مردانگی، نسوانیت اور طبلِ جنگ —- شازیہ ظفر

0

دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جسکا اصل مقصد معاشرے کی تعمیر میں عورت کے کردار کو سراھنا اور اسکے حقوق کی بات کرنا ہوتا ہے۔

چند سالوں سےہمارے ملک میں بھی یہ دن زور وشور سے منانے کا رواج شروع ہوا اور مختلف طبقہ ھائے فکر نے اپنے اپنے انداز سے پروگرامز، سیمینارز اور ریلیوں کا انقعاد کرنا شروع کیا جس میں سب سے ذیادہ مقبولیت “عورت مارچ” نے حاصل کی۔ اخلاق باختہ سلوگنز سے مزین یہ عورت مارچ خاصی جلد ہی خاصی متنازعہ شہرت اختیار تو کر گیا لیکن اس عورت مارچ نے خود خواتین کے طبقے کو جو نقصان پہنچایا وہ ناقابلِ تلافی ہے۔

نہ دن منانا غلط اور نہ ہی ریلیاں منقعد کرنا ممنوع۔۔۔ لیکن اگر یہ درست سمت میں ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔۔۔ سمجھنے کی بات ہے کہ حقوق تو ہم خواتین کو الحمدللہ چودہ سو سال پہلے تفویض کیئے جا چکے۔۔۔ آواز بلند کرنی ہے تو معاشرے میں رائج ان حقوق کی پامالی پر کجیئے۔۔ جہاں عورت بحیثت بیوی اور بیٹی جوئے میں ہار دی جاتی ہے اسکے حق میں آواز اٹھایئے۔۔ جہیز نہ ہونے کی بناء پر۔۔اپنے تعلیمی معیار کا رشتہ نہ ملنے پر بیٹھی رہ جاتی ہے۔۔۔ اسکا درد سمجھیئے۔۔۔ کھانا وقت پہ نہ پکانے پر اور گول روٹی نہ بنانے پر زد و کوب کی جاتی ہے اس پر احتجاج کجیئے۔۔۔ حیلے بہانوں ںسے وراثت کے حق سے محروم کی جاتی ہے اس پر علم بغاوت بلند کجیئے۔۔ مشترکہ خاندانی نظام میں جس طرح گھٹ گھٹ کے جیتی ہے، باندی بن کے پورے گھرانے کےہاتھوں ذلت اٹھاتی ہے۔۔ اس غم کے مداوے کا حل ڈھونڈیئے۔۔۔ عین اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشرے کو عورت کا مقام سمجھایئے تو ہر باشعور انسان تائید کرنے کو تیار ہے۔

لیکن اگر چند سو نفسیاتی مریض، اخلاق باختہ عورتیں، عورت کے حقوق کی علمبردار بن کے محزب اخلاق قسم کے سلوگنز اٹھائے احتجاج کرنے نکل کھڑی ہونگی تو وہ تمام شریف اور مہذب طبقہ ہائے فکر جو عورت کے حقوق کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں، اسکی پر زور مذمت کریں گے۔۔۔ نسوانیت کو مذاق نہ بنایئے۔۔

اگر آذادی کا مطلب بے حیائی، بے باکی، بے غیرتی اور مادر پدر آذادی ہے تو وہ آپ ہی کو مبارک۔۔۔ پھر آپ اس آذادی کے حصول کے بعد مردوں سے برابری کے سلوک کے لیے بھی تیار رھیئے۔۔۔ اور تیار رھیئے اس وقت کے لیے کہ جب روڈ پر آپ اپنی گاڑی کسی مرد کی گاڑی سے ٹکرا دیں اور وہ گاڑی سے باہر نکل کر آپ کو گریبان سے پکڑے اور گال پہ تھپڑ جڑ دے۔۔۔ جب کسی دفتر کے باہر لگی لمبی قطار کے ساتھ عورتوں کی کوئی قطار نہ ہو۔۔ اور آپ “برابری سے مردوں کے شانہ بہ شانہ” اس دھکم پیل میں رل رہی ہوں تب تالیاں بجایئے۔۔۔۔ جب آپ گروسری لینے جائیں تب سامان کے بڑے بڑے تھیلے اپنے مرد ڈرائیور سے مت اٹھوائیے بلکہ کاندہے پر یہ بوجھ اٹھا کر خود گاڑی میں ٹھونسیے۔۔۔ اور جب روڈ پہ گاڑی خراب ہوجائے۔۔ تو اپنے مکینک کو “بھائی صاحب گاڑی خراب ہوگئی ہے آپ اس لوکیشن پہ ابھی آسکتے ہیں” کا فون بھی نہ کجیئے۔۔۔ تب بھی “عورت کارڈ” استعمال نہ کیجیئے۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں کتنی ہی ایسی مثالیں دیں جہاں یہ مرد، عورت ہونے کی بناء پر ہماری تکریم کرتے ہیں۔۔ آپ وھاں بھی برابری کی بات کجیئے تو کمال ہے۔۔۔۔ دم خم ہے تو دی جانے والی اس عزت کو حق سمجھ کے وصول کرنے سے انکار کجیئے۔۔۔

