یوم خواتین : حقوق کی آواز، تنازعات کی نذر‎ —- راحیلہ سلطان

0

عورت مارچ پر متنازع بحث کے دوران ماروی سرمد اور خلیل الرحمن کی آزادیء زبان اور آزادیء سوچ و فکر نے سوشل میڈیا پر آگ لگا دی ہے اور عورتوں کا عالمی دن آنے سے پہلے ہی عورت مارچ اختلافات و تنازعات کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ اس پر مزید لکھنا صرف اعادہ ہی ہوگا اس لیے میں اس بحث کو ترک کر کے عورت مارچ کی بات کرتی ہوں۔

ایک بات تو طے ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن مردوں سے نفرت کر کے منایا جائے گا جس میں عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانے سے زیادہ مردوں کی تضحیک نمایاں ہوگی۔ اس جلوسں میں عورتوں کے حقوق پر بات کرنے والی چند عورتوں پر مشتمل عورت مافیا نظر آئےگی۔ جنہوں نے عورتوں کے اصل حقوق کی جدوجہد کو ہائی جیک کرلیا ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمارے معاشرے میں خصوصا ً غریب و متوسط طبقے کی عورت اور گاؤں یا چھوٹے شہروں کی عورت اپنے ہی گھر کے مردوں کے ہاتھوں کسی نہ کسی شکل میں پس رہی ہے۔ لیکن اس کے حقوق دلانے کی کاوش میں معاشرتی اقدار اخلاقیات اور تہذیب کی چادر اتار پھینک دینا بھی درست اقدام نہیں۔

آٹھ مارچ عورتوں کے عالمی دن میں پاکستان کی باشعور عورت اپنے حق کے لیے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں اس دن کو بھر پور طریقے سے منانے کے لیے سرگرم ہو گی۔ جلسے، جلوس، عورتوں کے حقوق پر مبنی پلے کارڈز، سلوگن، نعرے، رقص اور خاکوں پر مبنی عورت پر ظلم کی داستان کچھ موم بتی مافیا قسم کی عورت مافیا اور خودسر خواتین میرا جسم میری مرضی کی عملی تصویر نظر آئیں گی اور ان سب میں وہ عورت غائب ہوگی جس کے حقوق حقیقتا ً غصب ہورہے ہیں۔

اس دن متوسط طبقے کی پڑھی لکھی عورتیں ایک دوسرے کو happy women’s day کہہ کر مبارکباد دیتی ہیں۔
گھریلو خواتین یہ دن بے خبری میں اپنے چولہے چکی میں لگے لگے گنوا دیتی ہیں ۔ غریب اور ان پڑھ محنت مزدوری کرنے والی خواتین تو سرے سے اس دن سے ہی ناواقف ہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ مغربی دنیا نے اس کی محنت و محبت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک دن بھی تخلیق کیا ہے۔

ان سب خواتین سے ہٹ کر ہمیں اس دن کو پورے جوش و جذبے سے مناتی خواتین کا ایک اور طبقہ بھی نظر آتا ہے۔ یہ خواتین یا تو ہر معاشی فکر سے بے پرواہ محض وقت گزارنے والی ایلیٹ کلاس سے منسلک ہیں جو میرا جسم میری مرضی کے تحت زندگی کے دن کاٹ رہی ہیں یا وہ بڑی عمر کی خواتین جو خاندان کے جھمیلوں سے آزاد ہیں یا پھر وہ نوجوان غریب و متوسط طبقہ جو پڑھ لکھ کر کسی حقوق آزادیء نسواں کی تنظیم کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی وہ آزاد پسند صنف نازک ہیں جو خود کو صنف نازک کہلانے سے نفرت کرتی ہیں۔ یہ اپنی روایات و اقدار کو فراموش کرکے ایک نئ دنیا کی تلاش میں نکلی ہیں۔ مغربی خواتین کی آزادی سے متاثر یہ خواتین اس بات سے بے خبر ہیں کہ جس راستے کی تلاش میں وہ نکلی ہیں اس کی منزل اولڈ ہوم تک جاتی ہے۔

پہلا بنیادی سوال یہ ہے کہ جو عورتوں کی آزادی کے لیے عورت مارچ کرنے نکلیں گی۔ اپنے حقوق کے لیے پلے کارڈ اٹھا کر دھرنا ڈالیں گی ۔ اسٹیج پر کھڑے ہوکر تقاریر کریں گی ۔ جن کے نزدیک مرد ان کے حقوق کے غاصب ہیں جو احتجاجاََ ہر اس کام کی نفی کرتی ہیں جو عورت کو اس کی معراج تک لے جاتا ہے۔ ان خواتین کا یہ سارے اقدام کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آزاد ہیں اپنی بات کہنے کے لیے۔ وہ آزاد ہیں اپنی سوچ میں، فکر میں، آواز میں۔
اب کون سی آزادی ہے جس کی وہ طلبگار ہیں۔ آزادی مگر کس سے۔ .؟۔ روایات سے ؟ معاشرتی اقدار سے؟
گھر سے؟ اپنے عورت پن سے؟ عورت کے خمیر میں پنہاں خدمت و محبت کے جذبے سے؟ رشتوں کی زنجیروں سے؟ مرد کے تحفظ سے؟ اپنے باپ، بھائی، شوہر، بیٹے سے؟

عورت کا عالمی دن تو اس کی خدمات و محبت اور خلوص کے احترام میں منایا جاتا ہے اس کا مقصد عورت کو وہ مقام دلانا ہے جو اس کا حق ہے۔ پوری دنیا کو اس کے عزت و مرتبے کا احساس دلانا ہے۔ اس کے بنیادی حقوق کی جانب معاشرے کی توجہ دلانا ہے ۔ اس کا مقصد قطعی یہ نہیں کہ آپ اپنے بنیادی کردار اور فطرت سے بغاوت کریں۔ مغرب کی عورت اس شکنجے میں پھنس کر صرف پیسہ کمانے اور بستر گرم کرنے تک محدود رہ گئ ہے۔ رشتوں کی زنجیر میں پروئے بغیر وہ ماں بھی بن جاتی ہے اور ساری عمر محنت کر کر کے آخر میں تنہا کسی اولڈ ہوم کی دیواروں سے سر ٹکراتے ٹکراتے مر جاتی ہے۔ وہ اس آزادی کے پیچھے رشتوں کے خلوص سے محروم سینکڑوں بوائے فرینڈز کے لیے صرف وقت گزارنے کی چیز جسے باہمی معاہدے کے تحت جب تک چاہے استعمال کیا جائے۔ سامراجی نظام کا ایک مہرہ جسے برابری کے دلفریب جال میں پھنسا کر نسوانیت سے دور کر دیا گیا ہے۔

وہ کیا جانیں خوبصورت رشتوں کے وہ جال جو ہمارے معاشرے کا سب سے خوبصورت پہلو ہیں آج کی عورت جسے غلامی کہتی ہے وہ تو تحفظ کی دیوار ہے جو رشتوں اور تعلق کی آڑ میں کھڑی ہے۔ جسے وہ جسم کی آزادی کہتی ہیں وہ تو حیا اور شرم کی لاش پر ایستادہ صرف وقتی لذت ہے۔ ۔ جسے وہ سوچ کی آزادی کہتی ہیں وہ عورت پن سے بغاوت ہے۔ حقوق کی بات کریں مگر اپنے عورت پن کو داؤ پر لگا کرنہیں۔ مرد کو اس کے فرائض کا احساس دلائیں مگر اس کو حقیر بنا کر نہیں۔ حقوق و فرائض کی جنگ میں اپنے معاشرتی اقدار کو فراموش نہ کریں۔

آپ کا محافظ آپ کا باپ ہے آپ کا بھائ ہے آپ کا شوہر ہے اور آپ کا بیٹا ہے جو آپ کے لیے سینہ سپر ہے۔ ان خوبصورت رشتوں سے نفرت سکھا کر فطرت اور اپنی بنیاد سے بغاوت نہ کریں۔
عورت تو محبت و خدمت کا خمیر لے کر پیدا ہوئی ہے اس کی بقا اور حسن اسی میں ہے۔ ایک دوسرے کا احساس اور باہمی معاونت ختم ہو جائے تو باقی کیا بچتا ہے۔

محض آزادی نسواں کا کھوکھلا نعرہ جس کا پرچار ہمارے ہاں ہاتھوں میں پلے کارڈ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اور یہ نعرہ بھی اصل معنوں میں عمر کی آخری حد پر عیاں ہوگا۔

جان لیجیے اگرعورت بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ وہ بہن ہے تو محبت ہے وہ بیوی ہے تو نعمت ہے۔ وہ ماں ہے تو جنت ہے۔ خدارا آزادیء نسواں کے کھوکھلے نعرے پر عورت کو اس کی عظمت سے محروم نہ کریں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20