وصالِ یار ——– محمد اویس حیدر‎

0

فیضی اس کائنات میں رہتے ہوئے دراصل کسی اور ہی کائنات کا باسی تھا۔ جب رات کی کالی چادر دن کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر کے پھیل جاتی تو فیضی کی آنکھیں کسی چراغ کی مانند سلگنے لگتیں۔ پھر ان چراغوں کی روشنی میں وہ اپنی اس کائنات میں جا پہنچتا جہاں کا وہ باسی تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ دن میں سوٹڈ بوٹڈ نظر آنے والے فیضی کا جسم رات کی تنہائی میں داخل ہوتے ہی کس طرح خود کو پیوند لگے رنگ برنگے پیراہن سے ڈھانپ لیتا ہے۔ پھر اس کی آنکھیں چراغوں کی لو کی مانند سلگنے لگتیں ہیں اور دل ” منم عاشقم “ کی صدائیں لگانے لگتا ہے جو آخر میں ” ھُو “ کی وادی میں فنا ہو جاتیں۔ اس طرح جسم سے آواز تک ہر شہ اپنا وجود کھو بیٹھتی۔

سیمی فیضی کے ساتھ ہی ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں کام کرتی تھی۔ سیمی کافی ماڈرن سوچ کی حامل تھی جو زمانے کی جدت کے ساتھ رہنا پسند کرتی تھی وہ خود کو وقت کے ہم آہنگ سمجھتی تھی یا کم از کم خود کا وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ثابت کرنا چاہتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا ایک ریس کی مانند ہے جس میں پیچھے رہ جانے والے کو لوگ پیروں تلے روند کر آگے نکل جاتے ہیں۔ اسی سوچ کو لے کر وہ جدت کی بھرپور حامی تھی اسی لیے اسے زندہ دل لوگوں میں رہنا موج مستی کرنا بےحد پسند تھا۔

دونوں ایک ساتھ ایک دفتر میں کام کرتے تھے لیکن دونوں کے شعبے الگ الگ تھے۔ سیمی کا تعلق مارکیٹنگ کے شعبے سے تھا جبکہ فیضی آئی ٹی کے شعبے سے منسلک تھا لیکن اس کے باوجود دونوں کا کئی بار آمنا سامنا ہوتا۔ جب بھی سیمی کے پاس موجود کمپیوٹر میں کوئی مسئلہ آتا تو وہ فوراََ فیضی کو یاد کرتی اس طرح دونوں کے درمیان متعدد بار باتوں کا تبادلہ ہوتا۔ سیمی فیضی کو ایک اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن اسے لگتا تھا کہ فیضی نے اپنی زندگی کو ایک مقام پر روک لیا ہے۔ وہ وقت کے ہم آہنگ ہو کر آگے نہیں بڑھ رہا اور یہی بات وہ کئی بار فیضی کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتی لیکن فیضی کی تو اپنی دنیا تھی۔ جہاں اس کی دھڑکنیں کائنات کے ساتھ ہم آہنگ تھیں۔ وہ آفس میں موجود باقی تمام افراد سے اسی لیے الگ تھا لیکن اس کا یوں الگ تھلگ ہونا ہی سیمی کے لیے کشش کا باعث بھی تھا۔ سیمی جب بھی فیضی کی آنکھوں میں جھانکتی تو اس کے جسم میں جھرجھری سی دوڑ جاتی، لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے یہ سیمی خود بھی نہیں جانتی تھی کیونکہ احساس ابھی معلوم کے شعور میں نہیں ڈھلا تھا۔

فیضی کو سیمی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی، وہ اسے دفتر میں موجود باقی لڑکیوں کی طرح ایک کولیگ ہی سمجھتا تھا البتہ یہ بات ضرور تھی کہ اسے کبھی کبھی سیمی کے گرد ایک ہالہ محسوس ہونے لگتا جو فیضی پر بھی اثر انداز ہوتا تھا۔ فیضی کو یہ ہالہ عموماََ اس وقت دکھائی دینے لگتا جب سیمی میز پر کہنی رکھے اپنی تھوڑی اور گال کو ہتھیلی پر سجائے، اداس سا چہرہ لیے کسی گہری سوچ میں محو ہوتی۔

