لیڈر شپ کی صنعت- ایک کھلا تضاد

0

لیڈر شپ کے ماہرین ہمیں اکثر بتاتے ہیں کہ لیڈروں کو سچ بولنا چاہئے اور جو دل میں ہو وہی زباں پر لے کر آنا چاہئے۔ ان کی زبان ہمیشہ ان کے دل کی رفیق ہونی چاہئے۔ اِن ماہرین کی نصیحت پر عمل کر کے آپ جیل کی ہوا تو کھا سکتے ہیں لیکن کامیاب لیڈر نہیں بن سکتےہیں۔

کامیاب لیڈر موقع کی نزاکت دیکھ کر اپنا بیانیہ ترتیب دیتے ہیں۔ وہ صرف وہی کہتے ہیں جو عوام سننا چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ووٹ انھیں عوام نے دینے ہیں لیڈر شپ کے گُر بتانے والے ماہرین نے نہیں۔ جب ہم اپنے سرکاری اور نجی اداروں پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں اُن کے سربراہ ایسے اشخاص ملتے ہیں جوخود غرضی کی روشن مثال ہیں۔ اُنہیں اپنا ذاتی مفاد اُتنا ہی عزیز ہے جتنا پروانے کو شمع ہوتی ہے۔ تکبر اُن کی پیشانی کا جُھومر ہے جبکہ لیڈر شپ کے ماہرین ہمیں یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ عجز و انکساری اعلیٰ لیڈروں کا وصف ہے۔

انکساری سے آپ کو وہاں تو جگہ مل سکتی ہے جہاں پر مسجد میں جوتے پڑے ہوتے ہیں لیکن یہ انکساری آپ کے سر پرلیڈر کا تاج نہیں سجا سکتی۔ عاجز و درویش لیڈروں کی کمائی ہر دِن لٹتی ہے۔ اُن کے بچے بھوکے مرتے ہیں لیکن ہمارے لیڈر شپ کے ماہرین اس سب کے باوجود لیڈروں کوتلقین کرتے رہتے ہیں کہ وہ عاجزی و بے غرضی جیسے سُنہری لیڈر شپ کے اُصولوں کو اپنے دِل کی دھڑکن بنا لیں۔

لیڈر شپ کے ماہرین ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ لیڈروں کو خود پس منظرمیں رہنا چاہئے اور اپنی ٹیم کو آگے لانا چاہئے۔ یہ دوا بھی لیڈروں کے لیے زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔ آپ جب پنڈال میں شامیانے اور کُرسیاں لگا رہے ہونگے تو آپ کارقیب سیج پر بیٹھ کرآپ کی محبوبہ کے ساتھ قول و اقرار کر رہا ہو گا۔ ہر کامیاب لیڈراِنعام وصول کرتے وقت سب سے آگے ہوتا ہے اورخدمت کے وقت سب سے پیچھے ہوتا ہے۔

لیڈر شپ کے ماہرین لیڈروں کو اپنے ٹریننگ پروگراموں میں یہ تلقین کرتے ہیں کہ لیڈروں کو اپنے مقتدیوں کے ساتھ شفقت کا برتائوکرنا چاہئے۔ ہم اداروں کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ شفیق افسروں کا کوئی کام نہیں کرتا ہے۔ لوگ انہی افسروں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں جو اپنے ماتحتوں کو خوف کے تازیانے مارتے ہیں۔ اُن کے آگے پیچھے ہٹو بچو کی صدائیں آرہی ہوتی ہیں اور اُن کی آمد پر لوگ خوف سے سہم جاتے ہیں۔ لوگ اُس کے کام کرتے ہیں جس سے وہ خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے تو مذہبی علماء اِنسانوں کو راہِ راست پر رکھنے کے لیے خشیتِ الٰہی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ عذابِ قبر اور دوزخ کی آگ کا خوف ہمارے سارے پَرکاٹ دیتا ہے اور ہم زمین پر رینگنے والے کیڑے بن جاتے ہیں۔

ہمارے لیڈر شپ کے سکہ بند ماہرین لیڈروں کوجھوٹ سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں اورسچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں۔ جھوٹ لیڈر شپ کی سیڑھیاں چڑھنے میں نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایپل کے موجد مرحوم سٹیو جابز کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنا اُلو سیدھا کرنے کیلئے حقیقت کا نہایت حُسن و کمال کے ساتھ حلیہ بگاڑ دیتے تھے۔ اس لیے ہمارے بزنس لیڈرزاور سیاسی لیڈرز بھی متواتر جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ عوام بھی سچ سنُنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پورا سچ کریلے کی طرح کڑوا ہوتا ہے اور اُسے سنتے ساتھ ہی متلی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ موسم بہار کا جو سماں جھوٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ بھیانک صورت سچ کے نصیب میں نہیں ہے۔ سچ سُولی پر چڑھا دیتا ہے جبکہ جھوٹ کمپنی میں سی۔ای ۔او کےسب سے بڑے عہدے پر فائز کر دیتا ہے۔ اہلِ دنیا تو فاتحین کو پھولوں کا ہارپہناتے ہیں، مفتوحین کے تو بس کتبے آویزاں ہوتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: