فیمینزم ایک اعتقادی بحث —– حسیسب احمد حسیب

0

آئیے ہم فیمینزم کی پیاز کی پرتیں اتارتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اندر سے کیا برآمد ہوتا ہے، آخر مسئلہ کیا ہے اور اس بحث کی بنیاد کس بات پر ہے ؟ فیمینزم ایک مخصوص اصطلاح ہے اسکی اپنی فلاسفی اپنی تاریخ اور اپنی حرکیات ہیں۔ فیمینزم وہ نہیں ہے کہ جو ہم بیان کریں بلکہ وہ ہے کہ جسے دنیا تسلیم کرتی ہے ممکن ہے کہ اس کی ابتداء عورت کے حقوق کی بات سے ہوئی ہو لیکن اپنی ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اس نے ایک مخصوص اعتقادی کیفیت اختیار کر لی ہے اور اب بات عورت کے حقوق سے بڑھ کر عورت کے غلبے تک آ گئی ہے جدید فیمینسٹ فلاسفی یہ کہتی ہے کہ مرد ایک شیطانی کردار ہے مرد جابر ہے مرد غاصب ہے مرد نے صدیوں عورت کو غلام بنائے رکھا اور اب مرد کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہئے کہ وہ دنیا پر حکومت کرے۔

Radical feminists assert that society is a patriarchy in which the class of men is the oppressors of the class of women.
Echols, Alice (1989). Daring To Be Bad: Radical Feminism in America 1967-1975.Minneapolis: University of Minnesota Press.

“بنیاد پرست فیمینسٹ یہ تصور رکھتا ہے کہ مرد جاتی عورت جاتی پر ظلم کرنے والی ہے”

مزید بحث کچھ اس انداز میں آگے بڑھائی جاتی ہے

As radical feminist Ti-Grace Atkinson wrote in her foundational piece “Radical Feminism” (1969):
The first dichotomous division of this mass [mankind]is said to have been on the grounds of sex: male and female … it was because half the human race bears the burden of the reproductive process and because man, the ‘rational’ animal, had the wit to take advantage of that, that the child bearers, or the ‘beasts of burden,’ were corralled into a political class: equivocating the biologically contingent burden into a political (or necessary) penalty, thereby modifying these individuals’ definition from the human to the functional, or animal.
Atkinson ,Ti-Grace (2000) [1969]. “Radical Feminism” In Crow, Barbara A. (ed.). Radical Feminism: A Documentary Reader. New York: New York University Press. pp. 82–89.

“اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مرد جاتی کی عورت جاتی پر ظلم کرنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے کہ جتنی پرانی تاریخ مرد و عورت کی ہے بحث یہ ہے چونکہ مرد و عورت کی حیاتیاتی ساخت میں فرق ہے عورت بچے پیدا کرتی ہے اور اس حیاتیاتی فرق کی وجہ سے مرد کو وہ موقع ملا کہ مرد معاشی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر عورتوں پر غلبہ پا لینے میں کامیاب ہوا”۔

پھر فیمینسٹ نظریہ مذہب سے بھی کچھ اتنا خوش دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے نزدیک مرد کو عورت پر غالب رکھنے میں ایک بہت بڑا کردار مذہب کا رہا ہے ایک فیمینسٹ نظریہ یہ سوچ پیدا کرتا ہے کہ چونکہ تمام تر مذاہب کے تخلیق کار مرد تھے اس لیے انہوں نے مذہب میں ایسے نظریات شامل رکھے کہ جن کو لے کر اعتقادی طور پر عورت کو دبایا جا سکے اور اس پر ایک غیر محسوس اخلاقی دباؤ قائم رکھا جا سکے۔

Feminists argue that philosophy of religion can hardly ignore questions of gender ideology when it’s very subject matter—religion—is riddled with misogyny and androcentrism. They point out that, historically, gender bias in religion has been neither accidental nor superficial. Elizabeth Johnson (1993) likens it to a buried continent whose subaqueous pull shaped all the visible landmass; androcentric bias has massively distorted every aspect of the terrain and rendered invisible, inconsequential, or nonexistent the experience and significance of half the human race. For philosophers studying the intellectual effects and belief systems of religions, the opportunity to critique and correct sexist and patriarchal constructions in this field is as ample as it is urgent, given the presence of gender ideology in all known religions. Not one of the religions of the world has been totally affirming of women’s personhood. Every one of them conforms to Heidi Hartmann’s definition of patriarchy as
Relations between men, which have a material base, and which, though hierarchical, establish or create interdependence and solidarity among men that enable them to dominate women. (1981: 14)

