قارئین ِ آپ بیتی کے لیے تحفہ خاص ——– نعیم الرحمٰن

0

آپ بیتی یا خودنوشت ایک منفردصنف ِ ادب ہے۔ جس کا مصنف اپنی زندگی کا کچا چٹھا کھول کے قارئین کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ قاری کو مخصوص شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے فرد کی زندگی بھر کی جدوجہد اور ڈیولپمنٹ جاننے کا موقع مل جاتا ہے۔ اردو میں آپ بیتی اگر بہت زیادہ نہیں تو اتنی کم بھی نہیں لکھی گئیں۔ بعض آپ بیتیوں سے تاریخ کے چند گمشدہ اوراق یا پوشیدہ پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ راشد اشرف اور اٹلانٹس پبلشرز کے فاروق احمد زندہ کتابیں کے تحت نایاب اور یادگار خودنوشت سوانح حیات، آپ بیتی اور خاکے شائع کر رہے ہیں۔ ان کی تازہ ترین کتب نامور محقق، شاعر، دانشور اور منفرد کالم نگار مشفق خواجہ کی ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘ اور جرمنی میں مقیم بھارتی ترقی پسند تحریک کے ادیب، شاعر اور ڈرامہ نگار عارف نقوی کی ’’جلتی بجھتی یادیں‘‘ ہیں۔ بہترین کاغذ پر عمدگی سے چھپی دونوں کتابوں کی قیمت بھی حسب ِروایت انتہائی کم ہے۔ دونوں نایاب کتب آپ بیتی کے شیدائیوں کے لیے تحفہ خاص کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشفق خواجہ نے اردو کے تقریباً سو نامور مصنفین اور شعراء کی مختصر آپ بیتیاں یکجا کر دی ہیں۔ جبکہ بھارتی مصنفین کی کتب پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔ جرمنی میں مقیم بھارتی ادیب کی کتاب پاکستانی شائقین کتب کے لیے تحفے سے کم نہیں ہے۔

عبد الحئی المعروف مشفق خواجہ محمد نگر لاہور میں 19 دسمبر 1935ء کو پیدا ہوئے۔ اور 21 فروری 2005ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ مشفق خواجہ کے خامہ بگوش کے قلمی نام سے لکھے کالم بے انتہا مقبول ہوئے، ان کالمز میں وہ کتابوں اور مصنفین کے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں بخیے ادھیڑ دیتے تھے۔ بقول انور سدید مرحوم مشفق خواجہ کے انتقال پر وہ لوگ زیادہ رو رہے تھے جن پر انہوں نے زیادہ سخت کالم لکھے تھے۔ خواجہ صاحب نے 1997ء میں آخری کالم تحریر کیا۔ ان کے کالموں کے انتخاب پر مبنی سات کتب شائع ہوئیں اور تمام بیسٹ سیلرز اب نایاب ہیں۔ ان کے بہت سے کالم اب بھی اشاعت کے منتظر ہیں۔ مشفق خواجہ نے اپنی کالم نویسی کے ایک پریشان کن پہلو سے قارئین کو بھی آگاہ کرتے ہوئے لکھا۔

’’جس قسم کے خطوط (گم نام اور دھمکی آمیز) ہمارے نام آتے ہیں، اگر کسی دوسرے کے نام آئیں تو کالم نویسی ہی کیا، شہر بھی چھوڑ دے اور کسی جنگل میں جا کر بقیہ زندگی یادِ الہٰی میں گزار دے۔‘‘

ڈاکٹر اسلم انصاری نے مشفق خواجہ کے اسلوب کے بارے میں کہا۔

’’وہ ادب میں ہر چیز کو برداشت کر سکتے ہیں، لیکن خود نمائی، خود فروشی اور اتھلے پن کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اسی طرح محض زبان کے نام پر برتری جتانے والے ان سے داد و تحسین پانے کی توقع نہیں کر سکتے۔ جھوٹے، نقلی اور نان سنس ادیبوں، سرقے کے مرتکب سفر نامہ نگاروں اور اس قبیل کے تنقید نگاروں کو معاف کرنا ان کے مسلک میں جائز نہیں۔ وہ یہ سب کچھ ایسے انداز میں کرتے ہیں جو انہی سے مخصوص نظر آتا ہے، محض طنز و مزاح لکھنے والے ادیب کی حیثیت سے نہیں۔‘‘