کیا سوچ رہی ہو سیمی ؟ فیضی نے اسے اداس دیکھتے ہوئے سوال کیا

اوہ۔ ۔ ۔ کچھ بھی تو نہیں۔ ۔ ۔ تم کب آئے ؟؟ سیمی ایک دم چونک گئی

ارے ابھی کچھ دیر پہلے تم نے خود ہی فون کیا تھا کہ کچھ کام ہے، کیا سسٹم پرابلم کر رہا ہے ؟

اوہ ہاں۔ ۔ ۔ میں نے ہی تو فون کیا تھا ابھی، کچھ نہیں، بس یوں ہی فون کر دیا تھا، میں اکیلی بیٹھی بور ہو رہی تھی کچھ کام بھی نہیں تھا میں نے سوچا چلو تمہیں تنگ کیا جائے، کیا خیال ہے چائے پیو گے ؟

چائے ؟ ہممممم آئیڈیا تو اچھا ہے۔ ۔ ۔ چلو پھر کنٹین میں چلتے ہیں

کچھ ہی دیر میں دونوں اپنا اپنا کپ تھامے کنٹین میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

تمہارا کام کتنا بورنگ ہے نا۔ ۔ ۔ نہ کوئی آوٹنگ نہ لوگوں سے بار بار کمیونیکیشن۔ ۔ ۔ تھک نہیں جاتے سسٹمز کی پرابلمز کو پورا دن دیکھتے دیکھتے ؟ سیمی نے بات شروع کی

نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں، بلکہ مجھے تو اچھا لگتا ہے۔ ۔ ۔ لوگوں کے مسئلے سلجھانا

ارے میں کمپیوٹر کے مسئلے کہہ رہی ہوں اور تم لوگوں کے مسئلے سلجھانے لگ پڑے ہو۔ سیمی نے تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا

تو بابا میں بھی تو وہی کہہ رہا ہوں۔ ۔ ۔ کیا کمپیوٹرز پر لوگ نہیں بیٹھے ہوتے استمعال کرنے۔ ۔ ۔ مسئلہ تو انہیں ہی ہوتا ہے نا استعمال میں تمہاری طرح۔ فیضی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اچھا اداس کیوں بیٹھی تھی ؟

بس پتہ نہیں کبھی کبھی کیوں ایسا ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے ہی بیٹھے بیٹھے اداس ہو جاتی ہوں۔ ۔ ۔ مجھے خود بھی پتہ نہیں چلتا کہ کیوں ؟

کہیں پیار تو نہیں ہو گیا تمہیں کسی سے ؟ فیضی نے بدستور مسکراتے ہوئے پوچھا

ارے نہیں۔ ۔ ۔ یہ پیار ویار تو کوئی شہ نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ یہ تو صرف فلموں اور ڈراموں کی سٹوریوں میں ہوتا ہے۔ حقیقت سے اس کا کیا تعلق، اور ویسے بھی تمہیں لگتا ہے کہ مجھ جیسی لڑکی بھی بھلا ان چکروں میں پڑ سکتی ہے ؟ سیمی نے تیوری چڑھا کر پوچھا

ہاں یہاں تک تو بات کچھ کچھ ٹھیک لگتی ہے کہ تمہیں نہیں ہو سکتا، مگر ایسی بات نہیں کہ کوئی شہ نہیں اور صرف فلموں ڈراموں میں ہوتا ہے۔ فیضی نے جواب دیا

اچھا چلو چھوڑو، یہ بتاو کہ تم کب تک یونہی ان مشینوں کے آگے وقت ضائع کرتے رہو گے۔ ۔ ۔ یا کوئی ترقی بھی کرو گے ؟ سیمی نے شوخی بھرے لہجے میں پوچھا

