ڈاکٹر برہان احمد فاروقی —– جلیل عالی کی خود نوشت کا ایک باب حصہ 2

1

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے.

ڈاکٹر صاحب ہمارے لئے بہت بڑا سہارا تھے۔ وہ جب کالج میں موجود تھے تو ہماری ہر ذہنی پریشانی اور فکری الجھن کا فوری مداوا ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نہ صرف کتابوں کے مطالعے اور عصری موضوعات پر دوسرے طلبہ سے بحث مباحثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب فراہم کر دیتے بلکہ ہماری ذاتی پریشانیوں کے حل میں بھی ہر ممکن مد دفرماتے۔ ان کی عدم موجودگی میں ہمارے حوصلوں اور ولولوں کی پہلے جیسی کیفیت نہ رہی۔ میں نے ایک خط میں مایوسی کی حد کو چھوتی ہوئی اپنی افسردہ دلی اور ان کی ہمہ وقت دستیاب شفقت و محبت سے محرومی کا ذکر کیا تو انہوں نے فوری طور پر جواب میں لکھا۔

’’عزیزِ گرامی قدر بہت سی دعائیں۔
آپ کا خط ملا جس سے آپ کے موجودہ احساس کا اندازہ ہوا۔ پہلی بات جو قابلِ غور ہے، وہ یہ ہے کہ ہر مقصد کی راہ کی مشکلات اضطراب پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح سے پیدا ہونے والی پریشانی میں انسان کو دل سوزی اور ہمت افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو صرف ان لوگوں سے میسر آسکتی ہے جو بلند مقاصد اور اعلیٰ آرزوئوں کو سمجھتے ہیں۔ ’’رولدوخیمہ دوز‘‘ کے بس میں نہیں کہ آپ کے احساس میں شریک ہو سکے۔ جو شریک نہ ہو سکے اس سے توقع رکھنا کہ وہ آپ کے ساتھ دل سوزی رکھے ان لوگوں کے استخفاف کے برابرہے جو آپ کے احساس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ وہ تعداد میں کم ہوں گے مگر انہیں ہی کافی سمجھنا پڑے گا۔ راستے کی مشکلات جو مقصد کی طلب میں مزاحمت پیدا کرتی ہیں ایک سازگار حالت ہے جس سے مزاحمت کی مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کے نام اپنے لکھے ہوئے خطوط کی نقول یا تو بنائی ہی نہیں تھیں یا کوئی بنائی بھی تو محفوظ نہ رکھ سکا۔ ایک آدھ خط کا ایسا مسودہ کاغذات میں سے ضرور نکل آیا جسے بہت کانٹ چھانٹ کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے حضور بھیجنا مناسب نہ جانا اور اس کی صاف نقل تیار کر کے ارسال کی۔ تاہم ڈاکٹر صاحب کے جوابی خطوط سے میرے لکھے ہوئے خطوط کے مندرجات کا اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ میں نے ایک خط میں جب انہیں تصوف کی حقیقت بارے استفسار کیا اور اپنی عمومی ذہنی بے یقینی کی کیفیت بیان کی تو انہوں نے بڑی تفصیل سے تفہیم کرائی اور از حد شفقت و محبت سے دل دہی فرمائی۔ لکھا

’’عزیزِ گرامی قدر، سلمکم اللہ تعالیٰ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آپ نے تصوف کی نسبت پوچھا ہے، تصوف اور روحانیت کی حیثیت ہمارے معاشرے میں رسوم و ظواہر کی سی ہو کر رہ گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اصل حقیقت اس کی کیا ہے اسے روایتی انداز میں سمجھنے سے یہی محسوس ہو گا کہ یہ ’’افیون‘‘ ہے۔ ایک سمجھ دار طالب علم کو ان سوالات کی روشنی میں سمجھنا درکار ہے کہ نفسِ انسانی میں (تصوف بحثیت وارداتِ مذہبی) کی کیا احتیاج ہے؟ معاشرے میں اس کی کیا جگہ ہے؟ ثقافت میں کیا مقام ہے؟ اور مذہبی واردات کی تحصیل، تفصیل اور تفویض کا طریقہ کیا ہے؟ اور اگر مؤثراتِ زندگی بدل رہے ہوں تو تحصیل، تفصیل اور تفویضِ وارداتِ مذہبی میں کس انداز کا تصرف ضروری ہو گا؟ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مماثل فضائل سے سے متمیز کر کے اس کی ماہیت کو سمجھنااور اس کے پانے کی شرائط کا سمجھنا اور پورا کرنا اور اس کی صحت کے حدود کو سمجھنا درکار ہے۔ انسان کی فطرت عمرانی ہے اس لئے وہ معاشرے کے اثرات سے بچ نہیں سکتا۔ اگر ایک فرد کی زندگی میں علم، اعتقاد اور عمل میں تضاد واقع ہو جائے تو شخصیت میں اختلال واقع ہو جاتا ہے۔ اس اختلال کو رفع کرنے اور شخصیت کو دوبارہ منضبط کرنے کے لئے حقیقت کا بلا واسطہ ادراک ضروری ہو جاتا ہے تاکہ اعتقاد اور علم اور تزکیہ کے ذریعہ عمل سازگار ہو سکے۔ اور تاریخ کے ہر دور میں نئے مؤثرات کی بنا پراختلال واقع ہوتا ہے۔ جن مؤثرات نے شخصیت میں تضاد پیدا کیا ہے ان کا تدارک ضروری ہے۔ کبھی زندگی میں تضاد دولت و اقتدار کے باعث پیدا ہو گا اور کبھی دولت و اقتدار سے محرومی کے سبب۔ دونوں کا علاج اور طریقِ علاج ایک نہیں ہو سکتا۔ فی الحال آپ عربی سیکھنے کی سعی کریں۔ امید ہے اس وقت اس مختصر بات پر قناعت کریں گے اور پھر کبھی مفصل لکھ دوں گا۔ پھر بھی جو ذاتی تجربے سے سمجھ میں آتا ہے وہ وہی ہے۔ مولانا جامی نے بے وجہ یہ نہیں فرمایا تھا کہ
ع ذوقِ ایں بادہ نہ دانی بخدا تا نچشی۔‘‘

یوسف صاحب نے بی۔ اے فائنل کی تیاری کے لئے مہینہ بھر ہوسٹل میں بھی میرے ساتھ قیام کیا۔ ہم نے پڑھائی کیا کرنی تھی۔ صبح اٹھتے تو یہ طے کرنے بیٹھ جاتے کہ ناشتہ ہوسٹل میں کیا جائے یا پرانی انارکلی سے نہاری کھائی جائے۔ نو دس بجے تک فیصلہ ہو جاتا تو پیدل پرانی انارکلی کا رخ کرتے۔ نہاری کے بعد بھی کچھ دیر ہوٹل میں ہی بیٹھے گپ لگاتے رہتے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت یہاں بھی موضوعِ گفتگو بن جاتی۔ حوالہ ان کے افکار یا کسی تازہ خط کے مندرجات ہوتے۔ انہیں کی باتیں کرتے کرتے بارہ بجے تک ہوسٹل واپسی ہوتی۔ پھر دوپہر کے کھانے کی تیاری شروع ہو جاتی۔ اگر کھانا ہوسٹل ہی میں کھالیتے تو اڑھائی تین بجے کے قریب لکشمی چوک سے تھوڑا آگے نسبت روڈ پر ایک ریسٹوران میں پرانے فلمی گانے سننے کا پروگرام بن جاتا۔ یوں بھی ہوتا کے اس پیدل سفر کے دوران رستے میں گول گپوں کی ریڑھی آگئی تو ان کے درجات بھی ضرور بلند کرتے۔ آگے قلفی والا ملتا تو وہاں بھی تالو ٹھنڈا کر لیتے۔ غرض ریسٹوران تک پہنچتے پہنچتے نہ جانے کیا کیا کچھ پیٹ میں انڈیل جاتے۔ ریسٹوران سے نکلتے تو سینیمائوں میں شام کے شو کا وقت ہو جاتا۔ اگلے دو اڑھائی گھنٹے کسی سینیما ہال میں گزرتے۔ وہاں سے نکل کر ہوسٹل واپس پہنچنے تک رات کے دس ساڑھے دس کا وقت ہو جاتا۔ کالج کے بند ہو چکے ہوتے مین گیٹ کو پھلانگ کر ہوسٹل تک رسائی حاصل کی جاتی۔ اسی طرح امتحانات کی تیاری کا عرصہ گزر گیا۔ کچی پکی پڑھائی پر انحصار کر کے ڈھلمل یقینی کی کیفیت میں امتحان دینے کے باوجود قدرت کی مہربانی سے اچھی سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہو گئے۔ اتنے نمبر آگئے کہ ایم۔ اے کے لئے میرا اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے شعبہِ اردو میں داخلہ ہو گیا۔ یوسف صاحب کو ان کے ایک دوست نے جو مولانا مودودی کے داماد تھے، اپنی ذاتی کمپنی میں حساب کتاب کی دیکھ بھال کے کام میں مصروف کر لیا۔

میں نے ایم۔ اے اردو کا نتیجہ آنے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس کے شعبہِ عمرانیات میں داخلہ لے لیا۔ یوں بی۔ اے کے بعد مزید چار سال لاہور رہنے کی بنا پر یوسف صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ہم ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی اپنی اپنی خط و کتابت سے ایک دوسرے کو آگاہ رکھتے۔ بلکہ اس دوران یوسف صاحب نے تو ڈاکٹر صاحب کی طرف سے موصول ہونے والے کئی خطوط کی اپنے ہاتھ سے تیار کی ہوئی نقول بھی مجھے عنایت فرمائیں، جو میرے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہم دونوں کو کراچی اپنے پاس بلوا لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ہماری مالی، ذہنی اور فکری پریشانیوں کے مداوے کے لئے بار بار ہمیں لکھتے تھے کہ میں چاہتا ہو ں اور اس کوشش میں ہوں کہ جیسے ہی کوئی معقول بند وبست ہو پائے، آپ دونوں کو کراچی لے آئوں۔ میرے ذاتی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے خطوط میں جو سروکار، جو محبت، جو دردمندی اور جو ڈھارس موجود ہوتی تھی مجھے بہت جذباتی کر دیتی تھی۔ میں نے ممنونیت اور عقیدت و احترام کی ایسی ہی کیفیات کے زیرِ اثر لکھا۔

’’استاذی المکرم سلام مسنون!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے آپ کا خط پڑھا۔ اس کے فوری تاثرات جو میرے ذہن پر مرتسم ہوئے ان کی شدت بیان سے باہر ہے۔ میں فوراً ان تاثرات کو تحریر نہ کر پایا بلکہ خوشیوں اور مسرتوں اور زندگی کی خوشگواریوں کا ایک ہجوم اپنے ساتھ لئے یوسف صاحب کے دفتر پہنچا۔ ان کو بھی ان شادابیوں اور شادکامیوں میں اپنا ساتھی بنایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج جب کئی دن گزر جانے کے بعد آپ کو خط لکھ رہا ہوں تو یہ محسوس کرتا ہوںکہ وہ تاثرات فوری اور وقتی نہیں تھے بلکہ میری روح میں اب بھی جاری و ساری ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بے شک آپ کے خط نے مجھ میں زندگی کی روح پھونکی۔ مجھے اس کی تلخیوں کے سامنے سینہ سپر ہونے پر آمادہ کیا۔ نیک آرزوئوں اور خواہشوں کے پورا ہونے کا یقین دلایا۔ زندگی کے متعلق مثبت نکتہِ نظر رکھنے کی ترغیب دی۔ اسے برتنے، گزارنے، سمجھنے، پرکھنے، سنوارنے اور نکھارنے کی تحریک پیدا کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ میری نبض کو پہچانے ہیں۔ میری فطرت کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بہت خوش نصیب ہوں کہ آپ کی دمسازی، شفقت، محبت اور ہمدردی مجھے حاصل ہے۔
آپ کی دعائوں کا طالب اور نیاز مندی کا متمنی
محمد جلیل عالی‘‘

ڈاکٹر صاحب نے جواب میں لکھا

’’۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا خط ملا۔ میرے لئے جو کچھ آپ نے اپنے خلوص و محبت میں محسوس کیا ہے میری دلی دعا ہے کہ کہ اللہ پاک مجھے اس کا مصداق بنا دے۔ ۔ ۔ ۔ آپ بہ اطمینانِ خاطر رہیں۔ دعا کرتے رہیں۔ اللہ کارساز ہے۔ کبھی اپنے بندوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ ۔ ۔ اپنی شخصیت کو مرتب کرنے کے لئے آپ اپنی ڈائری لکھا کیجئے۔ اس سے اپنا اندازہ، احتساب اور بہتر ہونے کی تدریج کا پتہ چل سکتا ہے۔ مضطرب ہونے سے فائدہ نہیں اس اضطراب کو اپنی سیرت کی تعمیر کے لئے مفید اور مؤثر بنائیے۔ اور مجھے خط لکھتے رہئے۔ پوری آزادیِ فکر کے ساتھ۔‘‘

میری ذہنی الجھنوں اور فکری پریشانیوں کے ناتے کراچی سے ہی ایک اور خط میں ارشاد فرماتے ہیں۔

’’عزیزِ مکرم  سلام ممنون۔
آپ کے دونوں خط مجھے ملے آپ کے سوالات سے میری پریشانی میں نہیں آسودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ نے پوچھا ہے اس کائنات میں میری کیا اہمیت ہے؟ عزیزِمن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی ایک بامقصد عمل ہے جس کے معنی اور جس کی اہمیت اس مقصد کے حوالے سے متعین ہوتی ہے جس کے حاصل کرنے کی جدوجہد آپ کرتے ہیں۔ اس لئے آپ اپنی قیمت اور اپنی حیثیت اور اپنی اہمیت کا معیار اپنے مقصد کے اعتبار سے خود ہی متعین کرتے ہیں۔ عزم، ارادہ اور رائے، فیصلے میں جو کمزوری پیدا ہوتی ہے اس کا سبب غلط ماحول اور غلط افکار ہیں۔

ہم نے جو مذہبی خیالات ایک جامد اور زوال پذیر معاشرے سے بطور ورثے کے پائے ہیں وہ ان حالات میں جو ایک نوجوان کو اپنے موجود ہ ماحول میں پیش آتے ہیں قدم قدم پر غلط اور شکستہ ثابت ہوتے جاتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ منظم طور پر فکر کریں۔ پراگندہ افکار سے کوئی رائے قائم اور فیصلہ کرنے کے لئے انتخاب نہ کریں۔ ہمارے موجودہ معاشرے کے متضاد اعتقادات کا جائزہ تو لینا ہی پڑے گا۔

آپ یہ سوچیں کہ جن مقاصد کو مقاصدِ عالیہ سمجھا جاتا رہا ہے اگر ان کے حاصل ہونے کی کوئی ضمانت نہ ہو تو پھر ان کی تلقین ’’مالیخولیا‘‘ نہیں ہو جاتی۔ سب سے پہلے جو بات اپنے اوپر لازم کرنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی طبیعت کی مناسبت کے اعتبار سے ایک بہت ہی منتخب اور محدود حلقہ ایسا پیدا کیجئے جو اپنے ذوق میں آپ کے مقاصد سے سازگار ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو آپ کی پسند کے مطابق نہ ہوں ان کے طرزِ عمل سے اپنے آپ کو دکھ نہ دیجئے بلکہ انہیں ماحول کے زیرِ اثر معذور سمجھئے۔

جب تک ہر عزم و ارادے کے ساتھ یہ یقین نہ ہو کہ انجامِ کار کامیابی ہو گی تو کوشش نہ ہو سکے گی۔ اسی یقین کا نام ’’ایمان بالغیب‘‘ ہے۔ کیونکہ کامیابی ابھی غیب میں ہے اور آپ کو اس کا یقین ہونا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ اور جتنا عظیم مقصد ہو گا اتنی ہی طویل اور شدید جد و جہد کا طلبگار ہو گا۔ اور اتنی ہی اس کے لئے تشویش ہوگی اور اسی مناسبت سے طبیعت مضمحل ہونے کے وقت یاس انگیز خیالات آئیں گے اور اس حالت میں تکلیف دہ خیالات کی جگالی کرنے کے بجائے یا تو بہت ہی پسندیدہ دوستوں کی معیت میں وقت گزارو۔ اور یہ نہ ہو تو پھر جسمانی ورزش کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کائنات انسان کے مقصد سے سازگاری کے اصول پر مبنی ہے اور ہمیں خدا کی احتیاج اپنے ناصر اور مددگار کی حیثیت سے ہے اور اس کی تائید اور مدد ہمیں حاصل ہے۔ حالات کا ناسازگار ہونا ہر عظیم مقصد میں کامیابی کے لئے ایک سازگار شرط ہے۔ اس کی بدولت سویا ہوا عزم بیدار ہوتا ہے۔ اور ’’مزاحمت کی مزاحمت‘‘ وہ قانون ہے جس میں نتیجہ پیدا ہونے کی ضمانت ہے۔ اور یہی مزاحمت خدا کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہی مزاحمت جو آپ کے راستے میںحائل ہے اخلاقِ صالحہ پیدا کراتی ہے۔ یہی مزاحمت اپنے ساتھیوں سے اتحاد پیدا کرواتی ہے۔ یہی مزاحمت چوکنا اور چست اور باخبر رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ نیکی کی وجہ سے پٹنا غفلت کی بدولت ہے نیکی کی بدولت نہیں۔ ۔ ۔  ۔ کوئی قابلِ اعتماد مرکز خوشگوار تعلقات کا ہو تو یہ سب تلخیاں نظر انداز کی جا سکتی ہیں۔ مگر غلط جگہ سے توقع وابستہ کرنے سے جو تکلیف پہنچے اس پر غالب آنے کی ذمہ داری آپ ہی پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کی ایک اپنی تعبیرِ اسلام تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن مجید کی صورتوں کو مکی اور مدنی میں تقسیم کر کے ان کی شانِ نزول بیان کرنا اور آیات کی زمانی ترتیب میں تفہیم کا طریقِ کار ہمیں اسلام کو ایک تاریخی تحریک کی صورت سمجھنے میں تو مد دے سکتا ہے مگر قرآن کی ابدی ہدایت تک نہیں لے جاتا۔ اپنی تاریخی اضافیت میں کوئی بھی تحریک اپنے وقت کے موجود معروضی حالات کا جواب ہوتی ہے اور یوں ایک طرح کی تحدید میں بروئے کار آتی ہے۔ چنانچہ تاریخی حالات کی تحدید میں سامنے آنے والی معنویت قرآن کی ابدی معنویت کا بدل نہیں ہو سکتی۔ اور ہم اس سے اپنے زمانے کے مسائل سے نمٹنے کے لئے مطلوبہ رہنمائی کے حصول میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کا شعور بھی بیدار ہوتا ہے کہ اس نے قرآن کو زمانی ترتیب میں نہیں ترتیبِ توقیفی میں محفوظ کروایا ہے۔ یہ ترتیب زیادہ تر موضوعات کے حوالے سے ہے۔ اب ہمیں قرآنِ پاک کو ایک نامیاتی فکری وحدت کے طور پر لینا اور سمجھنا ہے۔ ہمیں ہر زمانے میں اس کے مندرجات کی اندرونی معنیاتی ہم آہنگی سے بہتر سے بہتر فکری تشکیلات کے ذریعے ابدی قرآنی بصیرت تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کرتے رہنا ہے۔ یوں ڈاکٹر صاحب نے خیر و شر کی ازلی و ابدی آویزش کے تناظر میں کتاب اللہ کے مندرجات اور رسول اللہؐ کی سیرتِ پاک پر غور و خوض سے ایک خاص انداز کی انقلابی فکری تشکیل کی جو ان کی جملہ تحریروں کی روح و رواں ہے۔ ان کے منفرد اندازِ فکر اور اس پر ان کی عدم مفاہمت کا ایک مظاہرہ اس وقت سامنے آیا جب جماعتِ اسلامی کے ممتاز قلمکار نعیم صدیقی نے اپنے ادبی و فکری جریدے ’’سیّارہ‘‘ کے قرآن نمبر کے لئے ایک خاص موضوع پر بذریعہ خط ڈاکٹر صاحب سے مضمون کی فرمائش کی۔ ڈاکٹر صاحب نے جواب میں نعیم صدیقی صاحب کے نام یوسف اختر صدیقی صاحب کے پتے پر خط ارسال کیا اور حکم دیا کہ وہ نعیم صدیقی صاحب کو پڑھوا کر ان کے زبانی یا تحریری فیصلے سے ڈاکٹر صاحب کو جلد از جلد آگاہ کریں۔ یوسف صاحب نے اسی دوران بے پایاں محبت سے اس خط کی اپنے ہاتھ سے کی ہوئی نقل مجھے فراہم کی جو میرے پاس آج بھی محفوظ ہے۔ اب مجھے یہ تو یاد نہیں کہ نعیم صدیقی صاحب نے کیا جواب دیا اور ڈاکٹر صاحب کی مرضی کا کوئی مضمون حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں۔ تاہم ڈاکٹر صاحب کے طویل خط میں جس تفصیل سے ان کا زاویہِ نگاہ سامنے آیا ہے وہ فکرِ برہان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یقیناً بڑی اہمیت کا حامل ہو گا۔ مناسب ہے کہ اسے بے کم و کاست یہاں درج کر دیا جائے۔

’’۱۷۔ جی اقبال کالونی تین ہٹی کراچی نمبر ۵
بخدمت جناب نعیم صدیقی صاحب
معزز باد مکرمی !سلام مسنون
گرامی نامہ موصول ہوا اور قرآن نمبر کے لئے طرحی مشاعرے کی سی ردیف و قوافی کی پابندیوں کے ساتھ ایک سوال کے جواب کا مطالبہ بھی۔

سوال یہ ہے کہ قرآن نے کیا نظریہِ علم عطا کیا ہے؟ اور وہ مغرب کے مادی نظریہِ علم سے کیوں برتر ہے؟

اس کے جواب میں مشکل یہ ہے کہ قرآن کی نسبت ہم یہ طے نہ کریں کہ اس سے ہمیں کس قسم کی ہدایت کی توقع کرنی چاہیے تو ممکن ہے ہم قرآنی علم سے بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہیں جو انسان کی اپنی استعداد سے حاصل ہونے والے علم کا مسئلہ ہے۔ جیسے اس سوال میں ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قرآن کا عطا کردہ نظریہِ علم کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ قراان مجید کا مسئلہ یہ ہے کہ علمی، اخلاقی، جمالی، مذہبی اور روحانی فضائل زندگی میں پیدا کیسے ہوں گے۔ علمی، اخلاقی جمالی، مذہبی اور روحانی فضائل کی نسبت نظریات کی تشکیل کرنا ہمارا کام ہے۔

یہاں ملحوظ رکھنے کی بات یہ ہے کہ نظریہِ علم سے مراد ہے علم العلم۔ اور علمیات یا علم العلم اس سوال کا جواب ہے کہ علم کی ماہیت کیا ہے؟ اور علم کیوں کر ممکن ہے؟ اور نظریہِ علم کی نشو ونما کی ایک تاریخ اور ایک تدریج ہے۔ اور مغرب میں علمیات کی نشو ونما کی تدریج میں علم کا نظریہ مختلف مدارج سے گزرنے کی بنا پر اپنی ارتقا کے ہر مرحلے پر ایک خاص نوعیت کا حامل رہا ہے۔ اور نظریہ کوئی بھی ہو نظریے کی حد تک وہ ذہنی، عقلی اور بسیط ہی ہو گا۔ نظریہ مادی نہیں ہو سکتا۔ مغرب میں علم کا نظریہ اپنی نشو ونما کی منطقی تدریج میں تین مدارج سے گزر کر دوبارہ التباس کا شکار ہو گیا ہے اور فکری زوال کا موجب ہوا ہے۔

مغرب کی علمیاتی نشونما کے تین مدارج ہیں۔ ایک اثبات۔ دوسرے نفی۔ اور تیسرے تطبیق۔ اثبات کے مرحلے پر موقف یہ ہے کہ عقلِ نظری اور خالصتاً عقلِ نظری ہی ذریعہِ علمِ حقیقت ہے۔ علم قضیہِ تحلیلیہ کا نام ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کہ صرف معقول ہی حقیقت ہے اور صرف معقولات پر غور کرنا، بسیط حقائق پر غور و فکر میں منہمک رہنا سب سے بڑی غائت ہے۔ نفی کا مرحلہ یہ ہے کہ حواس ہی ذریعہِ علم ہیں۔ اور اس موقف کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف محسوسات ہی حقیقت ہیں اور ادراک حسی علم ہے۔ اور تطبیق یہ ہے کہ حواس سے علم کا خام مواد حاصل ہوتا ہے اور عقلِ نظری کے بنیادی تصورات اس مواد کو علمِ مدوّن کی صورت دیتے ہیں۔ اس طرح علم محسوسات تک محدود ہے۔ ماورائے محسوسات کا علم نہیں ہو سکتا، یقین ہو سکتا ہے۔ اس یقین کی اساس یہ ہے کہ اختیار، حیات بعد الموت، کائنات کے اخلاقی نظام ہونے اور خدا کی ہستی کا علمِ مدلل نہ بھی حاصل ہو سکے تو ان حقائق کو ماننا اس لئے ضروری ہے کہ ہمارا اخلاقی نصب العین ان حقائق پر یقین کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ ولیم جیمز اور جان ڈیوی کا مؤقف یہ ہے کہ محض حواس ذریعہِ علم ہیں اور صرف محسوسات حقیقت ہیں اور اختیار، حیات بعد الموت اور خدا کی ہستی کی نسبت ان دونوں کا مؤقف یہ ہے کہ اگر یہ حقیقت نہ بھی ہوں تو ان کا ماننا اخلاق پر اچھا اثر رکھتا ہے۔ اس لئے انہیں تسلیم کرنا درکار ہے اور ان کا مفید ہونا ہی ان کا حقیقت ہونا ہے۔ اس کا نام ولیم جیمز اور جان ڈیوی کے فلسفے میں (Pragamatism) استنتاجیت ہے۔

قرآن مجید کو ہم نے ماقبل مصحف کی تمثیل پر قیاس کیا ہے اور ہماری نظر صرف مابہ الاشتراک پر ہے مابہ الامتیاز پر نہیں ہے۔ اگر قرآن مجید آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کو یوں مخاطب کرے ’’ماقدری ماالکتاب‘‘ تو ہمیں توریت و زنبور و انجیل سے کچھ زیادہ قرآن مجید میں تلاش کرنا چاہیے۔ اور وہ اس سوال کا حل ہے کہ جس سے قرآن مجید کا خاتم الوحی ہونا ثابت ہو۔ اور وہ سوال یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ اور نیکی کیا ہے؟ بلکہ وہ اس سوال کا جواب ہے کہ حقیقت کے بارے میں رسوخ فی الایمان کیسے میسر آئے اور فضائلِ اخلاق پر استقامت کیسے نصیب ہوگی؟ اس کے بغیر ہم نئی بعثت کی احتیاج سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔  فلسفیانہ نظریات کا مسئلہ یہ نہیں کہ حقیقت کیا ہے؟ بلکہ حقیقت کو حقیقت تسلیم کرنے کی دلیل کیا ہے؟ اور ہر فلسفے پر اس کے غور و فکر کے طریقے سے کچھ قیود عائد ہوتی ہیں جن کی وجہ سے نتائج غلط ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں ترتیب یہ نہیں کہ پہلے ایک نظریہ قائم کیا جائے اور پھر اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ اس طرح نظریے کے مطابق عمل کو ڈھالنے سے واقعی (Actual) اور معیاری (Ideal) کے درمیان جو فرق ہے وہ مٹتا نہیں اور جب اس میں کامیابی نہ ہو تو شکست خوردگی کا احساس مثبتیت (Positivism) تک پہنچا دیتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فضائل کا انکار کر کے صرف واقعات پر اصرار باقی رہ جاتا ہے۔

قرآن مجید صرف نصب العین مہیا نہیں کرتابلکہ نصب العین کے مطابق زندگی کو ڈھالنے کے لئے نفسیاتی محرک (Psychological Derive) بھی مہیا کرتا ہے۔ مگر جب سے ہم نے دینِ کامل کے تصور کو مسخ کر کے اسے چند مابعد الطبیعی عقائد، چند اخلاقی اسباق، چند تمدنی ضوابط، چند معاشرتی اصولوں، چند عدالتی قوانین اور رسوم و ظواہر میں محدود کر لیا ہے، پسندیدہ نتائج کے پیدا ہونے کا اعتماد زائل ہو گیا ہے۔ دین کا تصور ایک اخلاقی ضابطے کے علاوہ اور اور کچھ نہیں رہ گیا، کیونکہ جب سے یہ اخلاقی ضابطہ قوتِ نافذہ کی پشت پناہی سے محروم ہوا ہے، اس کی حیثیت فقہی ضابطہِ حیات کی بھی باقی نہیں رہی۔ یہ دراصل اسلام کی تعلیمات کو ادیانِ سابقہ کی تمثیل پر قیاس کرنے کا اثر ہے کہ وہ محض اوامرونواہی سمجھا جاتا ہے، جس پر صحیح صحیح عمل ہونے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

اگر قرآنی علم و ہدایت کی حیثیت صرف اوامرونواہی کے وعظ کی مقصود ہو تو اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا اخلاقی انقلاب کیا تھا، صرف صحابہِ کرام کے فضائلِ اخلاق کے قصّے باقی رہ جائیں گے، زندگی عملاً سیکولرزم کے نمونے پر ڈھل جائے گی۔ زندگی کے تمام مسائل کسی اور مروجہ تدبیر سے حل ہو رہے ہوں گے۔ اور مذہبی زندگی کی صرف آرزو رہ جائے گی جو واقعہ نہ بن سکے تو اس علم و ہدایت کی صحت کا یقین کیسے پیدا ہو گا۔

قرآن مجید سے جس علم و ہدایت کی ہمیں توقع کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید جو نتائج پیدا کرنا چاہتا ہے ان کے پیدا ہونے کی کوئی ضمانت ہے یا نہیں۔ اگر’’ یظہرہُ علی الدینِ کلہ ولو کرہَ المشرکین‘‘ کے حتماً پورا ہونے کی ضمانت نہ ہو تو پھر ہمارے پاس کچھ یقین کرنے کے لئے ہے نہ تلقین کرنے کے لئے۔ اور ہدایت رہنمائی نہیں، ایصال الی المطلوب کا نام ہدایت ہے۔

اس لئے قرآن مجید سے جو علم حاصل ہونا چاہیے وہ اس سوال کا جواب ہے کہ قرآن مجید زندگی میں جو انقلاب لانا چاہتا ہے اس پر صبر و استقامت سے جدوجہد کرنے اور اس ہمہ گیر انقلاب کو واقعہ بنانے کی ضمانت کس طریقِ کار میں ہے۔ اور صرف وہی طرقِ کار اسوۂِ مبارک ہے جس کی پیروی سے وہی سیرت پیدا ہو جو صحابہِ کرام میں ہوئی اور ایک بار انقلابِ سیرت کے بعد انحراف نا ممکن ہو جائے۔ نظریات سب نکاتِ بعد الوقوع ہیں۔ آپ یہ خط پڑھ کر میرا نقطہِ نظر سمجھ لیں اور پھر فرمائیں تو میں قرآن نمبر کے لئے اپنی پسند کا ایک مضمون بھیج دوں گا۔
امید ہے آپ مع الخیر ہوں گے۔  مخلص برہان احمد فاروقی‘‘

ڈاکٹر صاحب اپنے افکار و تصورات پر مفاہمت نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ کچھ عرصے کے بعد اس طرح کی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں کہ ان کے مولانا فضل الرحمٰن سے بھی اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ انجامِ کار ڈاکٹر صاحب واپس لاہور آگئے اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہِ اسلامیات سے بطور وزٹنگ پروفیسر وابستہ ہو گئے۔ میں اب ایم اے اردو کے بعد پنجاب یونورسٹی کے شعبہِ عمرانیات میں داخلہ لے چکا تھا۔ گاہے گاہے ڈاکٹر صاحب سے ان کے گھر پر یا شعبہِ اسلامیات میں ملاقات کے لئے حاضر ہو جاتا۔ کبھی کبھی یوسف اختر صدیقی اور میں اکٹھے حاضر ہوتے۔ میں ستمبر ۱۹۷۰ میں کینٹ کالج برائے طلبہ میں لیکچرار ہو کر واہ کینٹ آ گیا۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد اطلاع ملی کہ یوسف اختر صدیقی صاحب نے ایک دوست کے ساتھ مل کر’’ ہجرہ انٹر نیشنل‘‘ کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ کھول لیا ہے اور ڈاکٹر صاحب روزانہ وہاں تشریف لاتے ہیں۔ میں جب بھی لاہور جاتا میاں چیمبرز میں ہجرہ انٹر نیشنل کے دفتر ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا۔ میں نے دیکھا کہ یوسف صاحب ڈاکٹر صاحب کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے گھر سے خاص طور پر کھانا بنوا کر لاتے ہیں اور انہوں نے یہ اہتمام کر رکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اطمینان سے اپنا لکھنے پڑھنے کا کام کرتے رہیں۔ میں ا ۱۹۷۲ میں شادی کے بعد میں راولپنڈی منتقل ہو گیا اور پھر سات سال تک تدریسی فرائض سر انجام دینے کے لئے واہ کینٹ جاتا رہا۔ ۱۹۷۹ میں میرا تبادلہ ایف جی سر سید کالج مال روڈ راولپنڈی میں ہو گیا اور روزانہ واہ آنے جانے کے معمول سے نجات مل گئی۔ ہم علاقہ آر۔ اے بازار کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر تھے۔ اسی کی دہائی میں ڈاکٹر صاحب جب اپنے بیٹے کے ہمراہ صدارتی ایوارڈ وصول کرنے اسلام آباد تشریف لائے تو انہوں نے ہمارے غریب خانے کو اپنے دو روزہ مختصر قیام کا شرف بخشا۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اگلے دن سہ پہر کے وقت اپنے قریبی دوستوں کو ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لئے چائے پر مدعو کر لیا۔ تشریف لانے والوں میں شفیع ضامن مرحوم، یوسف حسن مرحوم اور ڈاکٹر نوازش علی شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ایک طویل نشست ہوئی۔ ہم نے ادب اور تاریخ و تہذیب کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب سے متعدد استفسارات کئے۔ میں نے اس نشست کی پوری ریکارڈنگ بھی کیسٹ میں محفوظ کر لی تھی جسے اپنی کاہلی کی وجہ سے آج تک کاغذپر نہیں اتار سکا۔

میرا پہلا مجموعہ ’’خواب دریچہ‘‘ یوسف اختر صدیقی صاحب کے اشاعتی ادارے ’’ہجرہ انٹر نیشنل‘‘ ہی سے شائع ہوا تھا۔ میں نے اس کا انتساب اپنے دونوں بیٹوں ثوبان جلیل، میزان جلیل اور اپنی بیگم حسینہ جلیل کے نام کیا۔ مگر اصل ناموں کی بجائے پیار سے رکھے ہوئے نام درج کئے۔ لکھا

’’ اچھے ثوبی پیارے میزو اور اپنی مانا کے نام‘‘

ڈاکٹر صاحب نے ایک لفافے پر تینوں مختصر نام لکھ کر اس میں اس زمانے کا پانچ سو کا نوٹ ڈالا اور یہ کہہ کر لفافہ مجھے تھما دیا کہ یہ بچوں کے لئے ہے۔ بیگم نے برکت کے خیال سے وہ لفافہ کہیں ایسا سنبھال کر رکھ دیا کہ آج تک نہیں مل سکا۔ ہم میاں بیوی اس بات کا بھی لطف لیتے رہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے شعری مجموعے پر درج انتساب سے ’’ مانا‘‘ کو ہماری کوئی بیٹی تصور کیا ہے جو ہماری قسمت میں تھی ہی نہیں۔

جب سے ہم ڈاکٹر صاحب کی شاگردی میں آئے ہم نے دیکھا کہ وہ ساری عمر اسلامیہ پارک کے ایک چھوٹے سے خستہ حال مکان میں ہی رہائش پذیر رہے۔ ہمیں بارہا گھر پر بھی ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ ان کی علالت کے دنوں بھی کئی بار راولپنڈی سے بیمار پرسی کے لئے جانا ہوا۔ انہوں نے زندگی کی راحتوں سے بے نیاز ایک درویشانہ زندگی بسر کی۔ آخری ایّام میں جب ان کی بیمار پرسی کے لئے میں یوسف صاحب کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضرہوا تو دیکھا کہ ان کے بستر پر کثرت سے چیونٹیاں ادھراُدھر آجارہی ہیں۔ میں نے گزارش کی کہ سر ہم چارپائی کے پائیوں کے نیچے پانی سے بھری رکابیاں رکھ دیتے ہیں تاکہ چیونٹیاں بستر پرنہ چڑھ پائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے منع کر دیا اور ہماری تسلی کے لئے نہایت اطمینان سے ارشاد فرمایا کہ یہ مجھے کچھ نہیں کہتیں۔ میں نے محسوس کیا کہ شاید چیونٹیاں ہم سے زیادہ ڈاکٹر صاحب کی مرتبہ شناس ہیں۔ عقیدت و محبت میں ان کے قریب آتی ہیں اور احترا م کے باعث انہیں کچھ نہیں کہتیں۔ میرے راولپنڈی واپس آنے کے چند روز بعد ہی ڈاکٹرصاحب کی وفات کی خبر پہنچ گئی۔ ڈاکٹر صاحب کو رخصت ہوئے ایک مدت بیت گئی ہے مگرمیں آج بھی سوچتا ہوں کہ ان کی جدائی کا دکھ ہم نے زیادہ محسوس کیا ہو گا یا ان کی عقیدت مند چیونٹیوں نے۔

ختم شد

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اللہ اکبر واللہ الحمد۔ ایک ایک سطر پررونگٹے کھڑے ہوتے رہے۔ بہت دھیان اور توجہ سے پڑھا اور جگہ جگہ بوجہ لطف و سرشاری بار بار رک کر دوبارہ پیچھے سے پڑھا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹرصاحب کو جنت الفردوس میں بلند مقام سے نوازے۔ آمین

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20