تقسیمِ علوم کے نتائج اور ہماری ذمہ داریاں ——– عاصمہ شفیع

0

اسلامی نقطہ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے کیا ہے۔ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب غرض ہر فرد کے لیے حصول تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ چونکہ تعلیم ہی کے نور سے انسان اپنے مقصد وجود سے آشنا ہوسکتا ہے۔ اخلاقی، ادبی، ذہنی و فکری نشو و نما کا ماخذ تعلیم ہی ہے۔ اس لیے علم کا حصول قوموں کی بقا کے لیے لازمی ہے۔ حضرت علیؓ نے حضرت کمیلؓ سے فرمایا:

’’اے کمیل! علم دولت سے بہتر ہے، علم پاسبانی کرتا ہے اور دولت کی پاسبانی تمہیں کرنی پڑتی ہے اور علم حکمران ہوتا ہے اور دولت پر حکمرانی کی جاتی ہے اور دولت خرچ ہونے سے کم ہوتی ہے اور علم خرچ ہونے سے زیادہ ہوتا ہے۔‘‘

علم کی اہمیت پر ابن مبارکؒ فرماتے ہیں:

’’مجھے اس شخص پر تعجب آتا ہے جو علم حاصل نہیں کرتا اس کے باوجود اپنے کو عزت کیے جانے کا مستحق سمجھتا ہے۔‘‘

اسلام میں علم کی اہمیت کا انداز اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایمان کے بعد علم ہی کو جگہ دی ہے چنانچہ کتاب الایمان میں ایمانیات سے متعلق احادیث جمع کرنے کے بعد ’’کتاب العلم‘‘ میں علم کے متعلق احادیث اور اخبارو آثار جمع کیے ہیں۔ گویا علم فرد اور قوموں کو عزت و مراتب کی بلندیوں پر پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اُمت مسلمہ کی موجودہ ابتر حالت کا اگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو اس کے لیے بھی مسلمانوں کا علم کے خزانوں کی کنجیوں سے دستبردارہونے کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ہم نے مجموعی طور پر اللہ کی قدرت اور اُس کی بنائی ہوئی کائنات کی وسعتوں پر غور و فکر کرنا اور اس کے اسرار و رموز کو جاننے کے لیے عقلی مشق کو ترک کر دیا ہے اور اس خمیازہ پوری دنیا میں ذلت و رسوائی اور محکومی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

انسان کے لیے علوم پر دسترس حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے، جدید علوم میں تخصیص حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا جو بنیادی مقصد ہے اُس کو پیش نظر رکھنا بھی از حد ضروری ہے۔ تعلیم کی اصل غایت یہ ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانے، اُن کے احسانوں کو مانے، اپنے مقصد بعثت سے روشناس ہوجائے۔ زندگی کے جس کسی بھی شعبے میں ہو اُن اعلیٰ اخلاق و اقدار کو ہرگز بھی فراموش نہ کریں جو اُسے باقی تمام مخلوقات سے ممتاز کردیتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ مادیت کے فریب میں آکر بہتر سے بہترمادّی کیرئیر کی دھن نے انسان کو اپنے اصلی و اعلیٰ فریضہ یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے لاتعلق کرکے رکھ دیا ہے۔ انسان اپنے مقصد وجود کو پس پشت ڈال کر نفس کی فریب کاریوں کا شکار ہوگیا ہے۔ تعلیم کی اصل نوعیت بُری طرح سے بگڑ چکی ہے۔ جہاں تعلیم کی وساطت سے باشعور، بلند حوصلہ، سلیقہ مندہوکررب العزت کی پہچان لینا تھا، وہاں رائج الوقت تعلیم آج کل کی نوجوان نسل کو بے عملی، بد عملی غرض دین بیزاری کے جذبوں میں مستغرق کرچکی ہے۔

ایسا کیوں ہوا ہے؟ جس تعلیم نے انسان کو بلندیاں عطا کرنی تھیں وہی تعلیم و تعلم انسانیت کو پستیوں کے دلدل میں کیوں دھکیل رہی ہے؟ اس کے بہت ساری وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں دینی اور دنیاوی تعلیم کو ایک دوسرے کی ضد سمجھا جاتا ہے، مدارس میں جو تعلیم فراہم کی جاتی ہے وہ دینی، جبکہ اسکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں فراہم کی جانے والی تعلیم کو عصری علوم سے موسوم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام میں دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم جیسی اصطلاحات کہیں موجود ہی نہیں ہیں۔ اسلام تمام علوم کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رب کائنات کی پہچان اور انسانیت کی غمخواری ہی تعلیم کا ماحاصل ہونا چاہیے جیسے کہ قاضی امام یوسفؒ فرماتے ہیں: ’’لوگو! اپنے علم سے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حاصل کرنے کی نیت رکھو۔‘‘

علم کی تقسیم کے اس فتنہ کے بارے میں مولانا ضیاالدین اصلاحی اپنی کتاب ’’مسلمانوں کی تعلیم‘‘ میں رقمطراز ہیں کہ:

’’یورپ کے سیاسی غلبہ و تسلط نے دین و دنیا کی تقسیم کا ایسا فتنہ پیدا کیا کہ علوم و مدارس کی بھی دو قسمیں ہوگئیں اور جدید و قدیم کا ایسا شاخسانہ کھڑا ہوا کہ ان میں ہر وقت کشمکش و نزاع برپا رہتی ہے لیکن مسلمانوں کے عروج و اقبال کے زمانے میں مدارس ایک ہی طرح کے ہوتے تھے اور وہ ہر طرح کے علوم کے لیے کافی ہوتے تھے، علما ان کو پڑھ کر سلطنت کے بڑے بڑے عہدوں پر بھی فائز ہوتے تھے اور اپنے کاروبار بھی کرتے تھے، اپنی دوکانوں پر بھی بیٹھتے اور دوسرے ذرائع معاش سے بھی وابستہ رہ کر علوم دین کے سرچشموں سے سیراب ہوتے تھے لیکن یورپ کی غلط تقسیم سے مدارس دو طرح کے ہوگئے ہیں، ایک کو دینی مدارس کہا جاتا ہے جو دین یا علوم معاد کی تعلیم کے لیے مختص ہوکر رہ گئے ہیں اور دوسری نوعیت کے مدارس و جامعات عصری و دنیاوی علوم یعنی علوم معاش کے لیے خاص ہوکررہ گئے ہیں۔‘‘

علوم کی یہ تقسیم دراصل ہماری اپنی تنگ نظری اور کند ذہنی سے وجود میں آچکی ہے اور نتیجتاً عصری اداروں سے فراغت حاصل کرنے والی نوجوان نسل بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود دین کے بنیادی اُمور سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ دین کو محض چند مذہبی روایات کا نام دیتے ہیں، اور اُن کے خیال میں زندگی کے باقی معاملات میں دین کا کوئی عمل دخل ہی نہیں ہے۔ اِسی طرح دینی اداروں میں اسلامی علوم کی مہارت حاصل کرنے والے طلباء دینی مسائل پر عبور حاصل کرنے کے باوجود دنیا میں جنم لینے والے بیشتر فتنوں سے بے خبر رہتے ہیں کیونکہ اُن کے نصاب میں انسانی دنیا میں وقوع پذیرہونے والے حالات اور سر اُبھارنے والے فتنوں اور چیلنجوںمیں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اَس تفریق نے دونوں علوم کے درمیان خلیج پیدا کررکھی ہے۔

ہمارے یہاں رائج عصری نظام تعلیم میں مادیت، لذت پرستی اور استعماریت جیسے فاسد نظریات نے خاص مقام پالیا ہے اور یہ فکر پروان چڑھ رہی ہے کہ تعلیم حاصل کرکے ہماری نسلیں دو چار پیسے کمانے کے قابل ہوجائیں گی۔ گرچہ عصری اداروں میں بھی دین کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے تھی مگر حال یہ ہے کہ اِن اداروں میں دین کی بنیادی تعلیم کا بھی کوئی تصور نہیں ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی فطرت نوکریوں اور پیسہ کمانے کے علاوہ کچھ اور بھی تقاضا کررہی ہے۔ اور یہ جبھی ممکن ہے جب اُن کی پرورش اور تربیت میں الہامی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے۔ حکیم اُمت علامہ اقبالؒ کا بھی خیال یہی تھا کہ اسلام ہماری زندگی اور تعلیم کا مقصد ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے خواجہ غلام سعدین کو ایک خط میں لکھا تھا کہ:

’’علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارومدار حواس پر ہوں، عام طور پر میں نے علم کا لفظ اِن ہی معنوں میں استعمال کیا ہے، اس علم سے وہ طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے، اگر یہ دین کے تحت نہ رہے تو محض شیطانیت ہے، مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ علم کو مسلمان کرے۔‘‘

عصری و دینی علوم کے سنگم کے لیے علمائے اسلام شروع سے ہی فکر مند رہے ہیں امام غزالیؒ نے لکھا ہے کہ ’’طلبہ فقہ تو پڑھتے ہیں لیکن طب، ہندسہ کوئی نہیں پڑھتا،‘‘ اس لیے انہوں نے لوگوں کو دین کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم حاصل کرنے کی جانب بھی راغب کیا ہے۔

ہماری نوجوان نسل میں دین بیزاری کی ایک اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ والدین اپنے اولاد کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔ اُن کے نزدیک دینی تعلیم کی اہمیت نا ہونے کے برابررہ گئی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی تمام تر توانیاں، وسائل وغیرہ اپنے اولاد کی عصری تعلیم پر صرف کرتے ہیں، اس کام کو انجام دینے کے لیے وہ ہر طرح کی مشقت برداشت کرتے ہیں۔ دن رات محنت مزدوری کرکے وہ اپنی اولاد کو دنیا دار اور دنیاوی کامیاب زندگی کے لیے اپنا سب کو کچھ داؤ پر لگا لیتے ہیں، پھر اُن کی یہی اولاد اپنے والدین کو دُھتکار دیتے ہیں، بیٹا باپ کی گریباں پکڑنے اور ماں کو گھر کی دہلیز سے باہر نکال دینے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا اور لڑکیاں اپنی ماؤں سے ایسی بات کرتی ہیں کہ جیسے اُنہوں نے اُن کی کوکھ سے جنم نہیں لیا ہو بلکہ وہ اُن کی نوکرانیاں ہوں۔ اللہ کے کلام و احکامات سے دوری نوجوان نسل کو اندر ہی اندر ایک ایسے ناسور میں مبتلا کررہی ہیں جس کا خمیازہ والدین کو خصوصاً اور پوری ملت کو عموماً بھگتنا پڑتا ہے۔ کیونکہ قرآن ہی ہماری دنیا و آخرت کی فلاح و کامرانی کا ضامن اور مکمل دستورحیات ہے۔ والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ دینی و اخلاقی تعلیم سے آراستہ کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’باپ کا اپنے بچے کو کوئی ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے، کوئی باپ اپنے بچے کو اس سے بہتر کوئی عطیہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو اچھی تعلیم دے۔‘‘

اسلام کی تاریخ شاندار اور تابناک رہی ہے۔ ہمارے تاریخ اسلاف کی ایمانی غیرت، شجاعت، بہادری اور ایثار و قربانی کے واقعات سے بھری پڑی ہوئی ہے۔ یہ تاریخ ہماری نوجوان نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے، ہماری نوجوان نسل اگر دین بیزاری اور مقصد حیات سے بے گانہ ہے تو اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ملت کی تاریخ اور اسلاف کے کارناموں سے بے بہرہ ہیں، اُنہیں اُن کی اخلاقی، علمی اور سماجی سطح پر انجام دیے جانے والے کارناموں کی ہوا بھی نہیں لگی ہے۔ اپنی نسلوں کو اسلامی تاریخ سے جوڑنے اور اسلاف کے کارناموں سے روشناش کرنے میں والدین ایک کلیدی رول نبھا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ صلیبی جنگوں کے دوران عیسائیوں کی ایک ٹکڑی نے مسلمانوں کے ایک علاقے پر حملہ کردیا اُس علاقے کے گورنر کا بیٹا مسلمانوں کی کمانڈ کررہا تھا۔ کچھ وقت کے بعد خبر آئی کہ مسلمانوں نے جنگ ہاری اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ وہاں گورنر کی بیوی کھڑی تھی اُس نے یکدم بولا کہ یہ خبر غلط ہے۔ بادشاہ نے اُسے ڈانٹ کر کہا کہ خبر باہر سے آئی ہے، اندر بیٹھ کر تم کیوں خبریں سنا رہی ہو۔ بیگم خاموش ہوگئی۔ کچھ وقت گزرا اور خبر واقعی میں غلط ثابت ہوئی۔ بادشاہ نے حیران ہوکر بیگم کو بلایا اور پوچھا کہ آپ نے اتنے اعتماد سے اس خبر کی تردید کیسے کی۔ بیگم نے جواب دیا

’’جب یہ بچہ میری پیٹ میں تھا تومیں ہر لقمہ بڑی احتیاط سے اپنے منھ میں ڈال دیتی تھی کہ کہیں حرام غذا اندر نہ جانے پائے، پیدا ہونے کے بعد میں جب بھی اُسے دودھ پلاتی، میں پہلے وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھتی تھی۔ یہ مشقت میں نے دو سال برداشت کی ہے، ایسا لڑکا دشمن سے لڑتے وقت میدان کیسے چھوڑ سکتا تھا۔ ہاں شہید ہونے کی صورت میں بات الگ تھی۔‘‘

