احمقوں کی جنت سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے ——– محمد نعمان کاکا خیل

0

دنیا میں مختلف قسم کے معاشی نظام رائج ہیں اور اپنا معاشی نظام نافذ کرنے کا ملاکھڑا ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ مذہبی نظریات اور قومیت سے ہٹ کر ممالک کے درمیان جنگیں لڑی گئیں جو بنیادی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی آپس میں جنگیں تھیں لیکن ان جنگوں کے میدان ترقی پذیر ممالک بنے۔ ہمارے ہاں ان جنگوں میں سے ایک مثال روس اور امریکہ کی جنگ ہے جو افغانستان کی سرزمین پر لڑی گئی اور کئی ترقی پذیر ممالک اس کے اندر کسی ایک بڑے ٹولے کا آلہ کار بنے۔ اس جنگ کی وجہ بھی نظام ہی تھے کیوں کہ روس اور امریکہ کی جنگ مذہبی یا نظریاتی بنیاد پر نہیں تھی جیسا کہ دونوں ممالک کا مذہب کم و بیش عیسائیت ہے۔

دنیا کے اندر دو بڑے نظام رائج ہیں جو ہمارے سامنے کمیونزم (اشتراکیت) اور کیپیٹلزم (سرمایہ دارانہ نظام) کی شکل میں موجود ہیں۔ ان بڑے نظاموں کے ناخدا کرۂ ارض پر موجود بڑے ممالک کے سربراہان ہیں۔ چھوٹے ممالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ان دوبڑے نظاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ ہمارےہاں بھی سرمایہ دارانہ نظام کو اپنایا گیا اور اگر حقیقت کی دنیا میں رہا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنا کوئی نظام متعارف کرا سکیں جس کی وجہ ہماری بین القوامی مجبوریاں، ہمارا محل وقوع اور ہمارےحالات ہیں جن کا مفصل جائزہ مضمون کا مطلوب و مقصود نہیں ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ہر دور میں عوام کو انقلاب کے چھیچھڑے دکھائے گئے جس کے ذریعے اقتدار تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکا۔ قسم قسم کے نعرے لگائے گئے، عہد و پیماں کئے گئے اور اقتدار میں آنے کے بعد قسم قسم کے عذر اور مجبوریاں پیش کی گئیں۔ کہیں پر روٹی کپڑا اور مکان کا نعر لگا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے۔

ماضی قریب میں انقلاب کا ایک اور نعرہ لگا اور فرانس کے وزراء کی سادگی کی مثالیں دے کر نوے دن میں تبدیلی، گورنر ہاؤسز کو سیرگاہ یا عجائب گھر میں تبدیل کرنے اور عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کے وعدے کئے گئے اور عوام ایک مرتبہ پھر اس کا شکار دکھائی دئے جس کی وجہ شائد عمومی شعورکا فقدان، بین القوامی منظر نامے سے قطع نظر یا جذباتی لگاؤ تھا جو عقل و شعور پر حاوی رہا۔ مگربد قسمتی سے اقتدار میں آنے کے بعد وہی مجبوریاں، رونا دھونا اور حسب روایت خزانہ خالی ہونے کی شکایتیں پروگرامات، تقاریراور مجالس کا حسن بنتی رہیں۔ اس سارے تناظر میں دلچسپ بات یہ رہی کہ سرمایہ داروں کی موجودہ مقتدر پارٹی میں شمولیت کے بعد ہی تقریباً بائیس برس بعد ان کے اقتدار کے حصول کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔

اہل قلم نے جب بھی اصلاحات کے لئے مثبت تنقید کی راہ اپنائی تو ذاتی حملوں اور عوامی غیض و غضب کا شکار بنے کیوں کہ جذباتی ماحول میں عقل سے کام لینے کی بات کرنے پر ان مظاہر اوررویوں سے کوئی بعیدنہیں۔

جب بھی تنقید کی گئی تو سوال ہوا کہ اگر انقلاب ممکن نہیں تو پھر کیا کیا جا ئے؟ مضمون کے شروع میں بین القوامی منظر نامے اور دو بڑے نظاموں کا ذکر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ حقیقت کے دنیا میں رہتے ہوئے اگر سرمایہ دارانہ نظام کوگلے لگا ہی لیا ہے تو اب اس میں اصلاحات کی کوشش کرنی چاہئے نا کہ احمقوں کی جنت میں بسیرا کیا جائے۔ یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ اس ملک کو چلانے والےسرمایہ دار ہی رہیں گے کیوں کہ عام آدمی یا مڈل کلاس کا کوئی ذہین وفتین شخص اپنے علاقے میں انتخابات کے جلسوں کا ایک وقت کا کھانا بھی برداشت نہیں کر سکتا اور یہی حقیقت ہے۔ لہٰذا ان حالات میں جیب میں ایک لاکھ روپے رکھنے والے سرمایہ دار کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کچھ مہینے جیل میں گزارنے والا یہی سرمایہ کار کیس جیت کر دھلا ہوا نکل آتا ہے اور مزید تگڑہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذاایسی اصلاحات کی ضرورت ہے کہ سرمایہ دار طبقے کو ساتھ ملایا جائے اور اس بات کا پابند بنایا جائے کہ بے شک اقتدار میں وہ ہی رہے لیکن کم از کام عام آدمی کی زندگی کو آسان بنائے اورملکی عزت و ناموس کو اپنے آگے رکھ کر ملکی تقدیر کے فیصلے کریں۔ اگر مقتدر جماعت اپنی پارٹی کے لئے سرمایہ داروں کو پسند کر کے، ان کا انتخاب کر کے وزارتوں سے لیس کرسکتی ہے تو باقی سرمایہ دارو کو مین اسٹریم میں لانے کی بجائے ان پر یہ کریک ڈاؤن کیوں! کیا پارٹی کی ترقی کے لئے سرمایہ دار نا گزیر ہے لیکن ملکی ترقی کے لئے مہلک!!

وقت آ گیا ہے کہ ہم احمقوں کی جنت اور ذاتی انا اور پسند نا پسند کو ایک طرف رکھ کر ملک اور قوم کی ترقی کا سوچیں اور قابل عمل حل اور تجاویز کو عملی جامہ پہنائیں۔


محمد نعمان کاکا خیل کینگ نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا میں بطور پوسٹ ڈاکریٹ ریسرچر کے طور پر کام کر رہے ہیں جب کہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20