’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن —— باب چھٹا، حصہ 3

0

ابوالقاسم: سرجری کا باوا

اندلس کے شہر مدینہ ازہرہ میں ایک خاتون کے گھر ولادت ہوئی۔ یہ 1005 کا سال تھا۔ گرمیوں کے چمکتے سورج کی کرنوں میں وہ کھڑکی سے باہر قدرے فاصلہ پر شہر قرطبہ کے خط وخال دیکھ رہی تھی۔ وہ ڈری ہوئی تھی کہ اس شاندار شہر کا یہ نظارہ زندگی کا آخری منظر نہ ہو! اُس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اُسے یہ دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ اُس کا نومولود زندہ بچتا ہے یا نہیں۔ زندگی کے بیس سنہرے سالوں میں جن شاہانہ تجربات سے وہ گزری، کہیں اُس کا بچہ ُان سے محروم نہ رہ جائے۔ وہ اموی شاہی خانوادہ سے متعلق تھی۔ ہشام دوئم کی لونڈی تھی۔ وہ مہینوں سوچتی رہی تھی کہ اگر اُس کے گھر لڑکا پیدا ہوا توکیا وہ کبھی امیر بن پائے گا؟

اس زچگی کی طبی ذمے داری الزہراوی پر عائد ہوئی، وہ بہت مشقت اور مہارت سے کام لے رہا تھا۔ اس ماہر obstetricianکوسوسال تک یورپ میں Albucasis کے نام سے جانا گیا۔ دواسازی پر اُس کی عظیم تصنیف ’’التصریف‘‘ کا لاطینی میں ترجمہ ہوا۔ الزہراوی نے جراحی کے آلہ کلاب کی مدد سے اُس بچہ کی دنیا میں آمد ممکن بنائی، یہ آلہ کلاب forcepsاُس کی اپنی ایجاد تھا، جس سے طویل عرصہ مغربی دنیا نے استفادہ۔ ابن سینا سے ڈھائی ہزار میل دوریہ ہمعصرعرب جراح جدید سرجری کا باوا کہلایا۔

الزہراوی مدینہ ازہرہ کی تعمیر کے دوسال بعد پیدا ہوا تھا، یہ 936 کا سن تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اموی امیر عبدالرحمان سوم نے پراعتماد انداز میں دعوٰی خلافت کیا۔ یہی وہ عہد بھی تھا کہ جب عباسی شان وشوکت برائے نام رہ گئی تھی، اورفاطمی حکمران مشرق وسطٰی سے شمالی افریقا تک نئی سلطنت مستحکم کررہے تھے۔ .

یہ اندلسی ماہر جراح اور گائنا کولوجسٹ، ماہر دندان ساز، اور دواساز بھی تھا۔ یہ سارے علوم اُس نے تیس جلدوں پر مبنی ضخیم کتاب میں محفوظ کیے۔ تاہم یہ پیچیدہ اورپیشہ ورانہ اصطلاحات سے بھرپور تھے، تین صدیوں تک یورپی مترجمین کئی ٹکڑوں اور اجزاء میں اس کا ترجمہ کرتے رہے، اسے لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں منتقل کیا گیا۔

ابھی جب کہ پلاسٹک سرجری کی تکنیک انسانی دسترس سے 950سال دوری پر تھی، الزہروای واضح خطوط پر چارکول کوئلے اور scalpel(آلہ جراحی) سے کام لے رہا تھا، یہ سرجری کاآلہ اُس کی اپنی ایجاد تھا۔ وہ بڑی تیزی سے اضافی چربی جسم سے الگ کردیتا تھا، خون کے بہاؤ کوروکنے کے لیے منہ سے کھائی جانے والی دوائیں استعمال کرتا، اور خوبی سے کٹاؤ کی سلائی کردیتا تھا۔ خلیفہ کے ایک مشیر کو گردے میں پتھری کی شکایت ہوئی، درد کے مارے کسی سے سنبھالا نہ جاتا تھا، الزہروای نے اُسے سکون بخش دوا دی، اور چاندی کی باریک تار مثانے کے رستے گردے تک پہنچائی، اس تار کے سرے پر نکتہ برابر ہیرا لگا ہوا تھا، جس نے پتھری ریزہ ریزہ کردی۔ مریض کی آہ وبکا دھیرے دھیرے ختم ہوگئی۔ مریض نے معالج پر سونے کے سکے نچھاور کردیے۔

الزہروای وہ پہلا طبیب تھا جس نے hemophilia کی وضاحت کی، hydrocephalus(دماغ کے پردوں میں پانی آجانے) کے مرض کی تشخیص کی۔ مگر وہ اب تک کے کام کو کافی نہیں سمجھتا تھا۔ یہ وہ پہلا معالج تھا جس نے عارضہ قلب کا مؤثر علم العلاج پیش کیا، قبض کا علاج کیا، صحت بخش خوراک کا تعین کیا، ادویات میں اجزا کی درست پیمائش کی۔ اُس نے زخموں کی دیکھ بھال، اورٹوٹی ہڈیوں کی اقسام اور علاج پرتفصیل سے لکھا۔

اُس نے کئی تجرباتی طریقے وضع کیے، جیسے جانوروں کی آنتیں، اون، اور ریشم کا زخموں کے ٹانکوں میں استعمال کیا۔ پیشب کی نالی میں حائل رکاوٹوں کودورکرنے کے طبی طریقوں پرعمدہ کام کیا۔ الزہروای ایک بہترین دندان سازبھی تھا، کئی ایسے کام کیے جوجدید orthodontia تک رائج ہیں۔ زچگی کی بہترین حالت الزہروای نے واضح کی، مگریہ کارنامہ انیسویں صدی کے جرمن ڈاکٹرWalcher کے نام کردیا گیا۔ الزہراوی نے دوسو سے زائد طبی آلات ایجاد کیے، جن میں سے اکثراُس نے ذاتی طورپرڈیزائن کیے، ان میں سے کئی معمولی تبدیلی کے بعد ہزار سال تک استعمال کیے گئے۔ اُس کی چار ایجادات میں obstetrical forceps، کان اور مثانے میں استعمال ہونے والے آلات، اور حلق کی صفائی اور سرجری سے متعلق آلات شامل ہیں۔ اب جب کہ الزہراوی کی عمر اور قوت جواب دے رہی تھی، یہ سب کچھ اُسے ناکافی دکھائی دیتا تھا۔ اُس کی نظر اپنی کامیابیوں پر نہیں بلکہ ناکامیوں پرتھی۔ وہ مدینہ ازہرہ کی اداس شاموں میں سوچا کرتا کہ انسانی زندگی کس قدر ناپائیدار ہے اورانسان کے ذمہ کس قدر اہم کام ہیں۔ وہ سوچتا تھا کہ اُس کے بعد نہ جانے علم طب اور مریضوں پرکیا گزرے گی؟

چند ہی سالوں میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ نے وہ تباہی مچائی، کہ الزہروای کی نگاہوں کے سامنے عظیم کتب خانے راکھ ہوگئے۔ بہت سارے عزیز الزہراوی کی آنکھوں کے سامنے تہ تیغ کردیے گئے۔ دوسوپچاس سال سے قائم اموی خلافت رو بہ زوال ہوئی، اور اس کے ساتھ ہی الزہراوی نے بھی داعی اجل کو لبیک کہدیا۔

زبانی کہانیوں سے قطع نظر، الزہروای کی ذاتی زندگی کے بارے میں کچھ سامنے نہیں آسکا، کہ آیا وہ کس مزاج کا آدمی تھا، کتنی بیویاں اور کتنے بچے تھے، اوراُس کی شکل صورت کیسی تھی، اوریہ کہ فارغ اوقات میں اُس کے کیا مشاغل تھے؟ اُس کے دوست کون تھے؟ اور کتنی جائیداد تھی؟

سب کچھ جدید پہاڑی سلسلہ Sierra Morenaتلے خاک ہوچکا تھا، ایک عظیم علمی وتہذیبی ورثہ تاریخ میں گُم ہوچکا تھا۔ جو کچھ بچا تھا، وہ بس الزہراوی کی دستی کتب کا ایک مجموعہ The Method ofMedicine’’کتاب التصریف لمن عجز عن التألیف‘‘تھا، جو ایک عرصہ تک ذاتی ملکیت میں بے مصرف رہا، اور پھرسو سال بعدایک اطالوی پادری کے ہاتھ لگا، اور اُس نے سوچا کہ شاید شمال کے عیسائیوں کے کچھ کام آسکے!

(جاری ہے)

باب چھٹا، حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20