تربیت کا یہی وہ معیار ہے جو ہر دور میں اُمت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بن جانا چاہیے۔

استاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ نسلوں کی نشود نما، اُن فکری، اخلاقی قوتوں کو پروان چڑھانے میں استاد کا رول نمایاں ہوتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ تحصیل علم کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’علم سکھاؤ اس لیے کہ علم کا سکھانا نیکی ہے اور اس کا طلب کرنا عبادت ہے اور اس کا مذاکرہ کرنا تسبیح اور اس پر بحث کرنا جہاد، اس کا خرچ کرنا تقرب الٰہی کا ذریعہ اور نہ جاننے والے کو بتانا صدقہ ٔ جاریہ ہے۔ (ابو داؤد)… حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ: ’’علم کا ایک باب جو ہم پڑھتے ہیں، وہ میرے نزدیک نفل کی ایک ہزار رکعتوں سے زیادہ پسندیدہ ہے اور علم کے ایسے باب کا پڑھنا جس پر ہم عمل بھی نہ کرسکیں؟ تو وہ بھی سو رکعتوں کے پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘ پڑھنے پڑھانے کا کام کس قدر مقدس ہے احادیث نبویؐ، اصحاب رسولؐ اور تابعین کے کارناموں اور ارشادات سے اس کا اچھی طرح سے اندازہ ہوجاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ دین اسلام پر ایمان رکھنے والے ہمارے آج کے اساتذہ کی اکثریت تعلیم کے اصل مقصد کو یکسر فراموش کیے ہوئے ہیں۔ اللہ کے دربار میں اُن سے باز پرس ہونی ہے۔ روز جزا و سزا کے پانچ سوالات میں سے ایک علم کے مطلق بھی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے کیا خوب فرمایا کہ ’’اگر استاد مسلمان ہو تو وہ گیتا سے بھی قرآن پڑھا سکتا ہے۔‘‘ ہمارے اساتذہ کی اکثریت مسلمان ہے، وہ دین اور علوم کی ترویج کی فضیلت سے بھی واقف ہیں لیکن اس کے باوجود غفلت برت رہے ہیں جس کے نتیجے میں نسلیں تباہ ہورہی ہیں۔ یہ کوئی مشقت طلب کام نہیں ہے کہ اگر ہر روز، کلاس میں استاد صرف پانچ منٹ کا وقت نکال کرطالب علموں کو اخلاقی تعلیم و تربیت کی جانب بھی متوجہ کرتے تو ہمارا سماج اس قدر بیمار نہ ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی اُن کا یہ عمل اُن کی مغفرت کا ضامن بن جاتا۔ عصر ی علوم کے ساتھ ساتھ اگر استاد راستہ چلنے کے آداب، مخلوق نظام تعلیم میں حدود و قیود کا پاس و لحاظ رکھنے، دوسروں کے حقوق کی پاسداری کے علاوہ دیگر دینی اُمورات پر موہوم سی روشنی بھی ڈال دیتے تو راہ چلتے، گاڑیوں میں سفر کے دوران، گھر و بازار میں اِن طلبہ کے عادات و اطوار دیکھ کے باضمیر لوگوں کے سر شرم سے نہ جھک جاتے۔ ہمارے سماج کی حالت یہ ہے کہ اسکول اور کالج جانے والی نسل منشیات، بے شرمی، بے حیائی اور بداخلاقی کی شکار ہے اور اگر اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے میں خدا خوفی کو شامل کرلیتے تو حالت اس قدر بری نہ ہوتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص نسلیں بچانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔ والدین، ذی حس شہری اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ علماء دین کی ذمہ داریاں دوبالا ہوجاتی ہیں۔ اگر ہم نے بروقت ہوش نہ سنبھالا تو آنے زمانے میں خدانخواستہ ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ ہمارے تعلیمی سسٹم میںعصری علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کا بھی التزام و اہتمام ہونا چاہیے تاکہ انسان اپنے اصل مقصد کو پہچان سکے اور وہ روئے زمین پر ایک متوازن زندگی گزار سکے۔ مولانا روم نے کیا خوب فرمایا: ’’علم را برتن زنی مارے بود… علم را بر دل زنی یارے بود‘‘… یعنی اگر علم کا مقصد صرف جسمانی آرایشوں، لذتوں اور فائدوں تک محدود ہے تو ایسا علم سانپ بن کر ڈسے گا اور اگر اس کا رشتہ دل سے جڑ جائے تو اس سے بڑھ کر انسان کا کوئی دوست نہیں۔‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20