یہاں سے ایک مقدمہ قائم ہوتا ہے مذہب اور فیمینزم میں بنیادی طور پر کیا اختلاف ہے، وہ کون سی نظریاتی خلیج ہے کہ جو دونوں کے درمیان حائل ہے کیا یہ صرف تصور جہاں کا فرق ہے یا پھر یہ ایک خالص اعتقادی اختلاف ہے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ایک بنیادی اعتقادی اختلاف ہے سیکولرزم کی طرح فیمینزم بھی مذہب کو ایک الہامی معاملہ تسلیم نہیں کرتا بلکہ اس کے نزدیک مذہب ایک خالص انسانی کاوش ہے اس بھی آگے ان کا ماننا یہ ہے کہ مذہب ایک مردانہ ذہن کی اپچ ہے ان کے نزدیک تمام بڑے مذاہب مردوں سے شروع ہوئے ہیں وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے لے کر نبی کریم ﷺ تک مذہب کسی حقیقی خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے بلکہ اوپر کی عبارت میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ان مقدس شخصیات کو بھی بطور مرد دیکھتے ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک کائنات کی کامل ترین شخصیت نبی کریم ﷺ کی ہے تو ایک فیمینسٹ ذہن یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ کام ترین شخصیت ایک مرد ہی کیوں !

ہمارے یہاں کا فیمینزم جو بھی تعبیر اختیار کرے جب آپ ان سے صاف اور واضح طور پر یہ سوال کریں کہ کیا ہم اور آپ یعنی مرد وعورت اپنا مقدمہ مذہب کے پاس لے جا سکتے ہیں یا پھر کیا ہمارے اس مناقشے میں مذہب فیصل بن سکتا ہے تو ان کا جواب نفی میں ہوگا کبھی وہ یہ کہیں گے کہ جناب ہم ایک مرد مولوی کی بات تسلیم نہیں کر سکتے، اگر آپ مولوی کو درمیان سے ہٹا دیں تو پھرانکی بحث یہ ہوگی کہ تمام مفسر، تمام محث، تمام فقیہ، تمام مورخ، مرد ہی تو تھے تو پھر ہم انکی بات کیسے تسلیم کرسکتے ہیں پھر اگر آپ قرآن کریم کو فیصل بنانے کی بات کریں تو دنکی دلیل یہ ہوگی کہ قرآن کریم کو جمع کرنے والے بھی تو مرد ہی تھے۔

سوال تو یہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اور تمام آئمہ معصومین بھی مرد ہی تھے تو کیا ایک بنیاد پرست فیمینسٹ کو ان تمام مقدس شخصیات پر اعتماد ہوگا؟
یہاں پر شاید ہمارے دیسی فیمینزم کی زبان خاموش ہو جائےکیونکہ وہ اتنی جلدی اتنے واضح انداز میں اپنے مقدمے کو خراب نہیں کر سکتے۔

لیکن کلاسیکی نظریہ فیمینزم اس سچ کو کیسے تسلیم کر لے کہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تمام پیمبر علیہم السلام مرد تھے، اس تصور کو تسلیم کرلینے میں ہی نظریہ فیمینزم کی موت ہے وہ یہ کیسے مان لیں کہ خدا نے مرد کو ہی اپنا پیغام انسانیت تک پہنچانے کیلئے تخلیق کیا وہ یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ اس دنیا کی پیشوائیت اور ہدایت کے ساتے کی جانب راہنمائی مردوں کے ہاتھ میں رہی، وہ یہ کیسے تسلیم کر لیں کہ مرد ہی ان کے اور خدا کے درمیان واسطہ بنا، غور کیجئے یہ حقوق کی گفتگو نہیں ہے یہ اعتقاد کی بحث ہے۔

تو ہمارا پہلا سوال پردے پر نہیں اختیار پر نہیں حقوق پر نہیں آزادی پر نہیں بلکہ اعتقاد پر ہونا چاہئے کہ کیا آپ کو ایک ایسا دین بطور فیصل تسلیم ہے کہ جو ایک مرد پر اتارا گیا اور کیا آپ اس مقدمے میں ایک مرد کو حکم بنانے کیلئے تیار ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20