پرچھائی (افسانہ) ——– محمد اویس حیدر

0

ابھی کتنی دیر مجھے یونہی بٹھاو گے ولی۔ ۔ ۔ میں تھک گئی ہوں

ولی نے کینوس پر برش چلاتے ہوئے ہاتھ کو روک کر ماہ پارہ کی طرف دیکھا اور کہا ” کیا تم سمجھتی ہو کہ اس چاند کے ٹکڑے کو کینوس کی زینت بنانا اتنا آسان ہے؟ ابھی تو میں صرف تمہاری آنکھوں کے سحر کو اتارنے کی کوشش کر رہا ہوں، پورے چہرے کے خدوخال ابھی باقی ہیں، تمہاری پتلی لمبی کھڑی ناک، گول پیشانی، ابھری ابھری مخملی سی گالیں، شبنم میں بھیگے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ اور ان پر سجھی شرارتی سی مسکراہٹ اور مسکراہٹ میں بھیگی ہوئی شربتی آنکھیں، جن میں تو رس ہی رس بھرا ہوا ہے جیسے امرت کے کٹورے ہوں۔ پھر تمہاری لمبی گردن اور بھرے ہوئے شانے۔ ۔ ۔ بلکہ سچ پوچھو تو میں ابھی تک تمہیں اپنی نگاہوں میں ہی پورا سمیٹ نہیں پا رہا، کجا کینوس پر اتار سکوں۔

ہائے اللہ، بس کر دو ولی تم، دیکھا ہے میں نے خود کو اب ایسی بھی حسین نہیں ہوں جیسے تم کہہ رہے ہو۔ تم تو تصویر کی طرح بتاتیں بنانے میں بھی ماہر ہو۔ ماہ پارہ نے ولی کو شرارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے تعریف کو بس کرنے کا یوں کہا گویا اندر ہی اندر مزید تعریف سننے کی خواہاں ہو۔ ولی نے مسکرا کر ماہ پارہ کی طرف دیکھا اور بولا ” اچھا چلو تم اب آرام سے بیٹھ جاو اور مجھے یہ پورٹریٹ مکمل کرنے دو ورنہ نہ تو باتیں ختم ہوں گی اور نہ ہی یہ پورٹریٹ۔

ماہ پارہ ولی کی بات سن پھر سے بیٹھ کر پورٹریٹ مکمل ہونے کا یوں انتظار کرنے لگی جیسے دلہن اپنے کمرے میں بیٹھی دلہا کے آنے کا انتظار کرتی ہے۔

ولی ایک آرٹسٹ تھا جو حُسن کو کینوس پر اتارنا جانتا تھا۔ اس کے بکھرے اور الجھے ہوئے بالوں، چہرے پر بڑھی ہوئی ہلکی ہلکی شیو اور سبزی مائل بھوری آنکھوں پر ماہ پارہ خود بھی فدا تھی۔ جب ولی نظر بھر کے ماہ پارہ کو دیکھتا تو وہ اندر ہی اندر بھیگنے لگتی۔ یوں ولی کے سامنے بن ٹھن کر بیٹھی رہنا ماہ پارہ کا بہترین مشغلہ تھا اور یہ اس کی زندگی کے بہترین لمحات ہوتے۔ وہ چاہتی کہ یہ لمحات اتنے طویل ہو جائیں کہ پوری زندگی انہیں میں سما جائے۔ وہ بار بار ولی کو کسی نہ کسی بات پر چھیڑنے لگتی۔

تم نے میرے بالوں کے بارے میں تو کچھ کہا ہی نہیں، کیا مجھے بغیر بالوں کے ہی پینٹ کرو گے؟ ماہ پارہ نے پھر سے ولی کو چھیڑتے ہوئے کہا

ارے کیسی بات کرتی ہو پاگل لڑکی، تم جانتی بھی ہو کہ تمہارے بال تم پر کیسے لگتے ہیں ؟ ولی نے پوچھا

کیسے ؟؟ ماہ پارہ کی آنکھوں میں چمک ابھری

ایسے جیسے رات کی پھیلی ہوئی سیاہی جس نے پوری کائنات کو ڈھانپ رکھا ہو اور اس سیاہی میں دمکتا ہے تمہارا چاند جیسا چہرہ، اسی لیے تو تمہارا نام ہی ماہ پارہ ہے یعنی چاند کا ٹکڑا۔ تمہیں معلوم ہے جب تمہارے بال کھلتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟

کیا ہوتا ہے ؟ ماہ پارہ نے اپنے ہونٹوں کو اندر کی طرف دباتے ہوئے حیرانگی سے پوچھا

جھلستی ہوئی ریت کے میدانوں میں ابر کی سیاہ گھٹائیں پھیلنے لگتی ہیں، اور جب تم انہیں بھاندتی ہو تو گویا رات اپنا وجود سمیٹ کر تمہیں کن اکھیوں سے دیکھنے لگتی ہے کہ کب اسے پھیلنے کی اجازت ملے گی۔

اف میرے خدایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ولی تم کہاں سے لے آتے ہو ایسی باتیں ؟؟؟ کیا میں تمہیں اتنی پیاری لگتی ہوں ؟؟؟

ہممممم اتنی تو نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البتہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔ ولی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

ماہ پارہ جو بڑے شوق اور مزے لے لے کر ولی کی باتیں سن رہی تھی پھر اچانک ہی سنجیدہ ہو کر کسی سوچ میں چلی گئی، کچھ دیر بعد جب اس نے نگاہیں اٹھائیں تو ان میں اداسی اور ویرانی بھر چکی تھی۔ اس نے انہی ویران آنکھوں سے ولی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ مجھ سے پھر کوئی سچی محبت کیوں نہیں کرتا ؟

کیا مطلب ؟ ولی نے چونک کر دیکھتے ہوئے پوچھا

سب میری تعریف تو کرتے ہیں، میرے حسن کے قصیدے پڑھتے ہیں مگر دل سے ٹوٹ کر چاہتا کوئی بھی نہیں۔ سب کی نظروں میں سوائے ہوس کے مجھے اور کچھ بھی نظر نہیں آتا جیسے میں انسان نہیں کوئی کھلونا ہوں جس سے لوگ صرف کھیلنے اور دل بہلانے کی آرزو کریں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لوگوں کو میرے وجود میں دلچسپی ہے مگر میری ذات میں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی بھی مجھے جاننے کی کوشش نہیں کرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ مجھے سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ اور اگر کوئی کچھ کرتا بھی ہے تو صرف مجھے بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا میری ذات اتنی بری ہے کہ اسے یکسر بدل دیا جائے؟ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے میں ماہ پارہ نہیں بلکہ لوگوں کے لیے محض کوئی فن پارہ ہوں۔ جسے وہ دیکھیں سراہیں اور پھر نظریں لپیٹ کر گزر جائیں یا نگاہوں سے ایسی ہوس برسانے لگیں جسے دیکھتے ہی دل چاہے کہ ان کا منہ توڑ دوں۔ ساتھ ہی ماہ پارہ کی آنکھوں میں پھوار اڑنے لگی۔

ارے یار اب تم خوامخواہ رونے لگی۔ ولی اسے روتا دیکھ کر سنجیدگی سے بولا۔ پھر اس نے برش ایک طرف رکھا اور ماہ پارہ کے قریب جا بیٹھا۔ ولی کے قریب بیٹھتے ہی ماہ پارہ کا خود پر قابو نہ رہا اور وہ اپنے ہاتھ چہرے پر رکھ کر یک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ولی نے اپنا بازو پھیلا کر اپنے ہاتھ سے ماہ پارہ کے کندھے کو سہلایا تو اس نے اپنا سر ولی کے کندھے پر رکھ دیا۔ آنسووں کی لڑی تھی جو مسلسل بہے جا رہی تھی جس کے سبب ماہ پارہ کی شربتی آنکھیں اب کسی سرخ بادلوں کے طوفان کا منظر پیش کرنے لگیں تھیں۔ ولی نے ماہ پارہ کے چہرے کو اپنے کندھے پر سے اٹھایا اور اور اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے ماہ پارہ کی آنکھوں سے بہتے آنسووں کو صاف کیا۔ ماہ پارہ ابھی بھی ہچکیاں لے رہی تھی اور ساتھ ہی اس کی نگاہوں میں ہزار سوال بھر چکے تھے۔ اس کا وجود کسی روئی کے گالے کی مانند اپنا وزن کھو بیٹھا تھا اور وہ دل ہی دل میں چاہ رہی تھی کہ ولی اسے سمیٹ کر اپنے گرم کوٹ کی کسی اندرونی جیب میں رکھ لے۔

تم ہمیشہ ہی ایسا کرتی ہو، کبھی بھی اپنی پینٹنگ مکمل ہونے نہیں دیتی۔ ولی نے موضوع بدلنے کی کوشش کی اور دوبارہ کینوس کے قریب برش پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔

ولی تم بھی ہمیشہ بات مت بدلا کرو کیا تم بھی محض میرا چہرہ اور وجود ہی پینٹ کرنا جانتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس اسی میں دلچسپی ہے تمہیں؟ ماہ پارہ نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر نظریں چراتے ہوئے سوال کیا، اسے لگا جیسے وہ اپنے وجود کے ملبے تلے دب چکی ہو۔

ماہ پارہ میں تمہاری اس محرومی کا مداوا بھلا کیسے کر سکتا ہوں اور تمہارے ان مشکل سوالوں کا کیا جواب دوں ؟

میں کچھ نہیں جانتی، آج تمہیں میرے ہر سوال کا جواب دینا ہی ہو گا، میں آخر محرومی کے اس احساس کو کب تک دل میں لے کر بیٹھی رہوں؟ یوں لگتا ہے جیسے میری زندگی اور وقت کہیں رک گیا ہو، روزانہ سورج نکلتا ہے اور ڈوب جاتا ہے میرے لیے تو بالکل ایسے ہے جیسے کوئی میرے کمرے کی بتی کو کبھی جلا دے اور پھر بجھا دے۔ صرف اس بتی کے جلنے بجھنے سے میری زندگی میں بھلا کیا فرق پڑے گا؟ میرے لیے اسی طرح سورج بھی صرف نکل رہا ہے اور ڈوب رہا ہے مگر وقت ہے کہ چلتا ہی نہیں، سانس چلتی ہے مگر روح جیسے مردہ ہو چکی ہو۔ بتاو کیا صرف چلتی سانس کو بھی زندگی ہی کہتے ہیں ؟ کیا صرف چلتی سانسوں کو زندگی کہنا ایک اور اذیت نہیں؟ میں ہنستی ہوں مگر کب تک ہنسوں ؟ کاش کہ کوئی میری ہنسی کے پیچھے چھپے میرے کرب کو بھی دیکھ لے۔ مگر ایسا بھلا کیوں ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لوگ تو خود ہنسنا چاہتے ہیں مجھ پر

ولی ماہ پارہ کی باتوں کو بڑے غور اور کرب کے ساتھ سن رہا تھا اس کے ماتھے پر گہری شکنیں پڑنے لگیں اور وہ دوبارہ ماہ پارہ کے پاس جا بیٹھا

اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے برش کی الٹی طرف کو ماہ پارہ کے بالوں میں پھیرتے ہوئے ماہ پارہ کے چہرے پر گری لٹ کو اٹھا کر اس کے کان پر رکھ دیا۔ پھر اپنی انگلیوں سے اس کی ناک پر چٹکی بھر کے یوں چھیڑا جیسے وہ دودھ پیتی بچی ہو۔ ماہ پارہ کے جسم پر جھرجھری کے ساتھ چیونٹیاں سی رینگنے لگیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر رے تھے جبکہ وجود میں سردی کی لہریں دوڑنے لگیں تھیں۔ اس نے چہرہ اٹھا کر ولی کو دیکھا تو ولی نے اپنے سنجیدہ چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے ماہ پارہ سے کہا

کیا تم جانتی ہو محبت کسے کہتے ہیں؟ محبت کا تعلق آنکھ کے ساتھ نہیں بلکہ دل کے ساتھ ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دو روحوں کے تعلق کا نام محبت ہے۔ ایک ایسا تعلق جیسا مچھلی کا پانی کے ساتھ ہوتا ہے، جو ہمارے پیٹ میں اترنے کے بعد بھی پانی کو ہی مانگتی ہے۔ لیکن میری جان ساتھ ہی ایک مسلہ بھی ہے اور اس مسلے کو سمجھنا بڑا مشکل کام ہے۔

کیا مسلہ ہے ؟ ماہ پارہ نے حیرانگی سے ولی کو دیکھتے ہوئے پوچھا

یوں سمجھ لو کہ عورت جو محبت مرد سے مانگتی ہے وہ محبت دینا مرد کی فطرت میں ہی نہیں۔ مرد کی فطرت ہی ہرجائی ہونا ہے اس کے پیر میں چکر ہے جس طرح یہ گھر میں نہیں ٹک سکتا اسی طرح ایک محبت پر بھی نہیں ٹکتا، اپنی فطرت سے لڑ تو سکتا ہے مگر بدل نہیں سکتا!!

تو ابھی تم کہہ رہے تھے کہ محبت ایسا تعلق ہے جیسا مچھلی اور پانی کا تو کیا محبت صرف عورت ہی کرتی ہے مرد کی ذات میں محبت شامل نہیں؟ ماہ پارہ نے چیختے ہوئے پوچھا

شامل ہے۔ ولی نے جواب دیا۔ بالکل شامل ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ اس حد تک شامل ہے کہ محبت کا مارا مرد درویش بن بیٹھتا ہے، جوگ تیاگ لیتا ہے۔ اپنی زندگی تک کو بھسم کر ڈالتا ہے، لیکن تم یہ بھی غور کرو نا کہ عورت اور مرد کی محبت میں مچھلی کون ہے اور پانی کون؟

کیا مطلب ؟ ماہ پارہ نے حیرانگی سے پوچھا

مطلب یہ کہ ہر مچھلی سمجھتی ہے کہ جس پانی میں وہ تیر رہی ہے وہ اسی کا ہے جبکہ پانی تو بہت سی مچھلیوں کو یکساں خود میں سمو لیتا ہے، یہ عین فطرت ہے، مچھلیاں پانی میں تیرتی ہیں پانی مچھلیوں میں نہیں تیرتا، اس لیے تم جو محبت ڈھونڈ رہی ہو وہ تمہیں نہیں ملے گی۔ ۔ ۔ ۔ لوگوں میں محبت کو مت ڈھونڈو، بلکہ اخلاص ڈھونڈو، جس میں اخلاص مل جائے اسی سے محبت کر لو، پھر جب محبت کا رنگ تمہاری زندگی میں بھر جائے گا تو زندگی صرف نکلتا اور ڈوبتا سورج نہیں رہے گی، بلکہ وقت کے ساتھ چلنے لگے گی۔ سانسوں میں خوشبو رچ جائے گی، محبوب کی قربت کا احساس تو اس بڑھکتے الاو کی مانند ہوتا ہے جس سے جاڑے کا موسم نہیں بدلتا لیکن اپنے وجود کو گرمائش ضرور مل جاتی ہے، ہماری زندگی کی حدت بھی یہی الاو قائم رکھتا ہے، ورنہ جاڑے کے موسم میں حسیات کو سرد مہری میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اور سرد مہری زندگی نہیں بلکہ سرد خانے کا سفر ہے۔

کیا تم بھی ہرجائی ہو؟ ماہ پارہ کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگیں

میری جان میں ہرجائی کیسے ہو سکتا ہوں؟ میں تو تمہاری پرچھائی ہوں، جسے دیکھو گی تو ہمشہ تمھارے ساتھ ہے اور چھونے لگو گی تو کچھ بھی نہیں، میں تو قائم ہی تمہارے دم سے ہوں۔

ماہ پارہ کے سفید چہرے پر سرخی چھانے لگی تھی وہ پھر سے کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ ولی اسے یوں اداس بیٹھا دیکھ کر پھر اس کے پہلو میں جا بیٹھا اور پاہ پارہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے سہلانے لگا۔ ماہ پارہ کے بدن پر پھر سے چیونٹیاں رینگنے لگیں اور وہ ولی کی قربت کی حدت کو محسوس کرتے ہوئے بے وزن ہو کر روئی کا گالا بن بیٹھی۔

سچ سچ بتاو ولی میں تمہیں آخر کیسی لگتی ہوں؟ ماہ پارہ نے ولی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا

اتنی پیاری کہ آج تک چاہتے ہوئے تمہیں پورا کینوس پر اتار ہی نہیں سکا۔ اب تمہیں کیا بتاوں ؟ جب تمہاری خمار آلود آنکھوں میں دیکھتا ہوں تو انکی گہرائی میں ہی غرق ہو جاتا ہوں، یوں لگتا ہے جیسے سرخ سرخ دھاریوں کے درمیان رکھے مے کے دو پیالے ہوں جن کا نشہ چڑھتا ہے تو اترتا ہی نہیں، پھر ان پر سجائے کمان کی مانند خمدار ابرو جن کو اٹھانا اور گرانا تمہیں خوب آتا ہے۔ تمہارے ہونٹوں کو دیکھوں تو ایسے ہیں جیسے گلاب کو شہد میں غسل دے کر نکالا ہو، پھر تمہاری دودھ کی ملائی کے جیسی سفید اور بھری بھری مخملی گالیں، لمبا اور تیکھا ناک، تابندہ پیشانی، چاہِ ذقن لیے چھوٹی سی گول تھوڑی، مکمل آفتاب سا روشن چہرہ ہو تم، اور چہرے پر سجی مسکراہٹ جس سے شرارت کی پھوار برستی ہے، پھر تمہارے چہرے کو ڈھانپتے سانپ کے مانند بل کھاتے گیسو، سُر کی لڑی جیسی گردن، بھرے ہوئے شانے، اور پھر وجود کےایک ایک نشیب و خم میں گویا مقناطیسیت سموئی ہوئی، آخر کس کس حصے کی اور کیا کیا تعریف کروں میں۔ افسوس کہ میرے پاس ایسے الفاظ ہی نہیں جن میں تمہیں پورا سمیٹ سکوں۔ اپنے نام کی مانند پوری کی پوری ماہ پارہ ہو، میری نظروں میں دیکھو تو صرف تم ہی تم بھر چکی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو جان لیا نا ؟؟؟ ایسی لگتی ہو تم مجھے!! ولی نے جواب دیا

ماہ پارہ نے پاس بیٹھے ولی کے بازو پر اپنے بازو کو سانپ کی طرح بل دے کر اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنا سر ولی کے کاندھے پر رکھ کر بولی ”مجھے اس قدر چاہتے ہو، لیکن پھر بھی کہتے ہو کہ صرف میری پرچھائی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم تو واقعی بڑے ہرجائی ہو، صرف میرا دل بہلاتے ہو نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اپنے دل میں بٹھا کر کہیں دور لے کیوں نہیں جاتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری تنہائی کے کرب کو ختم کیوں نہیں کر دیتے“

لیکن کہاں لے چلوں ؟ ولی نے پوچھا

بس اتنی دور جہاں تمہارے اور میرے سوا کوئی نہ رہے، ہم ہوں اور ہمارے درمیان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفظ بھی نہ ہوں، صرف احساس ہو اور پیار ہو

ولی ماہ پارہ سے ہاتھ چھڑوا کر اٹھا اور پھر کینوس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ ماہ پارہ نے دیکھا کہ پہلی بار اس کی آنکھوں میں بھی رم جھم ہونے لگی تھی جیسے اسے اپنے پرچھائی ہونے کا خیال ڈسنے لگا ہو، ولی نے ماہ پارہ سے نظریں چراتے ہوئے اپنا منہ کینوس کی جانب پھیر لیا اور بولا

دیکھنا آج تمہاری ایسی یادگار تصویر اس کینوس پر اتاروں گا جس پر کوئی اگر ایک بار بھی نظر ڈالے گا تو پھر ہٹا نہیں پائے گا، فریفتہ جمال بن بیٹھے گا۔ بولتے بولتے پہلی بار ولی کی آنکھیں بہنے لگیں تھیں۔

اچانک ماہ پارہ کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ماہ پارہ کی ماں اس اندھیرے کمرے میں داخل ہوئی، داخل ہوتے ہی اس نے کمرے کی لائٹ جلا کر دیکھا تو سوجھی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ماہ پارہ پلنگ پر تنہا بیٹھی تھی اور دور ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل چارجنگ پر لگا ہوا تھا۔ اس کی ماں نے حیرانگی سے پوچھا

موبائل تو تمہارا چارجنگ پر لگا ہے اور کمرے میں کوئی موجود بھی نہیں۔ لیکن مجھے تو کب سے تمہارے بولنے کی آواز آتی محسوس ہو رہی تھی، تم آخر کس سے باتیں کر رہی تھی اور تمہاری آنکھیں بھی سوجھی ہوئی ہیں، تم ٹھیک تو ہو ؟؟؟

ماہ پورہ نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں ولی کھڑا تھا مگر اب وہاں اسے دیوار پر لگے بڑے سے آئینے میں اپنی صورت کے سوا کچھ نہ دکھا۔ کمرہ بالکل خالی تھا اور وہ اپنی اداس نظروں کو جھکاتے ہوئے بولی ” اپنی پرچھائی سے بات کر رہی تھی”

اپنی پرچھائی سے؟؟ کیا مطلب ؟ کہاں ہے تمہاری پرچھائی؟ ماہ پارہ کی ماں نے حیرت سے پوچھا

میرے وجود میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے اندر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ میری تنہائی کا حصہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر روشنی میں نہیں دکھتی!!! ماہ پارہ نے لرزتی آواز میں جواب دیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20