ڈاکٹر فضل الرحمان: پاسبان روایت و اجتہاد ——– ڈاکٹر غلام شبیر

1

روایتی طبقہ فضل الرحمان کو قاطع روایت و دین سمجھتا ہے۔ تاہم تہہ میں یہ نابغہ روزگار روایت کے باب میں روایتی طبقے سے زیادہ حساس ہے۔ قدامت پسند طبقہ جہاں مجددین کے انقلابی تصورات سے پہلو تہی برتتا ہے وہاں فضل الرحمان قالین تلے دبائے گئے حقیقی تصورات سے وقت کی گرد جھاڑ کر انہیں اسکالرشپ کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔

مصنف

فضل الرحمان کو مختصراً بندہ احیا و اصلاح کہا جاسکتا ہے۔ مغربی جامعات سے تعلیم، اور انگریزی تصانیف سے عمومی تاثر جنم لیتاہے کہ وہ سرسید، سید چراغ علی، غلام جیلانی برق اور غلام محمد پرویز ایسا اسکالر ہوگا جس نے اسلام کی تعبیرنو کا فراک ڈارون ازم کے ناپ پر سیا ہوگا، اور اسکے کھرے کھوٹے کا معیار Cartesian mindset ہوگا۔ تاہم فضل الرحمان کی فکر کے گہرے پانیوں میں اترنے والا ہر غواص ایسے نادر و نایاب موتیوں سے ٹکراتا ہے جو آخری تجزیے میں اصلاً اسلامی روایت کے ایسے گوہر ہیں جو تاریخ کے تند و تیز جھکڑوں کے باعث ہمارے ہاتھ سے چھوٹ گئے تھے۔ اس کی تصانیف میں جہاں قرآن و اسوہ رسول کو فلکرم سی کلیدی حیثیت حاصل ہے وہاں فاروقی نکتہ نظر اور اندازکے ساتھ غزالی، ابن تیمیہ شاطبی شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ سمیت دیگر مصلحین کے افکار کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ مغرب پرست معذرت خواہ سطحی مسلم اسکالرشپ جہاں نیچرل ازم کا شکار ہو کر اپنی روایت کو خیرباد کہنے میں فخر محسوس کرتی ہے وہاں فضل الرحمان پورے قد کیساتھ اپنی روایت سے اٹوٹ رشتہ نبھاتے ہوئے مغرب کی مادہ پرست اقدار کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے اسلامی اقدار کی ایسی روحانی تعبیر پیش کرتے ہیں کہ نہ صرف مستشرقین کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں بلکہ اسلامی روایت پر گولے برساتی مغربی مورخین کی توپیں چپ سادھ لیتی ہیں۔

پروفیسر منظور احمد نے راقم الحروف کو بتایا کہ جب انہیں فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکی جامعات کا ایکسپوژر ملا تو جانا کہ امریکا میں ڈاکٹر فضل الرحمان کی وجہ سے اسلام کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز فرماتے ہیں ایڈنبرا سے پی ایچ ڈی کے دوران ایک دفعہ اسلام پر مستشرقین کی کانفرنس منعقد ہوئی تو ان کا کہنا تھا عالم اسلام نے اگر کوئی ایسا اسکالر پیدا کیا ہے جو ہماری بات سمجھ سکتا ہو اور اپنی بات سمجھا سکتا ہوتو وہ فقط ڈاکٹر فضل الرحمان ہے۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ ان کی تحریروں کے گہرے مطالعے سے آشکار ہوتا ہے کہ ایک ایک جملہ ہفتوں کی ریاضت سے جرح و تعدیل کی سان پر خوب تراش تراش کر افراط و تفریط اور حشو و زوائد سے پاک کیا گیا ہے۔

فضل الرحمان کے مطابق زمانہ وسطیٰ کی مسلم اسکالرشپ موجودہ مسلم اسکالرشپ کے مقابلے میں زمان و مکاں اور سماجی ماحول کے پیش نظر کئی اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ نظر آتی ہے۔ تاہم روایت پسند طبقے کا ہاضمہ قابل داد ہے کہ اس عہد کے انتہائی ترقی یافتہ افکار زیرقالین ڈال کر خس بود کو سینے سے لگایا۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ لکھتے ہیں کہ جدید تعلیمی اداروں سے وابستگی کے باوجود انہوں نے درس نظامی کی کتابوں کو ترک نہیں کیا۔ تاہم کئی دہائیوں بعد احساس ہوا کہ ان کتابوں میں جو جواہر ریزے چھپے ہیں مدارس کے طلبا ان سے آشنا نہیں ہیں۔ ان کلاسیکی متون کے بیش بہا سرمائے سے میں مدارس سے باہر آجانے کے بعد ہی واقف ہوا۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ شکوہ بلب ہیں کہ زمانہ وسطیٰ کے مسلم لٹریچرکا المیہ یہ ہے کہ وہ Accessible Idiom میں میسر نہیں ہے۔ جدید عہد میں فضل الرحمان نے نہ صرف زمانہ وسطیٰ کے مسلم افکار کو قابل فہم عالمانہ انداز میں پیش کیا ہے، بلکہ روایتی فکر پر جدید افکار کی پیوندکاری یا قلمکاری کا فریضہ بھی ایسا خوب نبھایا ہے، کہ فکر اسلامی قدیم و جدید کی دوئی کے بجائے باہم نامیاتی طور پر مربوط Organic ally linked integrated whole تسلسل نظرآتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ڈاکٹرصاحب کے قلب ودماغ میں اسلام کی مبادیات اور تاریخیت آپسی تضادات ختم کر کے یکجا ہوگئے ہیں۔ یوں مسلمانوں کے نیچری علما میں جہاں روایت سے بغاوت اور غربی ماڈل میں عافیت نظر آتی ہے وہاں فضل الرحمان کے ہاں روایت کا اثبات اور اعتبار پایا جاتا ہے۔

Related imageجعللکم السمع والابصاروالافئدہ کا ملخص یہی ہے کہ جہاں ہماری حسیات طبعی علوم کا منبع و مرجع ہیں وہاں کارہائے فطرت کا حتمی ادراک اور اشیا کی فطرت کا علم فئواد یعنی قلب کے ذریعے ممکن ہے۔ نیچری علما نے عقل محض کو خضر راہ سمجھا اور دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے کی عملی تصویر بن گئے۔ فضل الرحمان نے Cartesian Approach کے بجائے قرآن کا کامل تصور علم اپنایا جو سمع و بصر اور فئواد سے عبارت ہے۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب کی تعبیرات میں ایماں بالغیب کا زادراہ بدرجہ اتم موجود ہے جو قارئین کی حلاوت ایمانی کو دوچند کیے دیتا ہے۔ وہ ایمان کا سائنسی جواز مانگنے والوں سے کہتے ہیں کہ جیسے رات کی تاریکی کے رسیا الووں کو سورج کا دکھائی نہ دینا سورج کے عدم وجود کی دلیل نہیں ہے بعینہ ایمان بالغیب کی کیفیت سے ناآشنا افراد کا بیانیہ خداکے عدم وجود کی حجت نہیں ہے۔ یہ غیب اگرچہ وحی کے ذریعے انبیا کیلیے حضور بن جاتا ہے تاہم خدا کا مکمل علم سوائے خدا کے کسی کو نہیں ہے۔ خدا کے وجود کا عقدہ ان پر کھلتا ہے جن کے گہرے تفکر کا منہاج یہ ہو کہ ان کیلئے خدا نہ صرف غیرعقلی اور نامعقول نہ ٹھہرے بلکہ ماسٹر ٹرتھ یعنی شاہ سچ کا درجہ حاصل کرلے۔ قرآن کا بنیادی ٹاسک اسی بدیہی حقیقت کو اظہر من الشمس کرنا ہے حاصل ہوگیا تو سب حاصل ورنہ جو پایا وہ بھی کھو دیا۔ تاہم قرآن اپنے قارئین سے ایک انتہائی سادہ مطالبہ کرتاہے اور وہ ہے توجہ سے سننا کہ قرآن کا بنیادی تھیسس کیا ہے۔ وہ کہ جو غیب کے آگے سراپا عاجز ہے اور قلب منیب رکھتاہے، یعنی ایسا دل کہ جس سے جب حق ٹکراتاہے تو اثبات کے گھنگرو بج اٹھتے ہیں۵۰:۳۳۔ ان کا قیام، سجود و رکوع نیند و بیداری اور پہلو بدلتے ہوئے غوروفکر کا حتمی نتیجہ ماخلقت ھذا باطلا کی گردان یا وظیفہ ہوا کرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب پر شدید تنقید ان کے تصور وحی سے متعلق ہوتی ہے۔ ان کے تصور وحی پر الگ مضمون کی ضرورت ہے تاہم اتنا بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر حسین محمد جعفری نے راقم الحروف کو بتایا کہ وہ اس وقت “ہمدرد اسلامیکس“ کے ایڈیٹر تھے اور وحی کی خارجی اور داخلی حیثیت پر ڈاکٹر فضل الرحمان کا آرٹیکل ابھی زیر طباعت تھا کہ پہلے ہی شور مچ گیا کہ وحی سے متعلق فضل الرحمان کے افکار اسلامی نہیں ہیں۔ جعفری صاحب نے کہا کہ میں ابھی طباعتی مرکز میں تھا، کہ حکیم سعید صاحب کا فون آیا کہ فضل الرحمان کا وحی سے متعلق مضمون نکال دیجئے اس پر علمی حلقوں میں شدید برہمی اور سخت تحفظات ہیں۔ لکھنئو سے پی ایچ ڈی کے بعد دوبارہ آکسفورڈ سے برنارڈ لیوس کی رہنمائی میں پی ایچ ڈی کرنیوالے ڈاکٹر جعفری کوئی عام اسکالر نہیں تھے۔ حکیم سعیدصاحب کو قائل کیا کہ یہ مضمون چھپنا چاہئے تاہم معترضین کیلئے ہمدرد اسلامیکس کا وعدہ اور اعلان عام ہے کہ وہ فضل الرحمان کے نظریہ وحی کا رد لکھیں ہمدرد اسلامیکس تشکر اور امتنان سے معمور جذبات کیساتھ چھاپے گا۔ مضمون چھپ گیا، مگرکہیں سے کوئی تحریر اس کے رد میں ہمدرد اسلامیکس کو موصول نہ ہوئی۔ ڈاکٹر جعفری اسلام کی سیکولر تعبیر کے قائل تھے، اور فضل الرحمان کی علمی وجاہت کے قائل ہونے کے باوجود گلہ مند رہتے تھے کہ جہاں تک جہاد اور اسلام کی سیاسی تعبیر کا سوال ہے ان پر دیوبندیت کا چھلکا قائم رہا۔ تاہم ایک روح پرور شام مجھے گھر کے لان میں بٹھا کر فضل الرحمان کی تصنیف ”اسلام” لائے اور یہ اقتباس اس آہنگ سے مسرت بھرے انداز میں سنا رہے تھے جیسے کسی کلاسیکی موسیقار کو کلاسیکی شاعر کی غزل کی کلاسیکل راگ میں دھن میسر آگئی ہو۔ انا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً کے پس منظر میں فضل الرحمان رقمطراز ہیں۔

The whole subsequent inner history of the Prophet is thus set between the two limits, i.e. The frustration caused by the attitude of the Meccans, which was outside his control and the endeavor to succeed, for it is a part of Quranic doctrine that simply to deliver the Message, to suffer frustration and not to succeed, is immature spirituality.

یہاں ایک سوال جنم لیتاہے کہ مذکورہ مضمون کے چھپنے سے پہلے ہی فضل الرحمان کے تصور وحی سے متعلق اتنا شوروغوغا کیوں اٹھا۔ میرا احساس ہے فضل الرحمان کی مخالفت کی وجوہات علمی نہیں سیاسی تھیں۔ جسٹس جاوید اقبال مرحوم نے مجھے بتایا کہ ایوب خان اسلامی اصلاحات کیلئے بہت سنجیدہ اقدامات کے متمنی تھے ان کے اس دیرینہ خواب کی تعبیر کیلئے میں میک گل یونیورسٹی سے فضل الرحمان کو پاکستان لایا تھا۔ یاد رہے اس منصوبے کیلئے ڈاکٹر محمد اسد سے بھی رابطہ کیا گیا تھا تاہم وہ ان دنوں The Message of Quran کے نام سے قرآن کا ترجمہ اور حاشیہ لکھنے میں مصروف تھے۔ تاہم ضیا الحق کے دور میں جب اسلامی قوانین کی فریمنگ اور نٖفاذ و اطلاق کیلئے ڈاکٹر محمد اسد سے رابطہ کیا گیا تو وہ فارغ ہوچکے تھے، محمد اسد کو عظیم پروٹوکول سے ایئرپورٹ سے ایوان صدرلایا گیا، تاہم وہ صدر صاحب کے اردگرد اہل علم کی علمی وقعت کو فوراً سمجھ گئے اور اس جتھے کو Retrograde Brigade کہہ کرچند دن دیرینہ دوستوں سے ملاقات کیلئے رکے اور واپسی کی راہ لی۔

ایوب خان کا زوال شروع ہوتے ہی اس سے وابستہ ہر نیک و بد معتوب ٹھہرا۔ پروفیسر محمد الغزالی نے بتایا کہ جب بھی امریکی جامعات کا دورہ کرتاہوں تو وہاں کے اہل دانش یہی سوال کرتے ہیں اہل پاکستان نے فضل الرحمان کی قدر نہیں کی، تو ہم یہی کہتے ہیں کہ بھئی ان کی علمی وجاہت کا زمانہ قائل ہے، مگر یہ بتایئے کہ آخر گوجرانوالا کے ریڑھی بان تک کیوں فضل الرحمان کیخلاف سراپا احتجاج تھے؟ اس لیے کہ وہ ایوب خان جیسے ڈکٹیٹر کا ساتھی بنا تھا۔ میں نے سوال داغ دیا کہ حضور گجرانوالا کے ریڑھی بانوں کو کون بتا رہاتھا کہ وحی سے متعلق فضل الرحمان کا تصور غیر اسلامی ہے۔ اس پروپیگنڈے سے فضل الرحمان کو دل کا دورہ بھی پڑا انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنے موقف کی وضاحت بھی کی تاہم فضل الرحمان چونکہ ریاستی امور میں اسلام کے کلیدی کردار کے پرچارک تھے اس لیے معاصر سیکولر انگریزی اخبار بھی ان کیخلاف ایڈیٹوریل لکھ رہا تھا۔ حالات کے تیور دیکھ کر ایوب خان نے فضل الرحمان سے دھیمے لہجے میں کہہ دیا۔

چھڑکے ہے شبنم آئینہ برگ گل پر آب
اے عندلیب! وقت وداع بہار ہے

فضل الرحمان امریکا سدھار گئے اسکالرشپ کے میدان میں ان کا جوہر ادراک خوب بروئے کار آیا، مگر پاکستان ایک ایسے جید اسکالر سے محروم ہوگیا جو اس کے گیسوئے تابناک کو اسلام کے مشک عنبریں سے سنوارنے کا پورا پورا سامان و ہنر رکھتا تھا۔ جس کا فہم قرآن نہ صرف انسانی آزادیوں، انسانی حقوق، سماجی انصاف اور دیگر قوموں کیساتھ پرامن ثمرآور بقائے باہمی اور اتحاد سے عبارت تھا بلکہ سیکولر مادیت پرستی کے اشتہا انگیز میلانات کیخلاف سد سکندری تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کا مقصد مذہب کو ماڈرنٹی سے تحفظ فراہم کرنا نہیں ہے جو بہرحال ایک جانبدارانہ رویہ ہے بلکہ ان کا مقصود جدید آدمی کو مذہب کے ذریعے اس کی اپنی ذات سے بچانا ہے۔ تاہم ہمارے اہل حل و عقد اور اہل بست وکشاد کو شاہینوں کی جگہ زاغ وزغن اور کرگس راس آتے ہوں تو دل میں جب درد ہو دوا لیجئے۔۔، دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے کے مصداق خیال بیاباں نوردی میں عافیت پاتا ہے۔ فضل الرحمان کی نثر میں امیرخسرو کے نغموں جیسی تاثیر اور کشاکش ہے۔ وہ سرسیدکے برعکس افغانی اور اقبال کا تسلسل تھا۔ آج ان کے شاگرد تیونس، انڈونیشیا، ملائشیا اور دیگر بلاد اسلامیہ میں اسلامی اصلاحات کیلئے حکومتوں کے مشیر ہیں مگر پاکستان میں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

Related imageسرسید کا نیچری مکتبہ فکر جس کا تسلسل چراغ علی پرویز صاحب اور غلام جیلانی برق وغیرہ ہیں نے عقل محض کو معبد بنایا اور نتیجتاً ہر وہ روایت و قدر جس کا احاطہ عقل نہیں کرسکتی تھی خاک کا پندار ہوئی۔ یہ مدرسہ فکر اہل القر آن پر منتج ہوا۔ اس مکتب فکر نے روایت، تصوف، شریعت کلام تاریخ اور ادب کو جھٹلا کر قوم کا حافظہ چھیننے کی کوشش کی۔ ۔ مانا کہ اہل تصوف، ملائیت، اور سلاطین کے اتحاد ثلاثہ نے اسلام کی تعبیر اور احادیث کے لٹریچرسے خوب کھلواڑ کی مگر احادیث کو من حیث المجموع رد کرنا اسلام کی ترجمانی کے برعکس گولڈز ہائر اور دیگر مستشرقین کے موقف کی تائید و متابعت ہے۔ میں بذات خود پانچ سال اس مکتبہ فکر کا اسیر رہا۔ یہ ڈاکٹر فضل الرحمان کا مطالعہ تھا جس نے مجھے اس ڈارون ازم سے واگزار کرایا۔ حدیث پر جرح و تعدیل ہماری روایت کا اٹوٹ انگ رہا ہے، مگر حدیث کیخلاف جارحانہ مہم استہزا اور شور و غوغا کا پرچار جس شدومد سےسرسید کے نیچری مکتبہ فکر میں ملتا ہے پہلے کبھی نہ تھا۔ تاریخ کے بڑے واقعات اپنی منہج پر افسانوی نوعیت اختیار کرلیا کرتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ سانحہ کربلا کا سرے سے انکار کر دیا جائے۔ اس مدرسہ فکر نے تصوف کو واہمہ، احادیث کو اساطیری داستانیں بنادیا، تاریخ کو بادشاہوں کا قصیدہ قرار دیا گیا۔ البتہ یورپی نشاۃ ثانیہ کے مادی تصورحیات کا ماحصل سائنس اورفلسفہ معتبر ٹھہرا جو قرآن کی تعبیر کیلئے کافی و شافی قرار دیا گیا۔
گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ۔