چند باتیں میں ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے راشد اشرف نے بتایا۔

’’بہاول پور کے جریدے ’’الزبیر‘‘ میں 1964ء میں مشفق خواجہ مرحوم کا زیرِ نظر مقالہ شائع ہوا تھا جو کتابی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد کاوش نے زیر نظر کتاب کے حصہ دُوم میں چند انتہائی اہم اضافے کیے ہیں اور اس کتاب کو نہ صرف مشتاقانِ ادب کے لیے بلکہ مشفق خواجہ کے چاہنے والوں کے لیے بھی ایک یادگار دستاویز کی شکل دے دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اس مسودے کی تیاری میں کڑی محنت کی اور اس اہم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مشفق خواجہ آپ بیتیوں کے شائق تھے۔ دنیا بھر سے آپ بیتیاں منگواتے تھے۔ راقم کو اُن کے کتب خانے میں موجود آپ بیتیوں اور شخصی خاکوں پر کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ایسا ذخیرہ اور کہیں دیکھنے میں نہیں آئے۔‘‘

کتاب کے حصہ اول میں اٹھاسی اور حصہ دوم میں ترپن مختصر آپ بیتیاں شامل ہیں۔ مرتب ڈاکٹر محمود احمد کاوش ’’کتاب سے پہلے‘‘ میں اس بارے میں لکھتے ہیں۔

’’آج سے سولہ سال پیش تر جامعہ پنجاب لاہور میں پی ایچ ڈی (اردو) کی ریگولر کلاس میں داخلہ لینے سے پہلے مشفق خواجہ سے میرا رسمی تعارف تھا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ان کے نام سے تو واقف تھا، لیکن ان کے کام سے گہری شناسائی نہ تھی۔ یہ تو بھلا ہو اُستاذی و محبی ڈاکٹر اورنگ زیب عالم گیر کا کہ اُن کی بدولت مشفق خواجہ کے علمی و ادبی اور تحقیقی و تدوینی کارناموں سے واقفیت ہوئی۔ انہیں کے مشورے سے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے لیے ’’مشفق خواجہ، احوال و آثار‘‘ کا موضوع عمل میں آیا۔ اسے میری خوش قسمتی تصور کیجیے کہ انہیں کی نگرانی میں مذکورہ تحقیقی کام کرنے کا موقع ملا۔ مقالے کی تکمیل کے بعد مشفق خواجہ کی غیر مطبوعہ اور غیر مدون تحریروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اور تادمِ تحریر پانچ کتابیں تربیت دے چکا ہوں۔ جو ہنوز اشاعت کی منتظر ہیں۔ مشفق خواجہ کے برادرِ مکرم خواجہ عبد الرحمان طارق نے ان کتب کے اشاعتی اخراجات برداشت کرنے کی ہامی بھری ہے۔ امید ہے جلد شائع ہو جائیں گی۔‘‘

ڈاکٹر محمود ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘  کے بارے میں کہتے ہیں۔

’’ شروع میں میرا خیال تھا کہ یہ کام چنداں مشکل نہیں۔ بس کتابت کروانی ہے اور آغاز میں دو چار تعارفی صفحات لکھنے ہیں اور کام ختم، لیکن جب مواد کتاب ہو کے میرے پاس آیا اور میں نے حروف خوانی شروع کی تو بقول مصحفی ’’مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم۔ ۔ تیرے دِل میں تو بہت کام رفو کانکلا ‘‘ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ’’الزبیر‘‘ میں مطبوعہ متن میں کئی لفظ غلط لکھے گئے تھے، کہیں کہیں کاتب سے بعض سطریں یا جملے کا کوئی جزو لکھنے سے چھوٹ گیا تھا، جس سے عبارت بے معنی بن جاتی تھی۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ مشفق خواجہ نے مختلف قلمی نسخوں، قدیم کتابوں اور زمانہ حال کی کتابوں میں موجود مصنفین کے اردو میں لکھے خود نوشت حالات کی عکسی نقول الزبیر کے مدیر کو بھجوائیں۔ اس بھیجے مواد سے کتابت کروائی گئی، لیکن حروف خوانی کا خاطر خواہ اہتمام نہیں کیا گیا۔ اللہ کا نام لے کر اُن مآخذ کی تلاش و جستجو شروع کی جہاں سے مشفق خواجہ نے مواد لیا تھا۔ اللہ کریم کا شکر ہے کہ گنتی کے چند ایک مآخذ کے سوا اکثر و بیش تر تک رسائی ہو گئی۔‘‘

مشفق خواجہ نے آپ بیتی کے بارے میں کیا دلچسپ بات لکھی ہے۔

’’انسان کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز خود اس کی اپنی ذات ہے اور سب سے بڑا خوف ’انکشافِ ذات‘ کا ہے۔ وہ کسی قیمت پر بھی گوارا نہیں کرتا کہ اُس کی ذات اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ دوسروں کے سامنے آئے، یہاں تک کہ وہ خود اپنے آپ سے بی اپنے کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے عالم میں یہ توقع رکھنا بے کار ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے کھُلی کتاب کی صورت پیش کرے۔ خود نوشت سوانح کا اصل مقصد انکشافِ ذات ہے، لیکن سماجی قیود اور اخلاقی مفروضات اسے پردہ ذات بنا دیتے ہیں اور اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ اپنے آپ کو چھپانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود نوشت سوانح عمری لکھ دی جائے۔‘‘

مشفق خواجہ کا ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘ کے بارے میں کہنا ہے۔

’’میں نے صرف اُن مختصر آپ بیتیوں کو اس مجموعے میں شامل کیا ہے جو اردو میں لکھی گئیں۔ اردو مصنفین نے جو آپ بیتیاں فارسی میں لکھی ہیں، انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔ اس میں صرف ایسی آپ بیتوں کو شامل کیا گیا ہے جن کے مصنف ہمارے درمیان موجود نہیں۔ زندہ لوگوں کی آپ بیتوں کو شامل کرنے سے یہ سلسل بہت طویل ہو جاتا۔‘‘

کالم کی طوالت کے خیال سے اقتباسات درج کرنا ممکن نہیں۔ ’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اوّل ’الزبیر‘ میں شامل مواد پر مشتمل ہے۔ جس میں اٹھاسی شخصیات کی مختصر آپ بیتیاں شامل ہیں۔ جو چند سطروں سے سات آٹھ صفحات پر مبنی ہیں۔ ان خود نوشت تحریروں سے اردو ادب کی کئی معروف اور غیر معروف شخصیات کی حیات اور بعض پوشیدہ پہلووں کا علم ہوتا ہے۔

