تکون کی چوتھی جہت ——– خرم سہیل

0

کتابوں پر تبصرے
ملکی اور عالمی کتابوں پر غیر روایتی تبصروں کا سنجیدہ سلسلہ
’دانش‘ پر کتابوں کے تبصروں کا یہ سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ خرم سہیل اپنے اسلوب اور مشاہدے سے صرف ایسی کتابوں پر ہی تبصرے کیا کریں گے، جن کے مطالعہ سے زندگی میں کچھ شامل کیا جاسکتا ہے۔ صرف پڑھ لینے سے کچھ نہیں ہوتا، اس کا دل میں اُتر جانا، سمو جانا، جذب ہو جانا بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں قارئین کو نئی اور پرانی، ملکی اور عالمی، فکشن اور نان فکشن سمیت منفرد کتابوں کے غیر روایتی تبصرے پڑھنے کو ملیں گے، جن کو پڑھنے سے دل کو توانائی اور دماغ کو روشنی میسر آئے۔ قارئین، مصنف کے ای میل پر اپنی رائے اور تجاویز دے سکتے ہیں۔


یہ کتاب ایک ایسے مصنف کی ہے، جو صرف ادیب ہی نہیں بلکہ کہنہ مشق صحافی بھی ہے، جس کی انگلیوں پر مشاہدہ، مجاہدہ اور تجزیہ نقش ہے۔ ان باتوں سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے، وہ ایک ایسا تخلیق کار ہے، جس کی نشست و برخاست میں ادبیت رچی بسی ہے۔ یہی وجہ ہے، اس کے دونوں ناولٹ پر مبنی یہ کتاب ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ اشاعت کے پہلے ہی سال میں دو مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں ہر وقت کتاب فروخت نہ ہونے اور نہ پڑھے جانے کا رونا رویا جاتا ہو، وہاں نئے ادیب کی کتاب کا اس قدر تیزی سے فروخت ہونا مجموعی طور پر مندرجہ بالا تاثر کی نفی کرتا ہے، یہی اقبال خورشید کی پہلی کامیابی ہے۔

اس کتاب کی دوسری اشاعت تک آتے آتے قارئین اور تخلیق کاروں نے’’پوت کے پائوں پالنے میں‘‘ ہونے کی نوید بھی دی ہے۔ چاہے دورِ حاضر کے نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ ہوں یا چاہے زیرک ناول نگار حسن منظر اور یا پھر پڑوسی ملک سے اردو ناول و تنقید کی روشن علامت سمجھنے جانے والے شمس الرحمن فاروقی ہوں، دیگر سب نے بھی اس تخلیق کے تازہ ہونے کی گواہی دی ہے اور ناولٹ کی دونوں کہانیوں، ان کے کرداروں، زبان و بیان، منظر کشی، قصے کی جاذبیت اور دلکشی کو محسوس کیا ہے۔

بنیادی طور پر یہ دونوں کہانیاں ’’تکون کی چوتھی جہت‘‘ اور ’’گرد کا طوفان‘‘ کا متن یہ بتاتا ہے، ان کہانیوں کو مصنف نے بہت اچھی طرح جما کر لکھا ہے۔ پہلی کہانی، جس کے نام پر کتاب کا مرکزی عنوان بھی ہے، اس میں تین کرداروں کی کہانی بیان ہوئی ہے، جن کو صفت کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے تو ایک باوفا شوہر دوسری روایتی بیوی اور تیسرا سچا عاشق ہے۔ تینوں کے درمیان حالات کے ہاتھوں جو کچھ گزر چکا اور پھر جو کچھ پلٹ رہا ہے، اس کی بابت سب کچھ بیان کیا ہے۔ وہ جو شاید کھو چکا یا شاید پھر وہ جو کھو جائے گا، ایسے احساس کو بھی ہم اس تکون کی چوتھی جہت کہہ سکتے ہیں، جس کے پس منظر میں ملکی حالات، دہشت گردی کی قبیح شکل اور معاشرتی بیانیہ بھی موجود ہے۔ یہ کہانی کن احساسات سے مخمور ہے، اس کے لیے قاری کو خود مطالعہ کرنا ہوگا۔ اس کہانی میں ہر کوئی اپنی اپنی تکون کی چوتھی جہت بھی دریافت کرسکتا ہے۔

دوسری کہانی ’’گرد کا طوفان‘‘ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی وہ کہانی ہے، جس کو ابھی کئی بار لکھا جائے گا، اس کہانی کو ایک پہلو سے اقبال خورشید نے لکھ دیا ہے کیونکہ وہ خود اس کہانی کے راوی ہیں، کراچی میں رہنے والا ہر فرد اس کہانی کا راوی ہے، ایک ایسا شہر جو پورے ملک کی آنکھوں کے سامنے کئی دہائیوں تک پستول کی نوک پر اغوا کیا جاتا رہا۔ اس کے وسیع منظر نامے کے پیچھے، زیریں کیا کچھ کتنا شفاف اور گدلا تھا، یہ کہانی اُسی اَن کہی کو بتاتی ہے۔

اس کہانی کے کرداروں کو پہچاننے میں کوئی مشکل نہیں ہے، صرف کراچی کے درد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور کراچی کی اغواشدہ دہائیوں کی تاریخ سے واقفیت کی بھی، بالخصوص ان دنوں کے بارے میں شناسا ہونے کی، جب یہ شہر، پورے کا پورا شہر صرف پندرہ منٹ میں اسی طرح پستول کی نوک پر بند کروا دیا جاتا تھا۔ گزشتہ دنوں اسی رنگ میں رنگی ایک کہانی پر ’’لال کبوتر‘‘ فلم بنی، اِن دنوں ایسے ہی احساس کو لیے ایک اور فلم ’’ونس اپان آٹائم اِن کراچی‘‘ بن رہی ہے۔ مستقبل میں کسی فلم ساز کو اس موضوع پر کہانی چاہیے تو یہ کہانی اسی کے لیے لکھی گئی ہے۔ ایک ایسی کہانی، جس میں پوری فلم متحرک ہے، بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔

اقبال خورشید کی اس کتاب کا شمار ان کتابوں میں ہوتا ہے، جن کو خریدنے کے بعد شیلف میں سجایا نہیں جاتا بلکہ پڑھنے کے لیے دلچسپی کا تعویذ ذہن میں پہن لیا جاتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اردو ادب کے روشن مستقبل کی نوید قائم ہے۔ یہ دونوں ناولٹ روشن گواہی کے طور پرعصری ادب کے اُفق پر چمک رہے ہیں۔ اس مصنف نے یہ دونوں ناولٹ پہلے اپنے مشاہدے کے قلم سے اختراع کیے، پھر اپنی مخصوص ادبی نثر میں انہیں قلم بند کیا، پھر خود ہی چھاپ بھی دیے اور اب پورا ملک انہیں پڑھ رہا ہے۔ اس کو یقین کی فتح کہتے ہیں۔

اس کامیابی پر اقبال خورشید بطور مصنف اور ناشر مبارک باد کے مستحق ہیں، انہوں نے اپنی ادبی حساسیت کو ٹھیک طور سے برتا، کسی کمرشل ادبی نیم حکیم اور سینئر نامی مخلوق کے ہتھے نہیں چڑھے بلکہ کمال مہارت سے مہنگے برگر اور پیزا کھانے والے معاشرے میں اپنے حصے کے وہ قارئین تلاش کیے، جنہیں مفت کتاب حاصل کی کرنے کی کوئی خواہش نہیں، وہ اس کتاب کو خرید کر اس مصنف کو اپنے حصے کا خراج پیش کر رہے ہیں۔ میری تجویز ہے یہ کتاب ضرور پڑھیے تاکہ آپ کو یہ اندازہ ہوسکے، ہم نے صرف زبانی جمع خرچ نہیں کیا، بلکہ کتاب واقعی پڑھے جانے کے لائق ہے۔ ایک دو اقتباس یہاں دے رہا ہوں، پڑھ کر دیکھیں اور اس تخلیق کی حدت کو محسوس کریں۔ ۔ ۔

’’میں اسے سنتا رہتا ہوں۔ اگرچہ اُس کی کہانیوں میں دھماکے نہیں۔ خون نہیں۔ کٹے ہوئے اعضا نہیں۔ گریہ کرتی عورتیں اور دم توڑتے بچے نہیں۔ اس کے باوجود مجھے وہ مانوس لگتی ہیں۔ سوچتا ہوں؛ اگر میں نے اس کی زندگی جی ہوتی، تو کیا میں بھی اس جیسی کہانیاں سناتا؟ پھر سوچتا ہوں؛ اگر وہ میری زندگی گزارتا، تب کیا مجھ سا سامع بن جاتا؟‘‘

یا پھر ایک اور اقتباس، کہانی کی لفظیات میں کیا نرماہٹ اور رومان ہے۔ ۔ ۔

’’جیپ ایک جھٹکے سے رُک گئی۔ کھڑکی پر دستک ہوئی۔ میں نے شیشہ نیچے کیا۔ برفیلی ہوا اندر داخل ہوئی۔ دوسری طرف گرتی، برف کے درمیان، ڈوبتی روشنی میں، چہرہ ڈھانپے ایک شخص کھڑا تھا۔ کہیں دور، کسی پرندے کے پر پھڑ پھڑائے۔ ‘‘


Seen by Khurram Sohail at 1:19 AM

پیشے کے اعتبارر سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب  و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com
خرم سہیل کی دیگر تحاریر اور تبصروں کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے http://daanish.pk/author/khurram
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20