پہلی عرب فیمنسٹ مخالف خاتون: زینب الغزالی ——– منصور ندیم

0

زینب الغزالی تعارف:
’’الغزالی‘‘ کے نام سے شہرت پانے والی پہلی عرب مصری عالمہ و داعیہ خاتون زینب الغزالی الجبیلی ( 1917ء تا 2005ء) جنہیں عرب میں جدیدیت کے ساتھ دفع فیمنزم پر پہلی آواز بننے والی خاتون کہا جاسکتا ہے، جن کی زندگی نے اس عہد کی اسلامی تحاریک کی خدمات پر بلاشبہ اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

زینب الغزالی 1917ء کو مصر کے صوبہ البحیرہ کے ایک گاوں “میت عمر” کے ایک کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ زینب الغزالی کا شجرۂ نسب ماں اور باپ دونوں کی طرف سے بہت عظیم رہا۔ ان کے والد حضرت عمر بن خطابؓ کی اولاد میں سے تھے اور والدہ کا شجرۂ نسب حضرت حسن بن علیؓ سے ملتا ہے۔ یوں وہ حقیقی معنوں میں نجیب الطرفین تھیں۔ زینب الغزالی کی زندگی میں نظام استبداد کے مقابلے پر سیدنا عمر بن خطابؓ جیسی صلابت اور مضبوطی نظر آتی ہے جبکہ زندگی کے عام معاملات میں وہ حضرت حسن بن علیؓ جیسی نرم خو اور محبت کرنے والی شخصیت بن کر ابھری تھیں۔ زینب الغزالی ہر میدان میں اگلی صفوں میں کام کرتی رہیں۔

زینب الغزالی کی تعلیمی و تحریکی زندگی :
زینب الغزالی کی ابتدائی تعلیم مقامی مدارس اور سکولوں میں ہوئی۔ زینب الغزالی ابھی گیارہ سال کی ہی تھی کہ ان کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا، ان کی والدہ ایک صاحب عزیمت خاتون تھیں۔ خاوند کی وفات پر وہ اپنے بچوں سمیت گاؤں سے منتقل ہو کر قاہرہ آگئیں اور بڑی محنت مشقت سے اپنے یتیم بچوں کو تعلیم دلائی۔ عصری تعلیم کے بعد زینب الغزالی نے جامعہ الازہر میں کبائر علماء سے تفسیر، حدیث اور فقہ کے علوم کی تکمیل کی۔ ان کے اساتذہ میں شیوخ ازہر میں سے بہت سے مشہور اور جید علما کے نام سامنے آتے ہیں۔ زینب الغزالی نے ایسے وقت میں تعلیم کے بے شمار زینے طے کیے تھے جب عورتوں میں تعلیم کا رواج بہت شاز تھا اگرچہ حرام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ زینب الغزالی مذہبی اور جدید موضوعات میں توازن قائم کرنے میں کافی دلچسپی رکھتی تھیں، زینب الغزالی کا تعلق اپنے ایامِ جوانی میں ھدی الشعراوی کی قائم کردہ “تنظیم الاتحاد النسائی” سے ہوگیا اور آزادی نسواں کے میدان میں ایک بہت ہی فعال اور سر گرم رکن تھیں، “تنظیم الاتحاد النسائی” جسے ھدی الشعراوی نے 1933ء میں قائم کیا تھا، اور وہ اس کی ایک انتہائی فعال رکن کے طور پر ابھر کر سامنے آئی تھیں، بعد میں زینب الغزالی نے اس تنظیم کی رکنیت سے استعفی دیا، کہ عورتوں کی آزادی کی یہ تحریک سیکولر خیالات کی حامل ہے اور یہ اسلام کی درست تفہیم پر نہیں ہے، زینب الغزالی نے بعد ازاں اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کرلی، تاہم زینب الغزالی، ھدی الشعراوی کا بہت زیادہ احترام کرتی تھیں اور انہیں ایک مخلص اور پرعزم خاتون کے طور پر یاد کرتی تھیں۔

جس زمانے میں ‘اخوان المسلمین” کی تاسیس ہوئی کم و بیش اسی زمانے میں زینب الغزالی نے خواتین کی اسلامی تنظیم کی بنیاد رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی، زینب الغزالی نے 1937ء میں 20 برس کی عمر میں ’’جمعیۃ السیدات المسلمات‘‘ نامی تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم نے مصری خواتین کی دینی تربیت و اصلاح کے میدان میں اہم خدمات انجام دیں۔ پورے مصر میں اس کی شاخیں قائم تھیں۔ “السیدات المسلمات” کے نام سے اس کا ایک مجلّہ بھی نکلتا تھا، جو خواتین کے درمیان بہت مقبول تھا۔ اس تنظیم کی خدمات ربع صدی کے عرصہ کو محیط ہیں۔ اس سے وابستہ خواتین کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ گئی تھیں، زینب الغزالی مسجد ابن طولون میں ہر ہفتہ خواتین کے درمیان قرآن مجید کادرس دیا کرتی تھیں، اس میں تین ہزار سے پانچ ہزار تک خواتین شریک ہوتی تھیں۔ جوں ہی زینب الغزالی نے تنظیم قائم کی زینب الغزالی کی فعالیت کئی گنا بڑھ گئی اور زینب الغزالی کو وزارتِ اوقاف نے 15 مساجد تعمیر کرنے کے لائسنس جاری کر دیے۔ اس کے علاوہ درجنوں مساجد مزید تعمیر کیں، جن کے اخراجات عوامی چندے سے پورے ہوتے تھے۔ زینب الغزالی کی تنظیم نے خاتون مبلغین کی ایک بڑی کھیپ تیار کی۔ ان خواتین نے اسلام میں عورتوں کے مقام و مرتبے کا بھرپور دفاع کیا اور اس حقیقت کو پورے شرح صدر کے ساتھ عام کیا کہ مذہب عورتوں کو پبلک لائف میں مرکزی کردار ادا کرنے، ملازمت کرنے، سیاست میں حصہ لینے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی پوری اجازت دیتا ہے۔ زینب الغزالی اس خیال کی زبردست حامی تھیں کہ مذہب اور سیاست ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔

زینب الغزالی قید و بند:
زینب الغزالی “اخوان المسلمون” کے بانی رہنما شیخ حسن البنا سے بہت ہی زیادہ متاثر تھیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کا قیام گزشتہ صدی کی تیسری دہائی میں عمل میں آیا تھا زینب الغزالی کا عفوانِ شباب تھا جب مصر میں اخوان المسلمون کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ جسے نوجوانوں میں بہت مقبولیت حاصل تھی۔ اس کے بانی حسن البنا نے خواتین میں کام کرنے کے لیے ایک الگ شعبہ قائم کیا تو ان کی خواہش تھی کہ زینب الغزالی اپنی الگ تنظیم ختم کرکے اخوان کے شعبۂ خواتین ’الاخوات المسلمات‘ کی ذمہ داری سنبھال لیں۔ اس وقت موصوفہ اپنی تنظیم کی مجلس شوریٰ سے مشورے کے بعد اسے توڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ بعد میں جب شاہ فاروق کے دور میں پہلی مرتبہ اخوان حکومتی عتاب کا شکار ہوئے تو زینب الغزالی نے حالات کی نزاکت کو دیکھتےہوئے “سیدات مسلمات” کو ختم کرکے “اخوات المسلمات” کی قیادت کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس وقت امام حسن البناؒ نے دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے زینب الغزالی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی علیحدہ تنظیم قائم رکھیں، اس لیے کہ مستقبل میں اس کا علیٰحدہ وجود ضروری ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 1948ء میں اخوان کو جب خلافِ قانون قرار دیا گیا، پھر جب 1954ء میں جمال عبد الناصر کے زمانے میں اخوان پر دوبارہ کاری ضرب لگائی گئی تو ان حالات میں “سیدات مسلمات” ہی واحد تنظیم تھی جو میدان میں سرگرم عمل تھی اور قیدو بند کا شکار اخوان کے خاندانوں کو سہارا دے رہی تھی۔ اس وقت پورے مصر میں اس کی ایک سو بیس شاخیں تھیں اور غریب اور ضرورت مند خاندانوں کی مالی امداد اس کا شعار تھا۔

زینب الغزالی شریعتِ اسلامی کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہیں اور اس وجہ سے ناصر جمال کے دورِ حکومت میں متعدد بار انہیں ابتلا و آزمائش سے دوچار ہونا پڑا، 1964ء میں ناصر جمال کی حکومت نے انہیں ایک کار حادثے میں ہلاک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ واضح رہے کہ ناصر جمال کی حکومت اخوان کو ختم کرنے کے لیے ہر اوچھے اور سفاک حربے استعمال کرنے پر آمادہ تھی۔ آخرکار جمال عبدالناصر نے 1964ء میں “السیدات المسلمات” پر بھی پابندی عائد کردی اور 30 اگست 1965ء کو گرفتار کر لیا۔ ناصر جمال نے اپنے خلاف قتل کی سازش کا زینب الغزالی پر ایک جھوٹا اور بے بنیاد الزام عائد کروا کر 25 سال کے لئے پابند سلاسل کردیا۔ زینب الغزالی کو پچیس سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی، مگر چھ سال کے بعد 1971ء میں انور السادات کے زمانہ صدارت میں زینب الغزالی کو رہائی مل گئی۔

صدر ناصر جمال کی خفیہ پولیس اس چھ سالہ قید کے دوران روز افزوں اذیت کے ذریعے زینب الغزالی کے عزم کو شکست دینے کی ہر ناکام کوشش کی۔ ہاتھ باندھ کر انہیں لٹکا دیتے اور بلا توقف تازیانے برساتے۔ بھوکے خونخوار کتوں کے کمرے میں انہیں تنہا چھوڑا جاتا، انتہائی قلیل مقدار میں انہیں جو کھانا فراہم کیا جاتا تھا، اس میں بھی پیشاب اور غلاظت کی آمیزش کر دیتے۔ انہیں کئی دنوں تک گردن تک پانی میں بغیر کسی حرکت کے نماز جیسی حالت میں بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا اور پھر نرم جسم پر کوڑے مارے جاتے۔ انہیں ہر وقت جیل کے ہسپتال میں داخل کیا جاتا تاکہ ان کو مزید اذیت و تعذیب کے لیے زندہ رکھا جاسکے۔ وہ بہرحال زندہ رہیں اور بالآخر اگست 1971ء میں رہا کر دی گئیں۔ زینب الغزالی نے یہ سب مصائب برداشت کئے مگر ہمت نہ ہاری، بلکہ جب 9، اگست 1971ء کو سیدہ زینب کی رہائی کا پروانہ جاری ہوگیا۔ اس وقت جیل میں ان کے ساتھ سید قطب کی بہن حمیدہ قطب بھی مقید تھیں۔ زینب الغزالی نے حمیدہ قطب کو جیل میں چھوڑ کر رہا ہونے سے انکار کر دیا تھا، مگر بعد میں حمیدہ قطب اور تنظیمی خواتین کے کہنے پر راضی ہوئیں۔

زینب الغزالی کی علمی خدمات:
زینب الغزالی کی ناقابلِ بیان آلام ومصائب سے اپنی انقلابی سوچ کے نتیجے ہی میں جیل اور ابتلا سے گزرنا پڑا۔ جیل میں ان پر بڑا سخت وقت گزرا مگر اللہ نے انھیں ایسی عزیمت عطا فرمائی کہ وہ کبھی متزلزل نہ ہوئیں۔ زینب الغزالی کو اپنے مذہبی افکار کی جدوجہد کی خاطر برداشت کرنے پڑے اس کی مفصل روداد کو اُن کی کتاب ’’ایام من حیاتی‘‘ میں پڑھا جاسکتا ہے، جس کا انگریزی ترجمہ “Days from My Life اور اردو ترجموں میں ’’زنداں کے شب و روز‘‘ اور “روداد قفس” کے نام سے چھپ چکے ہیں۔

جیل سے رہائی کے بعد زینب الغزالی اخوان کے ترجمان “الدعوۃ” میں خواتین اوربچوں کے کالم کی ایڈیٹر رہیں۔ زینب الغزالی نے دعوت و اصلاح، خواتین کی ذمہ داریاں اور دائرۂ کار، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے مسائل اور دیگر تحریکی موضوعات پر خوب لکھا۔ زینب الغزالی کی متعدد کتابیں اور مقالات کےمجموعے عربی زبان میں شائع ہوچکے ہیں اور مختلف زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