ترقی ؟؟ کیا تم جانتی ہو سیمی کہ ترقی کسے کہتے ہیں اور وقت کیا ہے ؟

فیضی کا سوال سن کر سیمی کچھ لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گئی پھر بولی

وقت یہی تو ہے جو ہم گزار رہے ہیں اور ترقی یہ کہ انسان جس پوزیشن میں ہے اس سے آگے بڑھے، اپنا سٹیٹس باقی لوگوں سے اونچا کرے اور کیا۔ سیمی نے جواب دیا

یعنی تمہارا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس کی پیدائش سے موت تک کے درمیان کا جو وقت ملا ہے اس میں وہ مسلسل اپنے اقربا پر مالی اعتبار سے سبقت میں بڑھتا جائے، اس طرح اس کے اردگرد کے تمام لوگ اسے دیکھ دیکھ کر رشک کریں یا حسد کریں، پھر اپنی اس سبقت پر خوش ہو کہ میں سٹیٹس میں ان سب لوگوں سے بلند ہوں، اور یہ لوگ مجھ سے کمتر۔ یہی مطلب ہوا نا ؟ فیضی نے سیمی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا

سیمی یہ سوال نما جواب سن کر بوکھلا سی گئی اور سوالیہ نظریں لیے حیرت سے فیضی کو تکنے لگی۔ فیضی کی آنکھیں اچانک دن کی روشنی میں ہی سلگنے لگیں تھیں جن کے سحر نے اب سیمی کو جکڑ لیا تھا

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں سیمی۔ فیضی نے پھر سے بات شروع کی۔ ایک جو ترقی کا صرف یہی معنی جانتے ہیں جو تم نے ابھی کہا اور دوسرے وہ جو صرف اپنی جیب میں زیادہ پیسوں، اپنے گھر میں زیادہ آسائشوں اور اپنے جسم پر زیادہ قیمت دے کر خریدے گئے لباس کو ہی ترقی نہیں سمجھتے بلکہ ان لوگوں کا منشا اس ذات کے سامنے سرخرو ہونا ہوتا ہے جس نے زندگی کے آغاز سے انجام تک کا یہ وقت دے کر انہیں دنیا میں بھیجا ہے تاکہ وہ ذات خود جانچ سکے کہ کس نے اپنا اپنا وقت کیسے کیسے گزارا۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی نظر میں ترقی پانے کے لیے لوگوں کو مات دے کر پیچھے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ساتھ لے کر چلا جاتا ہے اس لیے ایسے لوگ کبھی تنہا نہیں ہوتے جبکہ صرف اپنا ظاہری سٹیٹس بڑھا کر لوگوں کو نیچا دکھانے والے لوگوں کی تنہائی کبھی ختم نہیں ہوتی، یہاں تک کہ تنہائی آہستہ آہستہ اکیلے پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ لوگ ان کی عزت ضرور کرتے ہیں لیکن یا خوف سے یا کسی فائدے کے لیے۔ ۔ ۔ خوف سے کی گئی عزت مجبوری کہلاتی ہے اور فائدے کے پیش نظر کی جانے والی عزت دراصل خوشآمد ہے۔ نتیجتاََ ایسے لوگ اپنی انا کے حصار میں ایک نہ نظر آنے والی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر ان کو چاٹتی ہے جبکہ انہیں یہی لگتا ہے کہ ان کے اردگرد بیٹھا ہر شخص مطلبی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کبھی خود پر نظر نہیں ڈالتے کہ وہ خود بھی تو مطلب کے بغیر کسی سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ اگر ترقی کے نام پر حاصل شدہ تمام اشیا، مال اور سٹیٹس کو ان لوگوں سے جدا کر دیا جائے تو ان کی اپنی ذات کی کیا حیثیت رہے گی ؟؟؟ اور پھر کتنے لوگ ان کی عزت کریں گے ؟؟؟ بلکہ ترس کھانے والے بھی شائد کم ہی ملیں۔ زیادہ لوگوں کی زبان پر تو ایسے جملے ہوں گے کہ دیکھا اللہ نے کیسا پٹخا ہے، اللہ کی لاٹھی تو بے آواز ہوتی ہے۔ لوگوں کی زبانوں سے ایسی ایسی تیر برساتی باتیں نکلیں گی جو ایک پل میں بتا دیں گی کہ مجبوری نما عزت تو صرف اس سٹیٹس کی تھی جو اب کھو چکا ہے، انسان کی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

فیضی گرجدار آواز میں بولتا چلا جا رہا تھا اور بظاہر نارمل نظر آنے والی سیمی نا چاہتے ہوئے بھی اندر ہی اندر سہم رہی تھی۔ پھر کچھ توقف کے بعد فیضی دوبارہ بولنے لگا

اس لیے میں معاشرے کے اندر سٹیٹس کی دوڑ میں اندھادھند بھاگنے والوں کی قطار میں شامل نہیں ہوں سیمی۔ اور جس قطار میں ہاتھ باندھے کھڑا ہوں اس دنیا میں سٹیٹس نہیں بلکہ نیت دیکھی جاتی ہے۔ ۔ ۔ وہاں اکڑے ہوئے بے سایہ درختوں پر نہیں بلکہ جھکے ہوئے سایہ دار درختوں پر پھل لگتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ پھل بھی سایہ لینے والے دیگر لوگوں کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ ۔ ۔ کیونکہ درخت تو سایہ بھی دوسروں کو ہی دیتا ہے اور اپنا پھل بھی خود نہیں کھاتا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ یہ بھی عام لوگوں کا راستہ نہیں بلکہ ان لوگوں کا ہے جو انگاروں پر پاوں رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ایسے لوگ زندگی کو اس عظمت پر لے جاتے ہیں کہ ان کی موت پر بھی میلے لگنے لگتے ہیں۔ لیکن میری تو نہ کوئی اوقات ہے نہ حیثیت، میں تو صرف ان عظیم لوگوں کے راستے کی خاک ہو جانا چاہتا ہوں، بس یہی میری ترقی ہے۔ وجود اور روح میں سے میری دوڑ صرف وجود کی آسائشیں اکٹھی کرنا نہیں بلکہ روح کی سرشاری ہے۔ وجود مٹی ہے اس لیے وجود کے لیے کی گئی محنت کا حاصل بھی مٹی ہی ہے جبکہ روح تو امرِ ربی ہے، روح کا مسافر کبھی نہ کبھی رب تک ضرور جا پہنچتا ہے۔

فیضی کی آنکھوں کے سحر اور باتوں کی گرج نے سیمی کو یک دم سُن کر دیا تھا، زندگی کا ایک نیا پہلو شائد پہلی بار سیمی کے سامنے کھلا تھا اسے اپنے تنہا ہونے کا بھرپور احساس ہونے لگا تھا، اپنے اردگرد موجود لوگوں کی جھوٹی تعریفیں اور خوشآمدیں اس کے کانوں میں گونجنے لگیں اور بڑا سٹیٹس، اونچے خیالات، ترقی کی قلابازیاں سب دھڑام سے نیچے آن گرے تھے۔ ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ کی بھاپ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی مگر چائے کی چسکی لینا وہ فی الحال بھول گئی تھی۔ پھر اس کے گرد موجود ہالہ تیزی کے ساتھ ابھرنے لگا۔

آدھی رات ہونے کو تھی مگر سیمی کی آنکھیں نیند سے خالی تھیں۔ فیضی کی باتیں اب بھی اس کے ذہن میں چل رہی تھیں۔ اس نے خود پر غور کیا تو اسے اپنے گرد ایک شخص بھی ایسا دکھائی نہ دیا جو اس کی ذات کیساتھ مخلصانہ تعلق رکھتا ہو۔ پھر ساتھ ہی اسے اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ وہ خود بھی کسی کے ساتھ مکمل طور پر مخلص نہیں۔

مگر میں کسی کے ساتھ بھی کیوں مکمل sincere نہیں ؟؟ وہ خود کلامی کرنے لگی۔ ظاہر ہے ایسے تو ہر شخص ہی میرے سر پر چڑھ جائے گا، ہر شخص اپنا اپنا فائدہ اٹھانے لگے گا۔ ۔ ۔ ایسا تھوڑے ہی ہوتا ہے، عجیب stupid قسم کی باتیں ہیں یہ تو، sincerity آخر یہی تو ہے کہ کسی کا برا نہ سوچو، تو بھلا میں کس کا برا سوچتی ہوں بلکہ الٹا میرے بارے میں تو اچھا کوئی بھی نہیں سوچتا، سب اپنا اپنا مطلب سوچتے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔ مگر یہ کیا بات ہوئی۔ ۔ ۔ یہ تو پھر بات گھوم کر وہیں پر آ گئی۔ سب میرے بارے میں برا سوچتے ہیں اور میں انہیں اچھا نہیں سمجھتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا مصیبت ہے یار۔ ۔ ۔ اس فیضی کے بچے نے کس الجھن میں ڈال دیا ہے۔ عجیب انسان ہے قسم سے یہ بھی۔ سیمی خود سے باتیں کرتے کرتے اپنے ناخن چبانے لگی تھی۔

فیضی فیضی فیضی تم کیوں مصیبت بن گئے ہو میرے لیے، سیمی تکیے کو اپنی گود میں رکھے چلانے لگی اور پھر اس نے خود کو بیڈ پر بے سُدھ گرا دیا، میں مٹی نہیں ہوں، میں مٹی ہونا نہیں چاہتی۔ ۔ ۔ لیکن میں آخر کیا ہوں ؟؟؟ اس کی رگوں میں دوڑتے خون کا بہاو اتنا بڑھ گیا کہ اسے اپنی کن پٹیوں میں کھچاو محسوس ہونے لگا۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں سے اپنے سر کو زور سے دبا لیا، پھر اچانک اس کی آنکھوں کا بند ٹوٹ گیا۔ خمار نے انہیں آلودہ کر دیا تھا اور وہ بوند بوند رسنے لگی تھیں۔ سیمی کے گرد بنا ہالہ ان رستی بوندوں کو اپنے اندر جذب کرتا جا رہا تھا۔ پھر رات نے اپنی پراسرار چادر میں سیمی کو یوں لپیٹ لیا جیسے بچے کو نہلانے کے بعد تولیے میں لپیٹ لیا جاتا ہے۔

اگلے دن سیمی نے فیضی کو چکرا کے رکھ دیا جس کی وجہ فیضی سے پوچھے جانے والا انوکھا سوال تھا

مجھ سے شادی کرو گے ؟ سیمی نے فیضی کی آنکھوں میں اپنی ادھ کھلی آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا

فیضی یہ سن کر چکرا کر رہ گیا۔ یہ کیسا سوال ہے ؟ فیضی نے پوچھا

بہت ہی سیدھا اور آسان سوال ہے، تم نے کہا تھا نا کہ مجھ میں سنسیئرٹی نہیں، لو میں تمہارے ساتھ بالکل سنسیئر ہو کر سوال کر رہی ہوں اور تم تو پہلے ہی ہر ایک ساتھ سنسیئر ہو۔ تو کیوں نا ہم اپنی اپنی زندگی کو ایک کر لیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہچکچا کیوں رہے ہو ؟ میں نے سوال اپنے دماغ سے نہیں بلکہ پہلی مرتبہ دل سے سوچ کر پوچھا ہے، اب دیکھتی ہوں کہ تم جواب میں کتنی عقل لڑاتے ہو۔ ۔ ۔ تم تو سایہ دار درخت ہو نا۔ ۔ ۔ میں تمہارا سایہ ہی تو مانگ رہی ہوں، تو ڈر کیوں رہے ہو فیضی

لیکن یہ انتہائی اہم فیصلہ ہے میں اپنی فیملی سے پوچھے بغیر کیسے کر سکتا ہوں۔ فیضی نے جواب دیا

میری بھی فیملی ہے میں نے بھی تو ان سے پوچھے بغیر ہی سوال کیا ہے۔ سیمی کے چہرے پر عجیب اطمینان چمک رہا تھا

مگر یہ تو بچوں جیسی بات ہوئی۔ فیضی بولا

تم ہی نے کہا تھا کہ زندگی میں رنگ بھرنا ہو تو بچے بن جانا چاہیے کیونکہ بچوں پر رحمت ہوتی ہے اس لیے تو ان کے لیے کوئی گناہ ثواب بھی نہیں ہوتا۔ اور اب کہہ رہے ہو کہ میں بڑی بن جاوں ؟

سیمی کے باتیں سن کر فیضی مکمل طور پر نروس ہو چکا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ سیمی آج کس جہان کی باتیں کرنے لگی ہے اسے راتوں رات ہو کیا گیا ہے۔ سیمی فیضی کے چہرے پر جاری اتار چڑھاو کو بغور دیکھ رہی تھی، پھر اس کی آنکھوں میں وہی رات کا خمار امڈ آیا اور وہ بولی

فیضی میں جانتی ہوں کہ تم وہ نہیں ہو جو تم نظر آتے ہو، میں بھی وہ نہیں رہنا چاہتی جو نظر آتی ہوں، میری آنکھوں میں دیکھو۔ ۔ ۔ کیا دِکھ رہا ہے تمہیں ؟

فیضی نے سیمی کی آنکھوں میں جھانکا تو ایک لہر اٹھی جو اسے بھی بہا کر لے گئی اور اسے خود پہ ہوش نہ رہا کہ وہ کہاں بہتا جا رہا ہے۔ اس کے لب سیمی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بڑبڑانے لگے

نشے سے بھری خمار آلود آنکھیں، جن میں پوری رات میں دیکھے سپنے ابھی بھی تیر رہے ہیں۔ اِن آنکھوں میں اُن تصورات کا اک جہان آباد ہے، ایسا جہان جو ابھی کسی آرٹسٹ کے کینوس کی زینت نہیں بنا، بلکہ پوشیدہ ہے زمانے سے۔ یہ آنکھیں انہیں سوچتی ضرور ہیں لیکن انہیں منعکس ہونے نہیں دیتیں۔ بلکہ یوں لگتا ہے یہ آنکھیں گوہر ہوں جیسے، جن سے اجالا پھوٹتا ہے اور پھر اسی اجالے سے زمانے میں صبح پھیلتی ہے۔ مگر یہ آنکھیں تو اپنے ہی ان تخیلات میں مست ہیں جو ان کی تہہ میں چھپے ہیں اور جب خمار کا پانی لہریں بن کر بہتا ہے تو وہ تخیلات بھی ایسے قفل لگے بند بکسوں کی طرح تیرنے لگتے ہیں جن کی چابی کا وجود ابھی شائد بنا نہیں۔

تو پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟ سیمی کی آنکھوں میں سوالیہ نشان ابھرنے لگا

” ہاں “ فیضی نے جواب دیا

سیمی وہاں سے دوڑ کر اپنی کرسی پر جا بیٹھی اور اپنے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔ اس دن دونوں اپنی اپنی جگہ بہت خوش رہے سیمی کے جسم پر بار بار جھرجھری سی دوڑتی پھر گالوں پر سرخی پھیلنے لگتی جبکہ فیضی بار بار شعلے کی مانند سلگنے لگتا اور آنکھیں تپنے لگتیں۔ دن گزر گیا لیکن دونوں دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے نہیں آئے۔

سورج اپنی روشنی سمیٹ کر ڈوب چکا تھا اور سیمی اپنے گھر میں بیٹھی تھی۔ کسی چیز میں اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے کھانا بھی بہت کم کھایا تھا پھر ٹی وی دیکھنے بیٹھی تو کچھ بھی اچھا نہ لگا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اداس ہے یا بے چین۔ پھر اچانک اس نے بغیر سوچے فون اٹھایا اور فیضی کو کال کر دی

کیا کر رہے ہو فیضی ؟

ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہوں اور تو کچھ نہیں، کیوں خیریت ہے نا ؟ فیضی نے تعجب سے پوچھا

ہاں، ابھی آواز آ رہی تھی لاوڈ سپیکر سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حی علی الفلاح۔ بس پتہ نہیں کیوں میں نے تمہیں فون کر دیا، فیضی مجھے تو لگتا میرے لیے ساری فلاح اب تم ہی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا چلو ابھی باہر ملیں ؟ سیمی نے پوچھا

اس وقت ؟؟؟

کیوں ملنے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے ؟؟؟

ہاں بالکل ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے

اف، تم مجھے وقت میں قید مت کرو فیضی، بس مجھے ہی اپنا وقت بنا لو

باہر موسم دیکھا ہے تم نے ؟ بادل جمع ہو رہے ہیں اور پھر تمہارے گھر میں کوئی پوچھے گا نہیں اس وقت کہاں جا رہی ہو ؟

اوہ یار میں کہہ دوں گی نا ایک اسپیشل میٹنگ ہے، اس لیے ارجنٹ بلایا ہے دفتر میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس میں کوئی جھوٹ بھی تو نہیں نا اسپیشل میٹنگ ہی تو ہے ہماری۔ فیضی میں بھی بھیگا ہوا بادل ہوں، برس جانا چاہتی ہوں۔ ۔ ۔ برسوں گی نہیں تو پھٹ جاوں گی

اچھا چلو مل لیتے ہیں۔ فیضی نے جواب دیا

کہاں پر آوں ؟

نیشنل پارک

اوکے

فیضی نیشنل پارک میں کھڑا تھا اور سیمی آہستہ آہستہ ایک انجانے خوف کے ساتھ اس کی جانب بڑھ رہی تھی، اس کا جسم کپکانے لگا تھا۔ پھر دونوں کتنی ہی دیر بغیر کچھ بولے ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے رہے۔ دونوں کی زبانیں گنگ ہو گئی تھیں مگر نگاہیں بات کر رہیں تھیں اور کرتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ بے آواز گفتگو۔ اچانک زور سے بادل گرجے اور زور کا طوفان امڈ آیا۔ سیمی یک دم فیضی کے گلے لگ گئی۔ سیمی پھر بوند بوند بہنے لگی تھی اور یہ بوندیں فیضی کی گردن پر ٹپکنے لگیں۔ فیضی کا وجود انگارے کی مانند سلگ رہا تھا اور اس آگ پر یہ بوندیں پانی کی طرح گر رہی تھیں۔ آگ اور پانی کا یہ انوکھا ملاپ تھا۔ فیضی کے دل کی دھڑکنوں میں لا الہٰ الا اللہ کی صدا اٹھنے لگی اور اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا۔ پھر چار سُو ” منم عاشقم “ کی صدائیں گونجنے لگیں۔ سیمی فیضی کے وجود کی حدت میں بوند بوند پگھلتی چلی جا رہی تھی اور اس کے گرد موجود ہالے نے دونوں کو ہی اپنے اندر سمو لیا تھا۔ یکایک اٹھے طوفان کی گھن گرج میں بجلی کوندی اور دونوں جل کر راکھ ہو گئے۔

اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ ۔ ۔ حی علی الصلاح۔ ۔ ۔ حی علی الفلاح

بادل اتنا برسے اتنا برسے کہ خدا سے رحم کے ملتجی لوگ چھتوں پر چڑھ کر اذانیں بلند کرنے لگے۔ پھر بارش کی بوند بوند میں بھیگتی سیمی اور فیضی کی راکھ سے بھی صدا بلند ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حی علی الوصال۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20