بھارتی مصنفین کے دو ناول ——– نعیم الرحمٰن

0

حال ہی میں بھارت کے دو اہم اور نامور مصنفین کے ناول پاکستان میں شائع ہوئے ہیں۔ جن ایک دور حاضر کے صف اول کے افسانہ و ناول نگار مشرف عالم ذوقی کا ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ ہے اور دوسرا ہندی کے آنجہانی کہانی نویس، ناول نگار اور طنز نگار رویندر کالیا کا ’’17 رانڈے روڈ‘‘ کے ہندی ناول کا ترجمہ ہے۔ یہ عمدہ ترجمہ عامر صدیقی نے کیا ہے۔ نئے پبلشر صریر پبلیکیشنز نے دس کتابوں کے ساتھ اپنا اشاعتی پروگرام شروع کیا ہے۔ اس میں یہ دو بھارتی ناول بھی شامل ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تناؤ اور ڈاک کے غیر معمولی اخراجات کی وجہ سے پاکستانی شائقین ادب عموماً بھارت شعراء اور مصنفین کی کتب نہیں پڑھ پاتے بلکہ اکثریت تو ان کے نام سے بھی ناواقف ہے۔ اس اعتبار سے ان دو ناولوں کی اشاعت پاکستانی قارئین کے لیے تحفہ خاص سے کم نہیں ہے۔ کتابوں کی پرنٹنگ معیاری، جاذبِ نظر، کمپیوٹر کتابت عمدہ اور قیمت مناسب ہے۔

مشرف عالم ذوقی کا شمار بلاشبہ اردو کے بہترین ناول و افسانہ نگاروں میں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کی تحریروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستانی قارئین ان کے کام سے لا علم ہیں۔ ذوقی صاحب کے کئی ناول اور افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں ’’ایک انجانے خوف کی ریہرسل‘‘ ، ’’بیان‘‘ ، ’’پروفیسر ایس کی عجیب داستان‘‘ ، ’’سلسلہ ء روز و شب‘‘ ، ’’شہر چپ ہے‘‘ ، ’’صدی کو الوداع کہتے ہوئے‘‘ ، ’’ عقاب کی آنکھیں‘‘ ، ’’لینڈ اسکیپ کے گھوڑے‘‘ ، ’’مسلمان‘‘ ، ’’لذت کے دنوں میں‘‘ ، ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ ، ’’مرگِ انبوہ‘‘ ، ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ اور ’’آتش رفتہ کا سراغ‘‘ شامل ہیں۔ افسانوں میں’’بھوکا ایتھوپیا‘‘ اور ’’غلام بخش اور دیگر کہانیاں‘‘ کے علاوہ ان کے خود منتخب کردہ پچیس افسانوں کا مجموعہ ’’نفرت کے دنوں میں‘‘ اہم ہیں۔ مشرف عالم ذوقی کے تنقیدی مضامین ’’آبِ کبیر رواں‘‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ جبکہ ایک طویل نثری نظم ’’کیپروسی کیمپ‘‘ بھی شائع ہو چکی ہے۔

مشرف عالم ذوقی کے اکثر ناول سیاسی پس منظر کے حامل ہوتے ہیں۔ ’’آتش رفتہ کا سراغ‘‘ کے سرورق پر تحریر ہے۔ ’’ہندوستانی مسلمانوں کی آپ بیتی‘‘ جس میں بھارتی مسلمانوں پر گزرنے والے حقائق کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول ’’مرگِ انبوہ‘‘ میں ذوقی صاحب نے کئی سال قبل جس صورتحال کی نشاندہی کی تھی۔ وہ شہریت کے نئے قانون کی صورت آج حقیقت بن چکی ہے۔ اس کے بارے مشرف عالم ذوقی نے ایک مضمون میں تحریر کیا ہے۔ ’’مجھے شدت سے احساس ہے کہ ہماری پسماندگی کی وجہ کیا ہے؟ ہمارے لوگ صرف تنقید کرنا جانتے ہیں۔ عملی میدان میں اترنے کوئی تیار نہیں۔ ہندوستان کے مستقبل کے مناظر شاید ملی تنظیموں کی نگاہوں سے بھی اوجھل ہیں یا وہ خوش فہمی کا شکار ہیں۔ اب تک مسلمان انتہا پسندوں کا شکار تھے۔ لیکن اب مذہب نشانے پر ہے۔ مستقبل کے تماشے کی شروعات ہو چکی ہے۔ بھارت کے اٹھارہ سے بیس کروڑ مسلمانوں کی مخالفت میں شدت آتی جا رہی ہے۔ ان کے منصوبے خطرناک ہیں اور میڈیا مسلمانوں کو رسوا کرنے کی قیمت وصول کر چکا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ملک میں اتنی بڑی اقلیت کا کیا ہو گا؟ کسی کو معلوم نہیں۔ وہ مسلمانوں کے بارے میں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ کیا اپنے لوگوں کے لیے لکھنا بھی غلط ہے۔ حالیہ شہری ترمیمی بل کی صورت میں مستقبل کی نشاندہی انہوں نے ’’مرگِ انبوہ ‘‘ میں کر دی تھی۔ مرگِ انبوہ اور ذوقی صاحب کی دیگر کتب بھی پاکستان سے شائع ہونا چاہیے۔

’’مرگِ انبوہ‘‘ میں باپ اور بیٹے کے کرداروں کی شکل میں مشرف عالم ذوقی نے جس جنریشن گیپ کو پیش کیا تھا۔ ’’پوکے مان کی دنیا ‘‘میں اسے ایک نئے اور منفرد انداز میں بیان کیا ہے۔ اردو کے بیشتر ناول عشق و محبت، مرد و عورت کے تعلقات، غلامی، تقسیم، ناسٹلجیا، جیسے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ایسے میں مشرف عالم ذوقی نے ’پوکے مان کی دنیا‘‘ میں اردو قارئین کو ایک بالکل نیا موضوع دیا ہے۔ بلکہ اس ناول کے ذریعے انہوں نے اردو قارئین کے مزاج میں بھی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ اس ناول کو اردو ناول نگاری میں ایک اہم سنگ ِ میل اور فیصلہ کن تبدیلی کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس ناول میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے دور میں پیدا ہونے والے سائبر بچے ہیں جن کے مسائل کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ہمارا معاشرہ جس تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اس کے مستقبل کی نشاندہی اس ناول میں کی گئی ہے۔ صارفیت، الیکٹرانک میڈیا، گلوبلائزیشن، انٹرنیٹ اور جنک فوڈ کے اثرات سے تبدیل ہوتی اخلاقیات اور روایتی اقدار کی کشمکش ہے۔ تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت ہے، جس میں کردار حقیقی زندگی کے کارٹون لگتے ہیں۔ اس ناول میں مشرف عالم ذوقی ایک مرتبہ پھر ایک ایسے ناول نگار کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ جو ماضی اور حال کے ساتھ مستقبل کو دیکھنے اور پرکھنے والی آنکھ اور وژن رکھتا ہے۔ جن کے موضوعات نئے ہیں اور جن کا اسلوب متاثر کن ہے۔ جو اپنے مخصوص رنگ اور آہنگ کے ساتھ اپنی پہچان رکھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ناول کی دنیا پر چھا جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

ایسے نئے اور منفرد موضوع پر ناول لکھنا ہی مشرف عالم ذوقی کے بے پناہ خلاق ذہن کی نشاہدہی کرتا ہے۔ ان کا ناول ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ دو ہزار تین میں شائع ہوا تھا۔ جب ایشیا میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور ان سے متعلق دیگر اشیاء اتنی عام اور ہر بچے کی رسائی میں نہیں تھیں۔ لیکن ذوقی کی مستقبل بین نگاہ نے اس صورتحال کو نا صرف بھانپ لیا، بلکہ اپنے ناول میں خوبصورتی سے پیش بھی کر دیا۔

ناول کا مرکزی کردار ایک جج، سنیل کمار رائے ہے۔ جو جوڈیشل مجسٹریٹ ہے۔ اس کردار کے ذریعے انہوں نے جج کی ذاتی زندگی اور عوام میں اس کے بارے میں عمومی خیال پیش کیا گیا ہے۔ پہلے باب کا عنوان ہے۔ ’’ایک سو اکیاونواں پوکے مان‘‘ جس سے قبل پابلو نرودا کی نظم سے اس کی معنوعیت عیاں کی گئی ہے۔ ذرا یہ اقتباس ملا حظہ کریں۔

’’مجھے جاننا ضروری نہیں ہے۔ یہ بھی جاننا ضروری نہیں ہے کہ میں کیا ہوں اور کیا سوچ رہا ہوں۔ میں ایک جج ہوں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ۔ یہ صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ اس کے بغیر، شاید میں آپ کو وہ سب کچھ نہ سمجھا پاؤں، جو بتانا چاہتا ہوں۔ ہر جج کی طرح میرا ایک نام ہے، سنیل کمار رائے۔ ایک چھوٹا سا خاندان ہے۔ بیوی اسنیہہ لتا رائے اور دو بچے۔ نتن اور ریا۔ نتن کمپیوٹر انجیئرنگ کر رہا ہے۔ ریا کالج میں ہے۔ میں شاید یہ سب تھوڑا تھوڑا اس لیے بتانا چاہتا ہوں کہ آج صبح میرے سامنے ایک کیس آیا ہے۔ ابھی میرے ریٹائر ہونے میں کئی برس باقی ہیں۔ مگر۔ میں جانتا ہوں، دوسرے ججوں کی طرح میرے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ سوائے ایک ایسی زندگی کے، جو میں جینا بھی نہیں چاہتا۔ یعنی ایک ایسی زندگی کہ آپ کے پیشے سے لوگ آپ کے صوفی، سنت ہونے کا بھرم پال لیتے ہیں۔ جج انصاف کا مندر۔ انصاف پسند۔ انصاف کرنے والا۔ اور ریٹائر ہونے کے بعد اپنے آپ میں کھویا ایک درویش، سنت اور بے چارہ آدمی۔ مجھے بتانے دیجیے، کہ میری زندگی میں، اس سے قبل پتا نہیں میرے پاس کتنے کتنے کیس آئے ہوں گے اور میں نے کتنے کتنے مقدمے سنائے ہوں گے۔ سچ اور جھوٹ کے لیے اب مجھے بیان نہیں سننا پڑتے۔ بس چہرے پڑھنا پڑتے ہیں۔ کتنی ہی بار میری قلم سے غلط فیصلہ بھی نکلا ہو گا۔ جانتا ہوں۔ یہ قانون کی مجبوری ہوتی ہے۔ مگر ابھی میرے پاس کچھ سال باقی ہیں۔ کچھ، بہترین سال اور ان کچھ برسوں میں اپنے اندر بچی ہوئی غیرت خریدنا چاہتا ہوں۔ وہ غیرت جو آج میں نے اس بچے کی آنکھوں میں دیکھی ہے۔ نہیں۔ دیکھی نہیں۔ جو اس کے حالات سے، ادھار لے کر آیا ہوں۔ ‘‘

اس اقتباس میں مصنف نے ایک جج کی زندگی کا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔ جج سنیل کمار کی بیوی اسنیہہ، نئے دور کی چمک دمک سے متاثر تھی۔ آخر کو ایک جج کی بیوی تھی اور سنیل کمار اپنے پیشے سے مجبور۔ چپ، گم سم اور اپنی دنیا میں رہنے والا۔ ایک صوفی سنت۔ بے چارہ، باسٹرڈ لیکن ٹھہر جائیے۔

’’ابھی ابھی میں اپنی اب تک کی دنیا سے باہر نکلا ہوں اور پوکے مان کی اسٹڈی کر رہا ہوں۔ سنا ہے جاپانی کمپنی نے ایک سو پچاس طرح کے، پوکے مان کے ماڈل تیار کیے ہیں۔ ہر طرح کے پوکے مان، کارڈس، گیم، لوڈو، ٹریڈ اور چھوٹی چھوٹی شیشہ کی سفید گولیوں میں قید پوکے مان۔ میرا نمبر 151 ہے۔ میں ایک سو اکیاونواں پوکے مان ہوں۔ جسے جاپانی کمپنی نے اب تک ڈیزائن نہیں کیا ہے۔ تو میری کہانی شروع ہوتی ہے۔ ‘‘

گابریل گارشیا مارکیز کا کہنا ہے کہ کسی ناول کی ابتدا سب سے دشوارہ وتی ہے۔ مجھے ناول کا ابتدائیہ سوچنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ جب ایک مرتبہ آغاز ہو جائے تو ناول لکھنا دشوار نہیں ہوتا۔ ’پوکے مان کی دنیا‘ کا یہ ابتدائیہ قاری کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے اور وہ اسے پورا پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

جنریشن گیپ اور ایک بیٹی کے لیے باپ کی فکر اور سوچ کا انداز کس عمدگی سے بیان کیا ہے۔

’’سیڑھیوں سے اترتے ہی میری نظر اس پر ٹھہر کر رہ گئی۔ وہ زمانے سے بے نیاز تھی۔ بے تنگ کپڑوں میں۔ سلیو لیس شرٹ اور شارٹ جینز لیکن نہ اس کے کپڑوں کا جائزہ لے سکتا تھا، نہ ہی اس کے جسم کا۔ وہ میری بیٹی تھی ریا۔ شام دیر ہو جائے گی ڈیڈ۔ کوئی بات نہیں۔ بائے۔ میری نظر نے ایک بار پھر اس کا تعاقب کرنا چاہا۔ مگر ہر بار بیٹی کی جگہ جسم آڑے آتا رہا۔ وہی، تنگ کپڑوں میں سمٹا ہوا، ایک کھلا جسم۔ جسے دیکھتے ہوئے باپ اپنی ہی نظر میں ننگا ہو جاتا ہے۔ یہ بیٹیوں میں لڑکی والا جسم کیوں آ جاتا ہے۔‘‘

چند الفاظ میں آزاد خیال معاشرے میں بیٹی کے لیے باپ کے تاثرات کس خوبی سے بیان کیے گئے ہیں۔ آج کی مصروف زندگی میں ایک گھر میں رہنے والے افراد بھی بمشکل کسی ایک وقت کے کھانے پر یکجا ہو پاتے ہیں۔ بچوں کے پاس موبائل اور انٹرنیٹ کی موجودگی میں والدین کے لیے وقت نہیں ہوتا۔ بیوی اپنی پارٹیوں میں مگن ہوتی ہے۔ ایسے میں مرد جاب سے واپسی کے بعد بالکل تنہا ہو جاتا ہے۔ ڈائننگ ٹیبل پر نتن اخبار سے سنیل کمار کو سائبر کرائم کی ایک خبر سناتا ہے۔ اور وہ یہ سوچ کر ہی خوش ہے کہ آج بچے اس سے بات کر رہے ہیں چاہے کرائم نیوز پر ہی کیوں نہ ہو۔ اسی گفتگو میں ریا پوچھتی ہے۔ آپ کے دور میں کمپیوٹر، فرج، ٹی وی کچھ نہیں تھا۔ ہیلتھ کلب، ڈسکو بھی نہیں تھے۔ پھر آپ لوگ انٹرٹیمنٹ کے لیے کیا کرتے تھے۔ آئی کانٹ امیجن۔ سنیل کمار کہتا ہے۔ تم سچ کہہ رہی ہو ریا۔ شاید ہم نہیں جیتے تھے۔ جینے کے لیے ہمارے پاس تھا ہی کیا ہمارے پاس۔ مگر ہم ہنس لیتے تھے جو تم نہیں کر پاتے ہو۔ شاید ہمارے پاس ریالٹی تھی فنٹاسی نہیں۔ شاید ہم بے وجہ بھی ہنس لیتے تھے۔ نتن فوراً بولا۔ نونو ہم کیا ریالٹی سے باہر ہیں ایک فنٹاسی کی دنیا میں۔ ریا نے تالیاں بجا کر کہا۔

