مردوں کے حقوق کا چارٹر ——- تزئین حسن

0

میری جیب بیوی کی مرضی نہیں چلے گی۔ (دین بھی یہی کہتا ہے)

ہماری شادیاں جلد اور آسان کرو۔ تاکہ ہم بھی عزت و عصمت سے اپنی جوانی گزار سکیں (دین بھی یہی کہتا ہے)

ہم پر بہنوں کے جہیز کا بوجھ مت لادو۔ جہیز ایک لعنت ہے۔ ہم میں سے کتنے بھائی اس بوجھ تلے دب کر اپنی زندگیاں خراب کر بیٹھے۔ (دین کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔)

ہمیں ساس اور بہو کے درمیان سینڈوچ نہ بناؤ۔ ماں ہمیں ہماری بیوی کے لئے ویسا “شوہر” بنانے کی کوشش کرے جیسا وہ اپنے “داماد” کو دیکھنا چاہتی۔ اور بیوی ہم سے وہ توقع کرے جیسا اپنے “بھائی” اور مستقبل کے “بیٹے” کو دیکھنا چاہتی۔ (ہمارے دین کی تعلیم بھی یہی ہے کہ جیسا اپنے لئے پسند کرو ویسا ہی اپنے مومن بھائی (بہن) کے لئے پسند کرو۔

ہمیں بہن کی شادی کے بعد سالا اور سسرا کہہ کر گالیاں نہ دو۔ نہ ہی لڑکی کے گھر والے سمجھ کر دبانے کی کوشش کرو۔ (ایسا رویہ دین کے نزدیک شدید ناپسندیدہ رویہ ہے)

ہماری ماں بہنوں اور بیویوں کو نہ گھورو۔ ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ معاشرہ جنسی ہراسانی کے خلاف سنجیدگی سے ایک مہم چلائے۔ جیسے مغرب میں کسی کی مرضی کو گھورنے کو غلط سمجھا جاتا۔ ایسے ہی ہمارے معاشرے میں بھی مرد عورتوں کو اخلاقی طور پرغض بصرکا پابند کرے۔ (دین بھی یہی کہتا ہے)

ہمیں شریک حیات کی رفاقت سے راحت اٹھانے دو۔ شرم و حیا اور خدمت کو بہانہ بنا کر ہماری ازدواجی زندگی کو خراب نہ کرو۔ (دین بھی یہی کہتا ہے) جو خدمات چاہئے ہم کریں گے والدین کی۔

ہماری شادیاں زبردستی ہماری پسند کے بغیر نہ کرو۔ نہ لڑکی کی پسند کے بغیر ہمیں اس کے پلے باندھو۔ (دین بھی یہی کہتا ہے)

ہماری شادی شدہ زندگی میں مداخلت نہ کرو۔ ہمیں چین سے رہنے دو۔ ہماری شریک حیات کو اسپیس دو۔ جہیز اور شادی ولیمے کے کھانے کے بدلے ہمیں اپنی نئی زندگی شروع کرنے میں مدد دو۔ کوئی کمرہ کرائے پر لے دو۔ امیر والدین (ہمارے) فلیٹ خرید دیں- (دین بھی یہی کہتا ہے)

جیسے والدین بیٹی کی شادی کی فکر کرتے ہیں ویسے ہی بیٹے کی شادی کی بھی فکر کریں۔ ہمیں خراب نہ کرو۔ (دین بھی یہی کہتا ہے)

جیسے لڑکیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے پڑھاتے ہو، ویسے ہی ہمیں بھی گھر کا کام سکھاؤ۔ کسی کام میں کوئی بے عزتی نہیں۔ جب وہ مشکل وقت پڑنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں گھر چلانے کے لئے کما سکتی ہیں تو ہم کیوں نہیں-

ہمیں زن مرید نہ کہو۔ ہم بھی اپنی ماں بہن اور بیوی کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انکا خیال رکھنا چاہتے ہیں-ہمیں ان سے نفرت کرنا نہ سکھاؤ۔ وہ ہماری ساتھی ہیں۔ (دین بھی یہی کہتا ہے)

ہماری بیویوں کو انکے شرعی فرائض کی تعلیم دو۔ انہیں بتاؤ ازدواجی رشتے میں انکا سب سے بڑا فرض کیا ہے۔ انہیں محض جسمانی محنت کرنے والا گدھا مت سمجھو، ہمیں انکی ذہنی رفاقت اور ساتھ کی بھی ضرورت ہے۔ (دین بھی اس رشتے کو راحت کا با عث قرار دیتا ہے)

سب سے بڑھ کر ہماری پیدائش سے پہلے ہماری ماؤں کو ایک انسان کے طور پرعزت دو کہ سکون کے ساتھ اپنی تمام قوتیں گھر کی دیکھ بھال اور ہماری پرورش میں لگائے۔ (اس کو ایسا نوکرنہ سمجھو جو ہماری وجہ سے نوکری نہیں چھوڑ سکتا)

ہماری تربیت ایسے کرو کہ ہمیں زہریلی مردانگی سے بچاؤ۔ زہریلی مردانگی (کہ ہم افضل ہیں صرف اس بنا پر کہ ہم مرد ہیں اور ہمیں ہر چیز کی اجازت ہے) ہمیں بھی اتنا ہی نقصان پہنچاتی ہے جتنا ہمارے آس پاس کی عورت کو۔

ہمیں معاشرے کے ایک ذمہ دار فرد کی طرح تربیت دو کہ ہمیں ایک گھرانے کا قوام بننا ہے۔ اس انتظامی سربراہی کے لئے ہمیں معاملہ فہمی، بردباری اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔

آئندہ نسلوں کی تربیت کی بڑی ذمہ داری گھر کے سربراہ کے طور پر ہماری ہے۔ جس کے اختیارات زیادہ ہوتے ہیں اسکے فرائض بھی زیادہ ہوتے ہیں اور اسکی ذمہ داری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ہمیں ‘ماماز بوائے’ نہ بناؤ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20