ایک جدید کلچر کا آغاز۔ میاں ارشد فاروق

0

کسی بھی معاشرے میں ترقی خود بخود نہیں آتی اور نہ ہی یہ صرف بڑے بڑے انفراسٹرکچر تعمیر کرنے سے آتی ہے۔ ترقی کے جتنے بھی ماڈل اس وقت دنیا میں دستیاب ہیں ان سب کا اہم ترین فوکس اپنے معاشرے کے زیادہ سے زیادہ افراد کو ذی شعور، بااعتماد اور پیداواری صلاحیت سے بھر پور بنانا ہوتا ہے، جب لوگ متحرک ہو جاییں تو باقی کام وہ خود کر لیتے ہیں۔ افراد کو متحرک کیے بغیر کوئی بھی ماڈل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بڑی بڑی بلڈنگز اور میگا سٹرکچر تیسری دنیا کے ممالک کو عموما ترقی کے راستے سے دور دھکیل دیتے ہیں اور انکے لیے بہترین قابل عمل راستہ صرف اپنے ہیومن ریسورس (Human resource) کو تعمیر کرنے کا ہی ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے افراد کو متحرک اور فعال کیا جاسکتا ہے اور اسکے لیے بہت سے پیراڈایم شفٹ پروگرام  (Paradigm shift programs ) موجود ہیں ۔ لیکن ایسے پروگرام نافذ کرنے کیلیے ضروری ہے کہ حکمران بھینسے کے مغز کی نہاری سے اجتناب کرتے ہوں۔
مہاتیرمحمد، جس نے ملایشیا کو صرف باییس برس میں ایک مستحکم معیشت بنا دیا تھا، اپنی کتاب ایشیا کے مقدمہ میں لکھتے ہیں، "میرا ذاتی مشن یہ تھا کہ اپنے عوام میں احساس اجاگر کروں کہ وہ اپنی سماجی خواہشات کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی خواہشات میں نکھار پیدا کریں۔ ہماری حکومت نے اس مقصد کیلیے ایک وزارت اور یونیورسٹی قایم کی جسے مکمل طور پر بزنس مینجرز اور بزنس ٹریننگ کیلیے مختص کیا گیا ۔ آج میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اب ملایا لوگ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پر اعتماد ہیں اور آج چند سو نہیں بلکہ کیی ہزار کمپنیاں انکی ملکیت ہیں اور انکے اندر مالیات، کاروباراور معاشیات کی بہتر سمجھ بوجھ پیدا ہو چکی ہے "۔
مہاتیر کے بارے میں ایک سابق پاکستانی سفیر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ہارورڈ بزنس سکول سے ایکڈیمک سٹاف کو منہ مانگے معاوضے پر منگوایا اور انکے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ وہ پانچ سال میں ملایشیا میں دو ہزار ملایشین کمپنیاں کھڑی دیکھنا چاہتا ہے۔ اورحیرت انگیز طور پر یہ حدف پانچ سال سے پہلے ہی حاصل کر لیا گیا۔ برین ڈرین (Brain Drain) صرف تیسری دینا سے پہلی دنیا میں ہی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ الٹ بھی ہو جاتا ہے۔ آخر فیلکوس نے بھی تواپنے بیٹے اسکندرمقدونوی کی تربیت کیلیے ارسطو کوایتھنز سے اسپارٹا منگوا ہی لیا تھا چاہے اسکے لیے ایک بہت ہی بھاری قیمت ادا کی تھی۔ ایک آنکھ والا فیلکوس میگا سٹرکچرز بنانے میںذرا یقین نہیں رکھتا تھا البتہ قوم کی تعمیر میں سارے وسائل جھونکنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ فیلکوس ہمارے آج کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ ذہین اور دور اندیش تھا۔
خوش قسمتی پاکستان کے دروازے پہ کھڑی ہے اور ہمارے ہمسایہ ممالک کے روکنے کے باوجود اندر آنے کو تیار ہے ۔ ہمیں فیلکوس یا مہاتیر کی طرح بھاری قیمت ادا نہیں کرنا پڑ رہی اوروہ لوگ خود بخود پاکستان چلے آرہے ہیں جنہوں نے اس ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی ہمسری کی دوڑ میں لے کر جانا ہے۔ ایسے ہی ایک شخص ڈاکٹر اعجاز قریشی ہیں جو یونیورسٹی آف لاہور کے مینیجمنٹ ساینسزڈیپارٹمنٹ کے ڈین ہیں۔ انکا ا بتدائی کیریر سان فرانسسکو اوریورپ کے تعلیمی اداروں سے تعمیر ہوا ہے ۔انسے ملاقات سے مجھے علم ہوا کہ لاہور، کراچی اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں ایسی سوسایٹیز کا قیام ہو رہا ہے جن کا مقابلہ ممبیی، کھٹمنڈو یا کوالالمپور سے نہیں بلکہ پورپ کی دور افتادہ سوسایٹیز سے کیا جاے گا۔
یونیورسٹی آف لاہور کے چند ذہین طلبہ ، جنہوں نے ایک انٹر پرونیور سوسایٹی (UOLEsociety) بنا رکھی ہے، کے اصرار پر ڈاکٹر اعجاز نے بزنس مینیجمنٹ کا ایک کریش پروگرام (MiniMBA)شروع کیا ہے جوایسے لوگوں کیلیے شاندار موقع ہے جو بزنس کی ریگولر تعلیم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اپنا سمال بزنس چلا رہے ہیں یا چلانا چاہتے ہیں۔ ایک دن کی اس ورکشاپ میں  انہوں نے ایک دس سٹپ فارمولہ (Ten Step Formula)کے ذریعے انٹرپرونورشپ(Entrepreneurship) کو نٹ شل (Nutshell) میں بہت خوبصورتی سے بیان کر دیا ۔مجھے اس وقت بہت حیرت ہوی جب مجھے یہ پتہ چلا کہ اس پروگرام کے انعقاد کیلیے انہوں نے شکاگو میں ایک کانفرنس کی شرکت مس کر دی ہے۔ یہ پروگرام اگر چہ ملایشیا کی منسٹری آف انٹرنیشل ٹریڈ اینڈ انڈسڑی کا متبادل تو نہیں ہو سکتا لیکن یہ ان نوجوانوں کی تربیت کیلیے ایک بہترین موقع ہے جو اپنے کیریر کو ملک کے مستقبل کی تعمیر کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سوسایٹی کو اسے صرف بزنس ماڈل ڈیولیپمنٹ سے بڑھا کر ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ تک وسیع کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی پیداواری صلاحیت بڑھای جا سکے۔  میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور اسے سوشل سروسز اور والنٹیرازم تک بھی پھیلاییں گے۔

About Author

میاں ارشد صاحب لاہور میں مقیم ہیں اور پیشہ وکالت سے وابستہ ہیں۔ ترقیاتی تنظیموں اور کارپوریٹ اداروں کے مشیر ہیں اور ادب فلسفہ اور سماجیات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ادبی مطالعہ نے انکی نثر کو چاشنی عطا کی ہے اور سنجیدہ فکر نے تحریر کو گہرائی۔ اردو ویب اور سماجی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں مختلف پہلووں سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: