سوسائٹی کے ’’کرونا وائرس‘‘ ——– اسماء ظفر

0

آجکل ساری دنیا “کرونا ” کے خوف میں مبتلا ہے یہ ایک ایسا وائرس ہے جو کمزور مدافعت والوں کو موت کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے اس سے بچنے کے لیئے لوگ خوف سے زیر نقاب چلے گئے ہیں کہ کہیں فضا سے یہ وائرس انکو نا لگ جائے۔

میں آج سوچ رہی تھی کرونا کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی کتنی خطرناک روایات پنپ رہی ہیں جو اس معاشرے کے کمزور اعصاب لوگوں کے لیئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں جیسے آجکل سوشل میڈیا پر عورت اور مرد کے نام پر چند ایسے لوگ چھائے ہوئے ہیں جو عورت مرد کی کیٹگری چھوڑ انسانیت کے سانچے میں بھی فٹ نہیں بیٹھتے یہ لوگ سستی شہرت اور نام کے لیئے کسی بھی حد کو پار کرسکتے ہیں اور انکے جھانسے میں آکر کئی کمزور اعصاب مرد و خواتین اسے صنفی جنگ سمجھ کر اس آگ میں بلا سوچے سمجھے کود پڑے ہیں۔

یقیناً آپ سب سمجھ گئے ہونگے میں کن دو مرد اور خاتون کی بات کرہی ہوں سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا آجکل ہر جانب ماروی سرمد اور خلیل الرحمٰن قمر صاحب کی گفتگو زیر بحث ہے جسے بحث کے لائق بھی آپ اور ہم نے بنادیا ہے نا لوگ انکی بدگوئی کو اتنی اہمیت دیتے نا نوبت یہاں تک آتی مگر اب معاملہ الٹ ہوگیا ہے میں سمجھتی ہوں نوجوان ذہنوں کو جو مرد عورت کی جنگ بنا کر دکھایا اور سمجھایا جا رہا ہے ایسا قطعاً نہیں ہے نا میں خلیل صاحب کو پاکستانی باشعور مرد کا نمائندہ مانتی ہوں نا ماروی کو پاکستانی خواتین کا نمائندہ تسلیم کرتی ہوں یہ دونوں ان مٹھی بھر لوگوں کے نمائندے تو ہوسکتے ہیں جو معاشرے میں انتشار اور بے چینی پھیلا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں مگر ان کروڑوں خواتین اور حضرات کے نمائندے ہرگز نہیں جو اپنی اپنی حدود میں رہ کر اپنی صنف کے حقوق کےلیئے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

میری رول ماڈل آج بھی دنیائے اسلام کی پہلی بزنس وومن خدیجہ الکبریٰ اور فاطمہ الزہرا ہیں۔

اور مردوں میں تو نبی پاکؐ اور انکے صحابہ کی زندگی ایک زندہ و جاوید مثال کے طور موجود ہے۔

تو کیوں ایسے بدبودار رویوں کے حامل لوگوں کی تقلید کریں ہم۔

میں جانتی ہوں میرے حقوق کیا ہیں اور یہ مجھے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیئے گئے تھے جائیداد میں حصہ دے کر، مساوی تعلیمی حقوق دے کر، خلع کا حق تفویض کرکے اور دوسرے کئی مساوی حقوق کی صورت میں۔ اگر کوئی ان حقوق کی راہ میں آئے گا تو مجھے پتہ ہے مجھے دلیل کے لیئے کسی بینر کی نہیں میرے پاس دلیل کے لیئے قرآن موجود ہے اگر بینر اٹھایا بھی تو اس پر سورہ النساء کی آیات کے تراجم ہی لکھ دینا کافی ہو گا۔

مجھے ضرورت ہی نہیں کہ خلیل الرحمٰن جیسے بدگو آدمی کے سامنے ماروی بن کر اپنی صفائی پیش کروں۔ جسطرح ساری دنیا کے سامنے میڈیا پر ان دونوں نے شرافت اور انسانیت کی دھجیاں اڑائی ہیں اور بدگوئی کے ریکارڈ قائم کیئے ہیں اسے مرد اور عورت کے صنفی حقوق کی جنگ کہہ کر خدارا اس معاشرے کو مذید افراط وتفریط کا شکار مت بنائیں ایک باشعور عورت اور مرد اچھی طرح اپنے حق کو جانتے ہیں اور ان حدود کو بھی جو دین نے انکے بیچ میں قائم کی ہیں کیا مجھے بحیثیت ایک عورت یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی مرد کو گالی دوں ؟ یا بحیثیت ایک مرد کسی کی بھی بہن بیٹی کو سرعام کہوں کہ” تیرے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ” ؟ کتنی گری ہوئی باتیں ہیں یہ ساری اور کتنے ہی کمزور ذہن کے لوگ اسے قبول کرکے دو صنفی گروپس میں تقسیم ہوکر اسکا دفاع کررہے ہیں۔

خدا کے لیئے اس وائرس سے بچیں یہ جان لیوا ہے یہ قطعاً مرد و زن کے حقوق کی جنگ نہیں ہے یہ دو بدبودار لوگوں کے اندر کا گند تھا جو ابل ابل کر باہر آیا میڈیا نے ریٹنگ کی خاطر اسے بڑھاوا دیا شدید افسوسناک بات یہ ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بنا سوچے سمجھے اس جنگ میں کود پڑے ہیں مرد ہیں تو خلیل الرحمٰن کے حق میں دلائل دے رہے ہیں خواتین ہیں تو ماروی کے حق میں دلیلیں تراش رہی ہیں۔ یہ آپکے نمائندے نہیں ہیں یہ سستی شہرت کے متلاشی وہ لوگ ہیں جو بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نا ہوگا کے مطابق شہرت کے لیئے کچھ کر گزرتے ہیں۔

بچیں اس وائرس سے اسکی ویکسین ابھی تک مارکیٹ میں نہیں ہے اس کے شکار افراد کا انجام صرف اخلاقی موت ہے اور کچھ نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20