اشبیلیہ اندلس کا سفر : ایک تصویری بلاگ — قسط ۱ —– عاطف ملک

0

نوٹ: اس مضمون کی تمام تصاویر مصنف نے کھینچی ہیں۔ جو تصاویر کہیں اور سے لی جائیں گی، ان کی بابت لکھا جائے گا۔


Seville اشبیلیہ کا انگریزی میں نام ہے۔

بچپن سے علامہ اقبال کی نظم مسجد قرطبہ پڑھنے کے بعد سرزمینِ اندلس دیکھنے کی خواہش تھی۔ 2018 میں الحمداللہ یہ خواہش پوری ہوئی۔ اس کا تصویری سفر نامہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔ پہلی قسط اشبیلیہ شہر کے سفر کی ہے۔

اشبیلیہ کو 712 عیسوی میں بربر مسلمانوں نے فتح کیا تھا جو کہ مغرب سے حملہ آور ہوئے تھے۔ مغرب عربی میں شمالی افریقہ کےعلاقے کو کہا جاتا ہے جن میں الجزائر، مراکش، تیونس ، لیبیا اور موریطانیہ کے ممالک شامل ہیں۔ یہاں کے باشندوں کی نسل بربر کہلاتی ہے جو کہ دس ہزار قبلِ مسیح سے ان علاقوں میں رہ رہی ہے۔ طارق بن زیاد جس نے 711 عیسوی میں سپین پر مغرب موجودہ مراکش سے حملہ کیا تھا وہ بربر النسل تھا۔ افریقہ اور سپین کے درمیان اس مقام پر پانی کی پتلی گذرگاہ ہے جو کہ اٹلانٹک سمندر جسے اردو میں بحر اوقیانوس کہتے ہیں اور میٹیٹیرین سمندر جسے اردو میں بحر روم کہتے ہیں، کو ملاتی ہے۔ اس مقام پر افریقہ اور یورپ کا درمیانی فاصلہ صرف پندرہ کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں طارق بن زیاد نے اپنی کشتیاں جلائی تھیں کہ یہ جگہ اب ہماری ہے ، یہیں دفن ہو نگے، مارے گئے حملہ آور کی صورت یا فاتح کی صورت۔ اس جگہ واقع پہاڑ کا نام اس بہادر کے نام پر آج بھی جبل الطارق ہے۔ اسی طرح یوسف بن تاشفین بھی بربر شاہی حکمران سلسلے المرابطون کا ایک نمایاں نام رہا ہے۔

چھ جولائی، 2018 کو فرینکفرٹ سے اشبیلیہ کی راین ایر کی فلائیٹ

راین ایر سستی ایر لائن ہے۔ انیس سو چوراسی میں آئر لینڈ میں قائم ہوئی تھی۔ نام اپنے بانی کے نام پر راین ہے۔ چھ جولائی 2018 کی اس ایرلائن کی ٹکٹ فرینکفرٹ سے اشبیلیہ کے لیے خریدی تھی۔ کوئی سامان بک نہیں کر سکتے، فلائیٹ میں پانی تک بھی خریدنا ہوگا۔ فلائیٹ دور رن وے پر لینڈ ہو گی اور آگے پیدل چل کر جانا ہوگا، سو ایر لائن اپنا کم سے کم خرچ رکھتی ہے، مگر ٹکٹ بھی باقی فضائی کمپنیوں سے بہت کم ہے۔ اس وجہ سے جہاز پوری طرح بھرا ہوتا ہے۔

راین ایر کا نشان آیر لینڈ کا ایک موسیقی کا آلہ ہے جسے ہارپ کہتے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق یہ موسیقی کا آلہ 3500 قبلِ مسیح کا ہے۔ وادیِ نیل کے مقبروں میں اس آلے کی تصاویر ملی ہیں۔

ایک عورت ہارپ بجاتے ہوئے، یہ تصویر انٹرنیٹ سے لی گئی ہے۔

فضا سے اترتے شہرکے خدوخال نظر آنے لگے تھے، زیتون کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ گھروں کے صحنوں میں سوئمنگ پول نظر آرہے تھے۔ اندلس کے سفر میں دیکھا کہ حوض مسلم دور کا تحفہ ہے۔ پانی کے راستے بنائے گئے تھے جن سے باغات اور فصلیں سیراب ہوتی تھیں۔ انہیں آبی گزرگاہوں کو گھروں کے اندر لاکر حوض اور فواروں کو پانی فراہم کیا گیا تھا۔ کیا خوبصورت طرزِ تعمیر کہ گھرکے درمیان میں باغ، حوض، فوارہ اور اس کے گرد رہائش۔

سفر سے پہلے ہی کار بک کر لی تھی کہ اندلس کے پانچ روز کے سفر میں ہمارے ساتھ رہے گی، سو ایرپورٹ سے کار حاصل کرلی۔ کرائے پر دینے والی کمپنی کی ملازمہ ہم سے اور پیسے لینے کی چکر میں تھی۔ آپ سفر کی انشورنس کرائیں، گاڑی خراب ہوجائے تو اس کو لانے کے لیے ٹرک آجائے گا، اسکی علیحدہ انشورنس کرالیں، غرض ہر بے یقینی کا توڑ انشورنس کے تحت کروا لیں۔ کچھ ہم اس کے چکر میں آگئے اور کچھ اس سے معافی چاہی کہ کچھ تو اللہ پر بھی انحصار رکھیں۔

گلی آلنسو کاریلو میں اٹھائیس نمبر کے گھر کا ایک کمرہ ایر-بی-ان- بی سے بک کیا تھا۔ ہسپانی زبان میں سٹریٹ کو گلی ہی کہا جاتا ہے، اب پتہ نہیں یہ لفظ کہاں سے آیا، کسی وقت اس پر تحقیق کریں گے۔ مریم نام کی گھر کی مالکہ تھی، اس نے ای میل پر بتا دیا تھا کہ گھر کی چابی گلی میں لگے بجلی کے میٹر کے ڈبے میں رکھی ہوگی۔ اس بات سے ہی بڑی اپنائیت کا احساس ہوگیا ۔

اشبیلیہ شہر کے باہر زیتون کے باغات

راستے میں کھجور کے درخت سڑک کے کنارے لگے نظر آئے۔ کھجور سپین کا پودا نہ تھا بلکہ پہلے اموی خلیفہ عبدالرحمن اول کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ کھجور کو سپین لایا۔ بنو عباس نے جب اموی خاندان کا قتلِ عام کیا تھا تو ایک نوعمر لڑکا عبدالرحمان نامی جان بچا کر بغداد سے بھاگا۔ عباسیوں کی تمام کوششوں کے باوجود اس نے اسپین میں ایسی عظیم الشان سلطنت کی بنیاد رکھی جو تعمیرات کے حسن میں آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔

عبدالرحمن اول نے سپین میں کھجور کا ایک درخت لگوایا اوراس نے چند شعرعربی میں اس درخت کے بارے میں لکھے۔ وہ شعر پیرس میں لوو کے عجائب گھر میں عربی میں لکھے دیکھے جاسکتے ہیں۔ وہی عجائب گھر جس میں مونا لیزا کی تصویر لگی ہے، ایک مسکراھٹ جو کہتے ہیں کہ کچھ خاص ہے۔ اسی عجائب گھر میں اس نظم کے شعر ہیں جو اپنے وطن سے دور ایک حاکم نے لکھے تھے، عام سے شعر، نہیں بلکہ بہت خاص شعر۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ کو ماند کرتا ایک احساس۔ بے وطنی حاکم اور فقیر سب کے لیے ایک سی ہوتی ہے۔ اداسی کا بادل ایسا کہ سب کو ڈھانپ لے، کسی امتیاز کے بغیر۔

علامہ اقبال نے بال جبریل میں ایک نظم ’عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘ پر نوٹ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ اشعار، جو عبدالرحمن اوّل کی تصنیف سے ہیں، تاریخ المقری میں درج ہیں۔ علامہ کی نظم اردو میں ان اشعار کا آزاد ترجمہ ہے۔ عربی نظم انٹرنیٹ پر ڈھونڈی ہے اورکچھ یوں ہے۔

تبدَّت لنا وسط الرصافۃ نَخْلّۃٌ
تنائت بأرض الغربِ عن بلد النخلِ
فقلت شبیھي فیي التغُّرب والنَّوَی
و طولِ التنائي عن بُنيّ و عن أھلي
نشأت بأرضٍ أنتِ فیھا غریبۃ
فمثلُکِ في الاقصاءِ والمُتْنَأی مثلي
شَقَتْکِ غوادي المُزْنِ من صوبھا الذي
یَسُحُّ ویستمري السَماکین بالویل

علامہ اقبال نے ان عربی اشعار کا ترجمہ اپنی نظم ’عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘ کے پہلے بند میں کچھ ایسے کیا ہے۔

میری آنکھوں کا نُور ہے تُو
میرے دل کا سرور ہے تُو
اپنی وادی سے دُور ہوں مَیں
میرے لیے نخل طور ہے تُو
مغرب کی ہَوا نے تجھ کو پالا
صحراے عرب کی حور ہے تُو
پردیس میں ناصبور ہوں مَیں
پردیس میں ناصبور ہے تُو
غربت کی ہَوا میں بار وَر ہو
ساقی تیرا نمِ سحرہو

اس نظم کے دوسرے بند میں علامہ اقبال نے اپنے تاثرات ایسے بیان کیے ہیں۔

دریائے وادی الکبیر پر ایک پل

عالَم کا عجیب ہے نظارہ
دامانِ نِگہ ہے پارہ پارہ
ہمّت کو شناوری مبارک
پیدا نہیں بحر کا کنارہ
ہے سوزِ دُروں سے زندگانی
اُٹھتا نہیں خاک سے شرارہ
صُبحِ غُربت میں اور چمکا
ٹُوٹا ہُوا شام کا ستارہ
مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے

اشبیلیہ علاقہِ اندلس کا سب سے بڑا شہر اور دارلحکومت ہے۔ یہ وادی الکبیر میں واقع ہے جہاں سے دریا وادی الکبیر بہتا ہے۔ یہ سپین کا دوسرا طویل ترین دریا ہے اور یہی صرف دریا ہے جس میں جہاز رانی ہو سکتی ہے۔

دریائے الکبیر کے کنارےمسلم الموحدون بادشاہوں کا بنا ہوا مینارِزر ابھی بھی قائم ہے۔

اس کا نام زر یعنی سونے کی دھات کے نام پر اس لیے ہے کہ اس کی تعمیر میں ایسے اجزا استعمال کیے گئے تھے کہ اس کا پانی میں سنہرا عکس بنتا ہے۔ یہ قید خانے کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ اس کو دریا میں بھاری زنجیریں ڈال کر دشمن بحری جہازوں کے لیے رکاوٹ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ زنجیر کے اگلے سرے کے لیے دریا کے دوسرے کنارے پر بنی عمارت وقت کی شکست وریخت کا شکار ہو کر تباہ ہوچکی ہے۔

سیاحتی بگھی

کمرے میں سامان رکھ کر شہر کے قابل دید مقامات کی طرف چل نکلے۔ اشبیلیہ کی یونیورسٹی کے پاس گاڑی پارک کی اور پیدل اس علاقے میں نکل پڑے۔ اس علاقے میں سیاحوں کے لیے گھوڑوں کی بگھیاں بکثرت تھیں۔ گھوڑوں سے سپین میں محبت کافی ہے۔ راہ میں ایسے کلب بھی نظر آئے جہاں گھوڑوں کے مختلف کرتب دکھائے جاتے ہیں۔

چلتے چلتے اشبیلیہ کی یونیورسٹی پر جا نکلے۔ طالبعلموں کا ایک مجمع تھا۔ طالبعلم اورانکے خاندان اکٹھے تھے۔ خوب رونق تھی، شاید تعلیم مکمل کرنے کی تقریب تھی۔ سب خوش تھے، خوش لباس، خوبصورت، کھلکھلاتے، مسکراتے۔ اندلس کا حسن ایک جگہ اکٹھا تھا۔ صدیوں کے مختلف قومیتوں کے خون کی آمیزش، حرارت، رنگ اور روشنی ایک جگہ پر تھی۔

اندلس کےطرزِتعمیر میں محراب اور قوس بہت نظر آتے ہیں۔ یہ اس دور کی ریاضی میں مہارت کا آئینہ دار ہیں۔ جیومیڑیکل اشکال، تناسب، منقش اشکال اور ڈیزائن سب دیکھنے کے قابل ہیں۔

کسی بھی شہر میں جہاں سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہو، وہاں آپ کو سٹریٹ آرٹسٹ ضرور نظر آئیں گے۔ اشبیلیہ میں بھی سٹریٹ آرٹسٹ مختلف جگہوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

مگر اس تمام چمک کے ساتھ ساتھ غربت بھی نظر آجاتی ہے۔

اشبیلیہ کا سٹیڈیم جہاں 1982 فٹبال ورلڈکپ کا سیمی فائنل میچ جرمنی اور فرانس کے درمیان ہوا تھا

اور اندلس کی شام جہاں حسن بھی تھا اورحزن بھی۔ مکان چوباروں والے، چند پر بانس کی تیلیوں کے پردے، چوبارے، چلمن۔ گلی میں روشنی پرانے فانوسوں کی قطار پھیلا رہی تھی، سونی گلیاں اور ایک مسافر جو زندگی کی برسوں کی خواہش کی تکمیل پر تھا۔ حسن اور حزن کون اس کی مار سہہ سکتا ہے، مسافر کی روح وہیں برسوں سے پھر رہی تھی، آوارہ، بے اماں، بے سکوں۔ اور اب صدیوں پھرتی رہے گی آوارہ، بے اماں، بے سکوں۔

گھومتے پھرتے رات ہوگئی تھی۔ رات کے کھانے کے لیے حلال ریسٹورنٹ کی تلاش تھی۔ سیاحوں کے علاقے میں ایک عرب ریسٹورنٹ ملا، وہاں رات کا کھانا کھایا۔ کھانا مزے کا نہ تھا، اکثر ایسی جگہوں پر یہ مسلہ ہو جاتا ہے کیونکہ اگر گاہگ باقاعدگی سے نہ آتے ہوں تو کھانے کے معیار کی طرف اتنی توجہ نہیں دی جاتی۔ سبق یہی ہے کہ سیاحتی علاقے سے کھانا نہ کھایا جائے، مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا معیار نیچا ہونے کا امکان رہتا ہے۔

اگلے دن ہم صبح صبح اشبیلیہ کے محل جس کا نام القصر ہے، اس کے سامنے تھے۔ وہاں سیاحوں کی ایک لمبی قطار ٹکٹ خریدنے کے لیے کھڑی تھی۔ ہم نے اس قطار سے بچنے کے لیے فوراً وہیں کھڑے کھڑے انٹرنیٹ سے آن لائن ٹکٹ خریدی اور محل میں داخل ہوئے۔

القصر میں دروازے کے اوپر خطاطی ہزار سال کے بعد بھی قائم ہے

اشبیلیہ میں شاہی محل ایک ہزار سال سے قدیم ہے۔ یہ محل بنو عباد کے شاہی خاندان نے بنایا تھا۔ یہ خاندان اقتدار میں بنو امیہ کے اندلس میں حکمرانی کے خاتمے کے بعد آیا۔ بنو امیہ کے بغداد میں خلافت کے خاتمے کے بعدعبدالرحمن اول نے قرطبہ کی خلافت کی بنیاد رکھی۔ اس سلطنت کا شمالی افریقہ بھی حصہ رہا۔ 756 عیسوی سے لیکر 929 عیسوی تک یہاں کا حکمران امیرِ قرطبہ کہلاتا تھا۔ 929 عیسوی میں عبدالرحمن سوم نے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور سو اپنا لقب امیر سے خلیفہ میں بدل لیا۔ 1009 سے 1031 تک اس علاقے میں خانہ جنگی رہی، تاریخ اسے فتنہِ اندلس کے نام سے جانتی ہے۔ اس دور میں محلاتی سازشیں اپنے عروج پر تھیں اورکئی شہزادوں کے قتل کا باعث بنیں۔ اس خانہ جنگی کے باعث 1031 عیسوی میں قرطبہ کی خلافت کا خاتمہ ہوا اور سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ ان ٹکڑوں کے مختلف خاندان حکمران بن گئے جو آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان آپس کی جنگوں میں مسلمان حکمران ایک دوسرے کے خلاف پڑوسی عیسائی حکمرانوں کی مدد لیتے رہتے تھے۔ بنو عباد نے اشبیلیہ پر 1023 عیسوی سے 1091 عیسوی تک حکمرانی کی اور اشبیلیہ کا محل انہوں نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ محل عیسائی فتح کے بعد عیسائی حکمرانوں نے مختلف تبدیلیوں کے ساتھ اپنی رہائش کے لیے استعمال کیا، مگر اب بھی اس محل میں اسلامی/عربی/مورش طرز تعمیر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یہ طرزِتعمیر مدجن بھی کہلاتا ہے۔ مدجن کا لفظ ہتک آمیز ہے کیونکہ سپین کے فاتح عیسائی اسے پالتو کے زمرے میں استعمال کرتے تھے۔ اور عیسائی فتح کے بعد وہ مسلمان جو سپین میں رہے ان کے لیے یہ ہتک آمیز لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ اشبیلیہ کا محل اقوام متحدہ کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ ایک عالیشان عمارت ہے جس کے نقش ونگار نے صدیوں کا سفر برداشت کیا ہے۔ یہ عمارت اور اس کے باغات اپنے ہنرمندوں، معماروں، نقش گروں اور اُس زمانے کے فنون کا آئینہ دار ہے۔

نقش، خطاطی ، ہنر مندی

دروازے اور عمارت کے ساتھ ساتھ اوپر لگی لکڑی پر بھی خطاطی کی گئی ہے۔ یہ لکڑی ایک ہزار سال سے پرانی ہونے کے باوجود ٹھیک ہے

القصر میں دوسری شاہی عمارات کی طرح ایک عالیشان باغ بھی ہے، جس کی سیرابی کے لیے پانی کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس باغ کے وسط میں ایک عمارت میں ایک فوارہ بھی بنا ہے

اندلس میں مسلمانوں نے کئی چیزیں متعارف کروائیں، ان میں پانی کا انتظام ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ نہروں اور آبی راہوں سے پانی سے باغات سیراب کیے گئے۔ گھروں اور عمارتوں کے صحن میں حوض ایک ضروری عنصر تھا۔ اس کے علاوہ حمام بنائے گئے۔ دونوں اقسام کے حمام ملتے ہیں؛ شاہی اور عوام کے استعمال کی خاطر بنائے گئے۔

القصر سے نکلتے ہوئے دیکھا کہ درمیانی صحن میں چھوٹے چھوٹے سے پرندے لگاتار دائرے میں چکر لگا رہے ہیں۔ کچھ دائیں سے بائیں دائرے میں اڑتے اور کچھ اس سے مخالف بائیں سے دائیں دائرے میں اڑتے۔ بچپن میں سکول جاتے ہوئے چوبرجی کے چوک سے گذرتے تھے تو وہاں پر ابابیلوں کو یونہی بے چین اڑتا پاتے تھے، وہی منظر تھا۔ شاید صدیوں سے یہ پرندہ بے چین ہے ، چونچوں سے کنکر دوبارہ گرانے کے لیے۔

القصر سے متصل ہی اشبیلیہ کا چرچ ہے، دنیا کا تیسرا بڑا چرچ ؛ عالیشان، پروقار، دیکھنے کے قابل۔ یہ عمارت اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

اشبیلیہ کے چرج کا گھنٹیوں کا مینار جو پہلےاذان کے لیے مسجد کا حصہ تھا

مگر یہ چرچ ہمیشہ چرچ نہ تھا۔ یہ ایک عالیشان مسجد تھی جس کی تعمیر الموحد خلیفہ ابو یعقوب یوسف نے 1172 عیسوی میں شروع کروائی تھی۔ 15 ہزار سکوئر میٹر سے بڑی اس مسجد کا نقشہ مقامی آرکیٹیکٹ احمد بن باصو اور سسلی کے رہائشی آرکیٹیکٹ ابو لیث الثقلی نے بنایا تھا، قبلہ رو کھڑی عمارت، جس کے ساتھ وضو خانے کا حوض اور ایک بلند و بالا مینار شامل تھا۔ وہ مینار کہ جس کی اونچائی سے موذن کی آواز پوری وادی الکبیر میں گونجتی تھی۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر۔ بے شک اللہ سب سے بڑا ہے۔

یہ مینار 350 فٹ کے قریب اونچا ہے اور آج بھی اشبیلیہ کی پہچان کے طور پر کھڑا ہے، سیدھا، اونچا، بلند و بالا، فخر کے ساتھ مگر افسردہ۔ مسجد ختم ہوئی، قبلہ روعمارت کو بدل دیا گیا، صلیبیں پیوست ہوئیں، عیسائیت کی مذہبی تصاویر اور مجسمے مسجد میں جابجا لگا دیے گئے۔ مگر یہ مینار کھڑا رہا، ایک شان کے ساتھ ، ایک افسردگی گو اس کے چہار جانب تھی۔ اور ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ اس کے گرد طواف کرتے ہیں، بے چین، دائروں میں بے چین اڑتے، اپنی تیز آوازوں سے موجودگی بتاتے، حکم کے انتظارمیں۔ مگر حکم نہیں آتا؛ چیخوں، سینہ کوبی کے باوجود، ماتم سے قطع نظر، آنسووں کی قطاروں کے باوجود، خون کی نہروں کے باوجود، اداس آنکھوں، غم زدہ چہروں کی فریادوں کے باوجود۔

حکم نہیں آتا کیونکہ خاص حکم عام نہیں آتے۔ مگر اصول ہمیشہ عام رہتا ہے، صدیوں سے جاری و ساری، عمومیت کے ساتھ۔ اصول کہ جرم ضعیفی کی سزا ہولناک ہے۔ ہولناک؛ کسی معافی ، کسی رحم، کسی درگزر کے بغیر۔ چیخوں، سینہ کوبی کے باوجود، ماتم سے قطع نظر، آنسووں کی قطاروں کے باوجود، خون کی نہروں کے باوجود، اداس آنکھوں، غم زدہ چہروں کی فریادوں کے باوجود۔ ہولناک، جسم سے بڑھ کی روح کو تارتار کرتی ہولناکی۔

اور اس مسجد کا مینار اب بھی کھڑا ہے۔ اذان کی جگہ چرچ کی گھنٹیاں اب وادی الکبیر میں گونجتی ہیں۔ اور ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ اس کا طواف کرتے ہیں؛ بے چین، بیقرار، اونچی چیخوں میں ماتم و گریہ زن۔

عمارت کے سامنے نہر اور پل

اشبیلیہ میں تیسری عمارت جو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے وہ اشبیلیہ کے قدیم تاجروں کے پرانےتجارتی مخطوطا ت کو سنبھالنے کی عمارت ہے۔ اس میں ہسپانوی سلطنت کے نئی دریافت یافتہ براعظم امریکہ میں تجارتی دستاویزات سنبھال گئی ہیں۔ کولمبس جس نے امریکہ دریافت کیا تھا ، اس کی جہازرانی کے مہمات کی سرپرستی ہسپانوی سلطنت نے کی تھی۔ اس عمارت کا انگریزی میں نام ہے۔ General Archives of Indies

گھوم پھر رہے تھے کہ ایک دیوار کی چھاوں میں تین دوست بلیاں آرام کر رہی تھیں۔ ہمیں بھی انہوں نے بڑے غور سے دیکھا، ایسے ہی جیسے ہم انہیں غور سے دیکھ رہے تھے۔

گھومے پھرتے سہ پہر ہو گئی تھی، بھوک بھی خوب لگ رہی تھی مگر کل شام کا تجربہ تھا کہ سیاحتی مقام پر کھانا اتنا اچھا نہیں ہوتا۔ رات جو ایک عرب ریسٹورنٹ میں بیف سٹیک کھایا تھا بالکل اچھا نہ تھا سو گوگل میپ پر کوئی دور کی حلال کھانے کی جگہ ڈھونڈنی شروع کی۔ ایک کباب شاپ دور کی مسافت پر ملی۔ ڈھونڈنے اور پہنچنے میں مزید وقت لگ گیا، مگر وہاں پہنچے تو سرگودھا میانی کے علاقے کا یاسین اس دکان میں ملازم تھا۔ اُس نے زبردست باسمتی چاول، سبزی اور بیف ہمارے ذائقے کا تیار کیا، سو بڑا مزا رہا۔

کمرے سے صبح نکلتےسامان گاڑی میں رکھ لیا تھا، سو کھانا کھا کر قرطبہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اشبیلیہ سے قرطبہ کا سفر ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا ہے، سو اس کی کہانی اگلی قسط میں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دانش ڈیسک سروس

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20