فضل الرحمان کا غیر معمولی استثنائی کارنامہ یہ ہے کہ آفاقی اسلام Normative Islam اور تاریخی اسلام Historical Islam کے درمیان حدفاصل قائم کی۔ مستقل اخلاقی اقدار اور دائمی اصول و معیارات نارمیٹو اسلام ہیں۔ زمان و مکاں اور علت کے ہاتھوں ان اصول و اقدار کو تاریخ نے جو نئے نئے پیراہن بخشے وہ اسٹاریکل اسلام ہے۔ اول الذکر مستقل بالذات ہے، موخرالذتغیر پذیر ہے۔ باطن او از تغیر بے غمے،، ظاہر او انقلاب ہر دمے۔ یعنی قرآن کے دائمی اصول تغیر ناآشنا ہیں جبکہ فروعات و جزئیات انقلاب آشنا ہیں۔ مذاہب کو ارتقائی عمل میں افراط و تفریط اور حشو و زوائد سے دوچار کرنا تاریخ کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ جب روایت کی روح پر تاریخ کے چڑھائے گئے گوشت پوست کو بھی مستقل اسلام مان لیا گیا تو روایت ایک گلیشئر بن گئی جو محض عظیم الجثہ ہونے کے باوصف قریب سے گزرتے ہر خس بود کو اپنا حصہ بناتی چلی گئی۔۔ جدید عہد کے چیلنجز سے نبرد آزمائی کیلئے فضل الرحمان کے نزدیک پہلا مرحلہ نارمیٹو اور تاریخی اسلام کے درمیان حد فاصل قائم کرکے تاریخی کیچڑ Historical garbage سے نجات پانا ہے۔ یعنی اس مواد کو ڈسٹ بن میں ڈالنا ہے جو تاریخ کے کسی موڑ پر کسی اہم چیلنج کے جواب میں نمو پایا اوراب فاضل و فاسد حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ سرمایہ حدیث میں سیاسی گروہی اور مسلکی محرکات سے اضافہ ہوا ہے تاہم وہ حدیث کو قرآن کے نفس مضمون کی کسوٹی پر پرکھنے کے قائل ہیں۔ اور لچک کا یہ عالم ہے کہ خواہ احادیث تاریخی طور پر وضعی کیوں نہ ہوں اگر قرآن کے نفس مضمون سے لگا رکھتی ہیں تو انہیں درست مانا جائے۔ جرح و تعدیل کے مروجہ اصولوں کے برخلاف شاہ ولی اللہ کا موقف بھی یہی ہے کہ کم بختو! اسما الرجال کے علم سے تم کتنے راویان کے شجرہ و کردار پر بحث سے حدیث کی ثقاہت چیک کرتے ہو، حدیث کا قرآن کے نفس مضمون سے موازنہ کیوں نہیں کر لیتے۔ فضل الرحمان کہتے ہیں کہ مزاج رسول بالخصوص اور عرب مزاج بالعموم فرضی مسائل پر بات سے اجتناب کا عادی رہا ہے۔ عرب و عجم اور اسود و احمرکا مسئلہ بعد کی پیداوار ہے خطبہ حجہ الوداع میں عرب کی عجم پر برتری یا گورے کی کالے پر برتری کا رد قرین قیاس نہیں ہے تاہم اسے قرآن کی روح سے سو فیصد ہم آہنگ ہونے کے باوصف قول رسول ماننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان موطا امام مالک سے استدلال کے ذریعے اسٹاریکل اسلام کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پہلی صدی ہجری کے اختتام تک سنت کا کینوس اتنا وسیع تھا کہ سنت نبوی کی اسپرٹ کو سمجھتے ہوئے خلفائے راشدین یا دیگر اصحاب کبار نے پیش آمدہ مسائل کا اجتہاد کے ذریعے حل پیش کیا اور عامۃ الناس نے اسے قبول کیا اسے بھی سنت سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قرآن اور سنت نبوی سے استدلال و استخراج اور انتاج کو سنت سمجھا جاتا رہا۔ یوں سنت اجتہاد اور اجماع کو ایک نامیاتی وحدت Organic whole کا درجہ حاصل تھا۔ یہ مبنی بر برداشت اور اپوزیشن کی گنجائش سے لیس اتنا غیر رسمی اور لچکدار جمہوری عمل تھا کہ اہل مدینہ وعراق اور مصراپنے اپنے حالات کے مطابق فکر اسلامی کے آب رواں سے مستفید ہورہے تھے اور سنت مدینہ سنت عراق اور سنت مصر اپنے اپنے فطری بہائو میں رواں تھی۔ یعنی ایک سنت متعارف ہوئی اس پر اجماع ہوجاتا، نیا مسئلہ ابھرتا اس اجماع کو پھر اجتہاد سے گزرنا پڑتا قبول عام کا درجہ پاکر اجماع ہوا اور اسے سنت کا درجہ مل گیا۔ انتظامی مسئلے نے جنم لیا کہ ایک مرکزی حکومت حجاز عراق اور مصر کو تین مختلف طرز کے قوانین اور روایات سے کیونکر ہینڈل کرے۔ انتظامی امور میں یکسانیت اور توازن کے اسکوپ نے امام شافعی کیلئے گنجائش اور خلا چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ سنت اجتہاد اوراجما ع کے زندہ مظہر کو حدیث نبوی سے بدل دیا جائے۔ ان کے نزدیک حدیث کسی جنرل ڈائریکٹو یعنی ہدایت عام کے برعکس حرف پرستی مخصوصیت اور متن پرستی سے عبارت تھی۔ اسپرٹ پرجاتے تو مختلف تعبیرات کا اندیشہ رہتا۔ کسی بھی امر پر حدیث میسر ہے تو سنت اجتہاد اور اجماع کا پیچیدہ عمل درکار نہیں ہے۔ امام شافعی کے اس عمل سے اجتہاد اور اجماع کی فطری ترتیب جب اجماع اور اجتہاد کی غیرفطری ترتیب میں بدل گئی تو اجماع جو ایک مستقبل بیں متحرک العمل ڈینامک مظہر تھا ماضی پرستانہ جامد روایت بن گیا، یوں جس کے خمیر میں جاری عمل اور استمرار کا راز پنہاں تھا، ایک پہلے سے مکمل شدہ عمل بن کر رہ گیا۔ اسٹیٹ مشینری اور اس کے انتظامی عمل میں یکسانیت اور توازن در آیا مگر اسلام اپنی دینامیت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ حدیث پر انحصار بڑھنے سے حدیث کی نہ صرف جمع و تدوین ہوئی بلکہ حدیث وضع ہونے کا اسکوپ بھی پیدا ہوگیا۔ یوں

Al-Shafii’s genius provided a mechanism that gave stability to our medieval socio-religious fabric but at the cost, in the long run, of creativity and originality.

فضل الرحمان نیچریت اور ڈارونیت میں گندھی مسلم اسکالرشپ کی مانند تصوف کو سرزمین اسلام کا اجنبی پودا سمجھنے کے برعکس اس کی جڑیں قرآن اور احوال رسول میں پاتے ہیں۔ وہ 17:1; 53:1-12, 13-18; 81:19-25 کو پیغمبرؑ کے صوفیانہ تجربات قراردیتے ہیں، تاہم یہ سب مکی زندگی کے تجربات ہیں مدنی زندگی میں مذہبی اخلاقی رہنما اصولوں سے پردہ اٹھنے ایک سماجی تنظیم کے قیام اور نظم سماج کا انتظام و انصرام سامنے آتاہے جو یہ ثابت کرتاہے کہ صوفیانہ تجربات لطف اندوزیوں اور الٰہیاتی موشگافیوں کی پھلجھڑیوں اور معرفت الٰہیہ کے بلند بانگ دعووں سے حلقہ ارادت بڑھانے کے برعکس ایسی توانائی کا ذریعہ ہیں جس کے ذریعے تاریخ کے گوشت پوست میں ایک نظام اخلاق و اقدار انجیکٹ کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مدنی عہد میں اس جانب پیش رفت ہوئی ایسے تجربات کا بیان رک گیا۔ اہل عرب کا عملی مزاج ان صوفیانہ تجربات کی بابت سوال اٹھانے کے برعکس احکام خداوندی سے متعلق جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوئے سمجھتا تھا کہ اس طرح کی روحانی پروازیں انبیا کا خاصا ہوا کرتا ہے۔ وہ اس تجربے سے ٹرانسپائر ہونے والے اخلاقی پروگرام اور اس کے نفاذ و اطلاق کی جدوجہد کو منتہائے مقصود سمجھتے تھے۔ خاتم الرسلﷺ کے یونیورسل اخلاقی پروگرام کی توانائی اور حرارت نے ان میں اقبال کے الفاظ میں حیاتیاتی انقلاب Biological transformation بپا کر دیا تھا عمل کی رعنائی و سرمستی و سرشاری انہیں روحانیت کے ماورالطبیعاتی سوالوں سے گریزپا رکھتی تھی۔ فضل الرحمان نے امام غزالی شیخ احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ کے بیان کردہ تصوف کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے تصوف اسلامی کی اقلیم پر یہودی، عیسائی، رومی زرتشتی ہندی اور یونانی اثرات کی نشاندہی بھی کی ہے اور اصول معرفت یعنی Principle of Gnosticism کو اسلام پرخارجی اثرات کا مظہر قرار دیا ہے۔

فضل الرحمان نہ تو مطلق احیا پسندوں کی طرح مغرب سے بہرحال نفرت کے پرچارک تھے اور نہ ہی سیکولرجدت پسندوں کی طرح مغرب کی غیرمشروط متابعت کا دم بھرنے والے تھے۔ آپ عالم اسلام اور یورپ کے درمیان مبنی پر توحید معاشرت اور اقتدار عالم کےقیام کیلئے عملی اقدامات کے خواہاں تھے۔ اسلامی ایشیا اور عیسائی مغرب کے درمیان پلوں کی تعمیر کیلئے وہ عالم اسلام سے سپاس گزار ہیں کہ وہ تاریخ کے اسیر نہ رہیں اور اہل یورپ سے مطالبہ ہے کہ Egalitarianism سمیت دیگر آفاقی اقدار کو مسلم معاشروں میں پنپنے کا موقع دیں گے تو عالمی سطح پر متوازن و یکساں معاشرہ وجود میں آئے گا، اور مشرق و مغرب کے درمیان حائل خلیج کو پاٹا جاسکے گا۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. وہ لوگ مجرم ہیں جو لوگوں کو عظیم انسانوں سے استفادہ کرنے نہیں دیتے، طرح طرح کے پروپگنڈا سے لوگوں کو عظیم شخصیات سے دور کرتے ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ لوگوں کو متاع عظیم حاصل کرنے سے روک کر کتنا بڑا گناہ کرتے ہیں، تنقید کا ہر ایک کو حق ہے،

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20