’’گریٹ ریئلی یو آر گریٹ پاپا۔ اس کے لہجے میں تلخی تھی۔ ریئل صرف تم ہو۔ ریئلٹی تمہارے عہد میں ختم ہو گئی جب ساٹھ پاور کا بلب جلتا تھا تمہارے گھر میں ریا زور سے چیخی یہ ہے جنریشن گیپ۔ آپ کے اور ہمارے بیچ کا ڈیڈ اونلی جنریشن گیپ۔ آپ صرف ہماری جنریشن میں بیکٹیریا ڈھونڈو گے۔ یو آر سو کنزرویٹو اینڈ سو اولڈ فیشنڈ‘‘

دور جدید کی جنریشن گیپ کو اس طرح شاید ہی کسی مصنف نے عیاں کیا ہو گا۔ ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ اپنے موضوع، اسلوب اور کہانی کی اعتبار سے ایک بہترین ناول ہے۔ جسے پڑھنے کی بھرپور سفارش کی جا سکتی ہے۔ مشرف عالم ذوقی کے مزید ناول بھی پاکستان میں شائع ہونا چاہیے۔


رویندر کالیا ہندی کے بہترین کہانی نویس، عمدہ ناول نگار، کاٹ دار طنز نگار اور زیرک مدیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انیس نومبر انیس سو انتالیس کو جالندھر میں پیدا ہوئے اور چھہتر برس کی عمر میں نو جنوری دو ہزار سولہ کو دہلی میں وفات پائی۔ رویندر کالیا نے بے شمار کہانیاں لکھیں۔ جن میں ’’نو سال کی چھوٹی پتنی‘‘، ’’تائیس سال کی عمر تک‘‘ ، ’’ ذرا سی روشنی‘‘ اور ’’گلی کوچے‘‘ نے بہت شہرت حاصل کی۔ رویندر کالیا کے افسانوی مجموعوں کو ہندی ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے اہم ناول ’’خدا سلامت ہے‘‘ ، ’’17 رانڈے روڈ‘‘ اور ’’اے بی سی ڈی‘‘ کے علاوہ انہیں’’سمرتیوں کی جنم پتری‘‘ ، ’’ کامریڈ مونالیزا‘‘ اور ’’غالب چھوٹی شراب‘‘ جیسی بہترین سرگزشتوں کے خالق ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ طنز و مزاح میں بھی ان کا منفرد مقام ہے۔ ہندی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پریم سمرتی سمان، ساہتیہ بھوشن سمان اور لوہیا سمان جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔

’’17 رانڈے روڈ ‘‘ایک دلچسپ اور ضخیم ناول ہے۔ رویندر کالیا کا اسلوب سادہ بیانیے اور ہلکی پھلکی شگفتگی سے بھرپور ہے۔ جس کی وجہ سے قاری کی دلچسپی کسی مرحلے پر کم نہیں ہوتی اور آگے کیا ہو گا؟ ہر باب میں قاری کو ناول سے جڑا رکھتا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار سُدرشن پرشارتھی ریڈیو سے وابستہ ایک شاعر ہے۔ دس ابواب پر مشتمل ابتدائی دو ابواب میں مصنف نے ناول کے پانچ کرداروں سے جنہیں اس نے مہمان کردار کا نام دیا ہے، کا تعارف کرایا ہے۔ یہ تمام کردار پرشارتھی کے گرد ہی گھومتے ہیں اور یہ تعارف بھی منفرد اور دلچسپ انداز میں کرائے گئے ہیں۔ ہر باب کا عنوان میں انوکھے سے ہیں۔ جیسے باب اول کی سرخی ہے ’مہمان کردار نمبر ایک: سُدرشن پرشارتھی‘ جس کا عنوان ’ذرا کَہ دو سانوریا سے آیا کرے‘ ہے۔ اب یہ عنوان اور پھر پہلا پیرا قاری کی پوری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے۔

’’اس کا نام سُدرشن پرشارتھی تھا، اسٹیشن ڈائریکٹر بھٹنا گراس کا نام آنے پر اسے سُدرشن پناہ گزین کہتا تھا۔ بھٹنا گرروز گیارہ بجے میٹنگ بلاتا تھا، لیکن سُدرشن گیارہ بجے سو کر اُٹھتا تھا، لہٰذا روز بھٹناگر صاحب کی بہت سی شکایات وہ کسی نہ کسی شعر سے نمٹا دیتا تھا۔ بھٹناگر صاحب کو سندر کانڈ زبانی یاد تھا۔ وہ رام چرت مانس کی کسی چوپائی سے کسی بھی بات کا جواب دے سکتے تھے، مگر وہ میٹنگ میں ضابطے کی زبان سے ہی کام لینا پسند کرتے تھے۔ کسی دفتری کارروائی میں پرشارتھی کسی شعر کا حوالہ دے دیتا تو بھٹناگر صاحب لال روشنائی سے دائرہ بنا دیتے، ’’آپ کو کئی بار کہا گیا ہے کہ دفتر میں دفتری زبان ہی استعمال کریں۔‘‘ پرشارتھی اس کا جواب بھی کسی پھڑکتے شعر سے دیتا۔

یہ اس دور کا ذکر ہے جب تفریح کی دنیا میں پر ریڈیو کا غلبہ تھا۔ ریڈیو کے نیوز کاسٹر اور اناؤنسر نوجوان نسل کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔ پرکاش چودھری سامعین کی پسند کا گانا سنانے سے پہلے گیت میں ہی ایک دو مصرعے کچھ اس انداز میں شامل کرتے کہ سامعین پر ان کی آواز کا سحر طاری ہو جاتا۔ شام کو جب پرکاش چودھری و ارسُدرشن پرشارتھی، سول لائنز کے لیے نکلتے تو لڑکیاں کن اکھیوں سے چودھری صاحب کو دیکھنا نہ بھولتیں۔ کچھ لڑکے تو شام کو چودھری صاحب کے دیدار کا شرف حاصل کرنے سول لائنز آتے۔ یہ بیانیہ آج کی نسل کے لیے حیرت انگیز ہو گا۔ کیونکہ وہ ریڈیو کے اس دور کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ جب ریڈیو پاکستان، آل انڈیا اور سیلون کے علاوہ بی بی سی کے پروگرام پوری فیملی یا دوست مل کر سنتے۔ ان کا انتظار کیا جاتا اور پھر ان پر تبصرے ہوتے۔ پرانی نسل کے لوگ آج بھی امین سایانی کی کمپیئرنگ میں ’’بنا کا گیت مالا‘‘ کو بھول نہیں پائے۔ رضا علی عابدی کی بی بی سی پر ’’کتب خانہ‘‘ ، ’’جرنیلی سڑک‘‘ اور ’’شیر دریا‘‘ کی مقبولیت نے بعد میں کتابی شکل اختیار کی اور ان کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ اسٹوڈیو نمبر نو، حامد میاں کے ہاں، صبح دم دروازہ خاور کھلا، بچوں کی دنیا، کا گھر گھر انتظار کیا جاتا تھا۔

’’چودھری اور پرشارتھی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بلاواسطہ کریڈٹ سنگیت کی پروڈیوسر نیلما ادھیر کو جاتا تھا۔ نیلما ادھیر ایک سال خوردہ کنواری تھی۔ کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ وہ ایک نیشنل پارٹی کے صدر کی چہیتی تھی اور ان کی سفارش سے ہی اس عہدے پر پہنچی تھی، جبکہ اسے نہ تو موسیقی کی سمجھ تھی اور نہ ہی صوتی نشریات کا کوئی تجربہ۔ جب وہ پہلے دن دفتر آئی تھی، پرشارتھی نے اسے دیکھ کر اُس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر سوہن اوستھی سے کہا تھا، ’’کھنڈر بتا رہے ہیں عمارت حسین تھی۔‘‘ سوہن اوستھی، پرشارتھی کو پھکڑ مزاج سمجھتے تھے اور کبھی اس پر سختی سے دفتر کے قوانین لاگو نہ کرتے۔ وہ اس کے کام سے مطمئن تھے۔ پرشارتھی کو ایسا ہی کام دیا جاتا تھا، جو دوسرے لوگوں کے بس کا نہیں ہوتا تھا یا جو کام فوری نوعیت کا ہوتا تھا۔ ‘‘

