دیو بند و بریلی: اختلافات سے مشترکات تک

0

امت مسلمہ آج  جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے ان میں ایک فرقہ واریت بھی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کی تباہ کاریوں پر نگاہ دوڑائی  جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ  آج کے دور میں یہ  الحاد اور بے دینی سے  بھی بڑا  فتنہ اورعفریت ہے۔ آج اگر ملت اسلامیہ  کا بدن لہو لہان ہے تو جہاں اغیار کی ریشہ دوانیاں ہیں،  وہیں اپنوں کی کارستانیاں بھی کم نہیں۔کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ آج شرق سے غرب تک جہاں بھی مسلمان پس رہے ہیں وہاں  عالمی سامراج کے ناپاک عزائم کے ساتھ ساتھ اندرونی خلفشار اور باہمی تنازعات کی شر انگیزی بھی کارفرما ہے۔ گویا خارجی محاذ پر اگر کفر و الحاد کی فتنہ سامانیاں ہیں تو داخلی محاذ پر تکفیری ذہنیت اور فرقہ واریت کی شر انگیزیاں۔ یہ مسائل اس وقت مزید گھمبیر اوراندوہناک معلوم ہوتے ہیں جب بین المذاہب تو کجا  خود اہل سنت کے مکاتب ِ فکر کے اندربھی مسلکانہ شدت پسندی اور تفسیق و تضلیل کا بازار گرم ہو۔ اگرکہیں باہمی رواداری، یگانگت، اتحاد او ریکجہتی کی فضا قائم کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو جلد ہی دیرینہ تعصبات کی زہر ناکی اور قلبی منافرت عود کر آئے۔ اور امن و آشتی اور مسلکانہ رواداری کے سارے دعوے کھو کھلے محسوس ہو نے لگیں۔ تو  کیا اس دیرینہ بیماری کا علاج  اور تدارک کا ساماں  ہی نہ کیا جائے۔ نہیں قطعاً نہیں بلکہ زیادہ قوت، یکسوئی اور تن دہی کے ساتھ  اس  کی زہر ناکیوں کو بجھانے کی ضرورت ہے۔ اس خطے میں جس طرح آج  سنی مکتبہ فکر کے دو بڑے گروہ یعنی دیوبند اور بریلی آپس میں دست و گریباں ہیں ۔اس پر ہر درد مند دل افسردہ اور پریشاں ہے۔ اس باہمی آویزش کی  کچھ وجوہ ہیں ۔تاہم  اس کے حل کی کوئی کوشش اس تمام صورتِ حال کےمعروضی جائزہ اور غیر متعصبانہ تفہیم کے بغیر شاید ممکن نہ ہو۔جو لوگ فطرت انسانی میں کارفرما گوناگوں نفسیاتی مہیجات اور تعصبات کا تجزیہ  کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس بات کی برملا تائید کرینگے کہ باہمی نفرت و کدورت  کم علمی، بے جا تعصبات، ناگوار انانیت اور معاملات کا درست تجزیہ نہ ہونے سے ہی پھیلتی ہے۔ پھر دینی اور مذہبی معاملات میں چونکہ اپنے موقف پر اصرار کو  تصلب، للٰھیت اور پرہیزگاری کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ لہذا معروضی تناظر اور بے لاگ  تبصرہ و تحقیق کی نوبت آتی ہے نہ خیال گزرتاہے۔ اور یوں فکر و نظر کا اختلاف بھیانک مسلکانہ پیکار کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس مضموں میں دیوبند اور بریلی  کی علمی اور فکری  آویزش کے پس منظر کا تعارف بھی ہے، طرفین کی جانب سے ایک دوسرے کے رد و خلاف کی وجوہات کا تذکرہ بھی ۔نیز ہر ایک کے جدا ذوقی رنگ اور طرزِفکر کا بیان بھی۔ آخر میں طرفین کے معتدل فکر علماء کا اجمالی تعارف اور مشترکات کا بیان۔تاکہ آنے والے دنوں میں  جداگانہ مسلکانہ تشخص کے باوجود دونوں طبقات میں  باہمی رواداری اور حسن ظن  کی خوشبو بکھرتی رہے۔  

دیوبندی بریلوی مناقشہ:  بحث مباحثہ  سے مناظرہ بازی تک

علماء اہل سنت کے درمیان  شرک و بدعت کے مسائل ہوں یا تقدیسِ الوہیت اور عظمتِ رسالت سے متعلقہ ابحا ث، یہ  تو دیوبند اور بریلی کے مدارس کے قیام سے بھی بہت پہلے کی ہیں۔ مسئلہ امتناعِ  نظیر کے حوالے سے شاہ اسماعیل صاحب دہلوی اورعلامہ فضل ِ حق خیرآبادی کے درمیان بحث مباحثہ تو مشہور و معروف ہے۔  خاص دیو بندی و غیر دیوبندی (بریلوی) تنازعہ کے تناظر میں بھی دیکھنا ہو تو ساری بحث  اثر ابن عباس کے حوالے سے  مولانا احسن نانوتوی  کی کتاب سے شروع ہوئی ۔ اس کی  تائید میں مولانا قاسم نانوتوی  نے ۱۲۹۰ھ /۱۸۷۲ء میں تحذیر الناس  لکھی ۔ اس پر اہل سنت کے حلقوں میں خوب شور اٹھا۔اور ہندوستان بھر میں علماء نے مخالفت کی۔ بلکہ  خود  مولانا تھانوی نے کہا  ہے کہ جب مولانا  نانوتوی نے تحذیر لکھی  تو ہندوستان بھر میں کسی نے موافقت نہ کی سوائے  مولانا عبد الحئ لکھنوی کے (دیکھیے الافاضات الیومیہ، جلد چہارم) ۔ یہ الگ بات کہ مولانا لکھنوی نے بھی بعد میں رسالہ ”ابطالِ اغلاطِ قاسمیہ (۱۳۰۰ھ/۱۸۸۳ء)“ کی تائید کر کے پہلے موقف سے رجوع کر لیا۔یہ رسالہ بھی کسی بریلوی عالم کی کاوش نہ تھی۔ بلکہ شروع میں مخالفت دیگر سنی علماء کی طرف سے سامنے آئی۔اور وہیں سے بات آگے بڑھی۔ اسی طرح اس  دورمیں  ایک اور تصنیف جو بعد میں علماء دیوبند  اور سنی علماء  کے مابین  وجہ بحث بنی  وہ ” انوار ساطعہ” ہے  جس کے مصنف مولانا عبد السمیع رامپوری  تو  حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلیفہ تھے۔ کوئی بریلوی نسبت نہ تھی ۔ بلکہ یہ کتاب آپ نے  ۱۳۰۲ھ میں لکھی۔جبکہ دارالعلوم منظرِ الاسلام  بریلی  کا قیام ۱۳۲۲ھ؍۱۹۰۴ میں عمل میں آیا۔  اس کے ردّ میں  براہین قاطعہ ۱۳۰۴ھ میں آئی ۔ان موضوعات پر پہلا بڑا مناظرہ علامہ  غلام دستگیر قصوری (خلیفہ حضرت مولانا محی الدین قصوری  جو معروف نقشبندی مجددی شیخ  یعنی  شاہ غلام علی دہلوی کے خلیفہ تھے) اور مولاناخلیل احمد سہارنپوری  کے درمیان  بہالپور میں ۱۳۰۶ھ میں ہوا۔  مولانا قصوری کی زندگی بھر مولانا احمد رضا خاں بریلوی ( م ۱۳۴۰ ؍ ۱۹۲۱) سے ملاقات تک ثابت نہیں چہ جائیکہ انہیں بریلوی کہا جائے۔  بلکہ زمانی لحاظ سے بھی  انہیں  مولاناکے والد، مولانا نقی علی خان، کا  معاصر کہنا زیادہ درست ہو گا ۔  گویا علماء دیوبند کے مقابل علمی بحث اور مناظرہ بازی سنیوں   میں جن  دو بڑی قد آور شخصیات  نے  شروع کی۔  دونوں کا بریلویت سے کوئی تعلق نہیں ، یعنی ایک ان کے اپنے شیخ حضرت مہاجر مکی  کے خلیفہ مولانا عبد السمیع رامپوری اور دوسرے علامہ قصوری ۔گویا یہ عقائد و معمولات کا اختلاف اور مناظرے مولانا احمد رضا بریلوی کے فتاویٰ سے بھی دو دہائیاں پہلے کے ہیں ۔ اگرچہ  یہ بات  درست ہے کہ حسام الحرمین ( ۱۹۰۶) نے دیوبندی بریلوی تنازع کو بہت اجاگر کیا اور طرفین کے رویوں میں شدت آنے لگی۔ تاہم دیوبندی بریلوی تنازع کو سمجھنے کے لیے اس کا تاریخی پس منظر سمجھنا ناگزیرہے اور اسکے لیے دو کتب کا مطالعہ از حد ضروری ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا  یہ دونوں کتابیں کسی بریلوی عالم کی نہیں ۔ ایک حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خلیفہ اجل کی ہے میری مراد ’انوار ساطعہ‘ از علامہ عبد السمیع رامپوریؒ(م۱۳۱۸؍۱۹۰۰)سے ہے۔ جبکہ دوسری معرکہ آراء تصنیف ’ تقدیس الوکیل‘ علامہ غلام دستگیر قصوری نقشبندیؒ (م۱۳۱۵/ ۱۸۹۷)  کی ہے جو خواجہ غلام محی الدین قصوری نقشبندی مجددیؒ (خلیفہ شاہ غلام علی دہلویؒ) کے خلیفہ اور شاگرد تھے ۔لہذا ان اکابر کی کتب کا مطالعہ بڑی حد تک اس علمی و فکری پس منظر کو واضح کردیتا ہے۔ ان دو کے علاوہ اکابر دیوبند کے پیر و مرشد سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (۱۳۱۷/۱۸۹۹م ) کا رسالہ ” فیصلہ ہفت مسئلہ ” ( شائع شدہ ۱۳۱۲ ھ/۱۸۹۴ ء )بھی لائق مطالعہ ہے جو دراصل انوار ساطعہ اور براہین قاطعہ کی مباحث کے بعد خود ان کے نامی گرامی خلفاء میں باعث تفریق و تشویق مسائل کا حل ڈھونڈنے کی ایک اہم کاوش تھی۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ علماء دیوبند کی مویّدہ’ براہین قاطعہ ‘ کے مقابل ’انوار ساطعہ‘ کو بریلوی علماء کی بجائے استاذ الکل مولانا لطف اللہ علی گڑھی (م۱۳۳۴ ۔سید ابوالحسن علی ندوی نے انہیں استاذ الکل لکھا ہے) ،مولانا عبد الحق حقانی صاحب تفسیر حقانی(م ۱۳۳۵ ھ) ،مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی ( م ۱۳۰۸ھ) ادیب الہند مولانا فیض الحسن سہارنپوری( م ۱۳۰۴ھ) مفتی ارشاد حسین رامپوری مجددی ( م ۱۳۱۱ھ) مولانا مفتی عبد المجید فرنگی محلی لکھنوی (م ۱۳۴۰ھ ) اور مولانا وکیل احمد حنفی سکندر پوری ( م ۱۳۲۲/ ۱۹۰۴ – شاگرد خاص علامہ ابو الحسنات عبد الحئ لکھنوی) ایسے اجلہ علماء کی تائید حاصل تھی ۔لطف کی بات یہ ہے کہ ان میں ایک بھی بریلوی یا بدایونی علماء کا شاگرد نہیں۔ گویا اہل سنت کے ما بین مباحث میں اختلاف بریلی کے کسی عالم کی فکر کا شاخسانہ نہیں بلکہ علماء دیوبند کے کچھ تفردات اور زعم توحید میں شان رسالت کے حوالے سے تنقیص و سوء ادب پر مشتمل کچھ افکار تھے جسکی گرفت پہلے اور لوگوں نے کی ۔ہاں حسام الحرمین ( ۱۳۲۵/ ۱۹۰۶ ) کے فتاویٰ سے بڑے پیمانے پر ردِّ دیوبند کا غلغلہ بلند ہوا۔  یہ بات بھی درست ہے کہ حسام کی تائید جہاں بہت سے علماء اہل سنت نے کی ۔(کم و بیش  ۲۷۰ کے قریب علماء کی فہرست الصوارم الہندیہ میں  مولانا حشمت علی لکھنوی نے دی ہے۔یہ کتاب ۱۳۴۵ھ/ ۱۹۲۶ میں طبع ہوئ)  وہاں کئ اکابر مثلا حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی،حضرت شاہ ابو لخیر دہلوی  ( شاگرد شاہ عبد الغنی مجددی ) ،  خواجہ حسن جان سرہندی ( شاگرد شیخ احمد بن زینی دحلان مکی و شیخ رحمۃ اللہ مہاجر مکی ) ،شیخ الاسلام مولانا انواراللہ فاروقی ، مولانا عبد الباری فرنگی محلی ،مولانا مشتاق احمد چشتی انبیٹھوی اور علامہ معین الدین اجمیری ایسے علماء نے اگرچہ عبارات کو غلط، گستاخانہ اور کفریہ کہا تاہم تکفیر سے کفِّ لسان رکھا اور اسی کو اَحْوَطْ جانا ۔گو یہ وضاحت اپنی جگہ اہم  ہے کہ حسام الحرمین کے فتاویٰ تکفیر کی حمایت نہ کرنے کے باوجودیہ  اکابر علماء و مشائخ معتقدات و معمولات  میں مولانا بریلوی سے کلی موافقت رکھتے ہیں ۔اور  دیوبندی عقائد کے ہمنوا نہیں۔ فاضل بریلوی کے فتوی ٰ  تکفیر  کی عدم تائید کو دیوبندی عقائد و نظریات  کی موافقت  سے تعبیر کرنا                           صریحا   غلط اور  دورازکار تاویل  کی قبیل  سے ہے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ دیوبند کے عمومی حلقےتو کجا ان کے بڑے بڑے علماء بھی ان شخصیات سے متعارف نہیں۔ حالانکہ دیوبندی  مورخین نے اپنے مکتب فکر کے تمام فضلاء و رجال کار کے سوانحی خاکے بڑی دقت نظرسےقلمبند کیے ہیں۔ اگر کہیں اشتراک فکر ہوتا تو  حلقہ دیوبند  میں ان کا بھی بھرپور تعارف ہوتا۔    

 

 رد بریلویت  کی وجوہات اور پس منظر

      اس ساری بحث میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے   کہ آج جس طرح بریلوی عقائد کو شرک و بدعت سے آلودہ قرار دیا جا رہا ہے اور مولانا احمد  رضا  کو ایک فرقہ کا بانی ،  تو کیا فی الواقع ایسا ہی ہے؟ نہیں بلکہ تاریخی حقائق  کچھ اور ہیں ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ فاضل بریلوی نے تو علماء دیوبند کے خلاف فتوے دیے تاہم اکابرین دیوبند کی طرف سے  کوئی فتویٰ ان کے( عقائد و معمولات  کے )  خلاف نہ تھا ۔ بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب علامہ انور شاہ کشمیری  سے مناظرۂ بہالپور کے دوران پوچھا گیا کہ آپ تو بریلوی علماء  کی تکفیر کرتے ہیں تو  انہوں  نے باقاعدہ بیان قلمبند کروایا کہ  وہ کسی صورت بریلویوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ عدالتی بیان ۱۳۵۰ھ کے لگ بھگ  ہےجب  فاضلِ بریلوی  کے وصال  (۱۳۴۰ھ )کو بھی  دس گیارہ سال ہو چکے تھے۔ اسکی وجہ یہی ہے کہ چند فروعی مسائل کے علاوہ تو کسی بات پر شرک و کفر کے فتویٰ کا مطلب اپنے اکابرین کو متہمّ کرنے کے مترادف تھا کیو نکہ ارواح ثلاثہ ، سوانح قاسمی اور اشرف السوانح جیسی کتب میں درج واقعات کسی طور بھی مروجہ سنی عقائد و معمولات سے ہٹ کر نہیں تھے ۔ہاں یہ درست ہے کہ حلقہ دیوبند میں بریلویوں کے خلاف شدت فاضل بریلوی کے تکفیری فتویٰ سے شروع ہوئی تاہم رد بریلویت پر جم کر کام فاضل بریلوی کی وفات کےبھی ۲۵؍۳۰  سال بعد ہوا ۔ اس میں دو شخصیات کا کردار اہم ہے۔ ہندوستانی علماء میں مولانا منظور نعمانی چونکہ مناظرانہ ذوق اور طبیعت رکھتے تھے تو وہ کھل کر لکھنے لگے اور مناظرے کیے اگرچہ آخری عمر میں انہوں نے معارف الحدیث ایسے علمی کاموں کی طرف توجہ دی دوسری شخصیت مولانا سرفراز صفدر کی ہے پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کے خلاف اصل نفرت اور آواز مولانا حسین علی ( واں بھچراں / تفسیر بلغۃ الحیران والے) کے ہاں سے اٹھی ۔انکے شاگردوں نے اسمیں کافی جوش دکھایا جس میں سر فہرست مولانا غلام اللہ خان ،مولانا سرفراز صفدر اور مولانا زاہد القاسمی وغیرہ تھے عجیب بات یہ ہے کہ اس انداز فکر کا معروضی تجزیہ نہیں کیا گیا۔ ایک تو مو لانا حسین علی صاحب بڑی متشدد اور تیز طبیعت کے آدمی تھے اگرچہ خاندان نقشبندیہ مجددیہ موسیٰ زئی شریف کے مجاز تھے تاہم صوفیاء کی روش کے برعکس مناظرہ جو طبیعت پائی تھی۔ لہذا مشائخ و صوفیاء بالخصوص چشتیہ نظامیہ ( پاکستان میں کثرت ہے) سے بڑی کد تھی اس دور میں پنجاب کے تمام بڑے علماء یا علمی گھرانے خانقاہ سیال شریف سے وابستہ تھے ان چشتی مزاج علماء کے ساتھ جو کہ بریلوی نہ تھے مولانا حسین علی کی نوک جھوک لگی رہتی۔ اندازہ لگائیں کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گو لڑوی  جیسے بزرگ صوفی اور عالم سے بھی موصوف مناظرہ کرنے سے باز نہ آئے ۔ تو یہ وہ ذہن تھا جس نے سنی مشائخ اور علماء ( پنجاب کے زیادہ علماء دار العلوم نعمانیہ لاہور کے فاضل تھے اور خیر آبادی منہج رکھتے  گو بگوی خاندان میں حدیث کا ذوق زیادہ تھا) کے خلاف ذہن سازی کی۔ مولانا بھچرانوی کے شاگردوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بعد میں دیوبندیوں میں مماتی فکر بھی اسی مولانا حسین علی کی فکر کا شاخسانہ تھی۔ مولانا حسین علی کی متشدد طبیعت کا شاہ عبد القادر رائیپوری علیہ الرحمۃ جیسے بزرگوں کو بڑا احساس تھا ( حضرت کے ’ملفوظات  ‘ مرتبہ از مولانا محمد انوری اور ’حیات طیبہ‘  از صاحبزادہ محمد حسین انصاری تمیمی للّہی  دیکھیے) بلکہ خودمولانا حسین علی کے پیر بھائی اور بانی خانقاہ سراجیہ، مولانا ابو السعد احمد خان علیہ الرحمۃ ( جنکے علو مقام کے مولانا انورشاہ کشمیری اور علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے بزرگ قائل تھے۔ دیکھیے کتاب ” تحفہ سعدیہ ") کو اس تکفیری اورمتشدد طبیعت سے بڑی نفرت تھی ( دیکھیں ‘حیات صدریہ’۔سوانح قاضی صدرالدین نقشبندی )   اب چونکہ پچاس / ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے سنی علماء میں سے  علماء دیوبند کے ساتھ بحث مباحثہ کے لیے جو علماء اٹھے وہ زیادہ تر  بریلوی اور مرادآبادی سلسلہ کے  لوگ تھے لہذا فتویٰ بریلویوں پر لگنا شروع ہوا۔حالانکہ خود سنی حلقوں میں فاضل بریلویؒ کی کتب کا تعارف اور پڑھنے کا ذوق کہیں بعد میں شروع ہوا ۔ بلکہ  بیشتر سنی علماء دیوبندیوں کی فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے خلاف سخت کلامی سے ہی متأثر  ہو کر ادھر متوجہ ہوئے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فاضلِ بریلوی پر  جن دو شخصیات نے پاکستان میں  سب  سے پہلے علمی اور تحقیقی انداز میں کام کیا  وہ دونوں  بریلوی نہ تھے  نہ بریلوی علماء کے شاگرد، میری مراد ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی  اور حکیم محمد موسیٰ امرتسری سے ہے ۔جیسے پہلے عرض کیا ہے  پنجاب کے سنی علماءکا تعارف بریلویوں سے زیادہ نہ تھا یہاں تو علامہ فضل حق رامپوری ( م۱۹۴۰) ،علامہ غلام محمد گھوٹویؒ (م ۱۹۴۰)، علامہ معین الدین اجمیریؒ ( م ۱۹۴۰ ) ،مولانا مہر محمد اچھرویؒ ( م ۱۹۵۴) اور مولانا یار محمد بندیالویؒ ( م ۱۹۴۷)  قاضی محمد دین بدھویؒ   (م۱۹۶۴) اور  علامہ  غلام محمود پپلانویؒ( م ۱۹۴۸) وغیرہ کے شاگرد زیادہ تھے اور یہ سب سنی تھے بریلویوں سے کوئی بھی براہ راست  نہ پڑھا تھا ۔تاہم جب مولانا حسین علی اور انکے شاگردوں نے ان علماء کے شاگردوں سے مناظرے شروع کیے تو  سارے غیر دیوبندی  اب بریلویوں کی چھتری تلے جمع ہونا  شروع   ہو گئے۔ جن میں مختلف مراکز علمی  ( رامپور، فرنگی محل،لکھنو، کانپور، خیرآباد، دارالعلوم نعمانیہ لاہور، بدایوں اور بریلی کے) کے وابستگان تھے ۔                                                                                                                                                 

اس پس منظر میں یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ بریلوی عقائد و معمولات کے بڑے حصے کو انیسویں اور بیسویں صدی کے علماء اہل سنت کے بڑے طبقے کی تائید رہی ہے ۔ رہاحسام الحرمین کے بعد کے ادوار میں دیوبندی بریلوی شدید منافرت اور دونوں کے اندازو مزاج میں واضح فرق جس میں تطبیق کی کوئی صورت آج دینی مزاج کے لوگوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہے تو اس سلسلے ميں عرض یہ ہے کہ علماء دیوبند نے علمی و تحقیقی اور درس و تدریس پر توجہ دی اور دینی مدارس کے فروغ اور دعوتی کام کی وجہ سے عوام کے بڑے طبقے کو متاثر کیا یوں شعوری طور پر دینی ذوق رکھنے والے لوگ ان کے پاس آتے گئے۔ دوسری طرف بریلوی علماء مولانا حشمت علی لکھنوی ، مولانا اجمل سنبھلی  وغیرہ ہندوستان جبکہ پاکستان میں مولانا سردار احمد فیصل آبادی، مولانا عمر اچھروی اور مولانا ابوالبرکات وغیرہ  نے اور ان کے کے شاگردوں نے "رد دیوبندیت” کو ہی موضوع بنایااور ٹھوس علمی کام نہ کرسکے ۔اس کا نقصان یہ ہوا جدید موضوعات تو کجا روایتی خرافات و رسومات کے آگے بھی بند نہ باندھا جا سکا۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ فاضل بریلوی ،جنہوں نے رد بدعات میں بہت کام کیا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمعصر مشائخ و علماء میں رد بدعات کے حوالے سے شاید ہی کسی نے اتنا کام کیا ہو ،کی اصل فکراور اصلاحی تعلیمات دب گئیں۔ اور نیم خواندہ بریلوی مولوی نورو بشر کے موضوعات پر ہی تقریریں کرکے سنیت کا تعارف  کروانے  لگے ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ فاضل بریلوی کی اصلاحی تعلیمات کے فروغ میں رکاوٹ میں اہم کردار یہاں کے چشتی نظامی، چشتی صابری اور سہروردی اور قادری مشائخ کی خانقاہوں اور گدیوں کا بھی رہا۔ انہوں نے ان پڑھ مریدوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک طرف تو دیوبندیوں کے خلاف ان کےحسام الحرمین کے  فتاویٰ کو خوب اچھالا لیکن فاضلِ بریلوی کی  اصل تعلیمات خاص کر رد بدعات کو سامنے ہی نہ آنے دیا۔ یوں علمی کم مائیگی ، وعظ پسندی اور جہال کی خرافات و بدعات  کوگویا بریلویت کے مترادف سمجھاجانے لگا ۔ ماضی قریب میں بہت سارے اہل علم اپنے آپ کو اس رد دیوبندیت کی شدت پسند بریلویت سے نہیں جوڑتے۔ متاخرین میں شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی، مولانا محمد عالم  آ سی امرتسری ، پیر کرم شاہ الازہری، خواجہ غلام سدید الدین  مرولوی ،مولانا محمد ذاکر   بانی جامعہ محمدی شریف جھنگ،  شاہ ابوالحسن زید فاروقی، شاہ وجیہ الدین احمد خاں  رامپوری ، خواجہ محمد عمر بیر بلوی، قاضی صدر الدین  نقشبندی ، علامہ حافظ ایوب دہلوی ، علامہ جمال میاں فرنگی محلی ، سید محمد ہاشم فاضل شمسی، علامہ حکیم محمود  احمد برکاتی، پروفیسر مولانا شاہ منتخب الحق ، ڈاکٹر فضل الرحمٰن انصاری، محدث دکن شاہ عبد اللہ قادری ، ڈاکٹر پیر محمد حسن، قاضی محمد حمید فضلی، مولانا سعید احمد مجددی  ،قاضی عبد النبی  کوکب ، علامہ علی احمد سندیلوی اور سید نصیر الدین نصیر گیلانی ایسے کئی جید علماء و مشائخ نے خیر آبادی ،فرنگی محلی اور خانوادہ للّٰہی سے منسوب سنیت کو ہی فروغ دیا ہے ۔ ذرا دیکھیے ذیل کے الفاظ میں کس درد مندی اور اخلاص کے ساتھ ایک بڑے سنی عالم  نے اس طرف توجہ دلائی ہے:                                                                                                                                                                      

”دین کے اصولی مسائل ميں دونوں متفق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توحید ذاتی اور صفاتی، حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بسا اوقات رسالت اور ختم نبوت،  قرآن کریم، قیامت اور دیگر ضروریات دین میں کلی موافقت ہے۔ لیکن طرزتحریر میں بےاحتیاطی اور انداز تقریر میں بے اعتدالی کے باعث غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور باہمی سوءِظن ان غلطیوں کو بھیانک شکل دے دیتا ہے اگر تقریرو تحریر میں احتیاط و اعتدال کا مسلک اختیار کیا جائےاور اس بد ظنی کا قلع قمع کر دیا جائے۔ تو اکثر و بیشتر مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے۔ اور اگر چند امور میں اختلاف باقی رہ بھی جائے تو اس کی نوعیت ایسی نہیں ہوگی کہ دونوں فریق عصر حاضر کے سارے تقاضوں سے چشم پوشی کیے آستینیں چڑھائے، لٹھ لیے ایک دوسرے کی تکفیر میں عمریں برباد کرتے رہیں۔“

یہ آراء معروف سنی عالم اور صوفی صافی حضرت پیر کرم شاہ صاحب الازہری کی ہیں جسکا اظہارانہوں نے  ٹھیک پچاس برس قبل تفسیر ضیاء القرآن کے مقدمہ میں کیا۔ اس میں شک نہیں کہ باہمی تکفیر و تفسیق کے اس دور میں اس جرأت مندانہ موقف اور امت کے اجتماعی مسائل کےلیے دلسوزی اور دردمندی کے جذبہ رفیعہ سے پیر صاحب اتحاد بین المسالک کی کوششوں میں اپنے معاصرین سے سبقت لے گئے۔ بعد کے ادوار میں مجاہد ملت مولانا عبد الستار خان نیازی ایسے بزرگوں نے عملی کوششیں بھی کیں (دیکھیں   کتاب ” اتحاد  بین  المسلمین : وقت کی اہم ضرورت “ )   جو بوجوہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکیں۔  تاہم اسکا سنی حلقوں بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فہیم و ذی شعور عناصر مذہبی مسائل ميں ٹھیٹ بریلویت اور دیوبندیت کی بجائے اہل سنت کی پرانی معتدل روش کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ۔پیر کرم شاہ سے کم وبیش بیس سال بعد ہندوستان میں رامپور ،جو دیوبند و بریلی کے مدارس دینیہ سے پہلے کا مشہور دبستان علمی ہے ، کے ایک نہایت قابل فرزند مولانا وجیہ الدین احمد خاں رامپوری نے "مسلک ارباب حق ” لکھ کر یہاں احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ سر انجام دیا  اور طرفین کی درست باتوں کی تائید اور غلط عقائد و نظریات کا علمی رد کیا وہیں اتحاد بین المسالک کی دعوت بھی دی۔  اس کتاب کی ثقاہت اور اہل علم و فضل کے ہاں وقعت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ معروف محقق و دانشور پروفیسر نثاراحمد فاروقی ( صدر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی)  نے پیش لفظ لکھا۔  وہ لکھتے ہیں۔ 

”حضرت مولانا شاہ وجیہ الدین احمد خاں علیہ الرحمۃ نے دیوبندی اور بریلوی دونوں مدرسہ ہائے فکر کے بارے ميں متوازن اور معتدل رائے کا اظہار کیا ہے۔ اور عام مسلمانوں کےلئے جو دین کی بنیادی کتابوں سے براہ راست اور گہری واقفیت نہیں رکھتے یہی مسلک اعتدال مناسب ہے.  وہ تحریر فرماتے ہیں کہ علمائے دیوبند کے بعض اکابر سے لغزشیں ہوئی ہیں  مولانا المولوی احمد رضا خا ں صاحب بریلوی نے ان لغزشوں پر مدلل نکتہ چیینیاں کی ہیں اور وقت نکتہ چینی وہ اکابر موجود تھے۔ لیکن اپنے اقوال کی تفسیریں اور تعبیریں انہوں نے بیان کی ہیں،  قول سے رجوع نہیں کیا کاش یہ دیوبندی اکابر اپنے اقوال سے رجوع کر لیتے تو آج ہندوستان کا بہت بڑا اختلاف مٹ جاتا – لیکن نہ اکابر نے رجوع کیا نہ اصاغر نے لغزش کا اقرا ر کیا ۔نتیجے میں  دیوبندی بریلوی محاذ قائم ہو گیا۔ دوسری طرف بریلوی علماء کے بارے ميں حضرت خطیب اعظم فرماتے ہیں کہ حضرات علمائے بریلی نے سخت تشدد اختیار کیا اور لغزشوں کے کرنے والوں کو ہی فقط کافر نہیں کہا بلکہ ان کے کفر میں جو شک کرے اس کو بھی کافر کہا ہے – اس غلو آمیز عموم سے ہندوستان میں کوئی بھی مسلمان نہیں رہ سکتا “ ۔

سچی بات  ہےکہ آج غیر جانبدار اور تحقیقی ذوق کے علماء اور مفکرین کی ضرورت ہے تاکہ  ایک طرف عوامی مزاج کےلیے  خاطر خواہ طریقے سے دینی تربیت کا اہتمام  ہو سکے ۔اس کے لیے بریلوی فکر کی اہمیت سے انکار نہیں۔نیز سلاسل تصوف اور بزرگوں کے عقائد و معمولات سے وابستہ افر اد بھی ان سنی بریلویوں سے ہی قربت محسوس کرتے ہیں۔ اور انہی سے ذوقی مناسبت کی وجہ سے فیض اٹھا سکتے ہیں جبکہ  دوسری طرف  وہ طبقات جو شرک و بدعت کے حوالے سے شاہ اسمعیل دہلوی اور انکے اَتباع   کی سی حساسیت رکھتے ہیں  علماء دیوبند کی دینی راہنمائی میں شرک و بدعت کے حوالے سے محتاط روی کو حرزِ جان بنا سکتے ہیں ۔ جیسے بریلوی علماء کے لیے رد دیوبند سے بڑھ کر رد بدعات اور احیائے دین پر کام کرنا زیادہ ضروری ہے وہاں پر دیوبندی علماء کوبھی اس فکر سے نکلنا ہو گا کہ امت کے ایک بڑے طبقہ کے معمولات گویا شرک سے آلودہ ہیں ۔نیز انہیں اپنے آپ کو یزیدی فکر کے فروغ اور خارجیت جدیدہ کے دست و بازو بننے سے رکنا ہوگا۔تاکہ دیوبندی بریلوی مسالک صحیح معنوں میں ذوقی چیز ہی رہیں نہ کہ تکفیر و تضلیل سے اپنا شیرازہ بکھیرتے رہیں۔ مسلک ذوقی ترجیح کی حد تک توشاید قابلِ قبول ہو  لیکن اسے امت میں تشتت و افتراق کی دستاویز کسی صورت  نہیں  بننے دیا جا سکتا۔

