معیشت اور عوام کا نصیب ۔۔۔ لالہ صحرائی

0

معیشت کے موضوع پہ یہ طویل کاوش عوام کی کسمپرسی اور بے چینیوں کو مدنظر رکھ کر اسی تناظر میں پیش کی گئی ہے کہ مختلف قسم کے تجزیوں سے عوامی بدحالی کی وجوہات کا حقیقی تعین کیا جاسکے تاکہ فیڈریشن میں بسنے والے محروم طبقات اور قوم پرست لوگ ایک دوسرے کو غاصب سمجھ کر صوبائی تعصبات اور طبقاتی بغض کا بے جا شکار ہونے کی بجائے اپنی محرومیوں کی اصل وجوہات و اسباب کو شناخت کر سکیں اور تقسیم ہونے کی بجائے متحد ہو ان امکانات پر غور کریں کہ حسب منشا حکمرانوں سے ہم اپنے مستقبل کی کوئی اچھی صورت گری کیسے کروا سکتے ہیں۔

 

[ پہلا باب: معیشت اور سماجی رویہ]

کہتے ہیں جب پہلا دینار ایجاد ہوا تو شیطان نے اسے چوم کر کہا تھا، اے میرے عزیز! تم نے میرا کام بہت آسان کر دیا ہے، یقیناً یہ صدیوں پرانی بات ہے لیکن اس کے ساتھ جڑا ہوا سچ آج بھی زندہ ہے، پیسے کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ہی فتنہ انگیز چیزیں ہیں، مفلسی میں صبر اور تونگری میں ظرف نہ ہو تو لوٹ کھسوٹ، چھیناجھپٹی، بددیانتی، لالچ، بخیلی، ظلم اور عیاشی جیسے فتنے انسان کو گھیر ہی لیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں چند ایک کمیونیٹیز ایسی ہیں جو نوکری، مزدوری یا دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے نسل در نسل تجارت پر انحصار کرتی چلی آرہی ہیں، یہ لوگ اپنے بچے کو ضروری تعلیم اور کاروباری اطوار سکھا کر چھوٹے موٹے کام میں ڈال دیتے ہیں آگے اس کی محنت اور نصیب رنگ لاتے ہیں، یہی تعلیم پوری سوسائیٹی میں رائج ہونی چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ بچوں کو پڑھ لکھ کر افسر بننے کے خواب سپانسر کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ کیرئیر بلڈنگ پر پیش کی گئی کتابیں بھی بندے کو ان دیکھے آسمان پہ چڑھا دیتی ہیں۔

ہمارے سماج میں وسیع پیمانے پر کچھ بھی ایسا نہیں جو پیسہ کمانے کی ترغیب، حوصلہ اور ڈھنگ دیتا ہو الٹا ایک طرف غربت کو تقدیر کا نام دے کر صبر کی تلقین کی جاتی ہے تو دوسری طرف حقوق کے نام پر دوسروں سے چھیننے کا سبق دیا جاتا ہے، تیسری طرف ایک جم غفیر ایزی منی، اوپر کی کمائی اور افسری کا خواب لئے سرکاری نوکریوں کی راہ دیکھتے دیکھتے بیشتر عمر بیروزگاری میں گنوا دیتا ہے اور اب لاکھوں روپے پروفیشنل تعلیم پر خرچ کے ڈگریاں لینے والا طبقہ بھی روزافزوں اس دوڑ میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔

دین مبین میں تجارت کو انبیاءاکرام علیہم السلام کی سنت اور رزق میں برکت کا باعث قرار دیا گیا ہے، تجارت کو نوکری پر اتنی ترجیح اس لئے دی گئی تاکہ معاشرے کی غالب اکثریت معیشت کے پیداواری سرکل کا حصہ بنے، جب پیداواری شعبہ مضبوط ہو تو غیرپیداواری شعبے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے لیکن جب معاشرے کا غالب طبقہ مزدوری، خدمات اور نوکری کی طرف رجحان رکھے تو مختصر پیداواری سرکل اس جم غفیر کا نہ تو بوجھ اٹھا سکتا ہے نہ ہی انہیں خاطرخواہ اجرت و مشاہرہ دے سکتا ہے، پھر گزارہ نہ ہونے کی وجہ سے پیداواری و غیرپیداواری دونوں طبقے ہی بددیانتی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔

اس بات کو سمجھنے کیلئے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرلیں، ایک پیداواری شعبہ جس میں صنعتکار، زمیندار اور تاجر ہیں اور دوسرا غیرپیداواری شعبہ جس میں محنت کش، خدمتگار اور نجی و سرکاری ملازمین شامل ہیں، ان دونوں طبقات کے درمیان دولت کا پھیلاؤ متوازن ہونا چاہئے کیونکہ محنت کش طبقہ پیداوری شعبے کو اپنی خدمات بیچ کر مال حاصل کرتا ہے اور پیداواری شعبہ اسی طبقے کو اپنا مال بیچ کر پیسہ کماتا ہے۔

جب پیداواری شعبہ یا سرمایہ دار دوسرے طبقے کو مناسب اجرتیں نہیں دیتا تو دراصل وہ معاشرے میں کمزور صارفین پیدا کرتا ہے پھر اس کمزور معاشرے میں اپنی پیداوار کی فروخت کیلئے پریشان بھی رہتا ہے اس لئے ان دونوں طبقوں کے درمیان دولت کا متوازن رہنا ہی سب کیلئے آسودگی کا باعث بنتا ہے لیکن جب سرمایہ دار کو ایزی منی یا کرپشن سے کمانے والا صارف میسر ہو جو اسے منہ مانگے دام دے جائے اور افرادی قوت بھی سرپلس ہونے کی وجہ سے سستی مل جائے تو پھر وہ معاشرے کا ہمدرد بننے کی بجائے خودغرضی کو ہی ترجیح دیتا ہے، دوسری طرف جب عوام کو ایزی منی کا رستہ نظر آئے تو ٹیکنیکل ایجوکیشن، محنت اور تجارت کی بجائے سب کو سرکاری ملازم یا کارپوریٹ پروفیشنل بننے کا شوق اور بنیادی حقوق لاحق ہو جاتے ہیں، ان سب چیزوں کا شکار سماج بلاشبہ خلفشار زدہ معاشرہ ہی بنتا ہے۔

حضرت رومیؒ نے مثنوی شریف میں تجارت کے حق میں بہت سی تمثیلات بیان کی ہیں، آپ ایک جگہ فرماتے ہیں، اگر آقا اپنے غلام کے ہاتھ میں بیلچہ تھما دے اور زبان سے کچھ نہ بھی کہے تو اس کا صاف ستھرا مطلب یہ ہے کہ غلام کو اب کھدائی کا کوئی کام کرنا ہے، اسی طرح انسان کے ساتھ دو ہاتھ، پیر، آنکھیں اور عقل کا اہتمام اس بات کا اشارہ ہے کہ انسان کو اپنی ان صلاحیتوں سے اپنی دنیا آپ پیدا کرنی ہے، پھر فرمایا بیٹا ہفتہ بھر خوب کمائی کر اور ایک دن بادشاہوں کی طرح آرام کر لیکن مال دنیا سے تمہارا تعلق پانی اور کشتی جیسا ہونا چاہئے، پانی کشتی کے نیچے ہو تو اسے تیراتا ہے اور اگر کشتی کے اندر آجائے تو اسے ڈبو دیتا ہے پس جتنی چاہے دنیا کماؤ مگر اسے دل کے اندر نہیں بسانا۔

سیدنا عبدالرحمٰنؓ بن عوف جب خالی ہاتھ مدینہ طیبہ پہنچے تو ان کے میزبان حضرت سعد بن ربیعؓ انصاری نے کہا تھا، میرے بھائی میرے پاس چند باغ اور دو بیویاں ہیں، آپ کو آباد کرنے کیلئے ایک باغ اور ایک بیوی کو چھوڑ دیتا ہوں، ایک جوان آدمی کو تنگدستی کے عالم میں اور کیا چاہئے تھا لیکن حضرت اقدسؓ نے کہا، خدا آپ کو آباد رکھے مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہئے، مجھے صرف بازار تجارت کا راستہ دکھا دینا، میں توکل اور محنت سے اپنی دنیا آپ پیدا کروں گا، یہی توکل اور خودداری رب تعالٰی کو پسند ہے، اہل علم جانتے ہیں کہ کچھ ہی عرصے بعد حضرت عبدالرحمٰنؓ کا شمار مدینہ طیبہ کے متمول صحابیوں میں ہونے لگا جنہوں نے مال کمایا بھی بہت اور لٹایا بھی بہت، جہاں دین کو ضرورت پڑی وہاں سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور ہزاروں درہم پیش کئے، جہاں سماج کو ضرورت پڑی وہاں بھی ہزاروں درہم ایک ساتھ لٹاتے رہے۔

دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کنجوس امیر اپنے غلام کیساتھ حج کرکے واپس آرہا تھا، راستے میں کہیں پڑاؤ کیا تو غلام سے کہا جاؤ کسی سے نمک لے کر آؤ، غلام نے پیسے مانگے تو کہا، اتنی معمولی سی چیز کیلئے آنہ ٹکا خرچنے کی کیا ضرورت ہے، تم ان سے کہنا ہم حاجی ہیں، لوگ کچھ تو لحاظ کریں گے، غلام نمک لے آیا، دوسری مرتبہ پھر بھیجا پھر لے آیا، جب تیسری بار بھیجا تو غلام نے کہا اب تو پیسے دیجئے اب اس کے بغیر نمک نہیں ملے گا، امیر نے وجہ پوچھی تو بتایا، پہلے دن میں نے کہا تھا میں حاجی ہوں، دوسرے دن کہا میرا مالک حاجی ہے، یوں اپنی فضیلتوں کو دو چٹکی نمک کے بدلے میں کیش کرا لیا لیکن اب کیا کہوں؟

ریاست، سماج اور فرد کی معاشی ترقی کے صرف پانچ فیکٹرز ہیں:۔

پہلا جز فرد کا اپنا ہنر و ہمت ہے لیکن اونچے خواب، کہیں پر کم ہمتی اور کہیں پر کم مائیگی اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں، چھوٹے درجے پر کام شروع کرنا باعث ننگ سمجھا جاتا ہے اور بڑا کام کرنے کیلئے پیسہ ہوتا ہے نہ تجربہ اس لئے سارا بوجھ ریاست، سماج اور نوکریوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

دوسرا جز انسان کا نصیب ہے، بعض غربت کو ہی نصیب سمجھ کر صبر کرلیتے ہیں اور بعض اپنے نصیب پر شاکر نہیں رہتے بلکہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کیلئے بہت سے الٹے کام، غلط فیصلے یا ہمت سے زیادہ کام کرتے ہیں اور پھر اوور ٹریڈنگ میں ہی ان کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔

تیسرا جز یہ ہے کہ جس کو مال ملے وہ اسے جمع کرنے کی بجائے دوبارہ سوسائٹی میں انجیکٹ کرے، مزدور و ملازمین کو سستے داموں گھیرنے کی بجائے انہیں اتنا مشاہرہ ضرور دے جس میں ان کا گزارا باآسانی ہو سکے، پھر جو نفع ملے اس کے تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے خاندان پر خرچ کرے، دوسرا حصہ دوبارہ بزنس میں انجیکٹ کرے اور تیسرے حصے سے ضرورتمندوں کی بحالی و امداد کا کام کرے لیکن حق ملکیت، خودغرضی اور لالچ کی بنیاد پر جن کے پاس کچھ ہے وہ کنجوس حاجی کی طرح مال کی محبت اور خودساختہ زعم تقدس میں اپنے اعمال تو ضائع کر لیتے ہیں مگر اپنے مال کو ہوا لگنے نہیں دیتے۔

