فاٹا اِصلاحات : خدشات اورتجاویز

0

فاٹا اصلاحات وفاقی کابینہ سے منظور ہونے کے بعدفیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں اور فاٹا  کو بتدریج خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ اِس کی منظوری پارلیمان سے کب تک ہوگی۔ اِس فیصلے میں موجود اِبہام کی وجہ سے مزید خدشات پیدا ہورہےہیں۔ مختلف حلقے  اِس فیصلے کو  اپنے اپنے انداز میں بیان کرکے اِس  مسئلہ کو مزید گھمبیر بنا کر حکومت کے لیئے مشکلات پیدا کرنا  چاہتے ہیں اور فاٹا کے عوام  کو اِس سنہری موقع سے فائدہ  اٹھانے سےروکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  یہ مسلہ صرف فاٹا کے عوام کا نہیں بلکہ ملک کی سالمییت  کا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقہ جات اپنے محل وقوع ، جغرافیائی خدوخال، مخصوص قبائلی روایات اوررسوم ورواج کے تناظرمیں داخلی اور علاقائی سیاست کا ہمیشہ ہی سے ایک اہم عنوان رہے ہیں۔ لیکن ۲۰۰۱ کے بعدخطہ میں جاری جنگ اور اس جنگ کے نتیجہ میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں ان قبائلی علاقوں اور یہاں کی گورننس کے حوالہ سے مباحث نے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرلی ہے۔ گزشتہ سالوں میں ان مباحث کا اہم ترین عنوان یہاں قیام پذیر دہشت گردوں اور ان کی طرف سے جاری پرتشدد سرگرمیوں اور اس بناء پر سلامتی اور امن وامان کے مسائل رہے۔ تاہم آپریشن ضرب عضب کے نتیجہ میں یہاں سلامتی اور امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ چنانچہ فطری طورپر گورننس کے حوالہ سے طویل عرصہ سے موجود مسائل کی جانب ایک بار پھر توجہ مرتکز ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آرمی پبلک اسکول کے واقعہ کے نتیجہ میں بننے والے ۲۰نکاتی قومی ایکشن پلان میں نکتہ نمبر ۱۲ اسی مسئلہ سے متعلق ہے۔

فاٹا کی mainstreaming کے حوالہ سے اصلاحات کے موضوع پر اہم ترین عنوانات: دستوری اعتبار سے فاٹا کی ازسرنوحیثیت کا تعین ، گورننس کا نظام، FCR کاخاتمہ اوراعلیٰ ترین عدالتوں کے دائرہ کار کی ان علاقوں تک وسعت رہے ہیں۔ یہ تمام عنوانات باہم جڑے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہرہرموضوع خود بہت سے ذیلی موضوعات سے جڑا ہواہے۔ یوں کسی بھی اصلاحی کوشش کے لیے یہ ایک وسیع اور پیچیدہ ایجنڈا بن جاتا ہے جس پر پاکستان کے موجودہ مخصوص سیاسی حالات میں پیش رفت کوئی آسان کام نہیں ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ان موضوعات کو اب بھی نظر انداز کیاجاتا رہے تو اس کے منفی نتائج فاٹا ہی نہیں پورے ملک پر شدت سے اثرانداز ہوں گے۔

 اصلاحاتی پروگرام کےحوالے سےاہم ترین نکتہ اس کی ‘ownership’ کا ہے۔ قبائلی علاقے کے عوام اصلاحاتی پروگرامات سے براہ راست متأثر ہوں گے جبکہ خیبرپختونخواہ اور باقی پاکستان بھی درجہ بہ درجہ اس سے متاثر ہو گا۔ قبائلی علاقہ کے عوام میں ان اصلاحات کی قبولیت نہ ہو تو کسی بھی دوسرے گروہ کی قبولیت سے صورتحال بہتر نہ ہوگی۔ اصلاحات کی ضرورت وافادیت اورمقبولیت کامرکزی کردار قبائلی عوام ہیں۔ اس ضمن میں کمیٹی کی ساخت میں ایک بنیادی سقم یہ رہا ہے کہ اس میں فاٹا سے کوئی ممبر شامل نہیں کیاگیا۔ نیز کمیٹی نے جن لوگوں سے فاٹا جاکر ملاقات اور مشاورت کی ان کی بڑی تعداد موجودہ نظام کے ذمہ دار کل پرزوں (پولیٹیکل ایجنٹس) کے ذریعہ جمع کی گئی تھی۔ ایسے میں جو چیز بھی حتمی طور پر طے کی جائے گی اس کو بعض حلقوں کی جانب سے متنازعہ بنایاجاسکتا ہے کہ یہ فاٹا کے عوام کی نمائندہ رائے نہیں بلکہ مخصوص لوگوں کی رائے ہے۔ چنانچہ غوروفکراور منظوری کے آئندہ مراحل میں فاٹا کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانے کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز کسی ایسے پراسیس (ریفرنڈم وغیرہ) کی آئندہ مرحلہ پر گنجائش نکالنی چاہیے جس کے نتیجہ میں ایسے کسی بھی تأثر کی واضح تردید ہوسکے کہ ان سفارشات پر عمل درآمد عوام کی اکثریتی رائے کا نتیجہ نہیں ہے۔ جمہوری اصول کومدنظر رکھتے ہوئے رائے عامہ کے اصول کا مروجہ طریقہ کار اپنایا جائے۔

درحقیقت یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کی بناء پر بہت سی اہم اور مفید سفارشات کے بارے میں بھی بدگمانی کی فضا بن رہی ہے کہ جو اقدامات تجویز کیے گئے ہیں وہ اگر اصولاً ٹھیک بھی ہیں تو ان پر عمل درآمدمیں فاٹا کے لوگوں کو نظرانداز کردیاجائے گا۔۔ (مثلاً  دس سالہ منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے کیا چیف ایگزیکٹو کاقبائلی علاقہ سے ہونا ضروری ہوگا اور کیا تجویز کردہ صورتحال میں صوبائی چیف سیکریٹری اور اس چیف ایگزیکٹو کے درمیان کوآرڈی نیشن کے مسائل نہ ہوں گے۔ اسی طرح مثلاً یہ بات بھی واضح نہیں کہ فاٹا میں بڑی تعداد میں شاملات کی موجودگی میں قبائلی گروہوں سے زمین حکومت کوکیسے ٹرانسفرہوگی اور یوں تعلیم اور صحت کے لیے نجی شعبہ میں زمینوں کی الاٹمنٹ کا طریقہ کارکیاہوگا۔ رپورٹ میں آئندہ تفصیلات اور عمل درآمد کے لیے بہت سی کمیٹیاں تشکیل دینے کاذکر ہے ان کمیٹیوں کے درمیاں کوآرڈی نیشن کا طریقہ کار بھی واضح کرنا ہوگا ۔ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ فاٹا کے KP میں ضم ہونے کے بعد PKاسمبلی میں ارکان کی تعداد کیاہوگی؟ ) موجودہ رپورٹ میں ایسے امور پر ابہام ایک حدتک یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ریفارم ایک مرحلہ وار عمل ہے اور بعض تفصیلات بعدمیں بھی طے ہونی ہیں تاہم اگریہ بات کسی قدر واضح طور پر بیان کر دی جاتی کہ ان تفصیلات پرکام ہونا ابھی باقی ہے اور گویہ فاٹا کے لوگوں کو involve کرکے ہی طے کی جائیں گی تو بدگمانی کے ایسے ماحول سے بچا جاسکتا تھا۔ آئندہ مرحلوں میں مثبت طورپر ضروری وضاحت مفید ہوگی۔ اصلاحات پرعمل درآمد کے اوقات کار کا پیشگی تعین اور معین کردہ مقاصد کے اصول کے مرحلہ وار اجراء کے عمل کو زمینی سطح پر یقینی بنانامفیدثابت ہوگا۔

اسی بدگمانی کا ایک تسلسل ان تفصیلات کے حوالہ سے بھی ہے جن کا تعین ابھی باقی ہے۔ مثلاً یہ کہ FCR کی جگہ جو نیا رواج ایکٹ بنایاجائے گا کیا وہ حقیقی طورپر پہلے سے کچھ مختلف ہوگا۔ کیونکہ FCR بھی ایک درجہ میں تو رواج پر ہی مبنی ہے۔ یا یہ کہ مجوزہ اصلاحات کو آئینی شیلٹر دینے کے لیے دستور کی دفعہ ۲۴۷ کس طرح ختم ہوگی، ہوگی تو کب اور اس کی تفصیلی شکل کیاہوگی۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ قبائلی عوام کو بتدریج FCR اور پولیٹیکل انتظامیہ کے مضبوط پنجے سے ایک خودمختار نظام کی طرف لایاجائے۔ اس عمل میں جج کے اختیارات اور ضابطہ کار موجودہ انتظامیہ سے مختلف ہو۔

 موجودہ دور میں ترقیاتی امور میں سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کی اہمیت سے انکارنہیں کیاجاسکتا ۔ اس تناظرمیں کمیٹی کی یہ تجویز کہ تعمیرنو کے کاموں میں foreign donors کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں مدد بھی فراہم کی جائے گیـ، قابل فہم ہے تاہم یہ واضح رہنا چاہیے کہ قبائلی علاقوں کی حساس حیثیت اور علاقائی سطح پر سلامتی کی صورت حال کے تناظر میں قواعد وضوابط کے کسی مؤثرفریم ورک کے بغیر بین الاقوامی اداروں کویہاں رسائی دینے کا عمل قومی مفادات کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوسکتاہے۔ درحقیقت اس بات کی ہر سطح پر یاددھانی ضروری ہے کہ انتظامی نقطۂ نظر سے ملک کے ہر علاقہ میں کچھ نہ کچھ مسائل موجود ہیں اور پاکستان کے دشمنوں کی یہ کوشش ہے کہ انتظامی مسائل کو لسانی اور علاقائی بنیاد دے کر پاکستانی عوام اور معاشرہ کو تقسیم درتقسیم کا شکار کیا جائے۔

اب ہونا یہ چاہئے کہ اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ اور کابینہ کے فیصلہ سے جس مثبت عمل کاآغاز ہواہے اسے تمام سٹیک ہولڈرز اپنی گروہی مفادات اورسیاسی اختلافات سے قطع نظر خلوص نیت کے ساتھ ایک طے شدہ ٹائم فریم میں آگے بڑھانے کی کوشش کریں ۔حکومت کے حق میں یہی بہترہے کہ مزید مسائل  اور بدگمانیوں سے بچنے کے لیے اصلاحات بِل بِلاتاخیرقومی اِسمبلی میں پیش کرے اوربحث و مباحثے کے بعد اِسمبلی سے پاس کراکےفاٹا کےعوام کی دِلی اَرزو  اور تمنّاپوری کردے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معراج الحمید ناصری، اِسلام اَباد کے ایک معروف ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں  اسسٹنٹ ریسرچ  کوارڈینیٹر ہیں اورافغانستان اور فاٹاپرتحقیقی کام کرتےہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: