عورت کے حقوق اور جنسی لبرل ازم —— اورنگ زیب نیازی

0

مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک کا آغاز انقلاب فرانس(۱۷۷۹ء) کے ساتھ ہوا جب پہلی مرتبہ وہاں کی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اجتماعی جدو جہد کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مغرب میں یہ تحریک تین طویل اور صبر آزما مراحل سے گزری، پہلے مرحلے میں عورت کے لیے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ لہر ۱۹۲۰ء تک جاری رہی تاآنکہ عورت کو ووٹ کا حق مل گیا۔ دوسرے مرحلے میں عورت نے روزگار اور تعلیم کے یکساں مواقع، کام کے یکساں اوقات اور یکساں اجرت کو مطالبہ کیا۔ یہ لہر ۱۹۷۰ء کی دہائی تک جاری رہی۔ تیسری لہر کو جنسی آزادی کے مطالبے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس طویل اجتماعی جدو جہد میں ورجینیا وولف کی کتاب A room of one,s own، ڈورتھی رچرڈسن کے ناول Pilgrimage، سیمون دی بووا کی کتاب The Second sex اور کیت ملٹ کی کتاب Sexual Politics نے اس تحریک کو فکری اساس فراہم کی۔

یہ مختصر تاریخ بیان کرنے کا مقصد گزشتہ دو سال سے بپا ہونے والے متنازع عورت مارچ اور اس کے خلاف شدید عوامی ردعمل کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ فلسفیانہ مو شگافیوں میں الجھنے اور دور دراز کی کوڑیاں لانے کے بجائے اس قضیے کو سادہ لفظوں میں سمجھنے کی کو شش کی جانی چاہیے۔ اگر ایک گروہ عورت کے حقوق کی طرف توجہ دلانے کے لیے سڑکوں پر نکلا ہے تو ان سے اختلاف کیسا؟ عورت مارچ کے کرتا دھرتاوں کی ذاتی پر تعیش زندگی اور غیر ملکی این جی اوز کی فنڈنگ کے الزام کے باوجود ان کے مقصد کی سچائی پر سوال کرنا درست نہیں گا۔ شدید رد عمل کی بنیادی وجہ شاید ان کے طرز عمل اور طریق کار سے اختلاف ہے۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے مبہم نعروں (جو مخالف گروہ کی نظر میں مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے منافی ہیں)، انڈر گارمنٹس کی نمائش، جنسی اشتعال دلانے والی تصاویر اور ’’ایام حیض میں مباشرت‘‘، ’’مشت زنی کے فوائد‘‘ اور ’’یار تیری ماں بڑی سیکسی ہے‘‘ جیسے موضوعات پر مضامین کی اشاعت سے مذکورہ گروہ نے لبرل آئیڈیالوجی کا ایک بھونڈا تصور پیش کیا ہے۔ یوں انھوں نے نہ صرف لبرل آئیڈیالوجی کو بلکہ عورت مارچ کے کاز کو بھی خود ہی نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے میں اگر ہمارے کسی لکھاری دوست کا ذہن رسا ’’جنسی لبرل ازم‘‘ کی اصطلاح وضع کرنے پر مجبور ہو جائے تو اسے داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

دوم یہ کہ ’’حقوق‘‘ اور ’’برابری‘‘ کے تصورات پر بھی از سر نو غور کر لینا چاہیے۔ دنیا کے تمام مذاہب اور مہذب معاشروں میں انسان تو کجا جانوروں کے بھی حقوق مقرر ہیں۔ حقوق کا تعین صرف جنس کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ پیشہ، تعلیم، محنت، جسمانی یا ذہنی مشقت یا دوسرے خصائص کی بنیاد پر مختلف طبقات اور افراد کے حقوق متعین ہوتے ہیں۔ کسی ایک معاملے میں کسی فرد کے حقوق کم ہوتے ہیں تو کسی دوسری حیثیت میں وہی فرد زیادہ حقوق حاصل کرتا ہے۔ مثلاََ کسی فیکٹری میں کام کرنے والے ایک مزدور اور ایک انجینیئر کے بعض حقوق برابر نہیں ہو سکتے، مزدور زیادہ جسمانی مشقت کرتا ہے تو اس بنیاد پر یہ اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا کہ اس کی مراعات اور دیگر سہولیات کا حق انجینیئر سے زیادہ کیوں نہیں ہے؟جب کہ ’’برابری‘‘ میں اگر حقوق برابر کے ہوں گے تو پھر مشقت، ذمہ داری، کام اور وقت میں بھی برابر کا حصہ دار ہو نا پڑے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر مخالف نقطہء نظر کو دلیل کے ساتھ رد کیا جا سکتا ہے تو پھر طنز و تضحیک کا طوفان بد تمیزی کیوں؟ جب کسی گروہ یا طبقے کے قول و فعل میں تضاد واضح ہو جاتا ہے تو مخالفین کی طرف سے طنز و تضحیک کا رویہ جنم لیتا ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت سوشل میڈیا پر بر سر پیکار دونوں گروہوں کے شدت پسند رویوں میں نام اور حلیے کے علاوہ سر مُو فرق نہیں ہے۔ مذہبی یا قدامت پسند طبقے کو ہمارے معاشرے میں تضحیک کا نشانہ اس لیے بنایا جاتا ہے کہ وہ ظاہری طور پر مذہب کی نمود و نمائش تو کرتا ہے لیکن عملی طور مذہبی اقدار کے نزدیک بھی نہیں پھٹکتا۔ یہی صورت حال دوسرے گروہ کی ہے۔ یہ کسی عورت کو دی جانے والی گالی پر تو طوفان اٹھا سکتا ہے لیکن کسی پیغمبر، رسول کی توہین کو آزادیء اظہار کا نام دے کر، ایسا کرنے والے کے حق میں نظمیں، قصیدے اور کالم لکھتا ہے۔ میرا جسم، میری مرضی کا نعرہ تو لگاتا ہے لیکن عملی طور پر اپنے جسم کو اپنی مرضی سے ڈھانپنے والی عورت کا مذاق بھی اڑاتا ہے۔

ہر معاشرے کی اپنی ترکیب اور اپنی حدود و قیود ہوتی ہیں، جب اس ترکیب کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں عورت کو عزت و احترام کے ساتھ تعلیم کے یکساں مواقع اور روزگار کی خود مختاری دینے میں کامیاب ہو جائیں تو کسی عورت مارچ کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20