عملداری سے باہر ہے (روائتی عورت) کو Market کی عملداری میں شامل کیا جائے۔ Capital کی Expansion کے لیے لازم ہے کہ روائتی عورت کو جدید عورت میں تبدیل کیا جائے۔ روائتی عورت کو “افرادی قوت” میں تبدیل کیا جا ئے تاکہ سرمائے کی بڑ ھوتری اور زیادہ ممکن ہو سکے۔ پر اس کے لیے ضروری ہے کہ عورت (ماں، بہن، بیوی، بیٹی) کو روائتی رشتوں (باپ، بھائی، شوہر، بیٹا) سے بدظن کیا جائے، کیوں کہ یہی وہ روائتی رشتے ہیں جو کہ عورت کو Market کی عمل داری سے باہر رکھنے کا با عث بنتے ہیں، تاکہ عورت ان رشتوں سے آزاد ہو کر Market کا حصہ بنے ا ور Market کی عملداری میں شامل ہو جائے اور سرمائے کی بڑھوتری کا باعث بن جائے۔

Freedomاور Equality (مغربی ایمانیات) کے زیرِاثر ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسے بھونڈے نعروں کا وہی مطلب معتبر ہے جو Liberalism اور اس کی بغل بچہ تحریک Feminism نے ا نیسویں اور بیسویں صدی میں جدید مغرب نے لیا، ان نعروں کا مطلب صرف یہی ہے کہ ’فرد آزاد ہے کہ وہ اپنا تصورِ خیر کا تعین خود کرے‘، خیر کو چننا نہیں خیر کا تعین کرنا اپنی مرضی سے۔ ان نعروں کی بنیاد پر انسان سرمایہ دارانہ شخصیت بنتا ہے اور سرمائے کی بالا دستی اور عملداری تسلیم کر کے سر مائے کی بڑھوتری میں لگتا ہے۔

روائتی عورت کو Market کے عمل سے با ز رکھنے کا باعث ’روائتی خاندانی نظام‘ ہے۔ اس لیے ہی ان معاشروں میں Feminism کی تحاریک کا اصل نشانہ یہی ’روائتی خاندانی نظام‘ ہے۔ Feminist تحاریک کی تمام کوششیں و صلاحیتں ’روائتی خاندانی نظام‘ کو کمزور کرنے اور توڑنے میں ہی صرف ہو رہی ہیں۔ روائتی معاشروں کی یہ Feminist تحاریک سرمایہ دارنہ عملداری کے دائرے کو بڑھانے کا آلہ کار بن کر سامنے آئی ہیں۔ یہ کسی صورت سرمایہ دارانہ جبر کو ختم کرنے تو دور کی بات، اس کے خلاف ایک دعوتِ مبازرت بھی نہیں پیش کر تی بلکہ سرمایہ دارانہ جبر کو مضبوط و منظم، اس کو عمومی سطح پر پھیلانے، اور اس جبرکو قبو لیتِ عامہ دلوانے کی کوشش میں سرگرم ِ عمل ہیں۔ ان تحاریک کا مقصد عورت کو گھر کے دائرہِ عمل سے باہر نکال کر Market کے دائرہِ عمل میں شامل کرنا ہے۔ عورت کو آزادی کے فریب میں سرمایہ داری کا غلام بننا ہے اور اس تحریک کی یہی خصوصیت اس کو سرمایہ دارانہ جبر کے پھیلاو کا آلہ کار ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20