پانچ ماہ تک انٹرنیٹ بندشوں سے کشمیر کی معیشت روبہ زوال ——– غازی سہیل خان

0

۴ مارچ کو جموں کشمیر کی انتظامیہ نے انٹرنیٹ بندشوں سے سات ماہ کے بعد پابندی ہٹا دی لیکن اس سے پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے ایک حکم نامے کے بعد( جو کہ پانچ مہینے کے بعد سُنوایا گیا) جموں کشمیر کی انتظامیہ نے ۲۴جنوری کو ٹھیک 174دنوں بعد مشروط بنیادوں پر انٹرنٹ بندشوں میں نرمی کرنے کا فیصلہ کیا۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے جہاں سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر پابندی عائد کر کے رکھی ہے وہیں چند محدود ویب گاہوں پر صارفین کی رسائی ممکن بنانے کے لئے مواصلاتی کمپنیوں کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ کوئی کشمیری اس بُنیادی حق کو حاصل کر کے دُنیا تک ان پر ہو رہے ظلم و استبداد کی کہانی نہ سُنا سکیں۔ تاہم انٹرنٹ بندشوں میں نرمی اس وقت انتظامیہ کے لئے گلے کی ہڈی بن گئی جب لوگوں نے وی، پی، این (VPN) ایپلی کیشنز کی مدد سے تمام سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر رسائی حاصل کر لی۔ اس ساری صورتحال کے بیچ انتظامیہ نے ملک کی دیگر ریاستوں سے ماہرین کی ٹیمیں بھی کشمیر لانا شروع کر دی تا کہ کشمیریوں کی رسائی سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر روک دی جائے۔ تاہم وہ کشمیر یوں کی سماجی ویب گاہوں تک رسائی روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں بایں ہمہ بھارت کی مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ بی ایس این ایل(BSNL) نے سوشل سائٹس کو بند رکھنے کے لئے شدید مالی بحران کے باوجود سماجی رابطہ کی ویب گاہوں تک رسائی روکنے کے لئے کروڑوں روپے مالیت کا سافٹ ویئر’’فائر وال ‘‘ بھی خرید اتھا۔ محکمہ داخلہ کی طرف سے ۳۱ جنوری کو جاری ایک حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ متعلقہ محکمہ کی طرف سے ماہ جنوری کی ۲۴ تاریخ کو مواصلاتی خدمات کی بحالی کے حوالے سے جاری ہدایات کے بعد جموں کشمیر کی کلہم سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیااور باقی چیزوں کے علاوہ ہفتہ رفتہ کے دوران جنگجوانہ سرگرمیوں، وی پی این ایپلی کیشنز کی وساطت سے انٹرنیٹ کے غلط استعمال، افواہوں اور جموں کشمیر کے مفادات کے تئیں ضرر رساں پیغامات کی تشہیر کا جائزہ لیا گیا۔ اس حکم نامہ کے اصل مقصد کے مطابق جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی بھارت کی سالمیت اور جموں کشمیر کے تحفظ اور امن کے قیام کے لئے از حد لازمی بن گیا ہے۔ گذشتہ دنوں راجیہ سبھا میں وزیر اطلاعات روی شنکر پرساد نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے آئین کے تحت تقریر اور اظہار کے بُنیادی حقوق کے متعلق سے خیالات اور نظریہ کو پیش کرنے میںانٹرنیٹ کے استعمال کو صحیح قرار دیا ہے تاہم یہ بُنیادی حق نہیں ہے۔ پرساد نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں آئین کی تو ضیحات کے مطا بق انٹرنیٹ کے استعمال پر پابندی اور ضابطوں کا نفاذ بھی ہو گا۔

اس ساری مخدوش اور انتہائی مایوس کن صورتحال کے بیچ کشمیریوں کے لئے دورمابعد جدید میں انٹرنٹ کے بغیر زندگی کی گاڑی کو چلانا پڑ رہا ہے گر چہ اس دور میں مشکل ہے۔ اگر اکیسویں صدی کے دور کو انٹرنیٹ کا دور کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا یہ دور جس میں سماج کا ہر ایک حصہ انٹرنٹ کے ساتھ منسلک ہے وہ چاہے تعلیم ہو یا تجارت، معیشت ہو یا سیاست، صحافت ہو یا صحت غرض انٹرنیٹ انسانی زندگی کا جُزو لاینفک بن گئی ہے۔ ایسے وقت میں بھارت دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ پر پابندیوں والا ملک بن گیا ہے جہاں تک کشمیر کی بات کریں کو ۵ اگست کے بعد سے جموں کشمیر کی معیشت روبہ زوال ہے۔ کشمیر جو کہ پہلے سے ہی ان گنت مسائل کے بھنور میں پھنس چُکی ہے وہیں انٹرنیٹ کی بندشوں میں یہاں زندگی کا ہر ایک شعبہ متاثر ہوئے بنا نہیں رہا۔ بھارتی زیر انتظام میں گزشتہ سات میں سے پانچ ماہ میں ہوئے نقصان کے حوالے سے کشمیر کی سب سے بڑی تجارتی انجم کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑیز کے مطابق دسمبر ۲۰۱۹ تک کی اپنی رپورٹ میں ۵ اگست کے بعد کشمیر کے دس اضلاع میں ۱۲۰ ددنوں میں اٹھارہ (۱۸) ہزار کروڑ کے نقصان کا خلاصہ کیا ہے۔ وادی کشمیر جو کہ دس اضلاع پر مشتمل ہے اور کل آبادی کا ۵۵فیصد حصہ ہے۔ ۵ اگست کے بعد وادی کے مختلف کاروباری شعبے اور ان کے ذیلی شعبوں میں معیشت کو 17,878,18کڑوڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اگر شعبہ جات کی بات کی جائے تو رپورٹ کے مطابق زراعت و باغبانی اور اس کے ذیلی شعبہ جات میں 2817کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح سے زندہ مال اور جنگلات وغیرہ کو 1764کروڑ روپئے جب کہ پیداواری شعبے کو 2466کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ انڈسٹری میں تعمیری شعبے کے علاوہ کان کنی، کھدائی، بجلی، گیس، پانی اور دیگر ضروری خدمات کو 1629کروڑ کا خسارہ اُٹھانا پڑا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تجارت بشمول ہوٹل، ریستورانوںکو 2267کروڑ کا خسارہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ مالی خدمات کو 1184کروڑ اور ریل اسٹیٹ(real-estate) کے کاروبار کو 3125کروڑ کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کشمیر کے دس اضلاع میں ۱۲۰ دنوں میں ۵ لاکھ کے قریب لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس غیر یقینی صورتحال اور دوسری جانب سے بے روز گار ہوئے نوجوانوں میں اب نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جموں کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندشوں کی وجہ سے طلبہ بھی متاثر ہوئے بنا نہیں رہے، خاص طور پر وہ طلبہ جو آن لائن کورسز کرتے ہیں۔ انتظامیہ نے کشمیر میں چند جگہوں پر طلبہ اور دیگر ضرورت مندوں کے لئے انٹرنیٹ کی سہولیات کا محدود پیمانے پر انتظام رکھا تھاتاہم جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ جس ریاست کی آبادی ۸ ملین ہوگی کیا وہاں چند انٹرنیٹ سہولیاتی مراکز سے ان کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں ؟ضرورت پوری ہونا تو دور کی بات ایک طالب علم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان مراکز پر کئی کئی دنوں تک خون منجمدکر دینے والی ٹھنڈ میں طلبہ و طالبات کی قطاریں جمہوری دنیا کی نظروں نے دیکھ لی ہیں۔ ان بندشوںکی وجہ سے ہزاروں طلبہ ایسے بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم کے لئے ملک سے باہر کی یونی ورسٹیوں میں بر وقت داخلہ لینے میں ناکام ہوئے اسی طرح بارہمولہ سے ایک طالب علم ارشد احمد کا کہنا ہے کہ’’ میں نے پورا ایک سال جی توڑ کوشش کر کے باہرکی ایک یونی ورسٹی میں داخلہ کے لئے امتحان بھی دیا جو کہ میںنے پاس بھی کیا ہے لیکن بدقسمتی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بندش کے سبب میں وقت پر یونی ورسٹی حکام کی طرف سے ارسال کئے گئے برقی پتے(mail) کا جواب نہیں دے پایا اور گزشتہ دنوں جب میں نے وہ میل دیکھا تو انتہائی تکلیف محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری طلبہ کی قسمت کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کر پایا‘‘۔ جہاں ایک طرف جموں کشمیر میں انٹرنیٹ او ر سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر شدید نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں وہیں دوسری طرف پانچ ماہ تک خاموش رہنے کے بعد بھارتی عدالت عالیہ کے حکم کے بعد جموں کشمیر کی انتظامیہ کی سماجی انٹرنیٹ پر سے پابندی ہٹا کر 5gکے زمانے میں 2gانٹرنیٹ کی سہولیات میسر کرنا عوام کی سمجھ سے باہر تھا۔ جس پر جموں کشمیر کی عوام کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا تاکہ دنیا کو لب کشائی سے روکا جائے کہ یہاں انٹرنیٹ پر سے پابندی ہٹا دی گئی ہے او رکشمیر میں کسی طرح کی پابندیاں نہیں ہیں۔ اس فیصلہ کو عوام ایک مذاق کے طور پر ہی لیتی ہے۔ بایں ہمہ بھارتی مواصلات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر روی شنکر پرساد نے چند ہفتوںپہلے یہ اعلان کیا کہ مارچ ۲۰۲۰تک ملک کے سبھی دیہات میں بھارت نیٹ خدمات (Baharat Net Services)کے تحت مفت وائی فائی خدمات(Comon Service Centres)CSCs کے ذریعے مہیا کرائی جائیں گی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کا کشمیر یوں کو بندشوں کے سبب پتھر کے زمانے میں دیکھ کرکچھ حساس اور جمہوریت و ا نسانی حقوق کے دعوے دار کشمیر میں انٹرنیٹ بندشوں پرکبھی کبھی لب کشائی کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔ اسی تناظر میںبین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ(Human Rights Watch) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کا کشمیر میں انٹرنیٹ پر بندشیں لگانا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لئے بھارت کو چاہیے کہ وہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام پر پابندیوں سے گریز کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گٹیرس نے بھی اپنے ایک بیان میں کشمیر میں جار ی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں سے انسانی حقوق کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی چند ہفتے پہلے کہا ہے کہ انٹرنیٹ عوام کا بنیادی حق ہے۔ جمہوری ممالک میں بھارت نے انٹرنیٹ پر بندشوں میں پہلی پوزیشن اختیار کر لی ہے۔ بھارت ہی کے ایک موقر انگریزی اخبار’’ انڈین ایکسپریس ‘‘میں شایع ایک مجمون کے مطابق جموں کشمیر میں موجودہ انٹرنیٹ کی بندش ملک کی طویل ترین بندش ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۶ میں برہان وانی کے جاںبحق ہونے کے بعد 133دنوں تک کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی رہی۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی انٹرنیٹ پر گاہے گاہے بندیشیں لگائی جاتی ہیں کل ملا کر بھارت میں سال 2019میں 95بار انٹرنیٹ پر بندشیں عائد کر دی گئی ہیں لیکن جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی سال 2019میں پوری دنیا میں طویل ترین پابندیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ انڈین ایکسپریس میں ایک مضمون میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی کو مواصلات کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کچھ ممالک نے اسے ایک بُنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ دسمبر 2003میں، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ورلڈ سوسائٹی برائے انفارمیشن نے اعلان کیا ہے کہ مواصلات ایک بُنیادی معاشرتی عمل اور ایک انسانی ضرورت ہے اور تمام معاشرتی تنظیم کی بُنیاد ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2016میں حکومتوںکے ذریعہ انٹرنیٹ تک رسائی میں جان بوجھ کر رکاوٹ پیدا کرنے کے بڑھتے ہوئے عمل کی مذمت کرتے ہوئے ایک غیر پابند قرار داد منظور کی تھی۔

غرض انٹرنیٹ موجودہ دور میں ایک انسان کی ضرورت کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال بُنیادی حق گردانا جاتا ہے بلکہ دور حاضر میں دنیا کا ہر ایک کام انٹرنیٹ سے ہی جُڑا ہوا ہے وہ چاہے حکومتوں کے کام کاج، کالج اور یونی ورسٹیوں میں پڑھائی، شفا خانوں میں مریضوں کے علاج اور میڈیا اور روزگار کے نہ جانے کتنے ذریعے ہیں جو انٹرنیٹ کی مددسے حاصل کئے جاتے ہیں ۵ اگست کے بعد پانچ ماہ تک انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے جموں کشمیر کی معاشی صورتحا ل قابل رحم ہے۔ جس کی وجہ سے بھارتی یر انتظام کشمیر میں عوام کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔ اس ساری پیچیدہ صورتحال کے حوالے سے دنیا کی ذی حسِ روحوں کو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالیوں اور انٹرنیٹ پر بندشوں پر کھل کر بات کرنی چاہے تاکہ کشمیری اس عذاب سے نجات پا کر چین کی زندگی جی سکیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20