مرد مارچ: عورت اور ایجنڈا سیٹنگ والے جیت گئے آخر ——– خرم شہزاد

0

سوشل میڈیا اور آن لائن دنیا میں جینے والے اگر بھیڑ چال کا شکار نہ ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کسی کے منہ کو لال دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار کر لال کرنے والے کو گزرے زمانوں میں بیوقوف کہا جاتا تھا لیکن آج ریٹنگ کے لیے اپنا منہ ہی نہیں تشریف بھی لال کرنی پڑ جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا۔

پچھلے ایک دو سال میں ہونے والے عورت آزادی مارچ پر میڈیا خاص کر سوشل میڈیا کی توجہ نے بہت سے لوگوں کو جینے کا ایک نیا جہاں دیا۔ جس کی وجہ سے اس سال ایک عدد مرد مارچ کی تیاریوں کی بابت بی سننے میں آرہا ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا اور بریکنگ نیوز کی دنیا سے باہر سانس لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو سوچیں کہ پچھلے سال ہونے والے عورت آزادی مارچ پر ہمارے ہاں عمومی رائے کیا تھی؟ کیا ہم بڑی حد تک اس بات پر قائل نہیں تھے کہ عورت مارچ میں اٹھانے جانے والے بیشتر پلے کارڈز پر لکھے مطالبات کا ہمارے معاشرے سے کوئی تعلق نہیں؟ کیا ہمیں یہ یقین نہیں تھا کہ یہ ہمارے معاشرے کی عورت کے مسائل نہیں ہیں بلکہ اپر کلاس کے ہلا گلا اور چند این جی اوز کا اپنے فنڈز کو حلال کرنے کا ایک طریقہ ہے؟ کیا ہم نے ان لوگوں کو موم بتی مافیا کہہ کر رد نہیں کر دیا تھا؟ کیا بہت سی خواتین نے عورت مارچ کی خواتین کے خلاف پردہ، حجاب اور رشتوں کے تقدس کے حوالے سے جوابی پلے کارڈ ز نہیں اٹھائے تھے؟ کیا پلے کارڈز کی زبان کو ہم نے غیر اخلاقی، غیر معاشرتی قرار نہیں دیا تھا؟ کیا عورت مارچ کے مطالبات کے جواب میں بہت سے لوگوں نے عورتوں کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ان پر بات کرنے کی دعوت نہیں دی تھی؟

پوری ایمانداری سے ایک سال پہلے کے عورت مارچ کو اپنے ذہن میں دہرائیں تو آپ بجا طور پر مانیں گے کہ ہم نے دو تین درجن خواتین کے اس مارچ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ہمارا یہ یقین تھا کہ ان چند خواتین کے باہر نکلنے سے ہمارے معاشرے کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ سب خواتین بھی شام تک گھوم پھر کر تھک ہار کر گھروں کو لوٹ جائیں گی۔ یہ بات اگرچہ غور طلب ہے کہ عورت مارچ کے پلے کارڈز کی زبان کچھ اور تھی لیکن پھر بھی عمومی صورت حال میں جب بھی خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو خواتین سب سے پہلے عزت و احترام کی بات کرتی ہیں۔ خواتین کا یہ ماننا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہیں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ خواتین کی عزت نہ ہونا ہے۔ انہیں کہیں بھی کوئی بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، جس کی وجہ سے بہت سے خواتین نے گھروں سے نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ جو خواتین اپنی پڑھائی یا کسی مجبوری کی وجہ سے باہر نکلتی ہیں انہیں معاشرے کے مردوں کی طرف سے بہت کچھ محسوس اور غیر محسوس طریقے سے سہنا پڑتا ہے۔

معاشرت اور اخلاقیات کی وجہ سے ایک اور گفتگو بھی شروع ہوئی کہ آخر عورت مارچ کی خواتین کے مطالبات کن کے لیے تھے؟ کیا ایک بہن اپنے بھائی کو کہہ رہی تھی کہ ’لو میں بیٹھ گئی‘۔ کوئی بیوی اپنے شوہر کو بتا رہی تھی کہ میرا جسم میری مرضی اور اپنا کھانا خود گرم کرو یا پھر ایک بیٹی اپنے والد کو کہہ رہی تھی کہ اپنے موزے خود تلاش کرو؟ یہ ایسے سوالات تھے جن کے جواب کسی کے پاس نہیں تھے، شائد مارچ میں شریک پلے کارڈز اٹھائی خواتین کے پاس بھی ان سوالات کے جواب نہیں تھے کہ ان کے مطالبے معاشرے کے کس فرد کے لیے ہیں؟

اس پوری صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب ہم حال میں آتے ہیں اور زور و شور سے مرد مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ میں یہ نہیں پوچھتا کہ مرد مارچ میں مرد حضرات کون سے پلے کارڈز اٹھائیں گے اور ان کے مطالبات کیا ہوں گے کیونکہ وہ جو بھی پلے کارڈز ہوں گے کم از کم ہمارے مشرقی معاشرے کی غیرت کا بے وضو جنازہ ضرور ہوں گے۔ جس طرح عورت مارچ میں گھٹیا پلے کارڈز اٹھانے والی خواتین کو برے الفاظ میں یاد کیا جاتا تھا، مجھے امید ہے کہ مرد مارچ میں بہت سے پلے کارڈز اٹھانے والے کم از کم ایسے نہیں ہوں گے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ آخر مرد مارچ میں شریک مردوں کے مطالبات کن کے لیے ہیں؟ کیا یہ مطالبات کسی بھائی کی طرف سے اس کی بہن کے لیے ہوں گے یاں ایک باپ کے اپنی بیٹی کے لیے جذبات ہوں گے؟ کیا ایک شوہر گھر میں بیوی سے بات کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تو اب مارچ میں شریک ہو کر پلے کارڈ اٹھائے اپنی بیوی کو کچھ بتانے کی کوشش کر رہا ہوگا اور کیا وہ شوہر دوسرے لوگوں کو اپنی خانگی زندگی میں جھانکنے اور سوچنے کی وجہ دے گا؟ یا پھر ہو سکتا ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں سے کچھ کہنا چاہتا ہو؟

بہر حال مرد بھی عورتوں کی طرح مارچ کر کے دیکھ لیں لیکن وہ شخص جو اس معاشرے میں آج بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس سے گزارش ہے کہ وہ اس مارچ میں شریک ہونے والوں سے یہ سوال ضرور کرئے کہ آپ کا مطالبہ کس رشتے سے ہے؟ بھلے حل پوچھنے کی ضرورت نہیں لیکن شریک شخص کس رشتے سے مخاطب ہے یہ جاننا بہت ضروری ہے؟ مجھے اتنا اندازہ ہے کہ یہ مارچ عورتوں کی ایک تاریخی جیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور برسوں سے اس معاشرے کی عورت جس عزت کی کمی کی نشاندہی کر رہی تھی اب ان باتوں کو باتصویر بیان کرئے گی۔ اب عورت مارچ کی پرجوش شرکا اسپیکر پھاڑ شور میں بتائیں گی کہ دیکھ لو اس معاشرے کے مرد کی سوچ کیا ہے تمہارے لیے؟ اس معاشرے کا مرد بھلے کتنا ہی اچھا بننے کی اداکاری کرتا ہو لیکن چوٹ کے جواب میں اصلیت ضرور دیکھا دیتا ہے اور مرد مارچ اس کی اسی اصلیت کا ایک ثبوت ہے۔ جس کے بعد مرد حضرات نہایت عاجزی سے بہت سے پلے کارڈز کی تصویریں بھی دیکھائیں گے جن پر ان کی غربت اور مسکینی کا ذکر ہو گا لیکن پھر بھلا کون سنتا ہے؟

اور اس سب سے پرے ہمارے معاشرے میں موجود غیر ملکی ایجنڈا سیٹنگ کے ماہر ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہوں گے کہ ذرا سی محنت سے وہ معاشرے کے مردوزن کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ وہ مردوزن جو مشرقی معاشروں میں ایک دوسرے کی عزت، مان، سمان سمیت بہت کچھ ہوا کرتے تھے وہ اب ایک دوسرے کے مقابل کھڑے وہ باتیں کر رہے ہیں جن کا دونوں کی زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں۔

مرد مارچ پر خواتین اور ایجنڈا سیٹنگ والوں کو ایڈوانس مبارک باد جبکہ معاشرے کی گرتی ہوئی دیوار کومردوں کی طرف سے ایک دھکا اور نصیب ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: حقوق نسواں کی آڑ میں تخریب کاریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مریم عرفان

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20