سنو ماروی و خلیل! تم نے نقصان تو ہمارا کیا —- سحرش عثمان

0

ہم نے ایک کتا پالا تھا۔ اور کسی کو ہم اسے کتا نہیں کہنے دیتے تھے کیونکہ اس کا نام ہم نے سولو رکھا تھا اور جب کسی کا نام ہو تو اسے اس نام ہی سے پکارنا چاہیے، کسی کا جی چاہے یا نہیں۔ بالکل اسی طرح ہم اس تحریر میں خلیل الرحمٰن قمر صاحب کو اور ماروی سرمد صاحبہ کو ان کے ناموں سے ہی پکاریں گے چاہے جی پر ماونٹ ایورسٹ ہی کیوں نہ رکھنا پڑے۔ ہم تزکیہ نفس کے اس عظیم مظاہرے پر آپ سے داد کے خواہشمند بھی نہ ہوں گے کیونکہ ہمارے پاس پیٹنے کے لیے جعلی اخلاقیات کا ڈھنڈورا نہیں ہے۔

خلیل الرحمٰن قمر صاحب پر ہم نے کبھی بات نہیں کی کیونکہ ان کو اور ان کے ڈراموں (لٹرل والے) کو ہم ہرگز قابل گفتگو نہیں سمجھتے تھے۔ اور ماروی سرمد صاحبہ پر تو تب بھی تنقید کیا کرتے تھے جب وہ ہر آتے جاتے کا پائنچہ دبوچ لیا کرتی تھیں۔ اور خاتون ہونے کے ناطے پوری جنس کا مقدمہ برباد کردیا کرتی تھیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ اس سماج کا باوا آدم نرالا ہے اور سب کے اپنے اپنے بت، اپنے اپنے خدا ہیں۔ اب اپنے بت کو لات پڑی تو ہمارے رائٹ ونگ اور حیا ڈے والے احباب بھی بلبلا اٹھے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہا کرتے تھے چاہے فی الحال آپ محفوظ ہیں لیکن برائی کو برا کہئے۔ ماروی صاحبہ نے کوئی جن و انس نہیں چھوڑا جسے گالی نہ بکی ہو۔ بشری بی بی کی خان کی شادی کے دنوں میں جب یہ خاتون اپنے بیڈ روم کی ساری سٹوریاں بی بی کے نام سے چٹخارے لے لے کر سنایا کرتی تھیں تو ہمارے لبرل و مولوی حضرات اسے آزادی اظہار کہا کرتے تھے۔ اب جب کہ خود ماروی صاحبہ اسی آزادی کی زدپر ہیں تو ہردو طبقے ٹسوے بہا رہے ہیں۔ بھئی اب حوصلہ کیجئے اپنے ہی لفظوں کا ذائقہ چکھئے۔ ذرا آپ کوبھی تو معلوم ہونا چاہیے گالی کا ذائقہ سماعتوں میں کیسا ہوتا ہے۔
زبان پر تو شیریں ہی لگتی ہوگی اسی لیے تو ماروی صاحبہ دن رات بکا کرتی تھیں۔

خیر اب جب کہ دو عدد بدتہذیب افراد ایک دوسرے کے ساتھ جوتم پیزار ہوئے ہیں اور ہم غریب سامعین کی طرح بغیر پاپ کارنز کے انجوائے کرہی رہے تھے کہ ہمیں ادھر ادھر سے کہا جانے لگا اپنی رائے دیجئے اپنا پوائنٹ رکھئے۔ یوں تو ہمیں اپنی رائے دینے میں خاص دلچسپی نہ تھی۔ لیکن پھر سوچا جب جواب مانگا جائے گا لفظ اتارنے کا حساب مانگا جائے گا تو اسوقت کیا بہانہ کام آئے گا؟ اور کیا اس وقت بہانے کی اوقات ہوگی؟

جوابدہی کے اس خوف نے آج ایک بار پھر لکھنے پر مجبور کردیا۔

ماروی صاحبہ اور عورت مارچ پرتو کیا ہی بات کی جائے۔ وہ خواتین جنہیں اس ملک کی اس خطے کی خواتین کے مسائل کی الف ب بھی نہیں پتا وہ بھی اس جنس کے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

ماروی صاحبہ و ہمنواؤں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھ سمیت بہت سی خواتین ہیں جن کو اپنے باپ بھائی حتی کہ شوہر کا کھانا گرم کرنا ہرگز برا نہیں لگتا۔ جن کو جرابیں ڈھونڈ کر دینا برا نہیں لگتا اور جن کو شوہر کی الماری سیٹ کرتے ہوئے کچھ گراں نہیں گزرتا۔
ہم سی بہت خواتین ہیں جو شوہر کو الماری میں سے میچنگ ٹائی ڈھونڈتے دیکھ لیں تو چیخ کر بے ہوش ہوجائیں کہ اب اگلا پورا گھنٹہ الماری سیٹ کرنے میں لگ جائے گا۔
ہم سی بہت سی خواتین ہیں جو شوہر کو کچن میں جاتے دیکھ کر اپنی سلطنت کے معاملات میں صریح انٹروینشن سمجھ کر احتجاج کرتی ہیں۔