اسی عورت مارچ کی بدولت خواتین کے لیے موم بتی مافیا” اور ” لبرل آنٹیوں” کی نئی اصطلاحات وضع ہوگئیں۔۔۔ اب ہر باشعور عورت جو اپنے حق کا ادراک رکھتی ہے۔۔ اسکا تمسخر ان ہی اصطلاحات کے استعمال سے اڑایا جانے لگا ہے۔۔ اس متنازعہ مارچ میں چونکہ براہ راست سارے ہی مردوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا لہذا اس پر مردوں کی جھنجھلاھٹ اور اشتعال بالکل بجا تھا۔۔ انکی جانب سے طنز اور طعنوں نے اچھے بھلے سلجھے مرد و زن کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا۔۔۔ خواتین کو بھی دو طبقوں میں منقسم کر دیا۔۔۔ یعنی ایک تو وہ خواتین جو اس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جو معاشی طور پر مستحکم ہے۔۔۔ کافی مارننگ، کٹی پارٹیز، اپنا کماؤ اپنا کھاؤ اور اپنی زندگی جیو۔۔ شادی کے رشتے بندھ کر بھی کونسا سکھ ملنا ہے۔۔۔ بہتر ہے اکیلے خوش رہو۔۔ بس کسی حال میں کمپرومائز نہیں کرنا۔۔۔ مطلقہ ہونے میں بڑی عافیت ہے۔۔۔ جینا ہے تو اپنے ڈھب سے جیو۔۔۔ مرد ذات کو تو بالکل خاطر میں نہیں لاؤ۔۔۔۔ یہی تو ہیں جنھوں نےہمارے سارے حقوق غصب کر لیے ہیں۔۔ ہمیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں۔۔ لہذا ہمیں ان سے اپنے حقوق چھین لینے تک چین سے نہیں بیٹھنا ہے۔۔۔۔

دوسرا طبقہ ان خواتین پر مشتمل ہے جو بالکل بے بس اور کمزور ہے۔۔۔ یہ خواتین نہ صرف مردوں کے مظالم سہہ رہی ہیں بلکہ اپنی ہی صنف کی طاقتور خواتین کے ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔۔۔۔ ان مظلوم اور محکوم خواتین کو اپنے جائز حقوق کا بھی ادراک نہیں ہے۔۔ آج بھیہمارے معاشرے میں اگر کہیں بوقت نکاح کوئی سولہ سالہ بچی ساٹھ سال کے بوڑہے سے بیاہ کرنے پر معترض ہو تو وہ اس بچی کی ماں ہی ہوتی ہے جو اپنے آنسو پیتے ہوئے بچی کا سر اقرار میں ھلا کر ایجاب وقبول کا فریضہ انجام دیتی ہے اور یہ خود ہی فرض کر لیا جاتا ہے کہ شریف اور باکردار بچیاں باپ بھائیوں کے فیصلے سے اختلاف نہیں کرتیں۔۔۔ بس جو کچھ گھر کے مردوں نے کہہ دیا اس پر آمنا صدقنا کرنا عورت کا فرض ہے۔۔۔ یہ سراسر ظلم اور جبر ہے۔۔۔ عورت کے ساتھ ذیادتی ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اس طبقے کی عورت کو خود اپنے جائز حقوق کا علم ہی نہیں۔۔۔