جن شخصیات کی آپ بیتیاں اس حصے میں شامل ہیں۔ ان میں محمد باقر آگاہ، شوق اورنگ آبادی، میرزا علی لطف، شیر علی افسوس، شیخ حفیظ احمد، مرزا مغل، نہال چند لاہوری، خلیل احمد اشک، شاہ حسین حقیقت، سائل ارکاٹی، مولوی کریم الدین، شیخ احمد حسرت، اسد اللہ خان غالب، مولوی رجب علی، امیر مینائی، صفیر بلگرامی، سید ممتاز علی حافظ بھوپالی، ہم رنگ اورنگ آبادی، حیدر بخش حیدری، کاظم علی جوان، میر امن، منصور علی، باسط خان باسط، معین الدین فیضی، مظہر علی خان ولا، اعزاز الدین، محسن لکھنوی، سعادت خان ناصر، قدر بخش صابر، نور احمد چشتی، شوکت بھوپالی، منشی دیبی پرشاد بشاش، نواب عبد اللہ خان ضیغم، باقر حسین ضیا، لالہ پیارے لال دہلوی، الطاف حسین حالی، خان بہادر مرزا سلطان احمد، شوق قدوائی، شبلی نعمانی، عبد الحلیم شرر، شیوبرت لال ورمن، ریاض خیر آبادی، منشی پریم چند، امید امیٹھوی، ولی شاہجہاں پوری، یگانہ چنگیزی، وحشت کلکتوی، اختر شیرانی، آزاد انصاری، طالب باغپتی، میرا جی، چودھری محمد علی ردولوی، سعادت حسن منٹو، مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی، مولانا عبد السلام ندوی، مولانا اطہر ہاپوڑی، نواب سلیم خان اسد، امداد امام اثر، مولوی محبوب عالم، مرزا ہادی رسوا، لالہ بیج ناتھ، مولوی عزیز مرزا، نظم طبا طبائی، محمد مظہر حسین سلیمان، عبد الباری آسی، علی اختر اختر، تاجور نجیب آبادی، سیماب اکبر آبادی، فانی بد ایونی، نوح ناروی، اندر جیت شرما، اثر صہبائی، ڈاکٹر رشید جہاں، پروفیسر نواب علی، علی اختر حیدر آبادی، مولانا مناظر احسن گیلانی، عبد المجید سالک، ساحل بلگرامی، قابل اجمیری، نظر حیدر آبادی، ہادی مچھلی شہری، شوکت تھانوی، مجید لاہوری اور ڈاکٹر محمد اشرف شامل ہیں۔

حصہ دوم مرتب ڈاکٹر محمود احمد کاوش کے جمع کردہ اضافی مواد پر مشتمل ہے۔ جس میں مولانا عبد الحلیم شرر کی ’دل گداز‘ میں بالاقساط شائع ہونے والی آپ بیتی کی مزید قسطیں بھی شامل ہیں۔ اس حصے میں باون آپ بیتیاں شامل ہیں۔ جن میں احتشام حسین، اختر اورینوی، مرزا ادیب، اعظم کریوی، آلِ احمد سرور، بلقیس جمال، راجندر سنگھ بیدی، تصدق حسین خالد، حرماں خیر آبادی، دیوندر ستیارتھی، ن م راشد، سلام مچھلی شہری، اختر انصاری، جان نثار اختر، اوپندر ناتھ اشک، امین حزیں، آنند نرائن ملا، بے تاب حیدر آبادی، تخت سنگھ، ثاقب کان پوری، حفیظ جالندھری، ملک راج آنند، سعید احمد اعجاز، شاد عارفی، شارق میرٹھی، شریف کنجاہی، صادقین، عاصی کرنالی، محمد حسن عسکری، علی سردار جعفری، غلام عباس، فیاض محمود، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، مختار صدیقی، ملا واحدی، سعادت حسن منٹو، یوسف ظفر، مولانا عبد الحلیم شرر، شیر محمد اختر، عابد لاہوری، عرش ملیسانی، عصمت چغتائی، علی عباس حسینی، فراق گورکھ پوری، فیض احمد فیض، قیوم نظر، تلوک چند محروم، مسعود جاوید، ممتاز مفتی، خوشی محمد ناظر اور وحشت کلکتوی کی آپ بیتیاں شامل ہیں۔

مجموعی طور پر’’اردو کی مختصر آپ بیتیاں‘‘ انتہائی دلچسپ اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ جس میں ایک سو اکتالیس مشاہیرِ ادب کی خود تحریر کردہ معلومات قارئین کے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔


عارف نقوی ترقی پسند تحریک کے ساتھ تحریک کے ابتدائی دور سے وابستہ رہے ہیں اور بلاشبہ اس کی آخری توانا شمع کہلائے جانے کے حقدا رہیں۔ ان کی آپ بیتیاں تین حصوں میں ہندوستان سے شائع ہوئیں۔ ’’جلتی بجھتی یادیں‘‘ ان تینوں کا نچوڑ ہے، جس میں مصنف کے بارے میں تمام اہم پہلو شامل ہیں۔ عرف نقوی 20 مارچ 1934ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ 1957ء میں ان کے ڈرامے سوانگ کو انعام ملا۔ پروفیسر احتشام حسین کی زیر نگرانی اردو ادب میں ایم اے کیا۔ سجاد ظہیر کے ساتھ ہفتہ روزہ عوامی دور نکالا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بطور ہندی، اردو ڈرامہ آرٹسٹ کام کیا۔ 1961ء میں جرمن زبان سیکھنے اور جرمن ڈرامہ پر ریسرچ کے لیے جرمنی چلے گئے۔ وہیں ہمبولٹ یونی ورسٹی میں اردو اور ہندی کے مستقل لیکچرار مقرر ہوئے۔ یونیورسٹی کی اجازت سے ریڈیو برلن انٹرنیشنل پر ایڈیٹر کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ عارف نقوی کی کئی کہانیوں، نظموں اور ڈراموں کے جرمن زبان میں تراجم ہوئے۔ ان کی نثری اور شعری تصانیف میں ’’تلاشِ سحر‘‘ افسانے اور ڈرامے ’’زخموں کے چراغ‘‘، کھلتی کلیاں ‘‘شاعری’’ ایک سے چار‘‘، ’’خلش‘‘، ’’پیاسی دھرتی‘‘ اور ’’سوئے فردوس‘‘ افسانوی مجموعے ’’یادوں کے چراغ‘‘ اور’’نقوشِ آوارہ‘‘ شخصی خاکے ’’راہِ الفت میں گامزن‘‘ اور طائر آوارہ‘‘ سفرنامے ہیں۔ دیگر کتب میں جرمن تاریخ کے جائزے پر مبنی ’’جرمنی کل اور آج‘‘ اور جرمنی میں طویل قیام کی داستان ’’نصف صدی جرمنی میں‘‘ شامل ہیں۔ ا س کے علاوہ کیرم بورڈ کے کھیل کے چالیس سالہ تجربات پر مبنی ’’کیرم سے رشتہ‘‘ بھی لکھی ہے۔

عارف نقوی تقریباً اٹھاون سال سے جرمنی میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ وہاں بھی اردو تدریس اور برلن ریڈیو سے وابستہ رہے۔ ’’جلتی بجھتی یادیں‘‘ میں انہوں نے بہت خوش اسلوبی سے اپنے بچپن، جوانی اور خاندان کی یادوں کا ذکر کیا ہے۔ جس سے قارئین بھی پرانی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ اپنی عمر اور پیدائش کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’جب میں پیدا ہوا، اس زمانے میں پیدائش کی سرکاری رجسٹریشن نہیں ہوتی تھی۔ اگر خاندانی کتاب میں درج نہ ہوا تو لوگ پتہ نہیں کیا کیا حساب لگا کر اپنی عمریں طے کر لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی تو لوگوں کی عمریں یہ سوچ کر طے کر دی جاتی تھیں کہ انہیں ملازمت حاصل کرنے میں کس بات سے فائدہ ہو گا۔ اس لیے مجھے تو اسکولی سرٹیفیکیٹ اور پاسپورٹ کا سہارا لینا پڑا تھا۔ حالانکہ میرے ایک دوست پروفیسر قمر رئیس مرحوم نے تو اپنی کتاب ’ترقی پسند ادب کے معمار‘ میں میری تاریخ پیدائش 20 مارچ 1928ء تحریر کر دی ہے جو کسی حالت میں بھی صحیح نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو میرا نام بھی کچھ اور ہی ہونا چاہئے تھا۔ یعنی عارف نقوی نہیں سید عبد الواسع مجد الدین نقوی۔ جو میری والدہ تک کو یاد نہیں رہا۔ مجھے بھی پتا نہ چلتا اگر میری دادی نے ایک بار مجھ سے ذکر نہ کیا ہوتا۔‘‘