زینب الغزالی کے علمی کاموں میں سب سے زیادہ اہمیت ان کی تفسیر ’نظرات فی کتاب اللہ‘ کو حاصل ہے۔ اس کا شمار بیسویں صدی عیسوی میں دعوتی و تحریکی اسلوب میں لکھی جانے والی اہم تفسیروں میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک دوسرے پہلو سے بھی اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ غالباً یہ کسی بھی مسلمان خاتون کے قلم سے لکھی جانے والی واحد مکمل تفسیر ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں یہ شرف اور کسی خاتون کو حاصل نہیں ہوا ہے۔ جیل کی تنہائیوں میں قرآن کریم ہی زینب الغزالی کا روحانی سہارا تھا۔ وہ تلاوت قرآن کے دوران برابر اس کے معانی میں غور وخوض کرتی رہتیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ ان پر القا کرتا اسے مصحف کے حواشی اور بین السطور میں لکھ لیتیں۔ جیل سے رہائی پر ان کا وہ مصحف تو انھیں نہیں مل سکا، لیکن بعد میں جب زینب الغزالی نے تفسیر لکھنی شروع کی تو حافظے پر زور دے کر ان معانی و افکار کا استحضار کیا اور انھیں اپنی تفسیر میں شامل کیا۔ زینب الغزالی گزشتہ صدی کی نویں دہائی کے اوائل ہی میں اس تفسیر کو مکمل کرچکی تھیں۔ جامعہ ازہر کے استادِ تفسیر ڈاکٹر عبدالحی الفرماوی نے اس کا مراجعہ کیا اور اس کی پہلی جلد (711 صفحات) جو سورۂ ابراہیم تک کی تفسیر پر مشتمل تھی، دارالشروق قاہرہ سے ( 1994عیسوی ؍ 1414 سنہ ھجری) میں شائع ہوئی، بعد میں اس کے مالک الاستاذ محمد المعلم کے انتقال کے بعد دوسری جلد شائع نہیں ہوسکی تھی۔ ابھی حال ہی میں مکمل تفسیر (1300 صفحات) کی اشاعت دارالتوزیع و النشر الاسلامیۃ قاہرہ سے ہوئی ہے۔

زینب الغزالی کے افکار:
زینب الغزالی کا کہنا تھا کہ اسلام نے مرد اور عورتوں، دونوں کے لیے ہر چیز فراہم کی ہے۔ اسلام عورت کو ہر چیز فراہم کرتا ہے یعنی اقتصادی حقوق، سیاسی حقوق، معاشرتی حقوق، نجی اور عوامی حقوق۔ اسلام نے عورتوں کو وہ حقوق دیے جو کوئی دوسرا معاشرہ نہیں دیتا۔ عیسائی، یہودی اور لادین معاشروں میں عورتیں آزادی کی بات کر سکتی ہیں لیکن اسلامی معاشرے میں آزادی کی بات کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔ مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کا مطالعہ کریں، اس کے بعد ان پر یہ اچھی طرح واضح ہو جائے گا کہ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورتوں کو ہر طرح کے حقوق دیے ہیں۔ 1981 عیسوی میں جماعت اسلامی ہند کے کل ہند اجتماع میں عورتوں کے 20 ہزار مجمع سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے یہ حیران کن جملہ کہا تھا کہ ’’اس وقت آپ کیا جواب دیں گی جب آپ کی گود میں کھیلتے بچے کل آپ سے سوال کریں گے کہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں سے اسلام کی صدا کیوں نہیں سنائی دیتی؟‘‘ آپ نے اسلام کے بدرجۂ اتم دفع کے لیے مسلم فیمنسٹ کی ایک قابلِ تقلید روایت چھوڑی ہے جس نے یقینا اس وقت سیکیولر اور لبرل نظریات کے بڑھتے ہوئے افکار کو اپنے عہد کی مسلمان خواتین کو دوبارہ اسلامی اقدار کی طرف رغبت میں معاون کیا۔ عالم عرب میں مردوں میں امام البناء نے جدیدیت کے مقابل تحریک کی بنیاد رکھی تو خواتین میں یہ کارنامہ زینب الغزالی کے حصے میں آیا۔

عالم عرب کی مسلمان دنیا کی یہ نامور خاتون مبلغ کی عظیم داعیہ زینب الغزالی کا 88 برس کی عمر میں 3 اگست 2005 ء کو انتقال ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں 39 حج کئے تھے، اپنی تحریکی زندگی میں زینب الغزالی نے کئی ممالک بشمول پاکستان کئی اسفار بھی کئے تھے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20