خواتین کے یہ دونوں طبقات دونوں انتہاؤں پر ہیں۔۔۔۔ ایک وہ جسے اتنی آزادی چاہیئے کہ جسے عرف عام میں مادر پدر آذادی ہی کہا جاسکتا ہے۔۔۔ اور دوسرا وہ طبقہ جو بالکل ہی محکوم اور ہر طرح سے مظلوم ہے۔۔۔

مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قضیے میں خواتین کا تیسرا طبقہ کہاں ہے؟ وہ درمیانی طبقہ جو بہت باشعور اور متوازن ہے۔۔۔ ہم آپسی جھگڑوں میں ان خواتین کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں جو مردوں سے کوئی حقوق چھیننا نہیں چاھتیں۔۔ وہ تو بس دین کی تعلیمات کی روشنی میں عورت کو دیئے گئے تمام حقوق کا اجراء چاھتی ہیں۔۔۔ سسکتی، بلکتی، روتی، پسی ہوئی محکوم عورت کا سہارا بن کر اسے معاشرے میں باعزت مقام دلانا چاہتی ہیں۔

اور بعینہ اسی طرح ہمارے معاشرے میں باشعور، سلجھے ہوئے اور عاقل مردوں کی بھی کمی نہیں ہے۔۔۔۔ یقیناً آج کا ہر فہم اور ادراک رکھنے والا مرد بھی یہی چاھتا ہے۔۔۔تبھی تو وہ آج بھی بحیثیت بیٹا اپنی ماں کی پرورش اور تربیت پر نازاں ہے۔۔۔ اگر کہیں کوئی ظالم باپ اپنی بیوی کو زرخرید لونڈی سمجھ کر ذدوکوب کرے تو وہ ایک بیٹا ہی ہوتا ہے جو ماں کی ڈھال بن کے باپ کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اب آپ امی پر یہ ظلم روا نہیں رکھ سکتے کیونکہ میں یہ ذیادتی برداشت نہیں کرونگا۔۔۔

کیا آج کا مرد۔۔ شفیق باپ اپنی بیٹی کے لاڈ نہیں اٹھاتا؟ اسے زمانے کے سرد وگرم سے محفوظ رکھنے کی حتی الوسع کوشش نہیں کرتا۔۔۔ کیا یہ سوچ کر بچی کے سارے شوق پورے نہیں کرتا کہ یہ چڑیاں ہی تو اسکے آنگن کی رونق ہیں۔۔جنہیں بھرپور اعتماد اور بہترین تربیت دینا بحیثیت باپ اسکا فرض ہے۔۔کیا انکو انکو چہچہاتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔۔۔ انہیں اپنی بھرپور شفقت نہیں دیتا؟

کیا آج کا مرد بحیثت بھائی اہنی بہن کی تکریم نہیں کرتا۔۔ کیا آج بھی ہمارے گھروں میں بھائی بہنوں کو آدھی رات کو بھی بازار سے کچھ لانے کی بہن کی فرمائشیں پوری نہیں کرتے۔۔۔ انکے لاڈ نہیں اٹھاتے اور اپنی لاڈلی بہن کو اپنا بھرپور ساتھ اور اعتماد نہیں دیتے۔۔۔ کیا ماں کو یہ کہہ کر نہیں سوتے کہ صبح میں بہن کو اسکے تعلیمی ادارے، دفتر، یا کالج چھوڑ دوں کا اسے پبلک ٹرانسپورٹ سے مت جانے دیجیئے گا۔۔۔ بہن کو پریشانیوں سے نہیں بچاتے؟

کیا آج کا مرد اپنی بیوی کا قدردان نہیں ہے؟ کیسے اس ہوش ربا مہنگائی میں اسکی بیوی اسکی کمائی کو سلیقے سے برت کر اسکے شانہ بشانہ گھر سنبھال رہی ہے۔۔۔ یا ملازمت کر کے اسکا ھاتھ بٹا رہی ہے۔۔۔مالی معاونت کر رہی ہے۔۔۔ ہر دو صورتوں میں شوہر سے بھرپور تعاون اور اسکی دلجوئی کر رہی ہے۔۔۔ اسے اپنی بھرپور رفاقت کا اعتماد دے رہی ہے۔۔۔

کیا آج بھی ہمارے معاشرے میں ہم خواتین کے اردگرد موجود مرد حضرات عورت کے تقدس کا خیال نہیں رکھتے۔۔۔ ہماری عزت نہیں کرتے؟ ہر ہر جگہ جہاں ہم خواتین مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں تب یہ مرد ہی ہوتے ہیں جو ہماری ڈھال بن کر ہماری حفاظت کرتے اور ہمارے مدد کو آتے ہیں۔۔ پوری شائستگی اور احترام کے ساتھ بے غرض ہو کے ہماری مشکلات حل کرتے ہیں۔۔۔

تو پھر کیوں مرد وزن میں محاذآرائی کی فضا قائم ہے۔۔۔ معاشرے کے متوازن خواتین اور حضرات ایک دوسرے کو زچ کرنے میں سرگرم کیوں ہیں۔۔۔ کیوں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ عورت دھونس اور زبردستی سے غیر ضروری شور مچا کر ناجائز حق مانگ رہی ہے۔۔۔۔ آخر یہ کیوں نہیں سمجھا جا رھا کہ عورت تو صرف اپنے جائز حقوق کو تسلیم کروانے کی کوشش میں آواز بلند کرنا چاھتی ہے۔

بالکل اسی طرح دوسری جانب یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ معاشرے میں موجود ہر مرد ہی ہوس کا بچاری بنا ایک بھیانک عفریت کی طرح عورت کو دبوچنے پر تیار بیٹھا ہے۔۔۔ڈنڈا اٹھائے اپنی حاکمیت منوانے پر تلا ہوا ہے اور ہر مرد ہی عورت کو پیر کی جوتی سمجھ رھا ہے۔۔۔

دراصل ہر دوجانب یعنی دونوں اصناف میں ایک دوسرے کے لیے برداشت کا اور عزت و احترام کا فقدان ہو گیا ہے۔۔۔ دونوں حقوق منوانا تو چاھتے ہیں مگر اپنے اپنے فرائض پہچاننا ہی نہیں چاھتے۔۔۔ جب تک مرد وزن ایک دوسرے کے حقوق تسلیم کرنے اور عزت دینے سے انکاری رہیں گے یہ طبل جنگ بجتا ہی رہے گا۔۔۔تسلیم کر لیجیئے کے مرد قوی ہیں۔۔۔ ہمارے نگہبان اور محافظ ہیں۔۔۔ مگر ساتھ یہ بھی جان لیجیئے کہ رب کریم نے عورت کو اجر اور ثواب میں مرد کے مساوی ہی رکھا ہے۔۔۔ اس معاملے میں عورت کو پورے وقار کے ساتھ برابری عطا کی گئی ہے۔۔۔۔ یہ بھی تسلیم کر لیجیئے کہ عورت ہی ہے جو آپ کے مکان کو گھر بناتی ہے۔۔ جس کے پیروں تلے آپکی اور آپکی اولاد کی جنت رکھ دی گئی ہے۔۔۔۔ جب تک آپ اس کی قدر نہیں پہچانیں گے۔۔ گھر کا سکون حاصل نہیں کریں پائیں گے۔۔۔ جب تک یہ نہیں سمجھیں گے کے گھر کا سکون اور عورت کی تربیت ایک صحت مند اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے تب تک معاشرہ تنزلی کی جانب ہی گامزن رہے گا۔۔۔۔۔ جس عورت کی عزت آپ اپنے گھر کی چار دیواری میں کرتے ہیں۔۔۔ وہی عزت۔۔ وہی تقدس۔۔۔ وہی احترام گھر کے باہر معاشرے کی ہر عورت کو دینے لگیں تو یہ عدم توازن پیدا ہی نہ ہو۔۔۔

ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کے لیے دونوں فریقین کو دل کشادہ کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ طبل جنگ بجانے کے بجائے امن کے سفید جھنڈے لہرایئے اور مل کر معاشرے میں سدھار لایئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20