فکر غزالی: اسلام کا مقدمہ ——– ڈاکٹر غلام شبیر

1

یہ مضمون فکر غزالی کا جامع مرقع ہی نہیں، درحقیقت اسلام کا مقدمہ ہے۔ سنجیدہ فکر حضرات کیلئے یہ کثیرالجہت تحریر ہے۔ فکر اسلامی کے تاریخی ارتقاء کا بھرپور مقدمہ اور مروجہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتاہے۔ امام غزالی بین المسالک ہی نہیں بین المذاہب عظیم قد کی حامل شخصیت ہیں۔ مغربی نشاۃ ثانیہ میں ان کی فکر عظیم کا گراں قدر حصہ ہے۔ یہودی اور عیسائی علم الٰہیات کی تشکیل بھی آپ کے فکری کارنامے سے مستعار ہے۔ مقاصدالشریعہ مکتبہ فکر کے بانی ہیں۔ روایت، تعقل پسندی اور بصیرت کا نامیاتی ملاپ غزالی فکریات کا جزو لاینفک ہے۔ اس قدرے طویل مضمون سے استفادہ کرنا ہے تو رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو۔۔۔۔

برصغیر کے پہلے مسلم گریجویٹ سید امیر علی نے اپنی کتاب “اسپرٹ آف اسلام” میں لکھا کہ “اگرملت اسلامیہ میں امام غزالی اور امام ابوالحسن الاشعری نہ ہوتے تو نیوٹن اور گلیلیو ملت اسلامیہ میں جنم لیتے”۔ یہ جملہ طرح مصرعہ بن گیا ہے اور ایسی محفل مشاعرہ برپاہے کہ “نے ہاتھ ہے لگام پرنہ پا ہے رکاب میں”۔ سیکولر اشرافیہ کیلئے علمی دھاک بٹھانے کا یہ تیربہ ہدف نسخہ ہے۔ ہود بھائی ایسا کہتے یا لکھتے ہیں تو صبر آہی جاتا ہے، ماہر طبیعات سے یہی امید کی جاسکتی ہے۔ مکرمی خورشید ندیم ایک کالم میں لکھا کہ “ابن رشد عقلیت پسندی کا مظہر تھے جبکہ امام غزالی روایت اور نقل کے آدمی تھے” یوں لگا جیسے “ریل کی سیٹی بجی اوردل لہو سے بھرگیاـ”

مصنف

غامدی مکتبہ فکر نے جس جدید اسلوب اور عصری پیراہن میں مذہب کا مقدمہ پیش کیا ہے، بہت سے مذہب سے برگشتہ افراد کی مذہب میں دلچسپی بڑھی ہے۔ وجاہت مسعود جو اہل مذہب سے پوچھتے ہیں کہ “جنت میں کسی لائبریری یا کتاب کا تصور بھی ہے یا بس شراب پر گزارہ ہو گا”ـ کہتے ہیں “میری خوش قسمتی ہے کہ میں خورشید ندیم کے عہد میں جی رہا ہوں”۔ وجاہت صاحب سے گلہ وہی ہے جو علی شریعتی کو کارل مارکس سے تھا کہ موصوف نے مذہب کو ثانوی مآخذ سے دیکھا ہے۔ یہ طریق سچ پانے سے زیادہ تضحیک یا بھد اڑانے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے۔ وجاہت صاحب اگر حقیقی تجسس کا زاد راہ رکھتے تو بہشتی شراب کا راز ضرور پالیتے۔ ڈاکٹر اسد نے سورۃ دہرمیں اس شراب کی بابت لکھا ہے کہ اہل جنت کو وہ کامل علم عطا ہوگا جس سے کینہ، بغض، نفرت اور حسد و رشک کافور ہو جائیں گے۔ تحفظ اور سیکیورٹی کا علم سے بڑا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ سو جنت کی شراب طہور جو ہر علم سے عبارت ہے۔ مجھے وجاہت صاحب کے ممدوح خورشید ندیم صاحب کے مضمون سے تحریک ملی کہ میں امام غزالی کی شخصیت کا جائزہ لوں۔ آیا کہ وہ واقعی روایت و نقل کے آدمی تھے یا فکر اسلامی کی تشکیل میں ان کا گراں قدر حصہ ہے۔

یہ عالم اسلام ہی ہے جو چودہ سوسال سے کرسچیئن یورپ سے بلاتعطل برسر پیکار ہے۔ اسلام نے توانا اخلاقی پروگرام کی بدولت نہ صرف روم و فارس کو سیاسی اور فوجی اعتبار سے اپنا آشیانہ بنایا بلکہ علم کی اقلیم پر اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔ آغاز سفر میں عیسائیت اور یہودیت نے جابجا چیلنج کیا مگر وحی کی بدولت صائب جواب آئے۔ پھرجب ایشیاء افریقہ اور یورپ تک پھیلا تو رد و قبول اور ترمیم کی اکسیر حکمت عملی سے اسلام کثیر جہتی متجازب و متحارب علمی تہذیبی اور ثقافتی لہروں کو اپنے رخ پر ڈھالتا چلا گیا۔ اگر اسلام نے یونانی، ہندی اور ایرانی فلسفوں کو کامیابی سے ردوقبول اور ترمیم کی سان پر چڑھا کر پرکھا تو اس کی بڑی وجہ قرآن کی برپا کردہ ہمہ جہت علمی تحریک کیساتھ ساتھ عالمی سیاست پر اسلام کی گرفت تھی۔ اس علمی و اخلاقی طاقت کے زور پر بقول برنارڈ لیوس اسلام نے ایک ہزار سال میں دو دفعہ یورپ کی بقاکو خطرے میں ڈالا۔ پہلی بار جب طارق بن زیاد کا لشکر اسپین داخل ہوا اور دوسری بارجب عثمانی سسلی اور وینا تک پہنچ آئے تھے۔ لیکن پندرہویں صدی میں یورپی نشاۃ ثانیہ کے بعد صنعتی انقلاب سے جب اٹھارہویں انیسویں اور بیسویں صدی کے پہلے کوارٹر تک پورا مسلم ایشیاء اور افریقہ مغربی استعمار کے سمندر میں غرق آب تھا تو یہ جارحیت صرف ارضی، سیاسی، ثقافتی اور تہذیبی ہی نہیں تھی بلکہ اس جارحیت نے مقامی نظام علم کو بھی باجگزار بنایا۔ Epistemology فلسفے کی اس برانچ کا نام ہے جو ایک نظام علم وضع کرتی ہے۔ علم کے کھوٹے کھرے ہونے کے معیار قائم کرتی ہے۔ مغرب نے جہاں ایشیاء افریقہ اور مشرق بعید کو باجگزار بنایا وہاں مقامی علمی روایت اور ورثے پر پے در پے ایسے کاری وار کیے کہ وہ اس تاریخ کے ورثاء کے نزدیک غیر معتبر ہوکر معدوم ہوتے گئے یا پھر Sabaltern knowledge یعنی دوسرے درجے کا علم کہلائے۔ جب نسلی تفاخرکا قائل یورپ باقی انسانوں کی Lesser Being کا قائل ہے، انہیں Unpeople کہہ کر وائٹ مین برڈن کا اخلاقی اصول وضع کرتے ہوئے ان پر اپنے اقتدار کا جواز پیش کرتاہے تو پھر ان کی نظرمیں اس تھرڈ ورلڈ پست وجود کی علمی کاوش کا کیا مقام ہوسکتا تھا۔

Residence of Imam al-Ghazali at Al-Aqsa

ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب Orientalism میں جابجا لکھا ہے کہ امپیریل یورپ نے اپنے کارپوریٹ سیاسی مفاد کیلئے مقامی حقیقتوں کو Distort کیا ہے۔ والٹر مگنولو بجا طور پر لکھتے ہیں

Hegemonic modes of knowledge, often erode local modes of knowledge.

اسی بات کو بوواونچوراڈی سوساسینتوس آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں

Over time, placing the knowledge of the other in an inferior position results in “epistimicide” the destruction or murder of knowledge of a particular social group. Imperialism and “epistmicide” are part of ineluctable trajectory of Western modernity.

جب کافی وقت تک دوسروں کے علم کوادنیٰ درجے کا علم سمجھاجاتارہے نتیجے میں اس خاص سماجی طبقے کا علم قتل و غارتگری کا شکار ہوتا ہے، گویا مغربی جدیدیت ارضی جارحیت اور علمی قتل کی دو دھاری تلوار ہے۔

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ مغربی جدیدیت جب مقامی روایت کو علمی جارحیت کا نشانہ بناتی ہے۔ دو طرح کا ردعمل آتا ہے احیاء پسند اور روایتی طبقہ سند اور جواز (Authenticity) کیلئے تاریخ کا غوطہ لگاتے ہوئے ابتداء پر پہنچتا ہے اور ابتدائی حصے کو اچک کر اس حصے کوہذف کر دیتا ہے جو تاریخ کے گوشت پوست میں پروان چڑھا ہوتا ہے۔ سو یہ روایت کو متحرک یا ڈائنامک مظہر سمجھنے کے بجائے جامد سمجھتا ہے، دوسرا ردعمل سیکولر ذہنیت کا ہے کہ وہ روایت کی کیس ہسٹری کنگھالنے کی بجائے مغربی معیارات (Western Epistemology) کوقبلہ نما سمجھتے ہوئے Modernism کا شکار ہوجاتا ہے یاد رہے ماڈرنزم کا مطلب جدت Modernity نہیں جو ایک تاریخی مظہر و حقیقت ہے بلکہ Westernization ہے۔ فرانسیسی اسکالر Jacques Barque عصری اسلام کی Imperial positivism کا شکار ہوئے بغیرترقی کی کاوش کو یوں بیان کرتا ہے

“Today, all too many militants and intellectuals are proponents either of authenticity with no future or of a modernism with no roots”

آج کتنے ہی عسکریت پسند اور دانشور یا تو سند کے داعی ہیں جن کا کوئی مستقبل نہیں ہے یا پھر ماڈرنزم کا شکار ہیں جس کی کوئی جڑ نہیں ہے۔

میرا گمان ہے کہ ہمارا سیکولر لبرل طبقہ شعوری یا غیرشعوری طور پر مغربی استعماری قوتوں کے کارپوریٹ مفادات کا آلہ کار ہے۔ ماڈرنزم کے آگے سربسجود یہ طبقہ ہر مقامی روایت و حقیقت اور نظام علم کو فرضی شکوک و شبہات سے رد کرتا ہے۔ پہلے یہ کام صرف سیکولر نظام تعلیم کی پیداوار سیکولر ایلیٹ کرتی تھی۔ اب اس بہتی گنگا میں لبرل مذہبی طبقہ بھی ہاتھ دھونے لگاہے۔ اسے مغرب کی سیاسی اور علمی جارحیت کا خواہی نخواہی ساتھ دینے میں (Career opportunity) نظر آرہی ہے

Image result for ghazaliمژدہ اے ذوق اسیری نظر آتا ہے
دام خالی قفس مرغ گرفتار کے پاس

خورشید ندیم کا یہ کہنا کہ اگر ہم امام غزالی کی روش نہ اپناتے تو ہمارا شمار بھی دنیا کی علم دوست قوموں میں ہوتا، خود شکستگی کا ترجمان ہے۔ “متاع بردہ کو سمجھے ہوئے ہیں قرض رہزن پر” کے مصداق ہمارے علمی خساروں کا ذمہ دار امام غزالی ہے۔ ایسے بھاری بیانات تو اپنی علمی دیانت کا بھرم رکھنے کیلئے مستشرقین بھی نہیں دیتے جن کی اسکالرشپ کا بنیادی مینڈیٹ و مقصدہی ایشیاء کی علمی روایات اور نظام علم کو نیچا دکھانا یا Epistmicide یعنی قتل کرنا ہوتا ہے۔ امریکی پروفیسر Duncan B. Macdonald (1863-1943) نے امام غزالی پرگراں قدر تحقیق کا بیڑا اٹھایا وہ جابجا مشرقی ذہن کی پستی اور مشرقی نظام علم کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے باوجود لکھتے ہیں کہ اسلام اگر آج تک قائم و دائم ہے اس کا سب سے زیادہ کریڈٹ امام غزالی کو جاتا ہے۔

It was Ghazali who once again “built up breaches in Muslim Zion and that Islam exists still largely due to him”۔

جب الزامات کی بوچھاڑ ہے تو تحقیق قرض ہے آیا کہ امام غزالی نے مسلم قوم کو علم دشمن رویہ عطا کیا؟ امام صاحب کے افکارکی کوئی عصری معنویت بھی ہے؟ یا ان کا علمی کام خاک کا پندار ہے اور بس!

ابو حامد امام محمد الغزالی بمطابق 1058/450 میں ایران کے شہر مشہد کے قریب طوس میں پیدا ہوئے۔ امام کے والد اون کی دھنائی یا کتائی کے پیشے سے وابستہ تھے، استعارۃً امام صاحب نے مذہبی افکار کی تشکیل میں یہی کارنامہ سرانجام دے کرخود کو غزالی کے اسم صفت سے متصف کیا۔ ہر تاریخ ساز شخصیت حامیان اور مخالفین پیدا کرتی آئی ہے، اس میں امام غزالی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے۔ ان پر جہاں دین اسلام کو فکری طور پر مجموعہ اضداد بنانے کا الزام ہے وہاں ایک پرزور موقف یہ بھی ہے کہ غزالی نے فلسفہ اور سائنس کو سرزمین اسلام سے دیس نکالا دیا۔ اس بیان میں تو پھر بھی اثبات ہے گویا غزالی سے پہلے ہم فلسفہ اور سائنس کے خوب شناور تھے ورنہ انتہائی سادہ الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ اسلام نے فقہ یہودیت سے، تصوف عیسائیت سے، اخلاقیات عرب عہد جہالت کی شاعری سے، فن تعمیر بازنطینی سلطنت سے اور فلسفہ یونان سے مستعار لیا ہے۔

امام غزالی نے طوس، جرجان اور نیشاپور کو علمی مسکن بنایا۔ طوس میں محمد بن احمد الرضکانی، جرجان میں فقہ شافعی کے معروف اسکالر ابوالقاسم اسماعیل جرجانی اور نیشاپور کالج نظامیہ برانچ میں معروف صوفی متکلم امام الحرمین عبدالمالک بن عبداللہ الجوینی سے کسب فیض کیا۔ کسب علم کے بعد 1085 سے 1091 تک تقریباً سات سال امام غزالی کو سلجوق وزیر نظام الملک طوسی کے اسکالرز کی صحبت میسر رہی۔ یہاں سے پھلنے پھولنے کے بعد وہ نظامیہ بغداد میں فقہ شافعی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس عرصے میں امام غزالی نے مسلم لاء، سیاسی علم الکلام، منطق اور مسلم مفکرین کے نظریات پر تنقیدی مقالے لکھے۔ یہ غزالی کے فکری کمالات کا وہ دور ہے جب وہ اسکالرشپ کے میدان میں سکہ رائج الوقت کی اہمیت اختیار کر چکے تھے۔ تاہم 1095 میں امام غزالی کی زندگی میں ایک اہم موڑ آیا جسے ہمارا سطحی طبقہ علمی تھکاوٹ یعنی “علموں بس کریں او یار” کی منزل قرار دیتا ہے۔ یا کہہ لیجئے وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئے۔ اس فیز سے متعلق کچھ اشارات امام غزالی کی کتاب “المنقذ من الضلال” میں ملتے ہیں تاہم معروف اسکالر ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اپنی کتاب Ghazali and his Poetics of Imagination جو یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا سے چھپی ہے میں رقمطراز ہیں کہ “اسکالرشپ امام غزالی کی بارہ سال پر محیط خارہ شگافی کے غیر متنازعہ محرکات آج تک طے نہیں کرسکی”۔ کیمیاء گری کے یہ بارہ سال فلسطین، شام، عراق، ایران اور آخرمیں سرزمین حجاز یعنی مکہ و مدینہ کی خاک چھاننے میں گزرے۔ دمشق میں اجنبی کی حیثیت سے داخل ہوئے اور اجنبی طور پر ایک کالج میں داخل ہوتے ہیں کیا سنتے ہیں کہ کوئی پروفیسر کسی الٰہیاتی مسئلے پر امام غزالی کے نکات پیش کر رہا ہے۔ وہاں سے فوری بھاگ نکلتے ہیں۔

سادہ لوح اہل مدرسہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سائنس اور فلسفے کی خشک بحثوں سے فرار تھا۔ علم دشمن صوفی طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ انکار علم اور اثبات فقرکی منزل تھی۔ ان تمام سوالات کا احسن جواب امام صاحب کی کتاب “احیاء العلوم” ہے جو اسی تجربے کی لو سے پھوٹی۔ یہ دراصل عقل اور بصیرت کے درمیان حدفاصل قائم کرتی ہے۔ یہ اجالوں پر بصیرتوں کی فوقیت کا مقدمہ ہے۔ یہ ایمان وعشق کی لامحدودیت اور عقل کی محدود سرحدوں کا جغرافیہ ہے۔ یہ دراصل کائناتی مظاہر کو نگاہ کے بجائے چشم دل سے دیکھنے اور گوش قلب سے سننے کا مقدمہ ہے۔ یہ تاریخ کی آواز پر کان دھرنے کا عمل ہے جو عام سماعتوں سے مختلف Inner accoustics کا شور و غلغلہ ہائے الاماں ہے، من میں چیختے دہاڑتے سوالوں کے جوابات کا تار مضراب پر چھڑتا نغمہ و زمزمہ ہے۔ چشم دل کے سامنے پردہ اسکرین پر چلتے کانپتے اور تھرائے اپنی کتھا سناتے مناظر کا بیان ہے۔ یہ Narrativity of self یعنی خودی کے قلزم خاموش کی غواصی کا بیان ہے۔ یہ سرحد ادراک کے پار نورالٰہیہ سے خوشہ چینیوں کی پیغمبرانہ جہد مسلسل ہے۔ یہ تار الست سے تطبیقق کی جہد اور قالو بلیٰ کہنے کا اعادہ ہے۔ یہ انفس یعنی تموج نفس سے ابھرتی آیات اور آفاق یعنی مظاہرفطرت کی آیات کو بیان حقیقت کے اعتبارسے ایک صفحے پرلانے اور پھر آیات قرآنی کیساتھ ہم رنگ وہم آہنگ کرنے کا بیان ہے۔ یہ غبار ناقہ میں گم رہنے کے بجائے لیلائے حقیقت مطلقہ کے پردہ محمل پر ہاتھ رکھنے کی سعی سیرحاصل کا بیان ہے۔ یہ نفس انسانی کے گہرے ترین حوض پر پڑائو ہے جہاں سے تمدن آفریں تہذیب پرور اخلاقیات کا چشمہ پھوٹتا ہے۔

Related imageامام غزالی دشت نوردی پر کیوں مجبور ہوئے۔ ہرچند بقول ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اسکالرشپ میں یہ امر ہنوز تشنہ حقیقت ہے تاہم زمان و مکاں اور سماجی سیاق وسباق کے عناصر اہل فکر کی رہنمائی کرتے آئے ہیں۔ کیا امام صاحب علم و دانش کی اقلیم پر رد کردیئے گئے تھے؟ یا کیا علم انہیں وہ شہرت نہیں دے سکا جس کے وہ خواہاں تھے؟ جہاں تک ان کے سیاسی وسماجی قدکا تعلق ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب کبھی سلجوق فرماں روائوں اور مرکز یعنی عباسی خلیفے کے درمیان نزاع پیدا ہوا مصالحت کیلئے کلیدی کردار ہمیشہ امام غزالی کا رہا، عہد سلجوق کا نظام تعلیم جو درس نظامی کہلاتا ہے وہ امام غزالی کا برین چائلڈ تھا جو آج بھی مراکش سے لیکر انڈونیشیاء اور ملائیشیا تک اسلامی مدارس کا نصاب ہے۔ ہر مکتبہ فکر میں مقبول اس قدر کہ ابن رشد نے طنز کا نشتر چلاتے ہوئے کہا

Ghazali is a man for all seasons- one who pretended to be Ashari when he was with theologians of that stripe, a mystic with the Sufis and a philosopher with philosophers.

یہ خامی کے بجائے امام غزالی کی Broad gauged personality کی دلیل ہے۔ فقہی روایت کے ارتقاء پر ہی نظر ڈالئے، فقہہ شافعی استخراجی منطق پر پروان چڑھی تھی، امام ابوحنیفہ کا لاء اسکول استقرائی منطق پر گامزن قیاس اور استحسان کو محور بنائے ہوئے تھا۔ امام احمد بن حنبل کا مکتبہ فکر مراسلہ مرسلہ کے اصول پر قانون سازی کرتا آرہا تھا۔ مقاصد الشریعہ کا اسکول جس نے قانون سازی کا جامع نظام پیش کیا اس کی کونپل امام غزالی کے استاذ امام الحرمین الجوینی کے قلب و دماغ میں پھوٹی تھی مگر اسے گلشن امام غزالی نے بنایا۔ امام غزالی کی فلسفہ قانون پرکتاب کی مقبولیت اور پزیرائی کا یہ عالم تھا کہ خود ابن رشد نے ان کی کتاب کی تلخیص لکھی۔ ابو محمد ابن سبین جیسی نابغہ روزگار ہستی کا فتویٰ ہے کہ اگر امام غزالی نہ ہوتے تو ابن رشدکا مقام ارسطو کے تابع مہمل ہونے کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ ابن رشد نے اپنے جینئس اور تخلیق کار ذہن کو ارسطو کے افکار کی دہلیز پر قربان کیا۔ ابن رشد کے شاگرد اور دربارشاہی کے معالج ابوالحجاج یوسف ابن طلمس نے اپنے استاذ کے برعکس امام غزالی کی ہمہ جہت پیچیدہ اسکالرشپ کا خیر مقدم کیا۔

ابن رشدکا سب سے بڑا اعجاز یہ تھا کہ تاریخ عالم میں اس سے بڑا کوئی شارح ارسطو نہیں ہوا، وہ جابجا ارسطو کے افکار کو اہل جہاں کیلئے نعمت عظیم قرار دیتے ہیں۔ ارسطو افلاطون کا شاگرد ہے مگر ارسطو اور افلاطون میں ایک جوہری فرق یہ ہے کہ افلاطون کا زور جس قدر تخییل (Poetics)، اور آئیڈیلزم پر ہے ارسطو کا زاویہ فکر اسی قدر سائنسی، تجرباتی، عملی اور حقیقت پسندانہ ہے۔ مکالمات فلاطوں کا محور و مرکز ?What ought to be ہے ارسطو کا Realism درحقیقت What it is? کا طواف کرتا ہے۔ افلاطوں کا فکری محور سماجیات ہے، ارسطو کا نیچرل سائنسز ہے۔ سماجی تصورات کا سرچشمہ قلب انسانی ہے جو گہری بصیرت سے ابھرتے ہیں۔ قدرتی علوم سمع و بصریعنی مشاہدے اور تجربے سے ابھرتے ہیں۔ ارسطو کے Realism کا حتمی نتیجہ Cartesian Mindset ہے۔ یہ دل کے برعکس عقل محض کی دنیا ہے۔عہد جدید کا سیکولر فلسفہ اور سیکولر سائنس جو حقیقت کلی کا کٹا پھٹا، کرم خوردہ، نامکمل ،مسخ شدہ محض مادی تصور ہے اور تہذیب مغرب کا سرمایہ کلی ہے اس کا ہیولیٰ فکر ارسطو سے اٹھتا ہے۔ اگر یہ کسوٹی ہے تو واقعتاً فلسفے کی اقلیم پر ارسطو کا شارح ہونے کی حیثیت سے ابن رشد فلسفے کے امام اعظم ہیں اور اہل مغرب اور ہمارے سیکولرز اور لبرلز کی ابن رشدسے وارفتگی بھی سمجھ آتی ہے۔ مصنوعی اخلاقی ملمع کاری کی حامل خالص تعقل پسندی کا مخدوم و معبود و مسجود سرمایہ دارانہ نظام ہے جسے ہماری سیکولر لبرل مذہبی دانش نے بھی بدیہی حقیقت کے طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ ایسے میں تلقین غزالی جس کا حتمی پھل اخلاقی الوہ اور تزکیہ نفس ہے جنس ارزاں نہ ٹھہرے تو کیا ہو؟ تو پھر ضروری ہے دیکھا جائے کہ امام غزالی نے دشت نوردی کیوں اختیارکی۔ امام ابن تیمیہ غزالی پر یونانی فلسفے کے خبط کا الزام دھرتے ہیں تو ابن رشد اور دیگر انہیں تعقل پسندی کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ “زاہدتنگ نظرنے مجھے کافر جانا اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں” کہ مصداق غزالی کی شخصیت کا تعین آساں نہیں ہے۔

امام غزالی جب پیدا ہوئے اسلام اقتدار عالم کی ادھیڑ عمری (مڈکیرئر) سے گزر رہا تھا۔ اس کے اولیں مخاطب سادہ لوح صحرانورد عرب تھے جو اہل روم اور اہل فارس کے ضعیف ادب اور فلسفوں کے وضعی اور صناعی طریقوں کے پابند نہیں تھے۔ جس قدر ان کے قلب و دماغ فطری روش کے رسیا تھے اسی قدر قرآن بے میل فطری انداز میں ان سے مخاطب تھا اور اپنی قدرتی معنویت کیساتھ دلوں میں پیوست ہوا۔ کیونکہ یہ فطرت انسانی میں پنہاں اسرار کی پردہ کشائی کرتے ہوئے مضراب حقیقت پروہ نغمے چھیڑ رہا تھا جن کی دھنیں وضعی اور صناعی ڈھانچوں کی حامل نہ تھیں اس لیے وہ دماغوں سے کہیں زیادہ بدن میں تھرتھراہٹ، جوش و ولولہ، لرزہ و سراسیمگی اور کپکپی پیدا کرتی تھیں۔ قرآن کے صف اول کے انگریز مترجم اے جے آربری اس حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں کہ “مصر میں قیام کے دوران جب ان کے ایک نابینا پڑوسی کو دوسرا لحن دائودی میں قرآن سنایا کرتا تھا تو یہ پہل پہل کے دن تھے جب اسے قرآن کو جسم پر برتنے کا تجربہ ہوا”۔ قرآن کا اسلوب، ڈکشن، وضع، اندازبیاں، طریق خطاب و استدلال جو گاہے شمشیر براں کی کاٹ دکھاتا اور گاہے ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوایا ہو آرٹسٹ کا معجزہ فن رکھتا اور ہے “اور دیکھنا تقریرکی لذت کہ جواس نے کہا، میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” کا سماں بندھ جاتا تھا۔ بہت کم ایسا ہوا کہ صحابہ کو آیات قرآنی کو سمجھنے میں دقت ہوئی ہو۔ اور Ellipticism یعنی ان کہی سمجھانے کا فن جو اعجاز القرآن ہے اس سے بھی صحا بہ کی طبیعتیں خوب آشنا تھیں۔ بین السطور مفاہیم پر صدیوں کی ریاضت سے ایسی گرفت کہ غیر عربوں کو عجم کہتے تھے۔ مگر جب روم و فارس زیرنگیں آئے، کوفہ و بصرہ آباد ہوئے، بغداد دارالخلافہ بنا تو یہ شہر یونانی، ایرانی اور ہندی فلسفوں کی آماجگاہ بن گئے۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں بالعموم اور چوتھی صدی ہجری میں بالخصوص ان فلسفوں کیساتھ وضعیت اور صناعیت در آئی۔ فلسفے کے پانچ اسکولز مرجئہ، جبریہ، قدریہ، معتزلہ اور الاشاعرہ وجود میں آئے۔ یونانی فلسفے کی کٹھالی میں فکر اسلامی کو تاپ کر کھرا کھوٹا سمجھنے کی روش عام ہوئی۔ Ellipsis جو معجزہ قرآن واقع ہوئے تھے اور عربی مشاہدات کا خاصا تھے عجمی اوہام پرستانہ تصورات کی چراگاہ بن گئے۔ معتزلہ نے یونانی فلسفے کی سان پر خالص تعقل پسندی کا بتکدہ تعمیر کرتے ہوئے خادم کو مخدوم بنایا کہ وحی الٰہیہ سمیت دیگر Settled dogmas پر سوال اٹھے تاہم جہاں کچھ کنہہ حقیقتیں طے ہوئیں وہاں بڑے بڑے قلعے اور حصار منہدم ہوتے دکھائی دیئے۔ ردعمل میں اشاعرہ نے راسخ العقیدگی، متن پرستی اورحرف پرستی میں پناہ ڈھونڈی، اس نے جبری اسکول کی تائید میں قرآن کی اخلاقی انگیخت و فکری ساخت میں پنہاں اصول و قوت محرکہ پر شدیدحملہ کیا۔ ابولکلام آزاد لکھتے ہیں “یہی زمانہ ہے جب امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر لکھی، اور پوری کوشش کی کہ قرآن کا سراپا اس مصنوعی لباس وضعیت (یعنی یونانی و ایرانی سانچوں) سے آراستہ ہوجائے۔ اگر امام رازی علیہ رحمۃ کی نظراس حقیقت پر ہوتی تو اس کی پوری تفسیر نہیں تو دو تہائی حصہ یقیناً بیکار ہو جاتا”۔ فقہ جو عہد اولیں میں ادب، تمدن، شریعت، قانون، کلام اور جملہ علوم شریعہ کے فہم و ذکا کا ریاضیاتی عمل تھا قانون فہمی تک محدود ہوگیا تھا۔ تصوف نے اپنے بت کدے تعمیر کیے، ادب نے الگ معبد بنائے، فلسفے نے نئے حرم تراش لیے تھے۔ خاص طور پر دین محمدعربیﷺ جو انبیائے سابق کی روایت (tradition) کے تسلسل، عہد موجود کے لمس (reason) اور مشاہدہ حق (Intuition) سے عبارت تھا یونانی فلسفے کی چہار جانب سے ننگی جارحیت کا شکار ہوکر یا تو Pure Rationalism تک محدود ہو چلا تھا یا پھرحرف پرستی کے بلیک ہول میں اتر رہا تھا۔ اس منفی پیش رفت نے امام غزالی کو برگشتہ و بیزار کیا اور وہ روایت اور علم کی مدد سے بحر مشاہدہ میں اتر کر طواف حقیقت پر کمربستہ ہوئے۔

Image result for ghazali المنقضکیرن آرم اسٹرانگ نے “Battle For God کے مقدمے میں لکھا ہے کہ مذہبی اعمال و رسوم بغیر عمل کے ان میوزیکل اسکورز یا دھنوں کی طرح ہیں جو ساز پر نہ بجیں تو بے معنی ہوتی ہیں۔ کتب سماویہ کا مخاطب ذہن سے زیادہ وجدان ہوا کرتا ہے اور وجدان فطرت انسانی کو وحی کیے گئے اسرار و رموز کا نام ہے۔ آسمانی صحیفے اسی جبلی ساخت کی ادھیڑبن کرتے ہیں۔ وہ ساخت یعنی وعدہ الست کا مسودہ جو دماغ کے بجائے لوح قلب پر رقم ہے۔ پاسکل کہتا ہے

The heart has reasons that reason does not know

کشف المعجوب کے انگریز مترجم ڈاکٹر آر۔ اے نکلسن لکھتے ہیں

Though Qalb is connected to the physical heart in some mysterious way, it is not a thing of flesh and blood; is rather intellectual than emotional…whereas the intellect can not gain real knowledge of God, The Qalb is capable of knowing the essence of all things and when illuminated by faith and knowledge, it reflects the whole content of the Divine mind

یہی بات باندازدگر اقبال یوں بیان کرتے ہیں۔

The heart is a kind of inner intuition or insight which in words of Rumi, feeds on the rays of the sun and brings us into contact with aspects of reality other than those open to sense perception. it is according to Quran, something which sees and its reports, if properly interpreted, are never false. We must not however, regard it as a mysterious special faculty; it is rather a mode of dealing with reality in which sensation in the psychological sense of the word does not play any part.. yet the vista of experience thus opened to us is as real and concrete as any other experience

یہ مراقبے اور مشاہدے کاحاصل ہوا کرتا ہے۔ جو کبھی برگد کے چھتنار تلے کھلتا ہے اور کبھی غارکے کچھار سے نکلتا ہے۔ کبھی دشت مدائن کی پہنائیوں سے آتش سوزاں کا الائو روشن کرتا ہے۔ یہی ارشمیدس کا یوریکا مومنٹ ہوتا ہے، نیوٹن پر بیتے تو سیب کے روئے زمیں گرنے کا راز کھلتا ہے، مائیکل اینجلو کے فن مجسمہ سازی میں ہلول کرے تو اس کی چشم دل کے آگے مجسمہ در مجسمہ صف باندھے کھڑے ہوجاتے ہیں اوروہ انہیں دیکھ دیکھ وہ مجسمے تراشتا ہے کہ پھر ایسا جہاں میں کوئی کیونکر پیدا ہو۔ المختصریہ ووجدک ضالاً فھدٰی کی منزل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جنوں کو خردعطا ہوتی ہے۔ وایدھم بروح منہ (58:22) کا مقام ہے جہاں خالق حقیقی اپنے بندوں کی جبرائیل امین سے مددکرتاہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں انبیاء کے علاوہ عام مومنین کی بھی روح الامیں حضرت جبریل کے ذریعے مددکا ذکرہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے یہاں روح کا ترجمہ روح القدس کے بجائے “علم” کیا ہے۔ مگر اقبال نے بھانڈا پھوڑ دیا

ہمسایہ جبریل امیں بندہ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارانہ بدخشان

امام غزالی کا عہد علمی بحرانوں کا زمانہ ہے۔ فکراسلامی کی مختلف شاخیں جو ایک سرچشمہ سے پھوٹی تھیں تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے عظیم تخلیقی عہد سے گزر کر آپسی کشمکش اور جنگ و جدال کا شکار تھیں۔ یونانی فلسفے کے سرکش گھوڑے کی ہنہناہٹ ہر شعبہ فکر میں گونجنے لگی تھی۔ قرآن کے خالص علم الکلام میں ایرانی، یونانی اور ہندی تصورات کی یلغار تھی، مکاتب فقہ نے الگ الگ معبد بسا لیے تھے،۔ علم التفسیر اہل الرائے کے ہاتھوں قرآن کے بجائے مختلف فرقہ جات کا ترجمان بن چلاتھا۔ علم الحدیث والسنۃ کی وہ گت لگی کہ سیاسی ضروریات اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کا کارآمد اسلحہ خانہ بن گیاتھا۔ امام ابوالحسن الاشعری جو امام احمد بن حنبل کے مدرسہ فکر سے تعلق رکھتے تھے اشعری اسکول کے بانی بنے۔ انہیں الاشعری مدرسہ فکرکی تشکیل میں فکر یونانی سے استفادہ کرنا پڑا۔ امام احمدبن حنبل کے متن پرست مدرسہ فکرنے مخالفت کی ہرچندکہ حرف پرستی کے مظاہر جابجا اشاعرہ کے فکری ڈھانچے میں بھی بکھرے پڑے ہیں۔ فقہ اسلامی کی تاریخ دیکھیں فقہ حنفی کی عمارت استحسان اور قیاس پر کھڑی ہے۔ فقہ مالکی مصالح مرسلہ پر استوارہے۔ فقہ شافعی استدلال و استصواب پر قائم ہے۔ خیر مطلق یا عدل (Equity) کا اصول تمام مذاہب فقہ میں تسلیم شدہ ہے۔ عہدغزالی کا سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ فکر اسلامی کے ان مختلف دھاروں کے درمیان خلیج کو کیونکر پاٹا جائے، ان کے درمیان ارتباط و انضباط کیسے پیدا ہو۔ علمی وحدت و یکجہتی کیسے پیداکی جائے۔ مذہب سائنس اور فلسفہ باہم دگر کیوں ہیں۔ دیدہ ودل رقیب کیوں ہیں، نظارہ وخیال کی دوئی کیوں ہے۔ عقل کا المیہ یہ ہے کہ جتنے دلائل وجودحق سے متعلق رکھتی ہے اس سے زیادہ دلائل رد وجود باری تعالیٰ کیلئے صیقل کیے بیٹھی ہے، شک کی چھوٹی سی ضرب سے یقین کے کہسار زلزلہ پا ہونے لگتے ہیں۔ پھر متعدد فلسفہ ہائے فکرکی دہلیز پر کھڑا یہ شخص جابجا خلیج درخلیج دیکھتاہے تو عذاب دانش حاضرکا المیہ بلائے ایماں وجاں نظر آتا ہے۔ پھر جتنی بڑی Self اتنی بڑی پیچیدگیاں، تشکیک اور غیریقینی۔ یعنی

Simultaneous existence of various layers of consciousness and conflict between them

سوالات کا یہ بلاخیز کاروان سخت جاں ہے جو امام غزالی کو زندان ذات میں بیاباں نورد رکھتا ہے۔

یہی جنون امام غزالی کو سوئے دشت لے چلتاہے، بارہ سال کی خارہ شگافیاں، دشت نوردی اور صحرا نشینی شک سے یقین کی طرف سفرکا نام ہے۔ خشک علم نوربصیرت سے مصفا و منزہ ہوتا ہے “کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی” کا تماشہ ہے۔ خلوت غم کا میلہ ہے، دشت جنوں کی سیاحت ہے۔ یہ علم و فلسفہ کو ایمان (Faith) میں گوندھنے کا عمل ہے۔ اس مذہبی تجربے کا نتھار احیاء العلوم فی الدین، فاتحا ت العلوم، تحافۃ الفلاسفہ، الاقتصادفی الاعتقاد اور المنقذ من الضلال کی شکل میں نمو پاتا ہے۔ فکر اسلامی کی Tapestry کے تار و رفو کو ایسا خوش رنگ و خوش آہنگ بنایا کہ بے ساختہ قراۃالعین طاہرہ یاد آجائے

دل حزیں، غم ترا، بافتہ برقماش جاں
ریشہ بہ ریشہ، نخ بہ نخ، تاربہ تار، پوبہ پو

میرے دکھی دل نے تیرے غم کو قماش جاں پر Tapestry کی طرح دھاگہ بہ دھاگہ، تار بہ تار بن لیا ہے.” امام غزالی المنقذمن الضلال میں خود اس جستجو سے متعلق لکھتے ہیں

Ever since I was under twenty (Now I am over fifty)… I have not ceased to investigate every dogma or belief. No Batinite I did come across without desiring to investigate his esotericism; no Zahirite, without wishing to acquire the gist of his literalism; no philosopher, without wanting to learn the essence of his philosophy; no dialectical theologian , without striving to ascertain the object of his dialectics and theology; no sufi without coveting to probe the secret of his Sufism; no ascetic, without trying to delve into the origin of his asceticism; no athiestic zindiq, without without groping for the causes of his bold atheism and Zindiqism. such was the unquestionable thirst of my soul for an investigation from the early days of my youth, an instinct and a temperamented in me by God through no choice of mine

امام غزالی نے اپنے عہدکے تمام علمی سرمائے کو صراف ازلی عشق و ایمان (Faith & Love) کی کسوٹی پر پرکھا اور اخذ و عطا کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ تصوف، کلام اور فقہ کو فولادی کلیت Ironed juxtaposition میں ڈھال دیاگیا۔ یوں اپنے اختیار کردہ تصوف، اشاعرہ کے کلام اور اس وقت تک کے مدون کیے ہوئے قوانین فقہ کو اسلام کے مسلمہ اجزائے ترکیبی کے طور پر منوا لیا۔ اشاعرہ کا کلام معیاری عقائدکے طور پر تسلیم کرلیا گیا، تصوف جزواسلام بنا، اور کلام اور تصوف کو فقہ کا پابند بنا لیا گیا۔ فلپ کے ہٹی نے سمندرکوزے میں انڈیل دیا

“He [al-Ghazali] reproduced in his religious experience all the spiritual phases developed by Islam۔

فلسفہ و تاریخ اسلامی کے شناور ڈاکٹر فضل الرحمٰن امام غزالی کی فکری خدمات پریوں رقم طراز ہیں

The influence of al-Ghazali in Islam is incalculable. He not only reconstituted orthodox Islam, making Sufism an integral part of it, but also was a great reformer of Sufism, purifying it of un-Islamic elements and putting it at the service of orthodox religion. As such he represents a final step in a long developing history with a rare religious insight and a keen and perceptive mind, his mystic experience enabled him to transform the formulas of orthodox theology about the Divine Will, Power and Mercy into a living and moving personal reality that throbed in his very veins. He called both the Ulama and the Sufis to this in a philosophical language of remarkable clarity, incisiveness and irresistible persuasiveness

ا۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن بجا طور پر کہتے ہیں کہ بلامبالغہ یہ درست ہے کہ اگر امام غزالی نہ ہوتے تو فلسفہ اور تصوف اسلامی اخلاقیات کو لے اڑے تھے۔ تصوف پر یونانی، عیسائی اثرات اور مانی ازم کی مہر ایسی کہ صوفیاء اپنے مقولات کو من اللہ سمجھتے ہوئے حرف آخر کہہ رہے تھے۔ فلسفی عقل کو ساز حیات سمجھتے تھے۔ امام صاحب نے کہا اخلاقی تقاضے عقل کی دسترس سے باہر ہیں اور اس کے سوتے شریعہ سے پھوٹتے ہیں۔ امام کی کوشش سے تصوف کو اجماع امت حاصل ہوا۔ افریقہ، وسطی ایشیاء اور بھارت میں اسلام کی صوفیانہ ہردلعزیز تحریکوں نے جنم لیا۔ تصوف اور کلام جسد واحد بن گئے اور اس سے متکلمین کی ایک گراں قدر کھیپ نے جنم لیا۔ فضل الرحمان نے جدید اسکالرشپ کے اس الزام کو رد کیا ہے کہ غزالی کا ظہور فلسفے کی موت ثابت ہوا بلکہ سترہویں اور اٹھارہویں صدی تک غزالی کے افکار فلسفے کیلئے قوت بنے رہے۔ ہاں البتہ اس پر تصوف اور ادبیات کا رنگ چڑھتا گیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں فارسی شعراء جو علم الکلام کو نثری انداز میں پیش نہ کرسکتے تھے، شاعری کی اقلیم پر گراں قدر اثاثہ چھوڑ گئے۔ تاہم ڈاکٹر فضل الرحمان کی تیشہ مو اسکالرشپ نے امام غزالی کے علمی بحرانوں، صوفی تجربات اور ہمہ جہت دانشوری کو بہت عمدہ بلیغ اندازمیں یوں پیش کیا ہے جو نادر و نایاب ہے اور فکر غزالی کو سمجھنے کا شاہ کلید بیانیہ کہا جاسکتا ہے

ـPhilosophic enquiry into the ultimate nature of God had yielded him no results; hence he did not turn to Sufism to gain this knowledge in another way. He neither wanted nor hoped for any occult miraculous knowledge. His purpose was to live through the verities of the Faith and to test those verities through the Sufi experientialist method.. He succeeded. The test confirmed his faith and he concluded (1) that it was only through the ‘life of the heart’ that faith could really be acquired and (2) (and what is of at least equal importance ) that Sufism has no cognitive content or object but the verities of the Faith. He, therefore, disallowed the pretentions of theosophic mysticism and castigated the men of ecstatic delirium.”

امام غزالی نے صوفیاء کی حجیت کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ صوفی تجربہ و مشاہدہ کا بارگراں قلم اور زبان نہیں اٹھا سکتے۔ شیخ احمد سرہندی کے مذہبی تجربات اور مشاہدات نے بھی امام غزالی کے اس موقف کی تصدیق کی ہے۔ یوں نبی اور ولی کے مذہبی تجربے میں ایک حدفاصل قائم ہوگئی کہ جہاں نبی کا مذہبی تجربہ و مشاہدہ cognitive value رکھتا ہے، ایک نظام اقدار دیتا ہے وہاں صوفی تجربات و مشاہدات بیخودی اور ناقابل بیاں شطحات Ecstasies کا مرقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اہل فقہ نے صوفی تصورات کو کبھی بطور معروضی حقیقت نہیں لیا۔ علمائے فقہہ اور جدید اسکالرشپ میں تصوف کا حصہ اتناہی ہے جتنا قرآن و سیرۃ نبوی سے ثابت ہے۔آپﷺ کےایسے تجربات کو قرآن بیان کرتاہے، مگر ایسے تجربات کی بابت صحابہ کبارنے کبھی سوال نہیں اٹھائے ان کیلئے اتنا ہی کافی تھا کہ جو کہہ رہاہے وہ صادق اور امین ہے۔

میرا احساس ہے کہ امام غزالی نے دراصل یونانی فکر کے صناعی اور وضعی ڈھانچوں کے برعکس قرآنی نظام علم و طرز استدلال (ْQuranic Epistemology) کو تلاش حق کا ذریعہ بنایا۔ قرآن کا تصورعلم۔ قرآن کہتاہے کہ جعل لکم السمع والابصار اوالافئدہ قلیلاً ماتشکرون: ہم نے تمہیں سمع و بصر اورفئواد یعنی چشم دل عطا کی ہے اور بہت کم ہیں جو شکر کرتے ہیں۔ شکرسے مراد ان تینوں یعنی سمع، بصراورفئواد کو صحیح طور پر برتنا ہے۔ سمع و بصر عملی اور اطلاقی علم کا حسی ذریعہ ہیں جبکہ فئواد مظاہر فطرت اور حسی علوم کےپنہاں حتمی حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔ خالص عقلیت نظام اخلاق دینے میں بانجھ ثابت ہوئی ہے، یہ موتی دل کے اجڑے دیارسے برآمدہوتے ہیں۔ نفس وما سواھا اس امر پر دلالت ہے کہ قانون اخلاق لوح قلب پرکندہ کیا گیاہے۔ المیہ یہ ہے کہ تہذیب یونانی کے وارث اہل مغرب نے مجرد سمع و بصر کو خضرراہ سمجھ لیا اور اہل مشرق نے قلبی واردات کو حقیقت کلی جانا۔ قرآن کے نزدیک حقیقت کلی وہ ہے جو نیچرل سائنسز سے مترشح ہو اور قلب اس کی تصدیق کرے۔ قرآن کا طرزاستدلال یہی ہے کہ بیان حقیقت کیلئے وہ سائنسی اور مذہبی دونوں Idioms بروئے کار لاتا ہے۔ مثلاً “جب ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تواس میں بارش کی نوید ہوتی ہے اور یہ بارش کون برساتا ہے بے شک تمہارا رب بارش برساتا ہے”۔ پہلاحصہ scientific Idiom جبکہ دوسرا Religious Idiom میں بیان ہوا ہے اور مذہبی استدلال سائنسی حقیقت کا متبادل ہونے کے برعکس سائنسی Idiom کو اپنے اندر ملفوف کیے ہوئے ہے۔ پہلا حصہ سائنسی حقیقت جبکہ دوسرا حصہ اس کی Moral orientation بیان کرتا ہے۔ مادہ پرست یونانی ادبیات میں پرومتھیس Prometheus کا اساطیری کردار چونکہ آسمانی صحٓائف کو انسانی دائرہ کار میں بے جا مداخلت سمجھتاہے اور زمین پر Human order with human answersکا خواہاں ہے۔ اس لیے اہل اسلام نے اگرچہ یونانی فلسفہ اورسائنس کے تراجم کیے مگر یونانی ادبیات سے پہلوتہی کی۔ کیونکہ اسلام میں سائنس، فلسفہ، تاریخ اور جغرافیہ سمیت ہر علم کے سوتے قرآن سے پھوٹ رہے تھے

کمال پادشاہی، علم اشیاء کی جہانگیری
یہ سب کیا تھا، فقط اک نکتہ ایماں کی تفسیریں

امام غزالی کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے یونانی فلسفے کے برعکس قرآنی منطق و طرز استدلال کو اپنا کر فکر اسلامی کی جزئیات کونہ صرف اکٹھا کیا بلکہ ان کے درمیان زندہ و توانا نامیاتی و حیاتیاتی تعلق برپا کیا۔ اقبال کے اشعار جابجا فکر غزالی کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں

Image result for ghazali احیا علومغربیاں را زیرکی ساز حیات
شرقیاں را عشق رازکائنات

زیرکی ازعشق گرددحق شناس
عشق را اززیرکی محکم اساس

خیز و نقش عالم دیگر بنہ
عشق را اززیر کی آمیزدہ

اہل مغرب نے عقل کو سازحیات بنالیا ہے جبکہ اہل مشرق نے عشق (Love of Morality) کائنات کا راز سمجھ لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کو عشق میسرآئے تو حق شناس ہوتی ہے اور عشق کو عقل میسر آئے تو اس کی اساس پختہ ہوتی ہے۔۔ اٹھو اے نوجوانو! عالم کا نقشہ بدل دو یہ تبھی ممکن ہے جب عقل اورعشق زوجیت اختیار کرلیں۔ اقبال جب شرق کا غرب کی اندھی تقلیدمیں (Moral elan) سے محروم سیکولر علم میں استغراق دیکھتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں “عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے ۔۔۔ علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی” یہ غزالی کی بازگشت نہیں تو اور کیا ہے؟

فکر اسلامی کی “تعبیر و تشکیل نو” میں امام غزالی کے کارفرما معجزہ فن کو ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ نے بہت خوبصورت استعاروں سے واضح کیا ہے۔ وہ فرانسیسی ماہر بشریات Claude Levi- Strauss کی کچھ اصطلاحات کو بروئے کار لاکر غزالی کو تعمیر فکر کی داد دیتے ہیں۔ اسٹراس فن تعمیر کیلئے آرکیٹیکٹ، انجینئر، Eclectic اور Bricoleur کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ انجینئر خاص لمحہ تہذیب سے آگے نکل کر تہذیبی حدبندیوں کو توڑتا ہوا آگے جا رکتا ہے۔ بریکولیئر تہذیبی حدبندیوں کے حصارمیں رہ کر فن تعمیر کی داد پاتا ہے۔ یہ فی البدیہہ رقص ہے۔ یہ موجود عناصر کی ترتیب و تشکیل نو سے نئی معنویت کی دریافت ہے۔ یہ دوہرا عمل ہے۔ پہلے غالب کلچرکے عناصرکو ادھار لیا جاتا ہے پھران میں جدت سے معنوی تبدیلی یوں برپا کی جائے کہ نئی معنویت کے ظہور سے ایک منظم شکل ابھرے۔ سادہ الفاظ میں یہ ورلڈکپ کرکٹ کو انڈین پریمئر لیگ بنانا ہے۔ آئی پی ایل کو آپ Bricolage کہہ سکتے ہیں۔ یہ غالب کلچرکے عناصرکو Nativize or Localise کرنے کا عمل ہے۔ مذہبی افکارکی “تعبیروتشکیل نو” میں امام غزالی کا کردار گاہے انجینئر کاہے، گاہے بروکلیئرکا۔ گاہے وہ تہذیبی حدبندیوں کا حصار توڑتے نظر آتے ہیں اور کبھی حصارمیں رہ کرکام کرنے پررضامند ہیں۔ بروکلیئر اور Eclectic میں بھی ایک جوہری فرق ہے۔ Eclectic اپنے فن تعمیرمیں بھلے بہترین عناصر کو بروئے کار لاتاہے تاہم حتمی پروڈکٹ میں کچھ عناصربے قرار وجود کی چغلی کھاتے ہوئے نئے ماحول کو اپنا مسکن نہیں بناپاتے اور میکانکی انداز میں جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ بروکلیئر کے فن تعمیر میں ہر عنصر یا جزو سابقہ ہیئت کھو کر کل یعنی کمپائونڈ پروڈکٹ کا یوں جزو لاینفک دکھائی دیتا ہے جیسے یہ اسی ماحول کی پرداخت اور “جم پل” ہو۔ ڈاکٹر موسیٰ امام غزالی کی تعبیرات و فکریات Bricolage کو واضح کرنے کیلئے مظاہر فطرت سے شہدکی مکھی کی عاجزانہ جہدکو بطور استعارہ پیش کرتے ہیں جو قرآن میں مذکور ہے۔ “تمہارا خدا شہد کی مکھی کو وحی کرتاہے۔ وہ پہاڑوں درختوں یا تمہارے تعمیر کردہ گھروں میں چھتے بناتی ہے اور طرح طرح کے پھولوں سے نیکٹرز (رس) کشیدکرتی ہے۔ اور خدا کے وحی کردہ راستوں کو اپناتی ہے۔ پھر مکھی کے اندرونی اعضاء ایسا رنگارنگ مائع انڈیلتے ہیں جس میں انسانوں کیلئے شفاء ہے۔ یہ اہل فکر کیلئے دعوت فکر ہے”ـیہ شہدجو مکھی کی جملہ معجز کاوشوں کی حتمی پروڈکٹ ہے ایک طرف تمام ماحول، رنگہائے رنگارنگ پھولوں اور نیکٹرز کی جمیع الخصائل پیداوارہے تو دوسری طرف ہیئت، ذائقے، اثرات اور خصائل کے اعتبارسے کامل نئی چیز ہے۔ اور معجزہ بالائے معجزہ یہ بات ہے کہ یہ بظاہر جدت سے محروم ایک دائرہ وار عمل نظر آتا ہے تخلیق مسلسل سے بھرپور Non-Totalizing عمل ہے۔ ایک طرف کراس پولینیشن سے انواع واقسام کے نئے پھولوں کا پیداواری عمل ہے تو دوسری طرف شہد جو خود نسخہ شفاء ہے، طبیب کے ہاتھوں مزید پیچیدہ امراض کا علاج بنتا ہے۔

Image result for ghazali احیا علوماب ذرا شہد کی مکھی کا فن معجز امام غزالی کے تخلیقی کارنامے میں دیکھئے۔ امام صاحب امام الحرمین الجوینی کے شاگرد رشید ہیں جو بقول ڈاکٹر طارق رمضان اپنی فکریات میں “المقاصد الشریعہ” کی تخم ریزی کرگئے تھے جس کی تکمیل امام غزالی کے ہاتھوں ہونا تھی۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعدتین سال تک دربار سلجوق سے وابستہ اسکالرز کی کہکشاں سے خوشہ چینیاں، بغداد مدرسہ نظامیہ کے پروفیسررہے، مسکوایہ، راغب الاصفہانی اور محاسبی جیسے پیش رو ملے۔ عوام الناس اور دربار شاہی کے سرکردہ افرادکے دلوں پر راج، کہ جب بھی سلجوقوں اور مرکزی حکومت یعنی عباسی خلفاء کے درمیان چشمک ہوئی امام غزالی صلح کیلئے بروئے کارآتے۔ پھر عہد مامون کا “دارالحکمت” دنیا بھر کے علوم کے تراجم کرچکا تھا۔ پھر اس وافر علمی سرمائے پر مستزاد امام غزالی کا خداداد جبلی ذوق تجسس جو انہیں ہر گھاٹ پرلیے لیے پھرتا ہے۔ اوردشت جنوں کی ہرنوک خار اسے آبلہ پاء ہونے کی داد دیتی ہے۔ تقابل ادیان کی عالمی شہرت یافتہ اسکالر کیرن آرم اسٹرانگ کہتی ہے کہ جب میں دیگر مذاہب کا مطالعہ کرتی ہوں تو جابجا مجھے اپنی مذہبی روایت کی جھلک نظرآتی ہے۔ کہیں لگتاہے کہ میری مذہبی روایت میں اس حقیقت کا ذکروبیاں سرسری ہے دوسرا مذہب اسے زیادہ پختہ انداز میں پیش کر رہا ہے۔ کہیں دوسرے مذہب کی ناپختہ روایت کا کامل تصور مجھے اپنی مذہبی روایت میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ پہلو امام غزالی کے جذب دروں کا مستقل حصہ رہا ہے۔ امام غزالی نے دیگر مذہبی روایات کو جہاں بہت کچھ دیا جو ان کا سلسلہ عطاء ہے وہاں کچھ لیا بھی ہے جو سلسلہ اخذ ہے۔ تحقیق و تخلیق کا یہ مسلمہ امر ہے کہ بسا اوقات ایک ہی طرح کے الفاظ و تصورات دوسرے سیاق وسباق میں معنی دگر کا چغہ اوڑھ لیتے ہیں۔ الغرض امام غزالی کی علمی قوس قزح میں جہاں ہر علمی روایت کے رنگ نظر آتے ہیں وہاں ان کی تعبیرات یکسر نئی ہونے کے ساتھ ساتھ خلاء سے بھی مزین ہیں کہ نوواردان عشق کو یہ گلہ نہ رہے کہ ہمارے لیے تو کچھ بچا ہی نہیں۔

عہد جدید کے ابن خلدون ڈاکٹر اقبال احمد لکھتے ہیں کہ اصلاحات میں درختوں اور پودوں کی ٹرانسپلانٹیشن کے اصولوں کا اطلاق ضروری ہے۔ پیوندکاری میں جہاں دونوں پودوں کا جینیاتی حسب نسب ملحوظ رکھنا ضروری ہے، وہاں یہ بھی دیکھا جائے کہ نئے عناصر زمیں بھی اس سمبندھ کیلئے موزوں ہیں.۔ امام غزالی کی علمی اصلاحات میں ہم مختلف علمی روایات کا تعامل، تحارب اور آخری تجزیے میں باہم تجازب دیکھتے ہیں جو امام غزالی کی “دہلیز” اور “Middle- of- the- Road پوزیشن کا چنگھاڑتا ثبوت ہے۔

حضورﷺ نے خطہ عرب میں اسلام کی برتری قائم ہونے کے بعد کہا تھاکہ آج بھی کوئی مجھے حلف الفضول جیسے معاہدے کی دعوت دے تو میں بخوشی قبول کروں گا، اس معاہدے میں ادا کیے گئے کردار کے بدلے کوئی مجھے ہزار سرخ اونٹوں کی پیشکش کرے تو ٹھکرا دوں گا۔ یہ اس امرکا اعلان تھا کہ اسلام بند نظام اقدارکے برعکس Opened values system ہے۔ اسلام کو بطور کھلا نظام اقدارپیش کرنے کی اپروچ امام صاحب کی وسعت فکر کا نمایاں پہلو ہے۔ اس لیے نہ صرف ان کی فکر بین المسالک مسلمہ درجہ رکھتی ہے بلکہ دیگرمذاہب بالخصوص عیسائی تصور الٰہیات میں غزالی فکریات کی واضح بازگشت سنائی دیتی ہے۔

اسلام میں حنفی، حنبلی، مالکی اورشافعی روایات فروعات سے قطع نظر ایک متفقہ نظام فکر پیش کرتی ہیں جسے سنی اسلام کہا جاتا ہے۔ صفوی ایران کا شیعہ اسلام سنی اسلام کے برعکس کچھ جوہری تبدیلیوں کا نظام پیش کرتا ہے۔ سنی اسلام کی سرپرستی سلجوقوں نے کی تو شیعہ اسلام صفویوں کے دست کار آفریں کا مرہون منت ہے۔ اس کا اعتراف ڈاکٹر علی شریعتی کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔ ہر چند غزالی سلجوق نظم حکومت اور نظام تعلیم کا معمار اولیں ہے تاہم آپ کی فکر عالیہ نے صفوی ایران میں اپنے قلعے تعمیر کیے۔ شیعہ سنی الٰہیات میں بعد عظیم کے باوجود احیاء العلوم فی الدین نے شیعت میں اپنے ہمنوا پیدا کیے۔ ایران کے شہ دماغ مفکر ملا صدرہ (d 1640) کے شاگرد محسن الکاشانی (d 1679) المعروف محسن فیض کاشانی نے “احیاء العلوم” پر گراں قدر کام کیا۔ اس میں نقل کردہ احادیث کو جرح و تعدیل سے حذف کرتے ہوئے شیعی آئمہ کی روایت کردہ احادیث سے پر کیا۔ کتاب کو شیعی حسیات و جزبات سے ہم آہنگ کرنے کے بعد “المہاج البیضہ“ کے نام سے شائع کیا جو آج تک ایرانی علماء کے زیر مطالعہ ہے۔ عہد ایوبی کا مایاناز عالم علامہ عبدالرحمان ابن الجوزی (d 1200) امام غزالی کی Epistemology کا شدید ناقد ہونے کے باوجود “احیاء العلوم” کا اسیر ہوا اور شدت ذوق کے باوصف اس کے عناصرکو ایک نئے انداز میں “منہا ج القاصدین” کے نام سے شائع کیا۔ ناقد تصوف امام ابن تیمیہ کا مدرسہ فکر جو امام غزالی پر یونانی فلسفے کے خبط کا الزام لگاتا ہے مگر ان کے مجموعی فکری ڈھانچے کو قرآن حدیث کے عین مطابق قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم مصلحین سلفی اسلا م پر کاربند ہوتے ہوئے بھی امام غزالی سے اعتنا نہ برت سکے۔ چنانچہ سید جمال لدین افغانی ہوں یا ان کے مصری شاگرد شیخ عبدہٰ جمال الدین القسیمی الدمشقی ہوں یا رشیدرضا، اور تحریکی سطح پر مصرکی الاخوان ہو یا برصغیر کی جماعت اسلامی امام غزالی سب کیلئے انسپائریشنل ماڈل ہیں۔

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ لکھتے ہیں کہ امام غزالی کی فکر نے یورپ کو کس قدر متاثر کیا اس کا بہت کم حصہ موجودہ اسکالرشپ جان سکی ہے۔ تاہم سب سے پہلا یورپی مفکر و ماہرالٰہیات (Ramon Lull (1232-1316 ہے۔ چھوٹی بڑی تین سو کتابوں کا یہ غیر معمولی مصنف منطق اور بالخصوص ارسطو نظام منطق سمجھنے کیلئے غزالی کا اسیر ہوا، دونوں کا درد ایک تھا۔ یعنی لل بھی عیسائی الٰہیات کو ہراس ڈکشن، اسلوب، منطق اور طرز استدلال میں پیش کرنا چاہتا تھا جو عیسائی ایمانیات کو خوبصورت اندازمیں پیش کرسکے۔ چنانچہ لل نے منطق پر جو معجم تصنیف کی اس کا نام “Compendium Logicae Algazelis” تھا۔ یہ تصنیف دراصل غزالی کی “مقاصد الفلاسفہ (The Goals of Philosophers)” کا ترمیمی اور توضیحی چربہ تھی۔ فرانسیسی مفکر ڈیکارٹ (1596-1650) جسے جدیدیت کا جدامجد کہا جاسکتا ہے، اس کی تصنیف “The Methods” اگر محض پندرہ سال بعد احیاء العلوم کے فرانسیسی ترجمے کے بعد منظر عام پر آتی تو اسے احیاء لعلوم کا سرقہ قراردیا جاتا۔ فلپ کے ہٹی معترف ہیں کہ عیسائی ماہرالٰہیات ٹامس ایکوئنس جسے عیسائیت عام فارمولے کے برعکس محض علمی کارکردگی پر سینٹ کا درجہ دیتی ہے اور پاسکل دونوں بالواسطہ طور پر فکر غزالی سے متاثر تھے۔ غزالی فکریات کا معتدبہ حصہ 1150 سے قبل لاطینی میں ترجمہ ہوچکا تھا۔ بغداد اور غرناطہ کے اسکالرز کے درمیان علمی رابطے اس قدر پختہ اور مسلسل تھے کہ امام غزالی کی وفات کے محض پچاس سال بعد “المقاصد الفلاسفہ” کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوجانا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ہٹی کہتاہے کہ “امام غزالی کے لاطینی تراجم اور دیگر فکریات کا یہودی اور عیسائی علمی روایات پر گہرا اثر ہے”۔

امام غزالی پر یہ الزام کے انہوں نے اسلامی فکرکی اقلیم پر فلسفے اور سائنس کا رد لکھا۔ ابراہیم موسیٰ اور دیگر کے نزدیک یہ واہمے غزالی فکریات خاص طور پر “المنقذ من الضلال” کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے در آئے ہیں۔ ابن سینا اور اس قبیل کے دیگر فلاسفرز اور سائنسدانوں کی فکر یونانی سے حد درجہ وارفتگی اور قرآن کے تصور آخرت کی قیمت پر کائنات کو دوام ہے (Eternity of Universe) کا سائنسی فلسفہ رد کرنے کا مطلب فلسفہ اور سائنس دشمنی ہے تو یقیناً امام غزالی ایسے تفکرات کو رد کرتے ہیں۔ ابن سینا، فارابی اور معتزلی افکار پر مبنی نیچرل ازم میں گندھی سرسید کی تفسیر قرآنی کتنے حلیف پیدا کرسکی ہے وہ بھی جب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے منہ زور گھوڑے کوکھلی آنکھوں سے مذہبیات کو روندتے دیکھ رہے ہیں۔ شبلی کاسرسید کی فرمائش پر زمانہ وسطیٰ کے مسلم فلاسفہ سے مستعار “علم الکلام” آج کتنا زیر مطالعہ ہے۔ سید چراغ علی کا Pure Rationalism کہاں جگہ بناسکا ہے۔ غلام جیلانی برق کتنا زیر مطالعہ ہے۔ امام غزالی اور امام شاطبی کے نزدیک تو انفرادی آیات سے قانون سازی یا احکامات کا استخراج بھی قرآن کے حقیقی اور جامع مدعا سے کھلواڑ ہے کجا کہ انفرادی آیات پر سائنس اور فلسفے کو “حکم” مانا جائے۔ اس لیے کہ دونوں کی فکر کا مرکز و محور “مقاصد الشریعہ” ہے۔ اور مدرسہ المقاصد الشریعہ غزالی اور شاطبی کی اختراع محض نہیں ہے، بلکہ عمر رضی اللہ جب قحط کے دوران قطع یدکی سزا معطل کر رہے تھے یا فتح عراق کے موقع پر مال غنیمت اور زمینوں کی تقسیم کا معاملہ طے کر رہے تھے تو ان کا استدلال انفرادی آیات کے بجائے قرآن کے حقیقی جامع مدعا اور مجموعی مزاج سے پھوٹ رہا تھا۔ ان کی نظر مقاصد شریعہ پر تھی۔ محفوظ پیرائے میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنس اور فلسفے کے مخصوص نکات سے مخصوص آیات قرآنی کو رد نہیں کیا جاسکتا بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ سائنس کا جامع نکتہ نظر اور مذہب کا جامع ویو پوانٹ کیا ہے۔ فلسفہ قاضی کا کردار ادا کرے گا۔ سائنسی نکتہ نظرکل خود اپنا رد پیش کر سکتا ہے اور مذہبی علامات و استعارے جو مذہب کی زبان ہیں کل ان کی تعبیر و تشکیل نو بھی ہوسکتی ہے۔ قدرت الٰہیہ نے انسان کے استقرائی منطق تک پہنچنے پراس کے اپنے وسائل پر اعتماد کرتے ہوئے وحی کی بیساکھی واپس لے لی ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تاریخ نے کوئی ایسا Privileged point حاصل کرلیاہے کہ مکمل سچ آچکا لہٰذا تحقیق و تخلیق کا سلسلہ بھی انجام کو پہہنچا۔ سدا بہار مساعی فلسفے کا مقدر ہیں تو اس لیے کہ مفاہیم کی تلاش مذہب کو بھی ایسے ہی ر ہے گی جیسے سائنس کو درکار ہے

سیکولر لبرل مذہبی دانش کا یہ الزام کہ اگرغزالی نہ ہوتے تو ہمارا شمار بھی علم ذوق قوموں میں ہوتا خود شکستی ہے۔ پہلے مرحلے میں امام غزالی کو فلسفے اورسائنس کا دشمن قرار دیا جاتا ہے اور پھر اسے امت مسلمہ کا مجموعی مزاج کہہ دیا جاتا ہے۔ کیا یہ الزام وہی نہیں ہے جو مغربی نوآبادیاتی نظام کو سند جواز دینے کیلئے برطانوی مستشرق ولیم میور اور فرانسیسی اسکالر رینان پیش کر رہے تھے۔ کہ اسلام بدویت کا مظہر ہوتے ہوئے، سائنس، فلسفہ اور تہذیب کا ناقابل علاج دشمن ہے۔ اس وقت ایک معذرت خواہانہ اپروچ سرسید اور سید امیر علی جیسے اسکالرز کی تھی اور ایک جارحانہ دفاع تاریخ، فلسفہ تاریخ اور الٰہیات کے شناور سید جمال الدین افغانی کا تھا کہ رینان کو تاریخ کے حوالے سے کوتاہ بینی کا اعتراف اور سید جمال سے معذرت کا جواب لکھنا پڑا۔ سیدجمال الدین جسے شرق و غرب اہل مغرب پہلا جینوئن جدت پسند مسلم اسکالر مانتے ہیں اسلام کو فلسفہ اور سائنس دوست ثابت کرنے کیلئے قرآن کے بعد سب سے زیادہ غزالی کو پیش کر رہا تھا۔ چنانچہ اسلام کا یہ بطل جلیل 1872 میں کلکتہ کے مسلمانوں اور ہندوئوں سے دوران خطاب کہہ رہا تھا

یہ فلسفہ تمام علوم کی ماں ہے اور اسے دیگر تمام علوم کی اجتماعی روح سمجھا جانا چاہئے کہ یہ نہ صرف ان کی محافظت کرتی ہے بلک ان کی ترجیحات کے تعین کیساتھ ساتھ ان کی پرداخت و نشونما کا وظیفہ بھی ادا کرتی ہے۔۔۔۔ کوئی بھی شاخ علم فلسفے کے بغیر ایک صدی سے زائد عمر نہیں پاسکتی۔ پھر یہ آتش زیرپا مفکر اسلام امام غزالی کی تصنیف “المنقذ من الضلال Deliverance from Error ” سے حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ حجۃالاسلام امام غزالی کا کہنا ہے

ـAny one who claimed that Islam was against geometrical evidence, against philosophical arguments and the laws of nature, would be an obscurantist friend of Islam. Now, the damage caused to the Islamic religion by such a friend would be more serious than that caused by heretics. For the laws of nature, the evidence of geometry and philosophical arguments can only be considered as self-evident truths. He who claimed that his religion denied self-evident truths would necessarily have admitted his religion to be invalid.

اس سے قبل ہم نے اسی “المنقذ من الضلال” سے ایک اقتباس پیش کرچکے ہیں جس میں امام غزالی لکھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایسا باطنی نہیں دیکھا جس سے اس کے راز ہائے باطن کا نہ جانا ہو، کوئی عالم ظاہری نہیں دیکھا جس سے اس کی حرف پرستی کے دلائل نہ مانگے ہوں، کسی ایسے فلاسفر سے نہیں ملے جس سے اس کے دلائل وبراہین کا نہ جانا ہو، کوئی صوفی نہیں دیکھا جس سے اس کے مشاہدات اور تجربات کا نہ پوچھا ہو، کوئی سائنسدان نہیں چھوڑا جس سے اس کے عملی مشاہدات اور سائنسی نکتہ نظرسے متعلق بحثیں نہ ہوئی ہوں ، یہ لگن بیس سال عمرسے قبل کا خاصاہے جو ہنوز پچاس سال کی عمرتک جاری ہے۔ اور کہتے ہیں یہ طریقہ میرا ذاتی انتخاب نہیں بلکہ قدرت نے میری جبلت میں رکھ دیا تھا۔ یہ عبارت ہٹی نے اپنی کتاب “تاریخ العرب” History of Arabs میں نقل کی ہے۔ جبکہ امام غزالی کا محولہ بالا اقتباس جو جمال الدین افغانی نے اپنے خطبہ کلکتہ میں پیش کیا اسے امریکی مصنفہ نکی کیڈی نے افغانی پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں نقل کیا ہے اور ڈاکٹر طارق رمضان کی کتاب Radical Reforms in Islam میں بھی درج ہے۔ حوالوں کی ضرورت اس لیے پڑی کہ ثابت ہو کہ یہ ثقہ اسکالرشپ کا تسلیم شدہ بیان ہے، اختراع نہیں ہے۔

مستشرقین ہوں یاان کی جانبدارانہ علمی قے اور فضلے کی پرداخت ہماری سیکولر ملائیت اور لبرل مذہبی دانش، تہذیب اسلامی کے امریکی مورخ ڈاکٹر  Marshal Hodgson کے الفاظ میں یہ نام نہاد اسکالر اگر Precommitments to their subject-matter syndrome سے چھٹکارا حاصل کرسکیں تو آخری تجزیے میں امام غزالی سائنس اورفلسفے کے محسن عظیم نظرآئیں گے۔ امام غزالی نے قرآن کو “الکتاب المسطور” یعنی کتاب المرقوم (Written Book) کہا اور ساتھ ہی کائنات کو “الکتاب المنشور” The Outspread Book یا (Book of Manifestation) کہا۔ اس لیے کہ قرآن اپنی سطور یاجملوں کو آیات کہتاہے، آیات کا مجموعہ قرآن ہے یعنی “کتاب المسطور”۔ بعینۃ قرآن مظاہر فطرت کو بھی آیات کہتا ہے اور جس طرح پورا قرآن آیت الٰہیہ ہے کائنات اپنے باطن اور مظاہر و ظواہر سمیت ایک آیت الٰہیہ ہے۔ آیت کاترجمہ verse ہرگز نہیں ہے یہ بائبل کی دیکھا دیکھی میں کیا گیا ہے۔ آیت کا مطلب علامت، نشانی یا اشارت sign ہے یعنی آیت ایک تیر کا نشان ہے جو حقیقت عالیہ Grand Reality کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آیات کو معنوی شور و زور اور شدت کی بنیاد پر چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے درجے میں وہ آیات ہیں جن کی معنویت پر غور کیا جائے تو جہان معنی لیے ہوتی ہیں ورنہ معمول کی بات لگتی ہے۔ جیسے سورج چاند ستارے اور صبح شام اورخزاں بہار انتہائی حساس ذہن معنی پالیتا ہے مگر عام آدمی کیلئے یہ معمول کے اشارے ہیں۔ دوسرے درجے کی آیات وہ ہیں جو پرزور معنویت لیے ہوتی ہیں کوئی مبصر یا شاہد نظارہ ممکن ہے اس کی غلط تعبیر کرے مگر ان آیات کو نظرانداز نہیں کرسکتا قرآن نے قوم لوط کی تباہی کو بینات کہاہے کھلی اور واضح نشانیاں۔ ایسے مظاہر کو جادوگری وغیرہ کہا جاسکتا ہے مگر انکارممکن نہیں ہے۔ انبیاء نے لیلائے حقیقت کو عریاں دیکھا ہوتا ہے اس لیے وہ کردار و اطوار میں باقی انسانوں سے مختلف تشخص رکھتے ہیں۔ ان پر مختلف الزام دھرے جاسکتے ہیں مگر الگ تشخص کا انکار ممکن نہیں ہے۔ قرآن انبیاء کو “بینات” کہتاہے۔ آیات کا تیسرا درجہ “برہان” کہلاتا ہے۔ یہ وہ آیات ہیں جو باعتبار شدت معنویت مبصر یا شاہد پر ایک نفسیاتی زور (Psychologically convincing force) پیدا کرتی ہیں۔ قرآن جب حضرت یوسف اور ذولیخا کا (12:24) واقعہ بیان کرتاہے یوسف پکار اٹھتے ہیں کہ خدایا میں خود کو نفس امارہ کی گرفت میں محسوس کر رہا ہوں خدانے ان کے سامنے برہان رکھ دی یعنی حقیقت کا ایسا رخ (Demonstrative Proof) دکھایا گیا کہ یوسف نے سخت جبلی جزبے پر قابو پالیا۔ برہان میں عقلی اور نفسیاتی زور ہوتا ہے۔ چوتھا درجہ ان آیات کا ہے جن میں محض عقلی، نفسیاتی ہی نہیں بلکہ جسم پر برت جانیوالا زور ہوتا ہے۔ ان میں Physically coercive force ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے “اے گروہ انس و جن نکل جائو زمین اورآسمان کے پردوں سے اگرتم میں استطاعت ہے، مگر تم یہ استطاعت نہیں رکھتے بجز سلطان (authority rooted in knowledge).۔ آیات کا یہ چوتھا درجہ سلطان کہلاتا ہے۔ قرآنی آیات اسی خدا کی طرف سے ہیں جو خالق کائنات ہے اور یہ کائنات میں بکھرے مظاہر کا بیان ہیں اس لیے قرآن انہیں تبیان الآیات یعنی clarification of the signs [of God]کہتا ہے۔ قرآن جب آیات قرآنی کا ذکر کرتا ہے تو انہیں وحی متلو کہتا ہے یا پھر آیات بینات کہتاہے۔ آیات بینات کی اصطلاح مناظر و مظاہر فطرت کیلئے صرف تین بار استعمال ہوئی ہے۔ ایک قوم لوط کی تباہی کے بیان (29:35) کو بینات کہا ہے. اور دو دفعہ حضرت موسیٰ اور قوم یہودکے حوالے سے تاریخی مافوق الفطرت حوالہ جات کی بابت (2:211; 17:101) آیات بینات کہا ہے باقی کہیں بھی مظاہر فطرت کیلئے بینات کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی کیونکہ عظیم الجثہ مشین فطرت نے سلسلہ ہائے علل اور معلولات کی دبیز  چادر اوڑھ رکھی ہے۔

اب غور کیجئے کہ امام غزالی نے جو قرآن کو الکتاب المسطور اور کائنات کو الکتاب المنشور کہا ہے تو اس میں یہ پیغام ہے کہ Text and Context یعنی ا قرآن اور کائنات کا خالق ایک ہی ہے ایسا ہو نہیں سکتا کہ ٹیکسٹ کچھ اور بیان کرے اور مظاہر فطرت کچھ اور مدعالیے ہوئے ہوں۔ یعنی اگر ماہرین الٰہیات (Text Scholars) اور سائنسدان اور ماہرین سماجیات (Context Scholars) اپنے متعلقہ علوم میں جرح و تعدیل سے گزر کر ایک صفحے پر ہوں گے تو یہ طلوع حق کا مقام ہوگا۔ اگر ان کے نتائج و اوامر میں اختلاف ہے تو سمجھئے یا تو Text کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے یا Context کا احوال درست نہیں ہے۔ ڈاکٹر طارق رمضان امام غزالی کے اسی نکتہ دور رس کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

From the outset, The Quran presents itself as the mirror of the universe. The term that the first Western translators rendered as “verse”—referring to biblical vocabulary— literally means, in Arabic, “sign” (Ayah). Thus, the revealed Book, the written text, is made up of signs(ayat), just as the universe, like a text spread out before our eyes, is teeming with signs. When the heart’s intelligence, and not only analytical intelligence , reads the Quran and the world, then the two texts address and echo each other, and each of them speaks of the other and of the One”۔

امام غزالی کا الکتاب المسطور اور الکتاب المنشورکا تصور علمائے کتاب اور علمائے دہر کو باہمی مناقشت و موافقت کے غیر مختتم سفر کیلئے دائم بانگ رحیل کا فریضہ سرانجام دیتا ہے، پارہ دل کو درد تمنا کا دوام دیتاہے، سائنس پر لامحدود مساعی کا بارگراں ڈالتاہے، اہل فلسفہ کو ہمیشہ غرق نمکداں رکھتا ہے۔ کیونکہ برٹرینڈرسل کے الفاظ میں فلسفے کا بنیادی وظیفہ مذہب اور سائنس کے درمیان منصفی کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ اہل علم و فضل جانتے ہیں اور مغربی مورخین کو بھی اعتراف ہے کہ اسلام نے یورپی نشاۃ ثانیہ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ راجر بیکن جو آکسفورڈ لندن اسکول کے ابتدائی اساتذہ میں سے ایک تھا اور تجرباتی علوم کا بانی مانا جاتا ہے، وہ مسلم اسپین کی درسگاہوں کا فارغ التحصیل تھا۔ غیر جانبدار اسکالرشپ مانتی ہے کہ آکسفورڈ شعبہ الٰہیات میں شروعات کے بعد طویل عرصے تک امام غزالی پڑھائے جاتے رہے۔ ڈاکٹر طارق رمضان امام غزالی کے تصور “الکتاب المسطور” اور “الکتاب المنشور” سے متعلق رقمطراز ہیں

This theme was common in early renaissance European literature and gradually changed the outlook of the world, which was seen as a space to be deciphered, interpreted, and understood: a horizon open to reason, learning, and science. This correspondence between the two books is everywhere present in the Quran, which keeps referring to the signs in one or the other of these orders and invites human intelligence to understand the revealed text as well as created Nature. The two Universes address and echo each other and reveal to mankind that the Creattion, the life of people, and history are fraught with meaning: those are clearly two “Revelations” that must imperatively be received, read, interpreted, and understood in their inherent complementarity. The heart nurtured by faith, must be able to observe signs, reason must strive to understand the natural order, extract its meaning, and identify finalities.”

یوں ہم سمجھتے ہیں امام غزالی کا مذہب، سائنس اور فلسفے پر احسان عظیم ہے۔ کتاب کہتی ہے “اور ہم نے قرآن میں انسانوں کیلئے ہر تشبیہہ و استعارہ بیان کردیاہے”(17:89)۔” ہم نے تمہیں کتاب بھیجی جس میں ہر کنہہ حقیقت بیان کر دی گئی ہے (16:89)”۔ “ہم نے کچھ ایسا نہیں چھوڑا جس کا ذکر کتاب میں نہ ہو۔” (6:38)۔ سہل پسند دانش کا یہ گمان ہے کہ سائنس کی ہر دریافت و ایجاد جسے تجزیاتی عقل بروئے کارلاتی ہے کتاب میں وہ پہلے سے بیان کردی گئی ہے۔ یوں کتاب الٰہی جو کتاب اقدار ہے اسے سائنسی کتاب سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ کتاب کسی سائنسی حقیقت کا ابطال نہیں کرتی الگ بات ہے لیکن کتاب کو بزعم خویش ایک سائنسی کتاب کہنا بالکل دوسری بات ہے۔ علمائے مذہب اور علمائے دہر عموماً جس حقیقت عظیم سے اغماض برتتے ہیں وہ یہ ہے کہ کتاب الٰہی دیگر سائنسز اور علوم کے مشمولات (content) کے برعکس ان کے حتمی اخلاقی اغراض بیان کرتی ہے۔ یہ قلب و ضمیرکے قبلہ نما کا تعین کرتی ہے، تجزیاتی عقل اور سائنس کی فعالیت دوسرامرحلہ ہوا کرتا ہے۔ جدید سائنس اور سائیکالوجی اپنی محدوددیت کے باوصف ان عظیم مذہبی شخصیات کو Psychopath کہہ رہی ہے جنہوں نے تاریخ کو نئی سمت بخشی۔ اقبال اس مذہبی شخصیت کے تجربے کویوں بیان کرتے ہیں “اس کا طریق کارحقائق کی درجہ بندی اورعلل کی دریافت نہیں ہوتا وہ حیات اوراس کے تحرک کی روشنی میں انسانیت کیلئے رویوں کے نئے نئے نمونے تخلیق کرتاہے۔ اسے بھی کئی کھایوں اور سرابوں سے پالا پڑتا ہے جس طرح حو اس پر انحصار کرنے والے سائنسدان کو راہ کے گڑھوں اور مغالطوں کا سامنا ہوتا ہے۔ تاہم مذہبی شخصیت کے طریق کار کا عمیق مطالعہ بتاتا ہے کہ اپنے تجربات پرسے واہموں اورسرابوں کے ملمع جات اورتوہم کی دبیز تہہ کو صاف کرنے میں وہ کسی صورت سائنسدان سے کم حساس نہیں ہوتا”۔ مذہب اس وقت بھی اپنے تجربات کا تنقیدی جائزہ لینے کا عادی تھا جب ابھی سائنس کا ہیولیٰ بھی نہیں اٹھا تھا۔ مذہب اپنی نظریاتی اساس کے تحت ایسے حقائق اور اصولوں کا مجموعہ ہوا کرتا ہے جو ایک شخص یا کمیونٹی کی ماہیئت قلب کرتاہے۔ ایسے میں مذہب کو ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے بیان کردہ حقائق لاینحل معمہ نہ رہیں کوئی بھی مشکوک اصولوں کی بنیاد پر اپنا عمل ضائع کیوں کرے گا۔ درحقیقت اپنی عملی جہتوں کے اعتبارسے مذہب کو سائنس سے کہیں زیادہ اپنے اصولوں کی عقلی بنیادوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ سائنس عقلی مابعدالطبیعات کو رد کرسکتی ہے جو اس نے اب تک کیا ہے۔ مگرمذہب اپنے تجربات کے اضدادد ختم کرکے اپنے خاص تاریخی ماحول سے مطابقت و یگانگت کا دم بھرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی لیے پروفیسر وائٹ ہیڈ نے کہا ہے “Ages of faith are the ages of rationalism” تاہم اقبال کہتے ہیں کہ Faith کو عقلی جہتوں پر پرکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ فلسفے کی مذہب پر برتری تسلیم کرلی جائے۔ یقیناً فلسفے کا حق ہے کہ وہ مذہب پر جرح کرے مگر مذہب فلسفے کو اپنی شرائط پر پرکھنے کا حق دیتا ہے۔ کیونکہ مذہب محض فکر یا احساس یا عمل کا نام نہیں ہے یہ انسان کے بحیثیت مجموع “مظہر کلی” کا نام ہے۔

امام غزالی کے ہاں فکراسلامی کی تعبیر و تشکیل نو یعنی “غزالیات” میں روایت (Tradition)، تعقل پسندی (Reason) اور بصیرت (Intuition) کے اجزائے پریشاں کی شیرازہ بندی ملتی ہے۔ ہماری سیکولر مذہبی دانش کا یہ الزام کہ امام غزالی ابن رشد کی تعقل پسندی کے برخلاف روایت اورنقل کے آدمی تھے یہ واضح کرتاہے کہ یہ نام نہادطبقہ روایت (سنت)کی اصولی معنویت سے نابلد ہے۔ ان کے نزدیک روایت ایک جامدرسم (Static Ritual) کا نام ہے۔ حقیقتاً روایت (Sunnah) اپنے جوہر میں متحرک تصور حقیقت کا نام ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے اپنی غیر معمولی تصنیف “Islamic Methodology in History” میں سنت کے حقیقی اورتاریخی تصور پر جامع بحث کی ہے۔ وہ موطا امام مالک کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب انہیں شفعہ سے متعلق سنت نبوی سے کوئی سمت نہیں ملتی وہ معمر افراد سے پوچھتے ہیں اس ضمن میں رسول اللہ کے بعد “حکام” کی کیا سنت رہی ہے۔ یعنی اگر سنت رسول میں واضح رہنمائی نہیں ہے تو بعدمیں پیش آمدہ مسائل پراگرحکام نے قرآن وسنت کو ماڈل سمجھ کرفیصلہ کیاہے تو وہ فیصلہ بھی سنت ہی کے زمرے میں آئے گا۔ یعنی کسی نئی راہ و رسم کا آغاز اور پھر اس پر کمیونٹی کا اجماع بھی سنت کہلائے گا۔ سنت یا روایت کی تاریخیت پر بحث کرتے ہوئے فضل الرحمان لکھتے ہیں کہ جب اسلام حجاز، عراق اور مصر تک پھیل گیا تو ہر علاقے کے مقامی حالات کے تحت سنت پھلتی پھولتی رہی اور اہل فکر سنت عراق، سنت حجاز اور سنت مصرکے عنوان سے بات کیا کرتے تھے۔ یعنی قرآن کا جدت فکرکا فلسفہ آب وتاب سے روبہ عمل تھا۔ یعنی قرآن وسنت کی بنیادی ساخت اصول حرکت پر کاربند تھی۔ یعنی زمینی حقائق اور زمان و مکاں کا تغیروتبد ل اجتہاد کو زندہ رکھے ہوئے تھا۔ ترتیب یہ تھی کہ ایک سنت ہے اس پر سوسائٹی کا اجماع ہے، حالات نے پلٹا کھایا ہے تو اس اجماع امت یعنی سنت کی تعبیر و تشکیل نو کی ضرورت پڑی جو نئی روایت سامنے آئی اس پر اگر کمیونٹی اوراہل حل وعقدنے اتفاق رائے کرلیاتواجما ع امت سے اسے سنت تصور کرلیا گیا، نئے حالات نے اگر پھر اس روایت کو چیلنج کیاتو اس پر پھر اجتہاد ہوا، اجتہادسے ابھرنے والی نئی سنت یا روایت پرپھر کمیونٹی اور اہل حل و عقد کا اتفاق رائے ہوا تو اسے نئی سنت کے تحت اجماع کا درجہ حاصل ہوگیا۔ یوں روایت ایک جامد رسم کے برعکس زندہ و توانا تصور کے تحت پھلتی پھولتی نظر آتی ہے۔ یعنی سنت + اجماع + اجتہاد یہ سنت یا روایت کا چکری تصور کہہ لیجئے جس میں سنت یا روایت کو اجتہاد کا توانا بازو احیاء و اصلاح کی پن چکی میں گھما گھما کر گدلاہٹ و اغلاط سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ تاہم مسئلہ انتظامی مشینری کو درپیش آیا کہ وہ حجاز و عراق اور مصر کو مختلف سنن و روایات (قوانین) سے کیونکریک رنگ رکھ سکتی ہے۔ امام شافعی نے اس انتظامی مسئلے کے حل کیلئے سنت اجماع و اجتہاد کے فطری بہائو کو الٹ دیایعنی سنت پھر اجتہاد اور اجتہادسے جب پھراجماع کا مرحلہ آئے تو اجماع کو Finality status دے دیا یوں جس روایت اور سنت پر اجماع ہوگیا پھر اسے اجتہادی چھیڑ چھاڑ کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اس طرح روایت اصول حرکت سے محروم ہو کر جامد ہوگئی۔

مزار امام غزالی

ہرچند امام غزالی شافعی فقہی روایت کے پروفیسر رہے ہیں اور فقہ پران کی کتاب “المصتصفیٰ فی علم الاصول” ایسی نادر تصنیف ہے کہ ابن رشدنے اس کا خلاصہ (Abridged version) لکھا۔ تاہم امام غزالی سنت و روایت کی بابت امام شافعی کے Utilitarian تصور سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک روایت کو احیاء و اصلاح (Revival & Reform) کا ہرچندسامنا رہتا ہے۔ وہ روایت کے حقیقی مدعاکی بنیادپراس کی تعبیروتشکیل نوکا فن بخوبی جانتے ہیں۔ علم الحیاتیات اور “نباتیات” کی کچھ اصطلاحوں سے روایت کا مسئلہ سمجھا جاسکتاہے۔ Palingenesis کا مطلب ہے کہ کوئی بھی جاندار جینیاتی توارث میں کوئی تبدیلی بغیر اپنے اب و جد کی خصوصیات کو بلاتغیر و تبدل اپنے ساتھ لیکر پیدا ہوتا ہے اور عکسی نمونے یا زائد از کولون (colone) کچھ نہیں ہوتا۔ دوسری اصطلاح kenogenesis کہلاتی ہے۔ اس کے مطابق جاندار اپنے گرد و نواح، ماحولیاتی حصار، معاشی جبر اور نئی ضروریات کے تحت کچھ نئی خصوصیات یا نئے اعضاء پیدا کرلیتے ہیں جس سے ان کا وراثتی جینیاتی سیٹ اپ بدل جایا کرتا ہے جسے حیاتیات کے عالم میوٹیشن کہتے ہیں۔ اقبال “خطبات” میں لکھتے ہیں “درحقیقت قرآن میں جس طرح لفظ “وحی” برتا گیا ہے، لگتاہے یہ زندگی کی آفاقی خصوصیت ہے، اگرچہ زندگی کے مختلف ارتقائی مراحل پر وحی کی ہیئت و خواص میں فرق ہے۔ آزاد فضاء میں نمو پاتا درخت ہو، یا نئے ماحول میں کسی نئے عضو کو جنم دیتا جانور ہو، یازندگی کی گہرائیوں سے روشنی وہدایت پاتا کوئی انسان یہ سب “وحی” کے مختلف مظاہر ہیں جن کا انحصار وصول کنندہ یا اس کی نوع (Specie) کی ضروریات پر ہوتا ہے۔ اور جب انسانوں کی بہت قلیل تعداد کا نفسیاتی انجن پیغمبرانہ شعور پالیا کرتا تھا تو اس کا مقصود انسان کی انفرادی فکر اور انتخاب کو آسان بنانے کیلئے تیار شدہ فیصلے اور قوانین ہدایت بہم پہنچانا تھا۔ تاہم انسان میں تنقیدی شعور کے پیدا ہوتے ہی حیات نے اپنے ہی مفاد میں نفسیات کے غیر عقلی سوتوں اور محرکات کی پرداخت اور نمو کو بند کر دیاجہاں سے ارتقائے حیات کے ابتدائی مرحلوں میں انسان کی نفسیاتی توانائی کا ظہور ہوتا آیا تھا”۔ یہ اقبال کا فلسفہ ختم نبوت ہے یعنی وحی تکمیل کو پہنچی اور انسان کو اپنے وسائل پر خود انحصاری کا سبق دیتے ہوئے خود اپنے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ کہتے ہیں ملائیت کاخاتمہ ہو یا خاندانی بادشاہت کی نفی، عقل تجربے اور مشاہدے پر زور ہو یا تاریخ اور مظاہر فطرت پر غور و فکر کی دعوت یہ سب ختم نبوت کا بیان ہیں۔ یہ وحی کا سائنسی اور فلسفیانہ تصورہے۔ وحی کے اس عمومی تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ صحرائی اونٹ کا ایک کوہان ہوتا ہے۔ سردعلاقے کے اونٹ نے اپنی ضرورت محسوس کرتے ہوئے جانے کب دوسرا کوہان بھی پیدا کرلیا ہوگا۔ پودوں میں کھجور ارتقاء کے عظیم درجے پرہے، باقی پودوں کے برعکس پورا دماغی سیٹ اپ ـ “برین اسٹرکچر” رکھتا ہے، پیٹ سے بچے کو جنم دینے پر قادر ہے، ابن مسکوایہ کہتے ہیں عین ممکن ہے کہ ارتقاء کی اگلی منزل پر یہ چلنا بھی شروع کر دے۔ کچھ پودے ایسے ہیں جومکھی کو جھپٹ لیتے ہیں۔ مقصدجب زندگی نباتات اور حیوانات کی سطح پر جامد نہیں ہے۔ انسانی سطح پر کیونکر جمود کی چادر اوڑھ سکتی ہے جوارتقاء کی ارفع و بلند ترین کڑی ہے۔ ایسے میں جامد روایات سے زندگی کا کیونکر بھلا ہو سکتاہے۔ لہٰذا متن پرست طبقے کے ہاں جس شدت سے روایت کو جامد انداز میں بلا تغیر و تبدل Palingenesis کی طرز پر لیا جاتا ہے امام غزالی جیسے اہل لرائے کے نزدیک روایت کو ارتقائی نکتہ نظرکے تحت Kenogenesis کے ماڈل پر سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک روایت تاریخ کے گوشت پوست میں نمو پاتی ہے نئے زمان و مکاں اور چیلنجز کے مدنظر “رد و قبول و ترمیم” کے جاں گسل معرکوں سے نبرد آزما ہوتی ہوئی اگلی نسلوں سے مصافحہ و معانقہ کرتی ہے۔ امام غزالی کے ہاں روایت جدید صالح اور قدیم نافع کا امتزاج عظیم ہے۔ امام غزالی نے دانش کی کثیرالجہتی متحارب و متجازب روایات کی دہلیز پر محسوس کیا کہ زندگی کے پیچیدہ ترین چیلنجز کا جواب کسی ایک ڈسپلن یا انٹیلیکچول روایت سے ممکن نہیں ہے چنانچہ وہ پے در پے علمی آرکائیوز پر حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ وہ بروکلیر ہی نہیں ایک مہم جو بھی ہیں۔ روایت کو سامان زیست مہیا کرتے ہیں۔

امام غزالی پریہ الزام ہےکہ ان کی وجہ سے سائنس اور فلسفہ سرزمین اسلام کے اجنبی پودے ٹھہرے۔ جب امام غزالی پیدا ہوئے تو اسلام اپنے مڈکیرئر سے گزر رہا تھا۔ سابقہ مومنٹم نے اسے اگلے پانچ سوسال تک عالمی سیاسی اقلیم پر براجمان رکھاتاہم افراد کی طرح اقوام بھی ایک طبعی عمرکے بعد کارگہ عمل سے رخصت لیتی ہیں۔ یہ عین فطری عمل ہے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کرشمہ بھی دیگر جاندار چیزوں کیطرح جنم لیتاہے، پھلتا پھولتا ہے جوان ہوتاہے ضعیفی کی ڈھلوان سے رخصت ہوجایا کرتا ہے۔ قرآن کیمطابق امت مسلمہ کو تاریخی عمل سے کوئی استثنا حاصل نہیں ہے۔ اگر کارکردگی کی اقلیم پر سست روی اور عدم کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی تو خدا کوئی اور امت اٹھائے گاجوان سے بہتر ہوگی۔ اخلاقی علوہ یا برگساں کے الفاظ میںں زور زندگی (Elan vital) قوموں کو معرکہ حیات سے برسرپیکار رکھتا ہے، طائوس و رباب کا عہدآتاہے تو تعیش، سہل پسندی اورسہل انگاری Moral Elan کے جام و سبو یوں لٹاتی ہے کہ کارگہ عمل سے رخصتی کا پروانہ ناگزیر ٹھہرتا ہے۔ سویہی امت مسلمہ کیساتھ ہوا۔ افراد ہوں یا اقوام ضعیف العمری میں قویٰ مضمحل ہوجائیں تو حاذق حکیم کا نسخہ بھی کارگر ثابت نہیں ہوتا۔ انخلاء ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ہماری سیکولر لبرل دانش جب یہ کہتی ہے کہ جب آکسفورڈ اور کیمبرج کی بنیاد رکھی جارہی تھی ہم تاج محل اور شاہی قلعے تعمیر کر رہے تھے وہ تاریخی عمل کو کیوں بھول جاتی ہے کہ یورپ & Deep Slumber Hibernation سے باہر آرہا تھا اور ہم ہائبرنیشن میں جارہے تھے۔ بہرحال امام غزالی کو عقل و دانش کا دشمن قرار دینا غاصب قوتوں کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مغلوب قوموں کی مقامی علمی روایات کو پہلے مرحلے میں ادنیٰ اور نامعقول قرار دیا جاتاہے اور پھرقتل کر دیا جاتا ہے۔

امام غزالی نے عقل کو بصیرت آشنا کیا۔ ان کے مذہبی تجربے سے ایسا علم الٰہیات برآمد ہوا جہاں علم کو نور بصیرت سے آنکھیں مل گئیں۔ ان کے نزدیک فکر اور بصیرت ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں دونوں ایک ہی چشمے اور منبع سے پھوٹتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ فکرحقیقت کا جزوی احاطہ کرتی ہے بصیرت کامل حقیقت کوحصارمیں لیتی ہے۔ عقل و فکرحقیقت اولیٰ کے طبعی پہوئوں کا احاطہ کرتی ہے، بصیرت کی نظردائمی امور پر ہوتی ہے۔ عقل حقیقت ازلی کا حالیہ مشاہدہ کرتی ہے، بصیرت حقیقت کلی کو صفحہ بہ صفحہ ملاحظہ کرتی ہے۔ عقل اوربصیرت باہمی حظ کیلئے ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ برگساں کے الفاظ میں بصیرت عقل و دانش کی اعلیٰ وارفع شکل ہے۔

“Intuition is only a higher kind of intellect امام غزالی کی فکرکا یہی مقدمہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہرعظیم آدمی کو کلیت میں سمجھنے کا یاراہرعام وخاص کونہیں ہواکرتا۔ ہم پیچھے ڈاکٹرفضل الرحمان کا اقتباس پیش کرچکے ہیں کہ امام غزالی نے ایمان (faith) کی سان پرسچ کی صداقتوں کو پرکھا اور کامیاب رہا اور یہ بھی اعلان کیا کہ مذہبی تجربہ Cognitive content ہرگزپیش نہیں کرتا۔ ڈاکٹرفضل الرحمان لکھتے ہیں یوں امام غزالی کیوجہ سے تصوف پر کمیونٹی کا اجماع ہوگیا اور اسلام کو حیات نو ملی، افریقہ، وسطی ایشیا اور انڈیاسے صف بہ صف لاکھوں افراد دیگر مذاہب سے اسلام میں آئے۔ اب علم الکلام اور تصوف یکجا ہوگئے۔ ایک ہی شخصیت میں عظیم متکلم بھی ہوتا اور عظیم صوفی بھی۔ اس تحریک نے سلسلہ وار ایسے حقیقی مفکرین پیدا کیے جنہوں نے اسلامی علم الکلام کو قدیم الٰہیات کے برعکس نہ صرف منظم شکل دی بلکہ نامیاتی وحدت سے بھی ہمکنار کیا۔ یادرہے امام غزالی کی تحریک سے جنم لینے والا صوفی متکلمین کا یہ سلسلہ جہاں فکر یونانی کے حامل فلسفیوں اور سائنسدانوں کا ناقد تھا وہاں اشاعرہ کے علم الکلام کو بھی بند آنکھوں سے دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔ انہیں اشاعرہ مکتبہ فکر کیساتھ بریکٹ کرنایا تو بددیانتی ہے یا حقیقت سے عدم واقفیت کا ثبوت ہے۔ یہ Sufi Theosophy کی تحریک ہے جس نے معرفت یعنی Doctrine of Gnosis کو متعارف کرایا اور بتدریج عقل و خرد اور فہم و ادراک کی مخالف ہوتی گئی۔ نوبت بہ ایں جا رسید صوفی تھیوسوفی نے یہ دعوٰی بھی کرلیا کہ اسے صوفیانہ شعور سے Cognitive content بھی بہم میسر آتا ہے جسے اصول العلم المعرفت یعنی gnostic knowledge Principle of کا نام دیا گیا اور اس کے کھرے کھوٹے ہونیکا فیصلہ بھی انہیں صوفیا کی معصوم عن الخطاء پر یقیں بصیرت کرے گی اورجب اس نے فیصلہ دے دیا تو اس کے غلط ہونے کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ یوں امام حسن البصری کا تصوف جو تزکیہ نفس سے عبارت تھا بیرونی اثرات کی نفوذ پذیری سے Greco-gnostic concepts and Christian and Manichaean doctrines کا مرقع ٹھہرا۔ اس کا رد ہمیں فکرغزالی میں ملتاہے تاہم معتزلہ کے ردعمل میں اشاعرہ کلام جو خدا کو قادر مطلق ثابت کرنے کیلئے انسانی ارادہ واختیارکی نفی کررہاتھا صوفی تھیوسوفی کی تحریک نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی تشریع و توضیح اپنی شرائط پر کی اور اسپین کے علامہ ابن العربی نے اسے بام عروج تک پہنچایا۔

بار مکرر عرض ہے کہ امام غزالی کا تصوف صوفیانہ موشگافیوں کوردکرتا ہے۔ صوفی تھیوسوفی کا اصول معرفت جوعقلی استدلال اور فہم و ادراک کی بھد اڑاتا ہے غزالی فکریات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ملتی ہے۔ فکر غزالی میں عقل اور بصیرت باہم دگر یا رقیب کے بجائے باہم نقیب و ہمزاد نظر آتے ہیں۔ غزالیات میں عقل و بصیرت کا جابجا مصافحہ اور معانقہ ہی نہیں دکھائی دیتا ہے بلکہ آخری تجزیے میں عقل اور بصیرت یک جان دو قالب اور ہم زیست و یک وجود (Symbiotic) دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمان اپنے مضمون بعنوان “Iqbal and Modern Muslim Thought میں بجا طور پر لکھتے ہیں کہ یہ بعد کی مسلم نسلوں کی امام غزالی سے متعلق غلط فہمی ہے کہ انہوں نے ایمان Faith کی طاقت سے فلسفے کو مسترد کر دیا۔ فلسفے اورایمان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایمان کو جہاں رد یا مسترد کیا جاسکتا ہے فلسفے کو رد نہیں کیا جاسکتا ہاں البتہ فلسفے کو جھٹلایا جاسکتا ہے اور جس دلیل سے جھٹلایا جائے گا وہ بھی فلسفہ ہی ہوگی۔ علم اپنے جوہر میں وسعت پذیرہے تو ذہن انسانی بھی جمود آشنا ہرگز نہیں ہے۔ علم اضافہ پذیر رہتا ہے۔ اور جب علمی ترقی سے انسانی نکتہ نظرمیں بڑی تبدیلی آتی ہے توایمانی سچائیوں کی تشکیل و تعبیرنو ضروری ہو جایا کرتی ہے اس کی پرداخت و نمود اور اطلاق کا عملBelief System کے اندرسے ہونا چاہئے نہ کہ مستعارکی لیپا پوتی سے کام چلایا جائے تاکہ نہ صرف دیگر مسلمانوں کے ہاں بلکہ اغیارکی نظرمیں بھی یہ معتبر ہو۔ مسلمانوں میں جدت پسند اور قدامت پسند طبقوں کے درمیان خیلج بڑھتی جارہی ہے۔ خلاء کو ترجیحی بنیادوں پربھرنے کی کوشش نہ کی گئی تویہ بعدالمشرقین ہمارے معاشرتی لبادے کے بخیے ادھیڑدے گا اور وہ ثقافتی میراث لٹ جائے گی جو ہمارے پرکھوں کی صدیوں پر محیط کاوشوں کا ثمر شیریں ہے۔ ہمارا ایمانی تصور اگرعقل کی ہلکی آنچ پربھی برف کی ڈلی ثابت ہوتا ہو تو ہمارا جدید مسلم طبقہ اسے ثمر تلخ متصور نہ کرے تو کیا کرے؟

امام غزالی نے نہ تو سائنس کو بالذات ردکیا اورنہ ہی فلسفے کو حرام قرار دیا۔ ہاں البتہ ابن سینا اور الفارابی کے کچھ ماورا الطبعی تصورات جیسے کائنات کا دائمی تصور، پیغمبرانہ وحی کی علامتی حیثیت، طبعی طور پر دوبارہ زندہ ہونے کا استرداد وغیرہ کو رد کیا اور بجا طور پر کہا کہ فلسفے کی و ہ شاخ جسے میٹافزکس کہا جاتا ہے اسے ریاضیاتی سچ کا درجہ کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔ تاہم مذکورہ حکماء سائنسدان بھی تھے تو امام غزالی کا یہ کہنا آج تک معمہ ہے کہ ان کے سائنسی کارناموں کو بھی درخوراعتنا نہ سمجھا جائے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ ان کی سائنسی دریافت اور ایجادات سے متاثر ہوکر لوگ ان کے فلسفیانہ تصورات کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ لیکن امام غزالی کا “الکتاب المسطور” اور “الکتاب الشہود” کا نظریہ آج بھی سچ کی تلاش میں حرف آخر کی حیثیت رکھتاہے۔ آیات الٰہیہ چاہے قرآن کی سطورہوں، عظیم الجثہ کائنات اوراس میں بکھرے مظاہرفطرت یا تموج نفس سے ابھرتے انسانی واہمے اور خیالات، یہ ہماری توجہ اپنے مصنف عظیم کی طرف مبذول کرتی ہیں جو علت حتمی ہے، یا زیادہ موزوں طور پر علت العلل ہے، زنجیر علل کی آخری کڑی ہے۔ یہ آیت سے مصنف یا خالق تک پہنچنے کا عبوری سفر اگرچہ معقولیت کا عنصر رکھتا ہے، قابل فہم بھی ہے تاہم سائنسی سچ ہرگز نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں سائنس کا رخت سفرختم ہوا نیچری حکماء ڈھیر ہوگئے۔ اس لیے ان کے نزدیک کائنات اپنے وجود سے آگے کچھ کا پتہ نہیں دیتی لہٰذاخود حتمی علت ہے۔ ایسے میں کتاب المسطور اور الٰہیات کے اسکالرز کا کہنا ہے ان آیات (signs) کے مفاہیم کو سمجھنے کیلئے عقل کیساتھ ساتھ ایمان (Faculty of Faith) کا زادراہ بھی ضروری ہے۔ قرآن جابجا زور دیتا ہے کہ کتا ب المسطور، کتاب الشہود اور کتاب النفس کی آیات میں پنہاں معانی تک رسائی کیلئے ایمان یعنی (Mental-cum-spiritual attitude) درکار ہے تاکہ تم حقیقتاً دیکھ سکو، حقیقتاً سن سکو اور حقیقتاً جان سکو! لہٰذا قرآن کے نزدیک یہ آیات، علامات (signs) محض اس بنیادپرمفروضی نہیں ہیں کہ بہت سوں کو دکھائی نہ دیں یا سمجھ نہ آسکیں بالکل اسی طرح جیسا کہ سورج کا وجودمحض اس لیے مفروضی حقیقت نہیں ہوسکتا کہ اسے رات کی تاریکی کے ہمزاد الو یا چمگادڑ وغیرہ دیکھ نہیں سکتے۔

اقبال “خطبات” میں لکھتے ہیں “علم کا آغاز کار کنکریٹ یعنی مادی اشیاء سے ہونا چاہئے، یہ کنکریٹ کا فہم اورتسخیر ہی تو ہے جس سے عقل انسانی کو مادی کائنات سے ماوراء دیکھنے کی فرصت میسر آتی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں مذکور ہے کہ ـ “اے گروہ جن و انس اگرتم ارض وسماء کی حدود سے گزر سکتے ہو تو گزر کر دکھائیے۔ مگر محض طاقت (علم) سے ہی گزر پائو گے۔ ان الیٰ ربک المنتھیٰ بیشک تمہارا خداہی آخری حدہے، علت العلل ہے۔ آسمان پرچمکتے ستارے آخری حد نہیں ہیں۔ “پرے ہے سرحد ادراک سے اپنا مسجود” ادراک کی حتمی سرحد کو لامتناہی حیات کائنات اور روحانیت میں ڈھونڈنا ہوگا۔ نیچری حکماء کا صرف مظاہر فطرت میں سرگرداں رہنا، زمین و آسماں کو بیکراں سمجھتے ہوئے “حقیقت اولیٰ” تک نہ پہنچ پانا علمی مضبوطی سے کہیں زیادہ علمی سقم ہے۔ الغرض ہمارا ظاہر و باطن، روزمرہ کی زندگی اور انفس و آفاق آیات الٰہیہ اور علامات حق سے اٹا پڑا ہے۔ ان آیات کی معنویت کو سمجھنے کیلئے عقل کو ایمان کی نصرت درکار ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ایمان کو جب آزمائش وابتلاء کی بھٹی سے گزرنا ہوتا ہے راستے کا انچ انچ آیات الٰہیہ سے معمور ہوتا ہے، چشم دل وار ہے تو آیات الٰہیہ مسافرکی رگ وجاں میں برف بھرتی جاتی ہیں، قوت و استقامت کے چراغ فروزاں رہتے ہیں۔ سیدنا ابراہیمؑ کو آخر عمر سیدنا اسمٰعیلؑ عطا ہوئے۔ ایمان کی آزمائش ہوئی کہا گیا ہاجرہ اور اسمٰعیل کو بے آب و گیاہ وادی بطحا میں چھوڑ آئیے۔ ہاجرہؑ نے وجہ پوچھی فرمایا حکم الٰہی ہے۔ فیصلہ برضا و رغبت قبول کرلیا گیا۔ ہاجرہ نے سوال کیا، پھر خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے قبول کرلیا۔ خدا پر ایمان لانے کا یہ شدید حرکی تصور (Profound Active acceptance of God) ان مراحل کا خواستگار ہے۔ یعنی ذہن سے سوال اٹھانا، ادراکی صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے مسئلے کی تفہیم کرنا اور پھر تہہ دل سے تسلیم کرنا۔ خیر ابھی ہاجرہ و اسمٰعیل کو جدا کیے چندسال ہی ہوئے تھے۔ ابھی اسمٰعیل نے باپ کیساتھ چلنا ہی سیکھا تھا کہ کہتے ہیں اے اسماعیل مجھے آپ کو رضائے الٰہی سمجھ کرذبح کرنے کا اشارہ ہوا ہے۔ جواب آیا جو حکم ملا ہے کر گزرئیے خدانے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔ گویا جب جب باری تعالیٰ اپنے پیغمبر کو آزمائش سے گزارتا ہے، راہ کو اپنی موجودگی اور نصرت سے معمور کیے دیتاہے۔ بھلا کوئی ماں اپنے نوخیز بچے کیساتھ پرخطر دشت میں جان خطرے میں ڈالنے پر کیوں رضامند ہوسکتی تھی۔ ہاجرہ ؑ کا برضاورغبت سرتسلیم خم کرناآیت الٰہیہ (sign of God) نہیں تو کیا ہے۔ ایک بچہ ذبح ہونے کی حامی کیونکر بھر سکتا ہے؟ گویا اسماعیل کا حکم خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرنا خدا کے وجود کی گواہی کے سوا کیا ہوسکتا ہے؟ سو جب آزمائش آتی ہے سیدنا ابراہیمؑ اپنی ذات، اپنی قویٰ عملیہ اور اپنے ایمان و ایقان پرشک کرتے ہیں مگر عین اسی لمحے جو علامات وآیات اور نشانیاں ابھرتی ہیں وہ اسے خدا پر یقین کا سبق اور شک سے گریز سکھاتی ہیں۔

حضورﷺ صرف طبعی طورپراولادابراہیم ہی نہیں ہیں بلکہ ابراہیم واسماعیل کی عظیم روحانی میراث کے کسبی وارث بھی ہیں۔ عالم اسلام کیلئے قیامت تک عظیم روحانیت کا منبع و مظہر وہی شعائر اسلام ہیں جن میں حضرت ابراہیم واسماعیل اور ہاجرہ علیہم السلام “رول ماڈل” ہیں۔ یہی وجہ ہے امام غزالی نے بھی شک سے یقین تک پہنچنے کیلئے حضرت ابراہیمؑ کو اپنا رول ماڈل بنایا ہے۔ المنقذمن الضلال کا مطالعہ کریں تو واضح دکھائی دیتاہے کہ ان کاروحانی تجربہ کس قدر ابراہمی ماڈل سے مستعار ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے خداکی تلاش کا سفرشروع کیا توپہل پہل ان کی نظرسورج، چاند اور ستاروں کے کارواں پر ٹھہری۔ دیکھا یہ طلوع و غروب کے پابندسلاسل ہیں۔ زوال کی ہتھکڑی جن کا مقدر ہو “حقیقت اولیٰ” کیونکر ہوسکتے ہیں؟ “کارواں اپنی فضاء کے پیچ وخم میں رہ گیا۔۔ مہروماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھاتھا میں” ابراہیم ؑ کو احساس ہوا جو فنا کی بیساکھی پرکھڑے ہوں خدانہیں ہوسکتے۔ امام غزالی نے اسی طرح علم فقہ اور الٰہیات کی فلسفیانہ گتھیوں کو وجود باری تعالیٰ کے ادراک کیلئے حتمی سمجھاجب ان عقلی علوم کا جائزہ لیا تو جابجا (gaps, gulfs & fissures) ور محدودیت کا احساس ہوا۔ جس طرح ابراہیمؑ کو جلد آسمانی مظاہر میں زوال اوربے کسی کارنگ نظر آیا بعینہ امام غزالی کی نگاہ میں خدا شناسی کیلئے فلسفہ، فقہ اورالٰہیات کی جگمگ پھیکی پڑگئی۔ “بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم۔۔ اس ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں”۔ امام غزالی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے استدلال کا فن حضرت ابراہیم ؑ کے نمرود کیساتھ مکالمے سے سیکھا ہے۔ ابراہیمؑ نے ظالم بادشاہ سے کہا میرا خدا تو وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔ نمرود نے جواب دیا میں بھی زندگی اور موت دیتا ہوں۔ ابراہیمؑ کو فوری احساس ہوا موقع کی مناسبت سے یہ دلیل درست نہیں۔ ابراہیم ایک دوسری معنویت سے بھرپور انتہائی موزوں دلیل کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں۔ میرا خدا تو وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دکھائو۔ نمرود اس دلیل سے گنگ ہوگیا۔ ہم نے پیچھے آیات کی درجہ بندی (آیات، بینات، برہان، سلطان) پر بات کی ہے۔ ابراہیمؑ کی دلیل میں “سلطان” کا زور تھا جو مخاطب کو طبعی طور پر ناک کے بل گرا دینے پر قادرہوتی ہے۔ ابراہیمؑ کے نزدیک دلیل سے نمرود کو فنا کرنے (افناء(annihilation)) سے کہیں زیادہ دلیل سے زندگی دینا (احیاء(Resuscitation) مقصود تھا۔ مذہبی تجربے سے ابھرنے کے بعدامام غزالی نے قرآن اور ابراہیم ؑکی پیروی میں دلیل کا یہی انداز اپنایا ہے جو مخالف کو دلیل سے چت کرنے کے برعکس گہرے تفکر کی دعوت مرحمت فرما کر مہلک طرز فکر سے جی اٹھنےکی طاقت دیتا ہے اس لیے اپنی معرکۃالآرا تصنیف کو احیا ء العلوم کا نام دیا۔

ابراہیمؑ نے بادشاہ کے سامنے جھوٹ بولا کہ حضرت سارہ ان کی بہن ہے کہیں بادشاہ انہیں بیوی سمجھتے ہوئے ہتھیانے کیلئے قتل کا ارتکاب نہ کر دے۔ امام غزالی نے بھی جانتے ہوئے کہ وہ شام کیلئے عازم سفرہیں اور بغداد واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، حج کا بہانہ بنا کر چھٹی لی۔ یہاں ایک بڑا پیراڈوکس ہے۔ ایک طرف نظامیہ بغدادکی پروفیسری اور جاہ جلال بھی ہے، یہاں رہ کروہ میدان علم کو بڑی افرادی قوت مہیا کرسکتے ہیں، دوسری طرف صحرائوں کی خارہ شگافی اور خانہ بہ خانہ دربدرکوچہ بہ کوچہ کو بہ کو، ایک چکرہے میرے پائوں میں زنجیرنہیں کی مثال بنے ہوئے ہیں۔ گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیرکا بہانہْ! سویڈن کے معروف علم الٰہیات کے عیسائی اسکالر کیرکے گارڈ (Kierkegaard) نے ابراہیمؑ کا نفسیاتی مطالعہ کرتے ہوئے اس گتھی کو خوبصورت انداز میں سلجھایاہے۔ جب کوئی مذہبی شخصیت سمجھتی ہے کہ اسے ذات حق سے کوئی اشارہ ملا ہے جسے بجا لانا اس کی ذات کی نشوونما اور عرفان حق کیلئے بدرجہ اتم ضروری ہے تو گاہے ایسے مواقع آتے ہیں کہ اجتماعی معاشرتی مفادکیلئے بنائے گئے Universal ethical imperatives اور اس مخصوص شخص کی خودی کے استحکام کیلئے درکار Supra ethical imperatives کا ڈیڈلاک جنم لیتا ہے۔ ایسے ڈیڈلاک کی صورت میں سالک کو اجتماعی مفادکی آفاقی قدر پر ذاتی مفادکی اقدارکو ترجیح دینا ہوتی ہے۔ سو ابراہیم نے جب بادشاہ کے سامنے سفیدجھوٹ بولااس میں یہی راز کارفرما تھا۔ اما م غزالی نے بھی بعینہ اسی استدلال کی آڑمیں جھوٹ بولنے پر اکتفا کیا۔ جس طرح ابراہیم کیلئے فیملی سے محبت پرکشش سامان زیست (Pleasure Principle) تھی مگرخدا کے حکم کی بجا آوری میں حقیقت پسندی (Reality Principle) کا مظاہرہ کیا۔ بعینہ امام غزالی کیلئے پروفیسری، استاذانہ جاہ وجلال، خلیفہ اسلام کی قرابت داری پرکشش سامان زیست تھا، مگرعرفان باری تعالیٰ کی راہ میں جب حائل ہواتو سب کچھ تج دیا، رخت دل باندھا اوردل فگاری کی راہ اپنائی۔ امام غزالی کہتے ہیں فن استدلال (syllogism, analytica priora) انہوں نے ابراہیمؑ کی سخنوری اورقرآن کے مجموعی مزاج سے سیکھا ہے۔ جو سورج کو طلوع کرنے پرقادرہے خدا ہے (پہلا اصول)، میرا خدا سورج کو نکال سکتا ہے (دوسرا اصول) نتیجتاً میراخدا ہی خداہے نہ کہ تم (نمرود) خداہو۔ اسی طرزاستدلال سے احیاء العلوم عبارت ہے جو بصیرت اور بصارت کی آئینہ دار تصنیف ہے۔یہ کتاب دل کا صفحہ بہ صفحہ مطالعہ ہے۔ یہ آہوئے مقصود کو قدموں کے نشانات کے برعکس مشک نافہ کے ذریعے تلاشنے کا نسخہ کیمیا ہے۔ قرۃ العین طاہرہ کے الفاظ میں امام غزالی اپنے مذہبی تجربے سے کامیاب ابھرتے ہوئے خالق حقیقی سے مخاطب ہیں۔

دردل خویش طاہرہ گشت وندید جز ترا
صفحہ بہ صفحہ ، لا بہ لا، پردہ بہ پردہ ، توبہ تو

طاہرہ نے اپنے دل میں گھوم پھر کر کتاب دل کا ایک ایک صفحہ، ایک ایک تہہ اور ایک ایک پردہ دیکھ لیا، مگروہاں تیرے نقش کے سوا کچھ نہ پایا تاہم اخلاقیات سے بے بہرے سراپا مادہ پرست سیکولر فلسفے اورسائنس کی آتشی بھٹی میں پگھلتی ،کھولتی اور ابلتی روح انسانی کیلئے امام غزالی کے علمی اور عملی ورثے کا مختصرماحصل اقبال کے الفاظ میں یہی ہے

زندگی جہد است و استحقاق نیست
جزبہ علم انفس و آفاق نیست

علم و حکمت زایدازنان حلال
عشق و رقت آیدازنان حلال

زندگی کا استحقاق اس کے سواکچھ نہیں کہ انفس وآفاق کا مطالعہ کیا جائے۔ رزق حلال سے علم وحکمت نمو پاتے ہیں۔عشق اور رقت چاہتے ہو تو اس کا راز بھی رزق حلال میں مضمر ہے۔ ساغر صدیقی کے الفاظ میں دعاگو ہوں۔

پلا ساقیا! کوئی جام غزالی
بھٹکتی بصیرت لہو رو رہی ہے

یہ بھی پڑھیں: امام غزالی : فلسفے کا مخالف فلسفی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سہیل عمر
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20