ہلال اور فاختہ، قیامِ امن اور تحلیلِ تنازع کا اسلامی تناظر ——– نعیم الرحمٰن

0

اسلام امن وسلامتی کادین ہے۔ اسلام کا نام ہی سلامتی سے نکلا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم کر دیا گیا۔ کسی بھی ملک میں کوئی ہلاکت خیز کارروائی کسی غیر مسلم نے کی ہو تو اسے اس کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے اور اگر یہ کام کسی مسلمان نے کیا ہو تو اس کی تحقیقات سے پہلے ہی اسلامی دہشت گردی کا شاخسانہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اسلام میں امن کی اہمیت اور دورِ حاضر میں قیامِ امن کے لیے مسلمانوں کی کوششوں کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے اور یہ کام ڈاکٹر قمر الہدیٰ نے بہت عمدگی سے کیا ہے اور ’’ہلال اور فاختہ‘‘ کے عنوان سے اس موضوع پر ایک بہت شاندار کتاب انگریزی اور اردو میں مرتب کر کے پیش کر دی ہے۔ جس کا ذیلی عنوان ’’قیامِ امن اور تحلیلِ تنازع کا اسلامی تناظر‘‘ ہے۔ کتاب کو ایمل پبلشرز نے اپنے روایتی حسنِ طباعت سے مرصع کیا ہے۔ چار سو چھتیس بڑے صفحات کی کتاب کی ساڑھے چھ سو روپے قیمت بھی انتہائی مناسب ہے۔ پبلشر شاہد اعوان نے یہ کتاب شائع کر کے وقت کی ایک انتہائی اہم ضرورت کو پیش کیا ہے اور امن کے لئے اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔

ڈاکٹر قمر الہدیٰ ایک دانشور تربیت کار اور پالیسی ساز ہیں۔ انہوں نے امن اور حلِ تنازعات کے موضوع پر دنیا کے مختلف ملکوں میں تحقیقی، تربیتی، مکالماتی اور تزویراتی کاموں میں حصہ لیا ہے۔ وہ تقابلی اخلاقیات، تشدد کی لسانیات، حلِ تنازعات، بین المذاہب ہم آہنگی، تصوف اور اسلام میں عدم تشدد نیز معاصر مسلم اور مغربی ممالک کے تعلقات جیسے موضوعات پر کئی کتابیں، رپورٹس اور مقالہ جات لکھ چکے ہیں۔

اسلامی نظریات کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود کا کتاب کے بارے میں کہنا ہے۔

’’اس کتاب کے مؤلف کا کہنا ہے کہ امن وسلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم تنازعات کے حل کے مروجہ طریقِ کار پر سنجیدگی سے غور نہ کریں۔ آج کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اسلام جو امن اور سلامتی کا پیامبر ہے اور جس کا سیاسی، قانونی اور تاریخی ادب تنازعات کے حل کے لیے معروف رہا ہے، آج اس مذہب کو ہی امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ خیال ہی محال سمجھا جا رہا ہے کہ اسلام تنازعات کے پرامن حل میں انسانیت کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ مذہب ماضی میں بھی مصالحت اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور آج بھی یہ ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔ ’’ہلال اور فاختہ‘‘ کی یہ دعوت کہ تنازعات کے حل میں مذہب سے مدد لیں امن کی نوید ہے۔‘‘

حرفِ ناشر میں شاہد اعوان کہتے ہیں۔

’’اسلام، یعنی سلامتی کا مذہب، آج اپنے معنی کے عملی ابلاغ کا محتاج نظر آتا ہے۔ جو دین روئے زمین پہ امن و محبت کا پیغام لے کر آیا، اکیسویں صدی میں غلط طور پر دہشت گردی اور قتل و غارت کا ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے۔ مناقشوں اور تنازعات میں گھری انسانیت کو آج ہمیشہ سے زیادہ امن و سلامتی کی ضرورت ہے اور چودہ صدیاں قبل کی اس تاریخ کو دہرایا جانا مقصود ہے جب عرب سرزمین نے اسلامی معاشرے کی صورت امن و سلامتی کو حاصل کیا تھا۔ ڈاکٹر قمر الہدیٰ کی یہ کتاب تنازعات کے حل کے لیے اسلامی تناظر اور احکامات کو عام فہم انداز میں بیان کرتے ہوئے مقامی اور عالمی سطح تک ایک عملی دائرہ کار فراہم کرتی ہے۔ گویہ اپنی نوعیت میں نظری کاوش ہے مگر قصہ زمین برسر زمین نمٹانے کے لیے مکمل عملی راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انسانی زندگی کو درپیش جدید چیلنج کے مدنظر مذہب کی ایک نئی تفہیم و تطبیق کی ضرورت ہے۔ آج کی پیچیدہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے الہامی ہدایت کی صورت پذیری کے لیے ایسا ہی علمی ذخیرہ فراہم کرنا ہو گا۔ ایمل مطبوعات اس وقیع کتاب کے ترجمہ کی اشاعت کو اعزاز جانتے ہوئے اردو خواں طبقہ کے لیے پیش کرتا ہے اور جزا کی صورت تحسین کے علاوہ مشترکہ انسانی فلاح میں حصہ ڈالنے کو جانتا ہے۔‘‘

بلاشبہ یہ ایک قابلِ فخر کتاب ہے۔ جس کی اشاعت پر ایمل کو سراہا جانا چاہیے۔ اردن کے شہزادہ غازی بن محمد بن طلال نے کتاب کا دیپاچہ تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے کتاب کی اہمیت اور موضوعات کو مختصر بیان کیا ہے۔ وہ آیات ِ قرآنی کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

’’قرآن مجید کے مطابق پہلا انسان زمین پر خدا وند تعالیٰ کا خلیفہ تھا۔ جس میں خدا وند تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی تھی۔ قرآن مجید یہ بھی واضح کرتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان اپنی اصل اور تخلیق کے لحاظ سے برابر ہیں۔ ان مقدس آیات کی رہنمائی میں صدیوں پر محیط عرصے میں مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت نے بنی نوع انسان کے ساتھ باعزت سلوک کیا اور تمام انسانوں کے ساتھ بقائے باہمی کی کوشش کی ہے۔ کرہ ارض پر اس روایت کو آگے بڑھانے سے زیادہ کوئی اور کام اہم نہیں کہ پوری انسانیت ہم آہنگی اور امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ اہل ِ علم اور امن کاری کے میدان میں متحرک مسلمانوں کے مقالات کا زیرِ نظر مجموعہ جسے ڈاکٹر قمر الہدیٰ نے مرتب کیا ہے، قیامِ امن، تحلیل ِ تنازعات، ثالثی اور مصالحت کے عمل میں درپیش چیلنجوں کا اسلام کی علمی و دینی روایت کی نسبت سے تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ کرتا ہے۔ ایک ایسے وقت جب مذہبی انتہا پسند گروہ اور پرجوش سیکولرسٹ مسلم معاشروں کے لیے حقیقی خطرات کا روپ دھار چکے ہیں، ان مقالات میں مسلم معاشروں میں قیامِ امن کی کوششوں کے سلسلے میں سول سوسائٹی کو ترقی دینے، تکثیریت کے جذبات کو پروان چڑھانے، سیاسی و اقتصادی نظاموں کو وسیع تر کرنے، قیامِ امن کی سرگرمیوں میں مذہبی رہنماؤں سے استفادہ کرنے، تعلیمی اداروں میں ناقدانہ غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرنے اور آبادی کی عملی و فنی صلاحیتوں کو خوب تر بنانے کے طریقوں پر دقتِ نظر سے گفتگو کی گئی ہے۔ ’ہلال اور فاختہ‘ ایک ایسی کاوش ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ یہ کاوش جامع ہے، معلومات افزا ہے، اچھے جذبات سے پیش کی گئی ہے اور عمل کو مہمیز دینے والی ہے، جو مستقبل کی ہم آہنگی اور امنِ عالم کے لیے حقیقی اور اہم پیش رفت کا باعث ہو گی۔‘‘

اقوامِ متحدہ کے 1945ء کے چارٹر کو امن و سلامتی کا بین الاقوامی منشور کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی دو بڑی جنگوں کے بعد دنیا بھر کے لوگوں کے اس عزم کا اعلان تھا کہ اب کرہ ارض امن اور سلامتی کا گہوارہ ہو گا۔ آج اس چارٹر پر دستخط ہوئے ستر سال ہوتے ہیں، لیکن امن اور سلامتی ابھی تک ایک خواہشِ ناتمام ہے۔ اب تو سلامتی کے نام پر بنیادی حقوق اور آزادیوں کی قربانیاں بھی مانگی جانے لگی ہیں۔ امن کی فاختہ اور ہلال دونوں متنازعہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں جناب قمر الہدیٰ کی تالیف ’’ہلال اور فاختہ: قیامِ امن اور تحلیلِ تنازعات کا اسلامی تناظر‘‘ امن کی نوید بن کر سامنے آئی ہے۔

کتاب کے مؤلف قمر الہدیٰ امریکا کے ادارہ امین میں ’’امن اور مذہب کے درمیان‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام سے وابستہ رہے ہیں۔ اسلامی کلامیات، اخلاقیات، بین المذاہب مطالعات، تشدد کے مفاہیم، اسلامی دنیا میں امن کی کوششوں اور تنازعات کے موضوعات پر ان کی تصنیفات دادِ تحقیق وصول کرتی رہی ہیں۔ امریکا کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی اور دوسری اہم درسگاہوں میں درس و تدریس کے فرائض بھی سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ کتاب ان مقالات کا مجموعہ ہے جو امن کے موضوع پر واشنگٹن میں منعقد ایک کانفرنس میں پیش ہوئے۔ جسے 2010ء میں انگریزی میں Crescent Dove:Peace Conflict Resolution in Islam کے عنوان سے امریکا سے شائع کیا گیا۔ کتاب کا بنیادی موضوع اسلام اور امن کا نظری اور عملی مطالعہ ہے۔ اس موضوع پرنظری زاویوں سے تو کثرت سے لکھا گیا ہے، لیکن اسلامی ملکوں میں امن کے قیام کے لیے کیا کوششیں ہو رہی ہیں اور اس کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی ہے؟ اس ضمن میں کیا مشکلات پیش آئی ہیں؟ مسلم معاشروں میں تنازعات کیسے حل کیے جاتے ہیں؟ اس کے لیے تعلیم و تدریس کے میدان میں کیا پیش رفت رہی ہے؟سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلم ملکوں میں مذہبی رہنماؤں نے امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کیا ہے؟ یہ اور اس قسم کے دیگر سوالات کی طرف بہت کم توجہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اسلام کے بارے میں معاندانہ رویہ تو عالمی بدامنی کے لیے مذہب کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے، لیکن عام آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ تنازعات میں مذہب کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتا۔

امن کی قیام کے نظری اور عملی دونوں پہلووں کو اجاگر کرنے کے لیے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں شامل مقالات امن، تنازعات کے حل اور قیامِ امن کے نظری پہلو سے بحث کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں مسلم معاشروں میں امن کے لیے عملی کوششوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مقالہ نگاروں کی تجزیات سے ان کی موضوع سے آگاہی کی وسعت اور ناقدانہ گہرائی کا پتا چلتا ہے۔ ترکی کے معروف مفکر ابراہیم کالن اپنے مقالے میں اسلام میں اقلیتوں کی دینی اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اسلام کا مطالعہ ایک مذہبی فرقہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک وسیع تر تہذیب کی حیثیت سے کرنا ضروری ہے۔ انڈیانا یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات اور مشرقی ثقافت کی پروفیسر اسما افسر الدین جہاد کے تصور کی تشکیل میں سیاسی اور قانونی اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ امویوں نے موروثی ملوکیت کی توسیع پسندی کے جواز کے لیے جہاد کی اصطلاح استعمال کی جبکہ علما جہاد کا مطلب اپنی ذات کی اصلاح کی جد و جہد بتاتے ہیں۔ اس تناؤ کی جہ سے جہاد سیرت النبی ﷺ کی مکی اور مدنی زندگی کے مفاہیم سے دور چلا گیا۔ اس ناکامی میں آمرانہ طرزِ حکومت اور داخلی اور ثقافتی عوامل کا کردار بھی رہا ہے۔ سینٹ زیویر یونیورسٹی کے علوم اسلامیہ کے پروفیسر ولید الاانصاری سیاست اور معاشرت میں تشدد میں کمی کے لیے اقتصادی ترقی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔

قمر الہدیٰ کا مقالہ قیام ِ امن کی مسلم کوششوں پر موجود تحریروں میں ایک ایسے خلا کو پُرکرتا ہے جس کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہ ایسی کمزوری ہے جس کی وجہ سے مسلم ممالک کو تنازعات کے حل اور مذاکرات میں ناکامیوں کا سامنا رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ قیامِ امن کے لیے مندرجہ ذیل مہارتیں درکار ہیں۔ تنظیم، نظم و ضبط، تصورات کو عملی جامہ پہنانے کی منصوبہ بندی، پیش رفت کی جانچ پڑتال، مالی سرپرستی کو یقینی بنائے رکھنا، ذرائع ابلاغ کے ساتھ ربط و ضبط۔ ان لازمی مہارتوں کی تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن پر قیامِ امن، تنازعات کے حل، مذاکرات اور دیگر متعلقہ امور کی منصوبہ بندی کا انحصار ہے۔ کتاب میں ہر مضمون کے ساتھ مکمل اشاریہ اور کتابیات کی موجودگی نے اس کی اہمیت دو چند کر دی ہے۔

ہلال اور فاختہ ایک تنقیدی مطالعہ ہے۔ جس سے قاری کو علم ہوتا ہے کہ مذہب کے حوالے سے قیامِ امن کی کوششوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ جو نہ صرف ان کی ناکامی کی اہم وجہ ہے، بلکہ ان کاوشوں میں مذہب کے کردار سے عدم آگہی کی بنا پر منفی تاثر فروغ پا رہا ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے مغربی اور مشرقی تناؤ کو دور کر کے باہمی تفہیم کی ضرورت ہے۔ قمر الہدیٰ جہاد کے بارے میں کئی مفروضوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ جہاد کے بارے میں عموماً صرف فقہا کی آرا پیش کی جاتی ہیں۔ اول تو فقہا اسلام کے واحد نمائندے نہیں۔ دوسرے ان کے درمیان بھی وسیع اختلاف رائے موجود ہے۔

ہلال اور فاختہ اپنے موضوع کے اعتبار سے اعلیٰ پائے کی تالیف ہے۔ جس میں دس ایسے عنوانات پر مایہ ناز بین الاقوامی سطح کے ماہرین کے رُشحاتِ قلم کو یکجا کر دیا گیا ہے، جن پر عمیق علمی کام عصرِ حاضر کی ضرورت ہے۔ تنازعات انسانی سماج کا جزو لاینفک رہے ہیں، لیکن ہر دور میں انسانی معاشروں اور مذاہب نے ان تنازعات کے حل کے لیے مختلف اور موثر طریقہ کار بھی تلاش کیے ہیں۔ تنازعات کے حل کے لیے یہ متنوع اسالیب انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ورثے کی بہتر تفہیم کو یقینی بنایا جائے اور معاشرے کے رویوں پر اثر انداز ہونے والے افراد اور اداروں کو اس سے آگاہ رکھا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کتاب کے موضوعات کا مختصرجائزہ لیا ہے، جس سے کتاب کا ایک اجمالی خاکہ قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔

’’اس مجموعہ مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مقالہ نگاروں نے تشدد، تنازع، جنگ اور ان کے سدباب، اخلاقیات اور حل کے لیے اساسی اسلامی مراجع سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور اس کے لیے تقابلی طریقہ تحقیق کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ محترم ڈاکٹر قبلہ ایاز نے مختلف مقالات کا مختصر جائزہ بھی پیش کیا ہے۔ ابراہیم کالن کا مقابلہ: اسلامی روایات میں امن کے منابع کا جائزہ۔ اسما افسر الدین کی تحقیق: لسانی اعتبار سے جہاد اور شہادت کی ابتدائی منشا کی بازیافت، ریاستی اور عسکری تناظرات کے مقابلے میں۔ ولید الانصاری کا مقالہ: گفتگو میں جنگی اصطلاحات کے استعمال کی قرآنی بنیادی، تجدیدِ نظر کی ضرورت، معاشیات اور تہذیبوں کا تصادم، مذہب اور تشدد کے درمیان تعلق پر نظر مکرر۔ رضا اسلامی سومیہ کی تحقیق: انسانی حقوق اور اسلامی اصلاحات، ٹھوس علمی استدلال کا مرقع ہیں۔ ابونمر کا مضمون: تنازعات کے حل کا ایک اسلامی ماڈل، اصول اور مشکلات، میں تنازعات کے حل میں ایک عملی منہج پیش کیا گیا ہے، جس کی اساس قرآن پاک اور رسول اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے حوالوں پر مبنی ہے۔ ذکی سری توپ رک کا مضمون: ترکی کے ماضی قریب کی تاریخ کے سب سے بڑے مسلم داعی اور تحریک اسلامی کے رہنما بدیع الزمان سعید نورسی کی عملی زندگی کے متاثرکن بیان پر مبنی ہے، جنہوں نے اپنے کردار سے امن اور باہمی تعامل کی خوشگوار روایات قائم کیں۔ یہ مقالہ اس مجموعہ مضامین میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، کیونکہ اس میں اسلامی روایات کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کو بطور ماڈل اور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ حسنہ حسین صاحبہ نے اپنے مضمون اسلام اور امن کی تعلیم، دل و دماغ کی تبدیلی: میں آچے انڈونیشیا میں حل تنازعات کے لیے بروئے کار منصوبوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ اُجاگر کیا ہے۔ آچے میں مروج امن نصاب اور امن تنظیمیں دوسرے مسلم خطوں کے لیے کامیابی کی ایک کہانہ ہے۔ یہ کوشش دنیا بھر میں عدم تشدد، امن اور حل تنازعات میں متحرک افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا۔‘‘

ڈاکٹر قبلہ ایاز کی تقریظ ’’ہلال اور فاختہ‘‘ کا مکمل اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے۔ جس سے کتاب کے موضوعات اور افادیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز مزید لکھتے ہیں۔

’’امن کے قیام میں خواتین کے کردار کو نمایاں جگہ نہیں ملی اور یہ پہلو اب تک تشنہ رہا ہے۔ تاہم آئسے کادے فیچی اوریلانا اور مینا شریفی فنک کے مشترکہ مضمون، قیامِ امن کے لیے کوشاں مسلم خواتین بطور علم بردارانِ تغیر، میں کافی حد تک اس کمی کو پورا کر لیا گیا ہے۔ اسلامی اور تاریخی تناظر میں ماضی سے لے کر اب تک خواتین کے ان کارناموں کو اُجاگر کیا گیا ہے، جو انہوں نے قیام ِ امن اور حل تنازعات کے لیے سر انجام دی ہیں۔ یہ مضمون مسلمان خواتین کے جذبوں کے لیے مہمیز کا کام دے گا۔ آخری باب قمر الہدیٰ کی کاوش پر مبنی ہے: جس میں انہوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق قیامِ امن اور استعداد کار اور فنی مہارتوں کی افزائش، پر، پُرمغز تحقیقی کام کیا ہے۔ اس مضمون میں قمر الہدیٰ صاحب نے جو سفارشات پیش کی ہیں، وہ ان کے طویل تجربے اور فکری گہرائی کا مظہر ہیں اور معاشرتی امن اور تنازعات کے سدباب، تنظیم اور تحلیل کے لیے رہنما اصول ہیں۔

مجموعی طور پر ’’ہلال اور فاختہ‘‘ بہت بروقت اور برمحل کتاب ہے۔ جس نے ایک اہم ضرورت کو پورا اور خلا کو پُر کیا ہے۔ اس کتاب کی وسیع پیمانے پر ترویج ہونا چاہئے تا کہ اسلام اور مسلمانوں کے دنیا بھر میں پھیلے منفی تاثر کا تدارک کیا جا سکے اور اس کا ایک روشن اور مثبت امیج دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔


To order the copy of this Book visit https://www.emel.com.pk/product/crescent-and-dove/
OR
wtsapp: 92-342-5548690

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: