تعلیم اور انسان کے تعصبات —– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

تعلیم کے متعلق بعض تصورات جس قدر عام ہیں اتنے ہی غلط ہیں۔ مثلاًیہ کہا جاتا ہے تعلیم انسان کے تعصبات کو مٹاتی ہے۔ مگر تعصبات تو دور کی بات ہے تعلیم تو بڑی حد تک توّہمات مٹانے میں بھی عملاً ناکام نظر آتی ہے۔ مگر یہ دعویٰ دلیل کا طالب ہے۔ اِس حوالے سے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ میرے ایک ہم جماعت نے ’ایم اے‘ سے ’پی ایچ ڈی‘ تک میرے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ یہ کل ملا کرسات سال کا طویل عرصہ ہے۔ اس دوران تقریباً چارسال تک ہم نے روز دوپہر کا کھانا ساتھ کھایا۔ ہماری روزانہ کم از کم دو گھنٹے گفتگو ہوتی۔ اُس گفتگو میں ایک دوسرے کے گھر کی باتیں بھی ہوتیں۔ وہ میرے گھر کے لوگوں کو نام سے پہچانتا تھا اور میں اسکے اہل خانہ کے نام اور انکے عادات و اطوار سے واقف تھا۔ لمبے عرصے تک کی دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اُسکے اہل خانہ گاؤں میں رہتے تھے اور وہ چند رشتیداروں لڑکوں کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں رہ کر کراچی میں پڑھائی کر رہا تھا۔ اُس سات سال کے عرصے میں میں نے اپنے اس دوست کی والدہ، دو بھائیوں اور ایک بہن کے بارے میں بہت سنا۔ یہی اسکا کل کنبہ تھا۔

خیر وہ تعلیم مکمل کرکے کراچی سے رخصت ہوا اور اُس بات کو دو سال گزر گئے۔ ایک روس شام کو میرے دفتر کے ایک صاحب نے بتایا کہ میرے مذکورہ دوست کا ایک بھائی ایک دستاویز کی نقل کی تصدیق کروانے آیا ہے۔ میں نے فوراً اُسے بلوایا۔ وہ ایک بیس یا بائیس سال سال کا نوجوان تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ اپنے دوست کے جن دو بھائیوں سے میں واقف تھا وہ دونوں عمر میں اُس سے بڑے، شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے۔ جبکہ یہ لڑکا تو خود بچہ معلوم ہورہا تھا۔ شکل بالکل میرے د وست جیسی ہی تھی اسلئے یہ تو طے تھا کہ وہ تھا تو اُسکا بھائی ہی۔ میں اُس لڑکے سے بہت تپاک سے ملا۔ اُس سے پوچھا کہ وہ کب کراچی آیا اور اُسکا نام کیا ہے۔ اُس نے بتایا کہ وہ تو پچھلے پانچ سال سے کراچی میں ہی ہے۔ میں نے حیرت سے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ میرے دوست کا سگا بھائی ہی ہے؟ وہ بیچارہ گھبرا گیا اور بولا کہ وہ سگا بھائی ہی ہے اور مجھے اپنے بھائی کے توسط سے اچھی طرح جانتا ہے۔ اُس نے بتایا کہ وہ لوگ کل ملا کر چھ بھائی ہیں اور انکی ایک بہن ہے۔ اُس سے چھوٹا بھی ایک بھائی ہے جو کہ لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

یہ انکشاف مجھ پر ایک حیرت کا پہاڑ بن کر ٹوٹا۔ سمجھ نہیں آیا کہ جس شخص سے اتنے سال سے اتنی اچھی دوستی ہے وہ اپنے تین چھوٹے بھائیوں کو مستقل مجھ سے اور اپنے باقی تمام احباب سے راز کیوں بنائے رہا؟ میں نے اُس لڑکے کے جانے کے فوراً بعد اپنے دوست کو فون کیا اور اُس سے پوچھا کہ کیا واقعی اُسکے تین اور بھائی بھی ہیں؟ وہ یہ سوال سن کر گھبرا گیا اور بولا کہ ابھی وہ گاڑی چلا رہا ہے کسی جگہ پہنچ کر فون کرے گا۔ تھوڑی دیر بعد اسکا ایک کھسیایا سا فون آیا۔ وہ بولا کہ وہ کل چھے بھائی ہیں مگر وہ سب کو بھائیوں کی تعداد تین بتاتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ تو اُس نے ہچکچاتے ہوا کہا کہ دراصل چھے بھائی بتانے سے نظر لگ سکتی ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص جو کہ طبی نفسیات میں پی ایچ ڈی کی سند رکھتا ہے وہ اِس قدر توّہم پرست ہے!سوچئے اور غور کیجئے۔ ایک زمانے میں تو ہر گھرانے میں ہی درجن بھر بچے ہوتے ہی تھے۔ اُن میں کسی گھر میں زیادہ بیٹے ہوتے تھے تو کسی گھر میں زیادہ بیٹیاں۔ زمانہ جاہلیت کی طرح ہمارے سماج میں بھی بیٹی کی پیدائش پر لوگوں کہ منہ لٹک جاتے ہیں اور بیٹے کی پیدائش پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں مگر میں نے اپنی زندگی میں یہ کبھی نہ دیکھا نہ سنا کہ کسی نے اپنے بھائیوں کی تعداد محض نظر لگنے کے ڈر سے دنیا سے یوں چھپائی ہو۔ اور چلئے اگر کوئی چھپاتا بھی ہوگا تو شائد انجان لوگوں سے مگر اپنے ایسے دوست سے یہ بات چھپانا کہ جس سے روزانہ کی ملاقات ہو بہت عجیب بات ہے۔ اپنے تین بھائیوں کو دنیا سے راز بنائے رکھنے والا یہ شخص عرف عام میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے مگر اسکی توّہم پرستی کتابی مثال کا درجہ رکھتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم توّہمات نہیں مٹا سکی تو تعصبات کیا مٹائے گی؟

پھر لسانی، مذہبی، مسلکی، قومی اور ذات پات کے تعصبات ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ اپنی ایک سینئر خاتون سے (جو کہ سوات سے تعلق رکھتی تھیں) پوچھا کہ کیا وہ کوہستانی ہیں تو وہ جلال میں آگئیں۔ اس سوال پر گفتگو کا سارا اچھا ماحول غارت ہوگیا اور وہ جلال میں بولیں ”کیا میں آپکو ایسی لگتی ہوں؟“ حیرت کی بات ہے کہ یہ موصوفہ بھی پی ایچ ڈی کی طالبہ تھیں اوروہ اپنے ہی علاقے میں بسنے والی ایک قوم کو انسان سے کمتر کچھ سمجھتی تھیں۔

اگر تعلیم انسانی تعصبات کو کم یا ختم کرتی تو جامعات یوں لسانی، مسلکی اور قوم پرست طلبہ تنظیموں کے گڑھ نہ ہوتیں۔ چند سال قبل جس قسم کی گندی لسانی جھڑپیں اسلام آباد کی قائد اعظم یونورسٹی میں ہوئیں اُن سے سب ہی واقف ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ طلبہ آپس میں لڑ رہے تھے۔ افسوس کا مقام تو دراصل یہ ہے کہ وہ جس جامعہ کے طلبہ ہیں وہ ملک کی سب سے اعلیٰ جامعہ قرار دی جاتی ہے۔ اور یہی حال کم و بیش ملک کی تمام ہی جامعات کا ہے۔ جامعہ کراچی میں کئی مرتبہ یوم حسین اور یوم فاروق اعظم پر کشیدہ صورتحال ہوچکی ہے۔ ہر فرقے کو اپنے مسلک کی مسجد بھی جامعات میں بنوانے کا شوق ہے حالانکہ کسی بھی مسجد میں نمازیوں کی حاضری بھی محض واجبی سی ہی ہوتی ہے۔ حیرت کی بات ہے تعلیم یافتہ لوگ جامعہ میں ایک ہی مسجد میں نماز کیوں نہیں ادا کرسکتے؟ اگر دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے نماز پرھنے میں اعتراض ہے تو انفرادی نماز بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ مگر تعلیم تعصبات کو کیا ختم کرے گی جب تعلیمی ادارے مسلکی اور لسانی گروہ بندیوں کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اساتذہ کی گروہ بندیاں بھی انہیں تعصبات پر مبنی ہیں۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اپنی نہاد میں صریحاً ناکام ہے اسلئے کہ وہ کسی قسم کی سوچ کو جنم نہیں دیتا۔ بلکہ سوچ کو جنم دینا تو دور کی بات کسی کو اپنی سوچ پر ہی غور کرنے کی بھی تحریک پیدا نہیں کرتا۔ جو اِس تعلیمی نظام سے استفادہ کرتا ہے وہ ویسا کا ویسا ہی اس سے باہر نکل آتا ہے۔ بس اوپر سے تھوڑی سی قلعی، تھوڑی سی ملمع کاری ہوجاتی ہے۔ اندر سے لوگ ٹھوٹ جاہل ہی رہتے ہیں۔ علم ہمارے وجود کی تہوں میں جذب ہوتا ہی نہیں وہ بس ایک ماسک کی طرح ہمارے چہرے پر چپک جاتا ہے۔ اسکے نیچے ہمارا چہرہ ویسا کا ویسا ہی رہتا ہے۔ یہ چہرہ بدلے گا تو کیا صحیح سے چھپتا بھی نہیں۔ لوگ قبل از اسلام دور کے اپنے تعصبات بھی سینے سے چپکائے ہوئے ’بی اے‘، ’ایم اے‘، ’ایم فل‘، ’پی ایچ ڈی‘، ’انجنئیر‘، ’سی اے‘، ’ایم بی اے‘ اور نجانے کیا کیا کچھ بن جاتے ہیں۔ پھر اُن ہی لوگوں کو بڑے فخر سے قوم کا مستقبل کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ تالیوں کا مقام ہے یا گالیوں کا؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20