اردو سوشل میڈیا کے لکھاری اور اسٹیٹس —— قاسم یعقوب

0

گزشتہ ایک دہائی سے پاکستانی معاشرے میں سوشل میڈیا نے نہ صرف میڈیائی کلچر میں ایک نیا اضافہ کیا ہے بلکہ فکری سطح پر متبادل بیانیہ دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام تجاویز اور مشورے جو کبھی چند اذہان کی دسترس میں ہوتے تھے اور وہ پورے خطے کے اذہان میں ٹھونس دیے جاتے تھے، اب ایسا ممکن نہیں رہا۔ کالم نگاروں یا الیکٹرونک میڈیا پر بیٹھے صحافیوں کے پاس یہی تو ایک طاقت تھی کہ وہ جو سوچتے تھے، اُسے دوسروں تک پہنچانے میں اُن کے پاس اخبارات یا ٹی وی کا ذریعہ تھا۔ وہ جو کچھ یا جس طرح چاہتے اپنی فکر کو پوری سماج کی فکر بنا کے پیش کر دیتے۔ رات کوآٹھ بجے لکھا جانے والا کالم صبح آٹھ بجے سب کی میزوں پر ہوتا۔ یہی ان کی طاقت تھی۔ اب یہ طاقت ان کے ہاتھ سے چھن سی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بیٹھا ایک عام سا شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسے وائرل ہوتی ہے کہ پورے خطے کا اہم موضوع بن جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں میڈیا کی طاقت کم ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر رائے دینے والوں میں دو طرح کے نظریۂ فکر پوری طرح سامنے آ چکے ہیں۔ ایک رائٹ فکر کا اور دوسرا لیفٹ فکر کا نظریۂ حیات۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگیوں کے پس منظر میں بھی دو فکریں پوری طرح سرگرم ہیں۔ ایک اسٹبلشمنٹ حمایت میں اور دوسری اسٹیبلشمنٹ مخالفت میں۔ بظاہر لگتا کہ یہ فلاں سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتا ہے مگر درپردہ اُس کی وابستگی کا تانا بانا اشرافیہ کی حمایت یا مخالفت سے جڑا ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لکھاری ان معروف گروہوں سے ہٹ کر بھی اپنی انفرادی یا آزاد شناخت قایم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تمام آرا ’’سٹیٹس‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس سٹیٹس کی کہانی بھی عجیب ہے۔ یہ کبھی محض تصویر تک محدود ہوتا ہے کبھی کسی کی رائے کو اپنی رائے بناتا ہے اور کبھی خود اتنی طاقت ور رائے کا اظہار کرتا ہے کہ پڑھنے والوں کی چولیں ہلا دیتا ہے۔

ایک دفعہ سید کاشف رضا نے مجھے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ’’سٹیٹس کلچر‘‘ اتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ اب بلاگ کلچر تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے۔ لوگ اتنی تیزی میں ہوتے ہیں کہ وہ کلک کرکے ویب سائٹ کی طرف جانے اور لمبے لمبے آرٹیکل پڑھنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتے۔ فوری سٹیٹس کو پڑھا اور اپنی رائے بنالی، اگر رائے سے ا تفاق یا اختلاف ہے تو اسی مناسبت سے فوری اپنی رائے کو ’ٹھوک‘ دیا۔ میں نے اس بات کا تجزیہ کیا تو مجھے واقعی ایسا لگا کہ اب سوشل میڈیا نے نہ صرف لوگوں کو رائے دینے کا اختیار دے دیا ہے بلکہ رائے سننے اور اُس پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا پورا کلچر بھی پیدا ہو چکا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ اب خاموشی سے ایک بیانیہ ترتیب دیا جانے لگا ہے جس کا اختیار پہلے کبھی طاقتور صحافیانہ اشرافیہ یا حکومتی ایوانوں کے پاس تھا۔

اس وقت بہت سرگرم ’’سٹیٹس لکھاری‘‘ خاموشی سے ایک متبادل بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں، اگر کوئی اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہا تو اس کی خام خیالی ہے جس کی خطرناکی بہت جلد عیاں ہونے والی ہے۔

میں اگر ان چند لکھاریوں کا نام لوں تو ان کو پہلے کچھ حصوں میں تقسیم کروں گا۔ پہلے وہ لکھاری آتے ہیں جو ریاستی اشرافیہ کے خلاف لکھتے اور طے شدہ ٹیبوز کو توڑنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ یہ لکھاری بنیادی طور پر لیفٹ اپروچ سے چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آرا غیر معمولی طور پر پورے سماج پر اثر انداز کر رہی ہیں۔ ان میں سید کاشف رضا، مبشر علی زیدی، ارشد محمود، علی اکبر ناطق، عثمان قاضی، حسن نقوی، جمیل قریشی، عامر کاکازئی، صفی سرحدی، محمد اقبال قریشی، فرنود عالم، حاشر بن ارشاد، عدنان کاکڑ، فرحان احمد خان، جمشید اقبال، حافظ صفوان، شیخ نوید وغیرہ شامل ہیں۔

مذکورہ تمام نام میں نے بہت انتخاب سے پیش کیے ہیں۔ ان لکھاریوں میں درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ ان کی تحریروں میں موضوعات کی تقسیم بھی کی جا سکتی ہے مگر مجموعی طور پر یہ لکھاری اپنا نقطہ ٔ نظر دیتے ہوئے ریاستی بیانیوں کے خلاف اپنا موقف رکھتے ہیں۔ سیاسی حوالے سے بھی یہ لکھاری تقسیم ہیں مگر مجموعی طور پر ان کا موقف طے شدہ رویوں اور بیانیوں کے خلاف خاموشی سے اپنی فضا بنا رہا ہے۔ ان لکھاریوں کی اپنی اپنی جہت ہے، اپنا اپنا بیانیہ ہے، ایک ایک نام اہم اور خوب زیرِ بحث آنے والا ہے۔ ان کی تحریروں اور سٹیٹس پر بہت لکھا جا سکتا ہے۔ ان لکھاریوں کی تحریروں کا بیانیہ بہت اثر رکھتاہے۔ بعض اوقات پڑھنے والے کے ہاں مخالفت یاحمایت میں نئی بحث جنم لیتی ہے۔

اسی لاٹ میں اگر ذرا کم اثر انداز ہونے والے لکھاریوں کی فہرست بنائی جائے تو ان میں وسیم عبد اللہ، وصی بابا، ابو بکر، احمد حماد، آصف جاوید، صلاح الدین درویش، ناصر مینگل، محمد عاطف علیم، علی ساحل، منزہ احتشام گوندل وغیرہ کا نام آتا ہے جو اپنی رائے کا برملا اظہار بھی کرتے اور طے شدہ فکریات میں شگاف ڈالنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مگر کم اور محدود لکھنے کی وجہ سے ان کا اثراتنا گہرا نہیں جتنا پہلی لاٹ کے لکھاریوں ہے۔

دوسری طرف رائٹ کی آواز اٹھانے والی توانا آوازوں میں رعایت اللہ فاروقی، محمد عامر خاکوانی، ڈاکٹر مشتاق احمد، شاہد اعوان، لالہ صحرائی، زاہد مغل، ادریس آزاد، عاصم اللہ بخش، سبوخ سید، اعجاز الحق اعجاز، قاری حنیف ڈار، کاشف نصیر، حنیف سمانا، لالہ صحرائی، محمود فیاض، جین سارترے، عمیر فاروق، رضوان خالد چودھری، احمد بن الیاس، عماد بزدار، عامر ہزاروی، عزیزی اچکزئی، ہمدرد حسینی اور عثمان سہیل وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ہاں مذہبی بیانیہ پوری طاقت سے جلوہ گر نظر آتا۔ سیاسی اعتبار سے البتہ ان میں سے کچھ ایک گروہ کی جانب مائل نظر آتے ہیں اور کچھ دوسرے۔ تاہم کچھ لکھاری اپنی انفرادی، بے لاگ اور توانا آواز کی وجہ سے کبھی ایک گروہ کو حیران کرجاتے ہیں اور کبھی دوسرے کو پریشان۔ ان میں آصف محمود، شاہد اعوان، سبوخ سید، مجاہد خٹک، ہمایوں مجاہد تارڑ، محمود فیاض اور عاطف حسین شامل ہیں۔ کچھ لکھاری متنازعہ ہونے کے باوجود اپنی بے پناہ مقبولیت کے باعث بہت اہم ہیں، جیسے بابا کوڈا نامی پیج وغیرہ۔ رائٹ کی آوازیں مجموعی طور پر اتنی اثر انداز نہیں جتنی لیفٹ کی تحریروں میں تلخ سوچ ابھر رہی ہے۔ البتہ اپنے موقف کے بلند آہنگ اظہار میں کسی طور رائٹ بھی پیچھے نہیں ہے۔

سیاسی تلخ حقیقتوں کے ساتھ سٹیٹس دینے والوں میں جمیل اصغر جامی، شاہین مفتی، عزیز ابن الحسن، عتیق الرحمن خواجہ، انوار الحق، شاہد اشرف، فیاض ندیم، ظہیر بدر، ظہیر قندیل وغیرہ شامل ہیں۔ ان صاحبان کی فکر و نظر زیادہ تر سیاسی بیانیوں کے پس منظر میں موجود حقائق کی بازیافت کرتی ہے۔ گو کہ کچھ صاحبان بہت کم لکھتے ہیں مگر ان کی تلخ تحریروں کادائرۂ اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔

خوبصورت، معلوماتی اور اہم ادبی سٹیٹس دینے والوں میں اسلم ملک، محمود الحسن، طارق ہاشمی، عزیز ابن الحسن، ڈاکٹر معین نظامی، اقبال خورشید، امجد علوی، عامر سہیل (ایبٹ آباد)، سعید سادھو پیش پیش ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں بعض اوقات مکمل آرٹیکل کی شکل میں سٹیٹس ابھرتے ہیں اور پڑھنے والوں کو نئی فکریات سے روشناس کرواتے ہیں۔

اس گروہ میں کچھ خواتین بھی لکھاری بھی نمایاں ہیں۔ انکی اکثریت سماجی اشوز پہ لکھتی ہے مگر کچھ سیاسی موضوعات پہ بھی بروئے کار آتی ہیں۔ ان میں رابعہ خرم، نیر تاباں، ڈاکٹر لبنیٰ مرزا، زارا مظہر، جویریہ سعید، زیتون بی بی، سعدیہ علی، سعدیہ کیانی، فرحین شیخ، ثنا غوری، نبیلہ کامرانی، سائرہ فاروق، فارینہ الماس، سحرش عثمان، رقیہ اکبر، مریم عرفان، ثمینہ رشید، مطربہ شیخ وغیرہ شامل ہیں۔

کچھ احباب سٹیٹس دینے کی بجائے کسی اور کی رائے کو شئیر کرتے اور لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں ان میں عرفان احمد عرفی، انجم سلیمی، شیخ عدیل احمد، فخرِ عالم، شہزاد وریا وغیرہ شامل ہیں۔

معروف مزاح نگار ذوالفقار علی بڑا منفرد سٹیٹس دیتے ہیں۔ ان کے ہاں سماجی ناہمواریاں مزاحیہ انداز سے سامنے آتی ہیں، وہ چوں کہ خود اعلیٰ پائے کا مزاح لکھنے والے ہیں، اس لیے وہ طنز ومزاح کے ذریعے خاموش بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں، بعض اوقات ان کے ہاں نہایت سنجیدہ سٹیٹس بھی ابھرتا ہے اور پڑھنے والوں کو اداس کر دیتا ہے۔

کچھ ادیب بھی سوشل میڈیا پر اپنا موقف دیتے ہیں مگر وہ کسی سماجی تلخ بحث کاحصہ نہیں بنتے ان میںآصف فرخی، ناصر عباس نیر، محمد حمید شاہد، غافر شہزاد وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے ہاں ادبی مضامین ہی غالب رہتے ہیں، کسی سیاسی و سماجی گفتگو سے پرہیز کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر زیادہ تر احباب اپنی تصاویر شیئر کرنے اور روزمرہ کی رونمائی میں مصروف نظر نہیں آتے۔ ادیب شاعر تو مکمل طور پر نابلد ہو کے سوشل میڈیا کی وادی میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ انھیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ صرف مشاعرے پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں یا اپنی غزلیں، نظمیں لگا کے داد وصول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا الیکڑانک میڈیا کو پیچھے دھکیلتا جا رہا ہے۔ اخبار تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ویسے ہی تقریباً ختم ہو کے صرف لائبریریوں کی زینت بن چکا ہے۔ اس لیے سوشل میڈیا کی آواز کو معمولی نہیں سمجھا جارہا۔ یہ خموش بیانیہ کسی دن اتنا پُراثر ہو جائے گا کہ اشرافیائی کلچر کو تہہ وبالا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا۔ لہٰذا ان احباب کی آرا کو بہت توجہ سے سننا اور دیکھنا چاہیے۔

ایک دفعہ میں اپنے عزیز دوست آصف غفار سے سوشل میڈیا کے حوالے سے کسی موضوع پر گفتگو کر رہا تھا۔ میں نے اُسے ٹانٹ کرتے ہوئے کہا کہ تم سوشل میڈیا کی طاقت کو کیا جانو۔ اس نے بہت طنزاً مسکراتے ہوئے مجھے جواب دیا: ’’او بھائی ہمیں تو نہ کہو کہ ہم سوشل میڈیا کی طاقت نہیں سمجھتے۔ ہم نے تو سوشل میڈیا کے ذریعے پورا وزیر اعظم بنا دیا اور تم ہمیں اس کی طاقت کا اندازہ کروا رہے ہو۔ ‘‘

(نوٹ: یہ اظہاریہ میرے سوشل میڈیائی مطالعہ پر منحصر ہے، کسی اور کا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اور مزید نام بھی سامنے آ سکتے ہیں)۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20