اب یہاں کوئی ہمیں کنویں کا مینڈک کہے یا سمجھے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لیےنہیں کہ معاشی خودمختاری کو نہیں سمجھتے یا بھونکنے کی آزادی کے نشے سے واقف نہیں ہیں۔ جس مئےکدے میں آپ سی کئی خواتین نئی نئی داخل ہوئی ہیں اس کے ساقی رہے ہیں ہم کبھی۔ (کیسا ٹن جملہ تراشا ہے آنسہ نے 🙂 ) خیر ہم نے چکھ رکھی ہے یہ بدیسی سکاچ۔ لیکن آپ میں سے کئی خواتین اس مئے پردہ سوز سے واقف ہی نہیں جو ٹھہراؤ میں ہے۔ جو مان لینے میں ہے جو تسلیم و رضا میں۔ سٹیٹ آف ڈینائل کی آشفتہ سری سے کہیں طاقتور احساس ہے یہ جب آپ کو اپنی سٹرینتھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ جانتے ہیں آپ چاہیں تو سکون حرام کردیں۔ لیکن آپ خود سراپا سکون بن جاتے ہیں۔

اور یہ مان لینا اس لیے نہیں آپ کمزور ہیں بلکہ اس لیے ہے کہ آپ مضبوط ہیں آپ کسی ردعمل کی نفسیات کا شکار نہیں ہیں۔ یہ تسلیم کرنا اس لیے ہے کہ آپ جان جاتے ہیں کہ اگر آپ جرابیں ڈھونڈتے ہیں تو کوئی آپ کے لیے ڈونٹس کا مطلوبہ فلیور ڈھونڈنے میں آدھا شہر چھان مارتا ہے۔

آپ کھانا گرم کرتے ہیں تو کوئی آپ کے لیے دوپٹے پیکو کرانے سے لے کر ٹیک اوے سے برگر لانے تک ہر کام کرتا ہے۔ آپ اگر کسی کی میچنگ ٹائی ڈھونڈتے ہیں تو کوئی آپ کی میچنگ سینڈلز کے لیے دو تین گھنٹے مارا مارا پھرتا ہے۔

آپ یہاں سوشل میڈیا پر دانشوری بگھار پاتی ہیں تو اس لیے کہ کوئی آپ کے بلز ادا کرتا ہے۔ بالفرض آپ اپنے بلز خود ادا کرتی ہوں تو بھی آپ کے لہجے میں بولتا اعتماد آپ کے لفظوں سے چھلکتا ’ہو کئیرز اٹیٹیوڈ‘ کسی کے دئیے ہوئے یقین کی بدولت ہے۔ وہ کسی باپ ہو بھائی ہو یا شوہر۔

آپ یہاں ٹھرکیوں کے لتے لیتی نظر آتی ہیں، سیاسی سماجی معاشی معاملات پر اپنی رائے دیتی ہیں تو اس لیے کہ آپ کو کسی کا دیا ہوا اعتبار یہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

دوسری کوئی صورت نہیں۔ ہاں اگر آپ نے کسی نفسیاتی کے ساتھ عمر گزاری ہے یا کسی پاگل پن کو فیس کیا ہے۔ کسی نفرت نے آپ کے اندر یہ زہر بھرا ہے تو آئیے بہادر بنئے اس گناہگار کی تصویر کے ساتھ آئیے مارچ میں اس شخص کے جرائم سے پردہ اٹھائیے، سب سے پہلے آپ کا ساتھ میں دوں گی۔ براہ مہربانی ہمارے باپ بھائیوں شوہروں کو اپنے نفسیاتیوں کے ساتھ مت ملائیے۔ ہمیں ان سے کوئی مسائل نہیں ہیں۔ اور اگر ہوں گے بھی تو اتنے گٹس تو ہیں ہم میں کہ اپنے مجرم کا ہاتھ سے پکڑ سکیں اور اتنا حوصلہ بھی ہے اسے معاف کرسکیں۔

رہ گئی وہ خواتین جو آپ کے خیال میں اپنے مسائل کے متعلق بات نہیں کرسکتیں تو یقین کیجئے ان کے مسائل میریٹل ریپ کھانا گرم کرنے جرابیں ڈھونڈنے سے کہیں زیادہ پراپر کھانا بچے کی تعلیم صحت ہے۔

اس سارے قضئیے میں نقصان ہم جیسوں کا ہوتا ہے جو ماروی اور قمر صاحب جیسی دو انتہاؤں کے درمیان چیزوں کو نارمل کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔ جو عورت و مرد کے خانوں میں تقسیم کیے بغیر فرد کے مسائل کی بات کرتے ہیں۔

خواتین کے حقوق کی ہی بات کرنی ہے تو تعلیم صحت جائیداد میں حصے کی کیجئے۔ شادی میں مرضی کی کیجئے۔ بچے کی پیدائش سے پہلے جنس معلوم کرنے کرانے پر پابندی کی کیجئے۔
جنس کی بنیاد پر بچوں میں تفریق کے خلاف کیجئے۔
برابری کے نام پر استحصال کی خواہش کو آئڈیلائز کرنے کی بجائے ریزر سے ٹرک تک ہر شئے کے اشتہار میں گلیمر لانے سے انکار کی بات کیجئے۔ ریسیپشن سے لے کر آفس کی میز تک عورت ہونے کے ناطے جانے اور بیٹھنے کے خلاف احتجاج کیجئے۔ خود کو مکمل فردسمجھئے اور سمجھائیے۔ آپ کو کموڈٹی کی طرح ٹریٹ کرنے والوں کے خلاف احتجاج کیجئے۔
شوپیس بن کر مارکیٹنگ والوں کا بزنس چلانے سے انکار کریں۔ ٹرینڈز کے نام پر مہنگے داموں چھیتھڑے خریدنے سے انکار کردیجئے۔ ٹرینڈز کے پیچھے خود کو ہلکان کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیجئے۔ اپنے لباس پر دوسروں کی مرضی کو اپنی مرضی سمجھنا چھوڑ دیجئے۔
خود کے لیے انسان کے حقوق مانگئے۔

رہ گئے خلیل الرحمٰن قمر صاحب تو بھئی جو شخص ڈراموں میں بغیر نکاح کے مرد و خاتون کو چھ ماہ اکھٹے رکھ سکتا ہے۔ اور اس کے بعد خاتون کا سب سے بڑا گناہ بے وفائی بتا سکتا ہے۔
جو محبت کی حد توڑنے کو خدا کی حد توڑنے سے افضل بنا کر پیش کرسکتا ہے۔ اور اس پر ملک سے بے حیائی و فحاشی کے خاتمے کی بات کرتا ہو اور اس پر ہمارا دائیں بازو داد و تحسین کے ڈونگرے برساتا ہو۔ تو کم ازکم بھی ایسے شخص کے لیے منافق و بے حیا کے الفاظ آتے ہیں ذہن میں۔ اور جب کوئی حیا چھوڑ دے تو جو جی چاہے کرئے۔

گالی دینا ہذیان بکنا تو خیر سب کو نظر آگیا۔ کروفر تکبر اور خود کو ولی سمجھنے جیسے جذبات جن کا وقتا فوقتا اظہار فرماتے رہتے ہیں موصوف۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں نہ صرف اینگر مینجمنٹ کی بلکہ خود پرستی جیسے امراض کے علاج کی ضرورت ہے۔

اور ایسے کئی افراد ہیں ہمارے سماج میں جن کے آس پاس بسنے والی خواتین پھر پلے کارڈز اٹھائے سڑکوں پہ نکل آتی ہیں تو ہم آپ تنقید کرتے ہیں۔

ردعمل کی نفسیات کو سمجھنا ہو تو خلیل الرحمٰن قمر صاحب کا رویہ دیکھ لیں جو درمیان میں ٹوکے جانے پر کیسے سیخ پا ہوئے ہیں ان صاحب کو اگر کوئی فیصلہ ری وزٹ کرنے کے لیے کہتا ہوگا تو جانے کیا کر گزرتے ہوں گے۔

لیکن اس سارے قضئیے میں نقصان ہم جیسوں کا ہوتا ہے جو ماروی اور قمر صاحب جیسی دو انتہاؤں کے درمیان چیزوں کو نارمل کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں۔

جو عورت و مرد کے خانوں میں تقسیم کیے بغیر فرد کے مسائل کی بات کرتے ہیں جو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ جو استحصال ظلم زیادتی کو یکساں برا سمجھتے ہیں چاہے عورت پر ہو یا مرد پر عورت کرئے یا مرد۔ وہ جو غلط کو جنس کے خانے میں ڈال کر صحیح ثابت کرنے کی بجائے غلط ہی کہتے ہیں۔

وہ جو اپنی جنس کے مسائل کو دوسرے سے نفرت خیال نہیں کرتے۔

وہ جو اپنی نسلوں میں مخالف جنس سے لازمی نفرت کا مضمون نہیں پڑھاتے۔۔۔ نقصان تو ہمارا ہوجاتا ہے خلیل و ماروی کا کیا جاتا ہے۔ ایک کا شو بک جاتا پے دوسرے کے فنڈز آجاتے ہیں۔

نقصان میں تو ہم رہ جاتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20