اپنے خاندانی پس منظرکو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’بزرگوں کے مطابق میں پرانے لکھنؤ کے ایک محلے پنجابی ٹولے میں احاطہ حافظ عبد السلام میں پیدا ہوا۔ یہ احاطہ میرے نانا کے نام پرتھا جن کے اس محلے میں زیادہ تر مکانات تھے۔ والدہ کے بیان کے مطابق ان کے بزرگان عرب کے رہنے والے تھے اور پنجاب کے سیالکوٹ سے ہوتے ہوئے یہاں آئے تھے۔ نانا کی پہلی بیوی نواب ڈھاکا کے خاندان سے تھیں۔ ان کی ایک کزن خواجہ ناظم الدین کی اہلیہ تھیں۔ میری نانی کی چودہ پندرہ اولادیں ہوئیں۔ لیکن زیادہ تر بچے پیدا ہوتے ہی فوت ہو گئے۔ صرف تین بچے بچ گئے۔ میری والدہ قمر جہاں بیگم، ان کا ایک بڑا بھائی عبد الصمد اور ایک چھوٹی بہن سلطان جہاں بیگم۔ نانی کے انتقال کے بعد نانا نے ایک کشمیری خاتون سے شادی کی، جن سے تین بیٹے ہوئے، جن میں دو مجھ سے بڑے اور ایک چھوٹا تھا۔ میری دادی نواب منصرم الدولہ کی بیٹی تھیں جن کا حوالہ عبد الحلیم شرر اپنی ایک کتاب میں بھی دیا ہے۔‘‘

عارف نقوی کی یادوں میں ماضی کی کچھ ایسی یادگاروں کا ذکر ہے۔ جو ہمارے دور کے بے شمار افراد کے لیے بھی یکسر انجان ہیں۔ لکھتے ہیں۔

’’فینس والی گلی جہاں سے کسی زمانے میں فینسیں اور ڈولیاں بلوا کر ہمارے گھر کی عورتیں باہر جایا کرتی تھیں، وہاں اب کوئی فینس یا ڈولی نظر نہیں آتی۔‘‘

بھلا دورِ حاضر کی ’میرا جسم میری مرضی‘ والی خواتین فینس یا ڈولی کا تصور بھی کر سکتی ہیں۔ عارف نقوی کے نانا حافظ قرآن، نماز روزہ کے سخت پابند تھے۔ گھر میں پردے کی سخت پابندی تھی۔ عورتیں برقع اوڑھ کر اور ڈولی میں بیٹھ کر گھر سے باہر جاتی تھیں۔ اور جب گھر لوٹتی تھیں تو کہار دور سے آواز لگاتے تھے ’سواری آ رہی ہے۔ پردہ کر لو۔ ‘ دو آدمی چادر تان کر کھڑے ہو جاتے تھے، تا کہ کوئی نامحرم کسی خاتون کی جھلک نہ دیکھ سکے۔

’برلن میں پہلا قدم‘  کے عنوان سے عارف نقوی نے جرمنی جانے کا احوال لکھا ہے۔

’’جیب میں آٹھ ڈالر، جو روانگی کے وقت پالم ہوائی اڈے پر ہندوستانی کرنسی کے بدلے دیئے گئے تھے، ٹانگوں پر پتلون کے نیچے لمبی اونی انڈر ویئر جو پی سی جوشی نے یہ کہہ کر دی تھی کہ پہن لو نہیں تو سردی سے مر جاؤ گے۔ سینے پر قمیض سے نیچے ایک موٹی روئی کی بنڈی جو میری چچی نے خود تیار کر کے دی تھی اور دماغ میں ہزار طرح کے خیالات۔‘‘

اس بے سر و سامانی میں سفر کرنے والے عارف نقوی جرمنی ہی میں بس گئے، وہیں شادی کی۔ یہ تمام ذکر انتہائی دلچسپ ہے۔ مشکل حالات اور انجانی دنیا میں جگہ کیسے بنائی۔ وہاں کے شب و روز کا ذکر کتاب کو لائق مطالعہ بناتا ہے اور قاری کی توجہ مبذول کیے رکھتا ہے۔ ہمارے نو جوان بھی کتاب سے انسپائریشن لے کر اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20