ان چند اقتباسات سے سُدرشن پرشارتھی اور ناول کے ماحول کا تعارف ہو جاتا ہے۔ سوہن اوستھی کے تبادلے کے بعد نئے اسٹیشن ڈائریکٹر بھٹناگر کھانٹی کے ساتھ بطور اسکرپٹ رائٹر کام کرنا پرشارتھی کے لیے محال ہو گیا۔ پھر ایک روز ڈی ڈی جی نے فون پر بھٹناگر کو بتایا کہ ملک کی ممتاز ٹھمری اور غزل گلوکارہ بیم زہرہ ان کے اسٹیشن سمیت چار ریڈیو سینٹرز پر لائیو پروگرام پیش کریں گی۔ زہرہ بیگم بہت موڈی فنکارہ یں ان کے پروگرام میں کوئی کوتاہی نہیں ہونا چاہیے۔ بھٹناگر نے نیلما سے کہا کہ بیگم زہرہ، منتری جی کی منہ چڑھی ہیں، ان کے استقبال اور پروگرام کی تمام ذمہ داری آپ پر ہے۔ اب پرشارتھی سے مدد لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ پرشارتھی کو بمشکل چودھری کے ذریعے راضی کیا گیا۔ چودھری نے بیگم زہرہ سے پرشارتھی کی غزلوں کی بھی تعریف کر دی۔ انہوں نے ایک عمدہ غزل کی فرمائش کر دی جو انہیں بہت پسند آئی۔ غزل بیگم زہرہ نے لائیو پروگرام میں سنائی۔ جس نے راتوں رات پرشارتھی کو مشہور کر دیا۔ وہ شہر کا ہیرو بن گیا۔ دوستوں کے اصرار پر وہ ممبئی روانہ ہو گیا۔ جہاں ادبی جریدے کی ادارت کے ساتھ بطور شاعر اس نے فلم انڈسٹری میں جگہ بنانا تھی۔

مہمان کردار نمبر دو: سورن سنگھ ایڈیٹر چیتنا کا تعارف باب اول کے دوسرے حصے ’’برمنگھم سے آیا میرا دوست‘‘ میں کرایا گیا ہے۔ اسی حصے میں ’’مہمان کردار نمبر تین: ایک حیرت انگیز بھوت نما انسان‘‘ بھی متعارف ہوتا ہے۔ سمپورن اوبرائے ’سترہ رانڈے روڈ‘ پر رہتا ہے۔ یہ بنگلہ بھی بھوت بنگلہ ہی کہلاتا ہے۔ سورن سنگھ یہاں بطور پیئنگ گیسٹ سُدرشن کی رہائش کا انتظام کرتا ہے۔ سمپورن، سُدرشن کو بتاتا ہے کہ تین قتل اور ایک خودکشی ہوئی تھی۔ ایک عورت پاگل ہو گئی۔ اسی لیے سمندر کے سامنے یہ بنگلہ اس کے پاس صرف چونتیس روپے کرایے میں ہے۔ جبکہ یہاں آٹھ سو سے کم کرایہ نہیں ہے۔

باب دوم ’’دل کا بادشاہ، جیب کا فقیر‘‘ میں مہمان کردار نمبر چار: کے سی ملکانی اور مہمان کردار نمبر پانچ: بمبئی شہر کا تعارف کرایا گیا۔ بمبئی جو ابھی ممبئی نہیں بنا تھا۔ ایک کردار کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے اور انہیں پانچ کرداروں پر ناول ’’17 رانڈے روڈ‘‘ گھومتا ہے۔ قابل مطالعہ اور دلچسپ ناول شروع کرنے کے بعد ختم کئے بغیر چھوڑنا بہت مشکل ہے۔ صریر پبلیکیشنز اشاعتی پروگرام کے آغاز میں ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ اور ’’17 رانڈے روڈ ‘‘ کا انتخاب بہت اچھا کیا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کی مزید کتب بھی پاکستانی قارئین کے سامنے آنا چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20