 

ذوقی رنگ اور متنوّع اسالیب                                                                    

  دیوبند سے مراد مدرسہ دیوبند اور انکے ہم خیال مدارس اور علمی خانوادے ہیں جبکہ غیر دیوبند اب سارا بریلوی کہلایا جانے لگا ہے اگرچہ بریلوی کی اصطلاح دیوبندی اور وہابی مورخین نے طعنہ آمیزی کے طور پر استعمال کی تاہم اب اسکو دیوبندی بریلی عقائد و معمولات کے عمومی تناظر ميں دیکھا جا نے لگا ہے بریلی اور دیگر سنی خانوادہائے علمی کے مقابلے میں دیوبند  دعوتِ دین، علمی وتحقیقی کام ،شروح کتب احادیث ودرسیات ، مدارس دینیہ کے قیام اور اتباع سنت میں محتاط روی کی بنا پر خاص مقام کا حامل ہے ۔دوسری طرف بریلوی یا غیر دیوبندی  ( فرنگی محل، رامپور، خیر آباد، بدایوں اور بریلی علمی گھرانے) امت کے بڑے طبقے کے ساتھ خیر خواہی ، دینی اقدار کے تحفظ کے لیے ترغیب کو ترہیب پر ترجیح دینا، علماء ہند مثلاً شیخ عبد الحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ایسے بزرگوں کی آراء کو دیگر علماء پر فوقیت ، اثبات عقائد و توضیحِ احکامِ فروعی میں معقولات پر زور جبکہ منقولات پر کم توجہ ، صوفیہ کے عقائد و معمولات کی شرعی توجیہ اور انکے بظاہر غیر محتاط اعمال کی مؤدبانہ حسن تاویل ، مزاجاً خانقاہی نظام سے تمسک و وابستگی کو اہمیت دینا ،  ’کثرت عمل ‘کی بجائے ’حسن عمل ‘ پر نگاہ  ، علمی و تحقیقی کام کی بجائے صدقہ و خیرات اور عوام الناس کے عرف کی رعایت کرتے ہوئے رسوم و رواج میں شراکت  وغیرہ وغیرہ بہت سے اعمال ایسے ہیں جو اس طبقے کی پہچان  ہیں۔

 

طرفین میں معتد ل فکر کے علماء

  بریلوی ذہن کے لیے علماء دیو بند میں مولانا انور شاہ کشمیری،  مولانا مناظر احسن گیلانی ، مفتی کفایت اللہ دہلوی ،مولانا ادریس کاندھلوی ، مفتی محمد حسن امرتسری ، مولانا عبد الرشید نعمانی ، مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی، مفتی تقی عثمانی  وغیرہ اور شاہ عبد القادر رائیپوری،مولانا سید زوار حسین شاہ   صاحب نقشبندی،ابو السعد  مولانا  احمد خان ، حضرت  مولانا اللہ یار خان اور خواجہ خان محمد جیسے مشائخ میں کشش کا بڑا سامان ہے اسی طرح دیوبندی ذہن کے لیے شیخ الاسلام علامہ انواراللہ  فاروقی ،شیخ الدلائل  مولانا عبد الحق الہ آبادی ،  حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ،علامہ مشتاق احمد چشتی  انبیٹھوی،  حضرت خواجہ حسن جان سر ھندی ،  مولانا نور احمد پسروری ثم امرتسری ،حضرت میاں شیر محمد شرقپوری ، خواجہ محمد عمر بیر بلوی ، شیخ الجامعہ علامہ غلام محمد گھوٹوی ، پروفیسر نور بخش توکلی ،   پیر کرم شاہ الازہری، مفتی محمد حسین  نعیمی، مولانا شاہ ابو الحسن زید فاروقی الازہری ، محدث دکن سید عبد اللہ قادری ، مولانا شاہ وجیہ الدین ا حمد خاں رامپوری،قاضی محمد حمید فضلی،  مولانا سعید احمد مجددی، محدث عصر علامہ غلام رسول سعیدی،علامہ سید فاروق القادری  ، مفتی محمد خان قادری اورقاضی عبد الدائم دائم ایسے علماء اور مشائخ کے ہاں کشش کے کئ پہلو ہیں ۔اللہ پاک ہمیں دونوں مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے نوادرات علمی اور اسالیب طریقت سے بہرہ مند فر مائے ۔ اورہمیں مسالک سے بڑھ کر دین سے محبت نصیب فرمائے ۔

About Author

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: