جہان گم گشتہ: تاریخی دستاویز ——– محمد تیمور

0

نگہت سلیم کا شمار جدید دور کے اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ ایک اہم موضوع پہ جس پر بہت کم لکھا گیا ہے نگہت سلیم نے بڑی جرات مندی سے اس پر قلم اٹھایا ہے 47 کی تقسیم کے بعد یہ دوسرا سانحہ تھا جس میں خون کی ہولی کھیلی گئی عورتوں کے عصمت دری کی گئی بچوں کے گلے کاٹے گئے قتل وغارت کی شرم ناک داستان رقم ہوئی انسانیت کی تذلیل کی گئی  اس کے پیچھے  نااہل سیاست دان مفاد پرست جو بدترین جرائم میں ملوث  ان کی شرم ناک اور خود غرضانہ  غیر منصفانہ سیاست سربراہ مملکت کی نااہلیت شراب نوشی ان کے ارد گرد غیرملکی  آلہ کار عورتوں سے تعلق  ان لوگوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مشرقی پاکستان کی تقسیم میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی نااہلی سے کفار کے مرحلے آسان کیے  اور فوج کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ان لوگوں کو غدار اور مہاجر قرار دیا گیا جنہوں نے پاکستان کے قیام میں اپنا تن من لگاکہ اپنے عزیزوں کی لاشوں پر تیرتے ہوئے اس خطہ میں پہنچے تھے لیکن مغربی پاکستان کے مسلمانوں نے ان پر کبھی اعتبار نہیں کیا انھیں تمسخر کا نشانہ بنایا گیا ان کے رنگ، قد پر پھبتی کسی جاتی انھیں فوج میں بھرتی ہونے کے لائق نہیں سمجھا جاتا تھا  بنگالیوں کی ذہانت اور فطانت کو بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا  وہ محنت کش تھے لیکن مغربی پاکستان میں ان کو مساوی درجہ دینے کی بجائے ان پر حاوی ہونے کی کوشش کی گئی وہ ہمارے تھے لیکن ہم ان کے نہ بن سکے بلا آخر وہ بھارت کے پھندے میں پھنس گئے بھارت نے ان کے زخم پر نمک کا کام کیا اور وہ بلاآخر بنگلہ دیش کے قیام میں کامیاب ہو گیا بھارت میں ہجرت کرنے والے بنگالیوں کو بھارت نے سہارا دیا اور عسکری تربیت اور اسلحہ دیا اصل میں تیس سالوں سےوہ محکوم تھے اور مغربی پاکستان کے عوام ان کو ان کی اکثریت کی وجہ سے ان کو حکمران بنتے دیکھنا نہیں چاہتے تھے  اس لیے ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا گیا۔

ناول کا مرکزی کردار نور الہی ہے   جس کے پورے خاندان کو تقسیم کے وقت جس میں اس کی بہن اور منگیتر بھی تھی  بے دردی سے قتل کیا گیا۔ صحفہ نمبر 216

مچھلی کا سرخ پانی آہستہ آہستہ پتھر کی سل پر ٹپک رہا تھا  بالکل ایسے جیسے ٹوکے سے کٹی ہوئی انسانی گردنوں سے خون ٹپکتا ہے وہی خون جو اس کے ددھیالی رشتہ داروں کا تھا جن میں بیلا بھی شامل تھی اس کے چچا کی بیٹی اور اس کی بچپن کی منگیتر، ۔۔۔۔بیلے کے پھول کی طرح نازک اور پاکیزہ  اس کے پڑوسی نے بتایا کہ مکتی باہنی بہت سے مردوں عورتوں اور بچوں کو ہنکالتے ہوئے جنگل میں بنی بانس کی جھونپڑیوں کی طرف لے آے تھے وہ باری باری ان کے سر دو لکڑیوں کے بیچ رکھ کے ٹوکے سے کاٹ دیتے عورتوں کو اسی کھلی جگہ پر بےآبرو کر کہ چاقو گھونپ دیتے  خادم نے لمبے دستے والے چاقو کو غور سے دیکھا اور تصور کیا اس چاقو کا جو بیلا کے پیٹ میں گھونپا گیا ہوگا  اس نے سوچھا آپا کو مارنے سے پہلے انھوں نےاس کے گرد گھیرا ڈالا تھا جیسے بھیڑیے اپنے شکار کو نوچنے سے پہلے اسے گھیرتے ہیں کیا اسی طرح بیلا کے گرد بھی انھوں نے گھیرا ڈالا ہو گا؟

نور الہی کا باپ  تقسیم کے بعد پاکستانی ہونے کی شناخت کے لیے پھرتا رہا لیکن اس کو پاکستانی شناخت نہ مل سکی  نور الہی تقسیم بنگال کے بعد جب تنہا رہ جاتا ہے اور  حادم نام سے شب افروز کے ملازمت کرتا ہے ناول میں اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب خادم کو پتہ چلتا ہے کہ شب افروز اور کرنل جلال ان لوگوں کے آلہ کار بنے ہوئے تھے جنھوں نے قتل وغارت کا بازار گرم کر رکھا تھا وہ ایک دم خادم سے نور الہی بن جاتا ہے اور اپنے خاندان کا بدلہ لینے کے لئے ان دونوں کو قتل کر دیتا ہے.  شپ افرور ان بارہ عورتوں میں سے تھی جھنوں نے  اس ملک کو زلت کے کنویں میں دھکیلنے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا  وہ سرکاری قحبہ خانے کی ان عورتوں میں سے تھی جو سربراہ مملکت کے بہت قریب تھیں وہ ایک اَلہ کار تھی جو ان کے اشاروں کی غلام تھی جن کے لیے سرکاری مراعات اور ریاست کے خزانے کے منہ کھلے تھے  کرنل جلال جو اپنے منصب سے ہٹ کر غیر ملکی آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتا رہا اور فوجی اور قومی راز دشمن کو بیچتا رہا مصنفہ نے ان دونوں کرداروں کو مردار کھانے والے گدھ سے تعبیر کیا ہے۔

جہاں گم گشتہ کو مصنفہ نے  باریک مشاہدہ کے بعد تخلیق کیا ہے اس کا اسلوب نہایت سادہ ہے ناولٹ کے کردار جاندار ہیں یہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا یے  اردو فکشن میں جب بھی تقسیم بنگال کا ذکر ہو گا  جہاں گم گشتہ اس شامل نہ کیے بغیر  اس کی تاریخ نامکمل ہو گی۔

جہاں گم گشتہ الطارق پبلی کیشنز کراچی نے شاہع کیا ہے اور اشرف بک ایجنسی راولپنڈی میں دست یاب ہےاسکی قیمت 500 روپے ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20