چوتھا جز پیداواری اور غیر پیداواری طبقے کا تناسب ہے، پیداواری طبقہ جتنا زیادہ ہوگا معاشرہ اور فرد اتنا ہی خوشحال ہوگا بصورت دیگر بدحالی ہو گی۔

پانچواں جز ریاست کا کردار ہے جو ٹیکس لینے کے عوض انتظامی امور کی ذمہ دار ہے، اس میں انصاف، امن و امان، یوٹیلٹیز، انفراسٹرکچر، مواصلات اور دیگر انتظامی امور جو صرف ریاست ہی مہیا کر سکتی ہو وہ سب شامل ہیں، ریاست جتنی زیادہ سہولتیں پیدا کرے گی عوام اتنے ہی بہتر مواقع تلاش کر پائے گی جس سے ٹیکس کلیکشن میں بھی اضافہ ہوگا۔

اوپر بیان کئے گئے احوال و واقعات کے آئینے میں انسان، طبقات اور ریاست اپنے آپ کا بخوبی جائزہ لے سکتے ہیں کہ معاشی نظام کے جہانِ تگ و تاز میں وہ خود کہاں کھڑے ہیں، ان معاملات پر آگے چل کر مزید بات کریں گے تاکہ معیشت کے اس نظام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

اس جگہ یہ نقطہ بھی آپ کے سامنے رکھنا ازحد ضروری ہے کہ وہ یورپی اقوام جو آپ کو امیگریش اور نیشنیلیٹی کی سہولیات آفر کرتی ہیں یہ آپ کے ساتھ ان کی کوئی خاص ہمدردی نہیں بلکہ اس میں وہی فیکٹر کارفرما ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا کہ ان اقوام کا غالب حصہ خدمات کی بجائے پیداواری سیکٹر میں کھپ جاتا ہے پھر انہیں خدمات کے شعبے میں جو اسکلڈ اور نان۔سکلڈ افرادی قوت کی کمی درپیش ہوتی ہے اسے وہ امیگریشن رولز نرم کرکے تیسری دنیا کے ممالک سے پورا کرتے ہیں، پاکستان میں یہ وقت صرف اسوقت آئے گا جب یہاں کا جم غفیر پیداوری سیکٹر میں جت جائے گا پھر ہمیں بھی افرادی درآمد کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن سردست یہ ایک خواب ہی ہے بلکہ ایں خیال است و محال است و جنوں کے مصداق ہے۔

اسکالرز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جب معیشت پر کوئی گفتگو پیش کرتے ہیں تو اس میں علمی دھاک بٹھانے کی کوشش زیادہ اور بات سمجھانے کی کوشش کم ہوتی ہے، ان کا مخاطب بھی عام آدمی کی بجائے حکومت، محکمے یا کوئی مخالف اسکول آف تھاٹ ہی ہوتا ہے جسے وہ مخصوص طرز کے علمی مشورے سے نوازنا چاہتے ہیں، یوں ان کی کوئی بات بھی نہ تو عوام کے پلے پڑتی ہے نہ ان کیلئے طمانیت کا موجب بنتی ہے البتہ طالبعلموں کو کچھ علمی ریفرینسز ضرور مل جاتے ہیں۔

حزب اقتدار کے بہی خواہ ہمیشہ یہ کرتے ہیں کہ کسی جزوی چیز سے معیشت کی روزافزوں ترقی دکھا کر دودھ اور شہد کی نہریں عام آدمی تک پہنچتی ہوئی دکھا جاتے ہیں یا کم از کم اتنا باور کرانے میں ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں کہ اس کا فائدہ عام آدمی کو ہی پہنچے گا اور وہ بہت جلد خوشحال ہو جائے گا جبکہ یہ صرف شماریاتی مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

یہی کلیہ حزب اختلاف کے ہمنوا اختیار کرتے ہیں، وہ کسی ایک چیز کو پکڑ کر اس کا سیاپا کر ڈالتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنی تان معیشت کی خرابی، ملکی دیوالیہ پن اور عوامی بدحالی پر لاکے توڑتے ہیں تاکہ معیشت کو رو بہ زوال دکھا کر رائے عامہ خراب کرکے حکمرانوں کی “مُونجھ دَلی” جا سکے۔

چوتھا طبقہ مفاد پرست عناصر کا ہے جو اپنے اپنے الو سیدھے کرنے کیلئے نسلی، علاقائی اور لسانی تعصبات کو ابھارتے ہیں، یہ بھی معاشی نظام میں استحصال کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ایک چیز اٹھا لیتے ہیں جس سے ایک طرف طبقات کو بڑھکا کے اسٹیٹ کے ساتھ لڑاتے ہیں تو دوسری طرف اسی آڑ میں لوگوں کو لوٹنے کا دھندہ بھی شروع کر دیتے ہیں یا پھر غیروں سے فنڈز لے کر اپنی جیبیں بھرتے ہیں، معاشرے میں اسکی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

کسی چیز میں بہرصورت استحصال ہی ثابت کرنا ہو تو ہم گھڑی میں بھی ثابت کر سکتے ہیں جہاں باریک سوئی ایک مزدور کی طرح ہرپل حرکت میں ہے جبکہ باقی دو آرام کرتی ہیں بلکہ وقت کا تعین بھی وہی دو مل کر ہی کرتی ہیں، یعنی مزدور، اشرافیہ اور سرکار والا حساب ہے، محنت کسی کی اور پھل کسی اور کے نام لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ یہ تینوں جس نظام کا حصہ ہیں اس میں ان کا کردار یہی ہے، اس کے بغیر یہ نظام چل نہیں سکتا، اگر آپ نے ان کی حرکت میں انصاف قائم کر دیا تو گھڑی صحیح نتائج نہیں دے پائے گی۔

یہ اونچ نیچ قدرت نے اسی لئے پیدا کی ہے تاکہ لوگ ایکدوسرے کی ضرورت بنے رہیں، آگے بڑھنے کی جہد مسلسل قائم رہے اور نظامِ دنیا پر جمود طاری نہ ہو، اس طبقاتی فرق کو مغربی دنیا بھی اپنے ہاں سے ختم نہیں کر سکتی البتہ اتنا ضرور کیا جا سکتا ہے کہ حقدار کو اس کا حق اور کریڈٹ ضرور مل جانا چاہئے تاکہ وہ آسودہ حال رہے، معاشرے کے کرتا دھرتا لوگوں سے یہی تقاضا بدرجہ اتم ہمارے دین میں بھی موجود ہے کہ مزدور کو اس کا معقول حق ضرور دیا جائے تاکہ کوئی فرد بدحال نہ رہے۔

معیشت، سماج اور ریاست، ان تینوں کا کردار، دائرہ کار اور باہمی ربط بس اتنا ہی ہے جتنا اس مضمون میں پیش کر دیا گیا ہے لیکن یہ بات چونکہ سادہ پیرائے میں کی گئی ہے اس لئے معیشت، سماج اور ریاست سے اپنی امیدیں وابستہ کرکے بیٹھنے والے افراد، ایکدوسرے سے شکوہ کناں طبقات، ریاستی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور فلاں فلاں ہمارے حقوق کھا گیا کا نظریہ رکھنے والے شائد قائل نہ ہو سکیں، اس بات کا حل پھر یہی ہے کہ معیشت، سماج اور ریاست کے فریمورک کا ایک تفصیلی جائزہ لے کر حقیقی صورتحال کا ادراک کر لیا جائے تاکہ عام انسان لایعنی نظریات کا ایندھن بننے کی بجائے اپنے کیرئیر پر توجہ دے سکے۔

آنے والے چیپٹرز میں ہم ایک ایک کرکے وہ تمام چیزیں ڈسکس کریں گے جو معیشت کا مجموعی نظام مرتب کرتی ہیں تاکہ فرد، طبقات اور ریاست کی ترقی کیلئے اوپر بیان کردہ پانچ اجزائے ترکیبی کو آپ حقیقی معنوں میں کام کرتے ہوئے دیکھ سکیں اور فرد کو اپنی کوشش کی اہمیت، سماج کو اپنی مجموعی ڈائریکشن اور پروپیگنڈہ مشینری کے ہاتھوں یرغمال طبقات کو یہ معلوم ہو جائے کہ انفرادی اور سیاسی بداعمالیوں کے سوا کسی فرد یا طبقے پر نہ کوئی غاصب ہے اور نہ کہیں کوئی غیر منصفانہ تقسیم ہے، اگر ایسا کچھ سنائی دیتا ہے تو وہ صرف سیاسی نعروں اور کرپشن کہانی کا شاخسانہ ہے اور کچھ بھی نہیں۔

اس سیریز کا ہر چیپٹر معیشت کے ایک علیحدہ عنصر کی تفصیل پر مشتمل ہوگا جو ایک طرف بہت سا جنرل نالج دے گا تو دوسری طرف اپنی اس طویل بحث کو سمیٹتے وقت جب مختلف چیزوں کا حوالہ دیا جائے تو کم از کم آپ کو اتنا پتا ہوگا کہ ان چیزوں کا دائرہ کار اور اہمیت کیا ہے، اسلئے جی۔ڈی۔پی، انفلیشن، ٹیکسیشن، این۔ایف۔سی ایوارڈز، مرکزی و صوبائی بجٹس، فوجی بجٹ، بیرونی قرضے، ٹریکل ڈاؤن اکانومی، بینکنگ، اسلامی طرز معیشت، کارل مارکس، سرمایہ داری نظام، سوشلزم، اسلامی معیشت اور بینکنگ کا سرکل بھی اس ایڈیشن میں شامل کریں گے تاکہ معیشت کے آئینے میں بینکنگ کا کردار بھی آپ کے سامنے آئے اور اسلامی بینکنگ سے بلاوجہ کی کراہت سے بھی افاقہ ہو سکے۔

ان آرٹیکلز میں بعض چیزیں متعلقہ فائنانشئیل ٹرمنالوجیز یا ثقیل کتابی اصطلاحات کی بجائے عام فہم انداز میں پیش کی جائیں گی تاکہ میرے مخاطب عام آدمی تک اپنے معانی سادہ اور آسان زبان میں پہنچا سکیں، بعض چیزیں تاریخی جزئیات کے بغیر شئیر کی جائیں گی تاکہ بے جا طوالت اور مضمون کے تسلسل میں رخنہ اندازی کا باعث نہ بنیں اور نفس مضمون پر فوکس قائم رکھنا آسان رہے۔

اس ایکسرسائز کے آخری چیپٹر یا حاصل کلام میں فرد، طبقات اور ریاستی پسماندگی کی وجوہات اریب قریب وہی رہیں گی جو اوپر بیان کر دی گئی ہیں لیکن اس سیربینی کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اپنی اصلی حالت دیکھ کر یقیناً آپ متحد ہو سکتے ہیں، ایک قوم بن سکتے ہیں، اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

تئیس اقساط پہ مبنی اس سیریز کے اگلے چیپٹر میں معیشت کی تعریف اور اس کا فریم ورک پیش کریں گے۔ دانش کے قارئین روزانہ ایک قسط ملاحظہ کر سکیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لالہ صحرائی، افسانہ، ناول، ڈرامہ نگار، اکنامک و سوشل تھیسس رائیٹر ہیں اور عوام کے لئے خالص پیشہ وارانہ موضوعات پہ بھی دردمندی اور دقت نظری سے لکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: