ڈاکٹر برہان احمد فاروقی —– جلیل عالی کی خود نوشت کا ایک باب حصہ 1

0

پنجابی کا ایک محاورہ ہے ’’کُبّے نوں لت راس آئونی‘‘ کُبڑے کو لات راس آجانا یعنی ایسا حادثہ جو بظاہر نقصان رساں ہو مگر اس کا اچھا نتیجہ بر آمد ہو۔ میرے ساتھ بیتنے والے ایسے بہت سے واقعات میں سے سب سے اہم واقعہ میرے ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کی شاگردی میں آنے سے تعلق رکھتا ہے۔

ہوا یوں کہ میں ۱۹۶۱ سے ۱۹۶۳ میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں منطق، نفسیات اور معاشیات کے مضامین کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا۔ اس زمانے میں طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں میں سہولت کی خاطر سنیما گھروں میں دن بارہ بجے سے اڑھائی بجے تک فلمیں دکھانے کا اہتمام موجود تھا۔ اور پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ بھارتی فلمیں بھی دکھائی جاتی تھیں۔ عین اسی وقت ہمارا انگریزی کا پیریڈ شروع ہوتا تھا۔ میں انگریزی سے بہت بدکتا تھا۔ چنانچہ اکثر میرا یہ وقت دیگر دوستوں کے ساتھ کسی نہ کسی سینما گھر میں گزرتا۔ نتیجہ یہ کہ بورڈ کے امتحان کا رزلٹ آیا تو انگریزی کے پرچے میں فیل ہو گیا۔ خیر میں نے جیسے تیسے انگریزی کمپارٹمنٹ پاس کر لی۔ ان دنوں بی اے کے دونوں سالوں کا امتحان یونیورسٹی الگ الگ لیتی تھی۔ جب میں نے ضمنی امتحان پاس کر لیا تو بی۔ اے سال اوّل کے امتحان میں صرف تین مہینے باقی تھے۔ میں نے والد صاحب سے سال سوم میں داخلے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا اب تو تعلیمی سال ختم ہونے کو ہے امتحان کی تیاری کے لئے وقت بہت تھوڑا ہے، اگلے سال داخلہ لینا۔ میں نے عرض کیاکہ یوں تو مجھے زندگی بھر نہیں بھولے گا کہ میں نے عمرِ عزیز کا ایک سال ضائع کیا ہے۔ والد صاحب معلوم نہیں دل سے قائل ہوئے یا نہیں مگر انہوں نے اجازت دے دی۔ اب ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ضمنی کی بج والے طالب علم کو کون سا کالج قبول کرے گا۔ تھوڑی سی تحقیق پر معلوم ہوگیا کہ ایسے طلبہ کو سوائے لاہور کے بدنام ترین ایم۔ اے۔ او کالج کے کسی اور جگہ پناہ نہیں ملتی۔ میں نے اللہ کا نام لے کر اردو ادب اور فلسفے کے مضامین کے ساتھ ایم۔ اے۔ او کالج میں داخلہ لے لیا۔ فلسفے کا پیریڈ شروع ہوا تو ٹائم ٹیبل کے مطابق کلاس روم کا رخ کیا۔ جب متعلقہ کمرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ یہ ایک حجرہ نما آٹھ نو فٹ مربعہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ جس میں ایک میز کے ساتھ کرسی پر پھندنے والی سرخ ترکی ٹوپی اور کالی شیروانی پہنے ایک چھوٹے سے قد کی درویش صفت شخصیت وائس پرنسپل ایم۔ اے۔ او کالج کی حیثیت سے تشریف فرما ہے۔ ہمیں بڑی محبت اور شفقت سے میز کے گرد بچھی کرسیوں پر بیٹھنے کو کہا گیا۔ ہم اس کلاس میں کل پانچ طالب علم تھے۔ ہم سے صرف ہمارے نام پوچھے گئے اور اس کے بعد کورس کے مطابق فلسفے کی تعریف، تعارف، مسئلے اور دائرۂ بحث پر باقاعدہ لیکچر شروع ہو گیا۔ جس طالب علم کے پاس نوٹس لینے کے لئے کاغذ پنسل میں سے کوئی ایک چیز نہیں تھی اسے وہ فراہم کر دی گئی اور جو دونوں سے تہی تھا اسے دونوں عنایت فرما دی گئیں۔ درمیان درمیان میں کسی نکتے کی وضاحت جس دلپذیر انداز میں کی گئی اس نے ہمیں اتنا مبہوت کر دیا کہ ہم نوٹس لینا بھی بھول گئے۔ عجیب کیفیت تھی۔ جیسے علم و آگہی کی یونانی افلاطونی فضا میں سانس لے رہے ہوں۔ دو تین روز ہی میں اپنے اندر کوئی اور انسان جاگتا محسوس ہوا۔

ڈاکٹر صاحب کی پوری باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھیں مگر ان سے اتنی تحریک ملتی جی چاہتا کہ سیدھے لائبریری جائیں اور جتنی زیادہ سے زیادہ کتابیں اپنے اندر انڈیل سکیں انڈیل لیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک فنا فی العلم شخص تھے۔ ان کے ہاں سوائے علمی موضوعات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کے کسی دوسری بات کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ فٹ پاتھ پر سفر کر رہے ہوں تو مسلمانوں کی موجودہ سیاسی بین الاقوامی صورتِ حال اور رسولؐ اللہ کے زمانے کے حالات میں مماثلتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان کے گھر پر ملاقات کے لئے چلے جائیں تو خیر خیریت پوچھنے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی۔ کبھی اقبال کے خطبات کے بعض نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تو کبھی صوفیانہ اور مذہبی وردات کے مفارق و امتیازات کی وضاحت ہو رہی ہے۔ تاہم واپسی پر ڈاکٹر صاحب ہمیں زبردستی رکشے کا کرایہ دینا نہیں بھولتے تھے۔ ان کے پڑھانے کا طریقہ یہ تھا کہ ہم سے پوچھتے کہ آج کیا موضوع ہے؟ ہمارے بتانے پر فوراً ’’دیکھئے‘‘ کا لفظ ادا کر کے متعلقہ موضوع پر گفتگو شروع کر دیتے۔ بہت دھیمے انداز میں آرام آرام سے بولتے اور ہم ان کے لیکچر کے نوٹس لیتے جاتے۔ نوٹس کیا ان کا لفظ لفظ لکھتے چلے جاتے۔ کوئی لفظ چھوٹ جاتا تو بعد میں ایک دوسرے سے نوٹس ملا کر درست کر لیتے۔ ان کے نوٹس پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا کہ اتنے ربط و تسلسل سے بات ہوئی ہے کہ کہیں نظرِ ثانی کی ضرورت نہیں۔ گویا کسی کتاب کا مسودہ تیار ہو رہا ہے۔ لیکچر کے دوران کبھی کبھی کسی نکتے کی وضاحت کے لئے کاغذ قلم کا بھی استعمال کرتے۔ مثلا علمی منہاج کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالنا درکار ہے تو سفید کاغذ پر سب سے اوپر ’’علمی منہاج کے مراحل‘‘ کا عنوان قائم کر تے اور نیچے نمبر وار ہر مرحلے کا ذیلی عنوان لکھتے اور باری باری اس کی زبانی تشریح کرتے جاتے۔ اور اگر کسی ذیلی عنوان میں ایک سے زیادہ نکات کی وضاحت مطلوب ہوتی توان نکات کے لئے بھی کلیدی الفاظ کا اندراج کرتے جاتے۔

ڈاکٹر صاحب کے پاس لاہور شہر کے کئی قلمکار آتے رہتے تھے۔ ان میں سے بیشتر کو کسی نہ کسی فکری مسئلے میں رہنمائی درکار ہوتی۔ بعض کو تو ہم نے استفسار کے بعد ڈاکٹر صاحب کی باتوں کے باقاعدہ نوٹس لیتے بھی دیکھا۔ ہماری سوچ سمجھ میں ذرا پختگی آئی تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی ایسی غیر رسمی رہنما گفتگووں کو بعض مصنفین نے اپنی کتابوں میں ڈاکٹر صاحب کے نام کا حوالہ دیے بغیربے دھڑک استعمال کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو بہت سے دوسرے مصنفین کی طرح اپنی تصانیف کی تعداد بڑھانے کی کوئی بے تابی نہیں تھی۔ علمی و فکری تقریبات میں بھی زیادہ تر زبانی ہی گفتگو فرمایا کرتے تھے اپنے خیالات کو تحریری صورت میں کم کم ہی سامنے لاتے تھے۔ ہمیں بھی تلقین کیا کرتے تھے کہ سستی کتاب نویسی کی لت میں نہ پڑ جانا۔

ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا خمیر روحانیت اور حق گوئی سے اٹھایا گیا تھا۔ وہ ایک سچے صوفی مجاہد تھے۔ علم اور عمل کی دوئی کے سخت خلاف تھے۔ نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو کی زندہ مثال تھے۔ ایک بار ہماری موجودگی میں ایک روز ایک نوجوان ملاقات کو آیا۔ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اس کا ابا فوت ہو چکا ہے اور وہ بہت غریب ہے۔ فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس ہونے کی بنا پر گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل صاحب نے ترس کھا کر داخلہ دے دیا ہے مگر اب مسئلہ رہائش کا ہے۔ لڑکے کی روداد سنتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ اس کے لئے بے حد فکر مند ہو گئے۔ ہم سب شاگردوں کی طرف دیکھ کر رندھی ہوئی آواز میں بولے ان کا کیا ہو گا۔ ہم لڑکے سے زیادہ ڈاکٹر صاحب کی حالت سے اثر قبول کر کے پگھل چکے تھے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے علاوہ فلسفے کے مضمون ’’اخلاقیات‘‘ کا بھی دخل تھا جو ہمیں ڈاکٹر صاحب پڑھا رہے تھے۔ میں نے جذباتی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ سر یہ ہوسٹل میں میرے ساتھ کمرے میں رہ سکتا ہے۔ میری پیشکش پر ڈاکٹر صاحب کو ایک گونا اطمینان ہوگیا۔ بولے یہ ٹھیک ہے۔ وہ لڑکا کیسی بلا اور کیسا ٹھگ اور فراڈیا نکلا، یہ ایک طویل داستان ہے۔ میرا ماتھا تو اسی وقت ٹھنک گیا جب وہ مجھ سے کہیں زیادہ سامان لے کر میرے کمرے میں داخل ہوا۔ مجھے دو چار روز ہی میں ہی محسوس ہونے لگا کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ اسے اس کے جو دو ایک دوست ملنے آتے تھے وہ بھی ایسی ہی ملتی جلتی درد بھری کہانی بیان کرتے تھے۔ ایک نے بتایا کہ وہ ریلوے اسٹیشن پر قلی کا کام کر کے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتا ہے۔ میرا شک اس وقت یقین میں بدل گیا جب ایک روز وہ گھر والوں کو خط لکھتے ہوئے کہیں کام سے نکلا اور مجھے اس کے مندجات دیکھنے کا موقع مل گیا۔ اس نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے لکھا تھا کہ میں لاہور میں بہت کامیاب جا رہا ہوں۔ آپ کوفی الحال پانچ سو روپے بھیج رہا ہوں۔ کچھ عرصے بعد مزید ارسال کروں گا۔ تھوڑی سی جاسوسی کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اور اس کے ساتھی ماڈل ٹائون اور سمن آباد کے امیر علاقوں کے مکینوں سے اپنی غربت اور مظلومیت کے سوانگ سے پیسے بٹورنے کا کام لیتے ہیں اور ان سب نے باقاعدہ بنک اکائونٹ کھلوا رکھے ہیں۔ شروع میں تو میں خود کو ابنِ صفی کا جاسوس ہیرو کرنل فریدی تصور کر کے مہم جوئی کے تفاخر میں رہا۔ مگر جب یہ سب میرے لئے ذہنی اذیت کا باعث بن گیا تو میں اس کی دھمکیوں کے باوجود لڑ جھگڑ کر کسی طور اسے کمرے سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر یہ سارا ماجرا ڈاکٹر صاحب کو کبھی نہیں بتایا۔ مجھے معلوم تھا کہ ڈاکٹر صاحب جو انسان کی نیک طینتی پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں، یہ سب سن کر ان پر کیسی قیامت گزر جائے گی۔

فلسفے کی مختصر سی کلاس میں میری سب سے زیادہ دوستی یوسف اخترصدیقی کے ساتھ تھی۔ یوسف اختر صدیقی بے حد شائستہ، مہذب اور مخلص انسان تھے۔ کلاس کے بعد بھی ہمارا بہت سا وقت اکٹھے گزرتا۔ وہ اکثر ہوسٹل میرے کمرے میں آ جاتے اور کالج اوقات ختم ہو جانے کے بعد بھی ہم دیر تک ایک ساتھ رہتے۔ ہم سارا وقت ڈاکٹر صاحب کے لیکچر سے پیدا ہونے والی ذہنی ہلچل کو اعتدال میں لانے کے لئے متعلقہ موضوعات بارے بحث و تمحیص اور ڈاکڑ صاحب کی شخصیت پر ہی گفتگو کرتے رہتے۔ یوسف مجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے۔ ان کی مادری زبان اردو تھی۔ ان کے ماں باپ بھارت ہی میں رہ گئے تھے اور وہ پاکستان اپنے ماموں کے پاس چلے آئے تھے جو رہتے تو ماڈل ٹائون میں تھے مگر رنگ محل میں مریض دیکھنے کے لئے اپنا مطب بنا رکھا تھا۔ اس گھرانے میں تہذیب و شائستگی کا یہ عالم تھا کہ میں نے کئی بار یوسف صاحب کو کوئی بات پوچھنے یا بتانے کے لئے بڑی بڑی دیر تک ان کے سامنے ہاتھ باندھ کے اس انتظار میں کھڑے دیکھا کہ وہ متوجہ ہوں تو اجازت پاکر بات کریں۔ میری اخلاقی و تہذیبی نمو میں ڈاکٹر صاحب کی شاگردی اور یوسف صاحب کی دوستی کا بڑا ہاتھ ہے۔

ڈاکٹر صاحب اکثر عصری عالمی حالات اور رسولؐ اللہ کے زمانے کے درمیان مماثلتوں کا ذکر کر کے اسلام کے دوبارہ غلبے کا یقین دلایا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام کے آغاز کے وقت بھی دنیا میں دو بڑی طاقتیں ایران اور روم اپنے عروج پر تھیں اور اسلام نے ان کو زیرِ نگوں کر لیا تھا۔ ہمارے زمانے میں بھی دو بڑی طاقتیں امریکہ اور سوویٹ روس اپنے عروج پر ہیں۔ ہم نے اسلام کے نام پر پاکستان بنایا ہے۔ اس میں اللہ کی کی بڑی مصلحت ہے۔ اس کی حیثیت ریاستِ مدینہ کی کی سی ہے۔ اگر ہم درست قرآنی حکمتِ عملی اختیار کریں تو آج پھر دونوں بڑی طاقتوں کو شکست دی جا سکتی ہے اور دنیا پر اسلام کا غلبہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ اس حوالے سے قرآنی حکمتِ عملی پر بہت زور دیتے تھے۔ اس حکمتِ عملی کو انہیں کے ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ
’’مزاحمت سے مزاحمت کی مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

اپنی اس انقلابی تحریکی حکمت ِعملی کی انہوں نے اپنی کتاب منہاج القرآن میں تفصیل سے وضاحت کی۔

بی۔ اے سال اول کے نصاب میں شامل علمِ اخلاقیات میں کسی عمل کے اخلاقی و غیر اخلاقی یا اچھا برا ہونے کے معیار یا ڈاکٹر صاحب کے مطابق حَکَم کا مسئلہ بڑا پیچیدہ تھا۔ کتابوں میں اس کی ایک تعریف یہ بھی لکھی تھی کہ جو عمل برا نہ ہو وہ اچھا ہوتا ہے اور جو اچھا نہ ہو وہ برا ہوتا ہے۔ ایک معیار یہ بھی تھا کہ جس عمل کے کرنے سے خوشی حاصل ہو وہ اچھا یا اخلاقی عمل ہوتا ہے اور جس کے کرنے سے خوشی حاصل نہ ہو وہ غیر اخلاقی عمل ہوتا ہے۔ کتابوں میں کئی اور تعریفات بھی موجود تھیں مگر ڈاکٹر صاحب نے جو تعریف بتائی وہ ایسی جامع اور مانع محسوس ہوئی کہ سیدھی دل میں اتر گئی۔ نہ صرف دل میں اتر گئی بلکہ آج بھی میری نظریاتی فکر کی روح و رواں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر وہ عمل اخلاقی عمل ہو گا جسے آپکا دل اور ضمیر عالمگیر اصول بنانے پر تیار ہو جائے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا ایسا عمل جیسا آپ دوسروں کی طرف سے اپنے ساتھ روا رکھا جانا درست تصورکریں، اخلاقی عمل ہو گا۔ یہ دراصل وہی بات ہے جو رسولِ اکرم ؐ کی اس حدیث میں بیان ہوئی ہے کہ
’’دوسروں کے ساتھ وہ سلوک کرو جو آپ اپنے ساتھ کیا جانا پسند کرتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کو جب علم ہوا کہ مجھے شاعری کا شوق ہے۔ اور ٹوٹے پھوٹے شعر تراشتا رہتا ہوں تو انہوں نے ایک روز ممتاز استاد شاعر احسان دانش کے نام رقعہ لکھ کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو شعر گوئی کا شوق ہے تو رہنمائی کے لئے ان سے مل لیں۔ احسان دانش انار کلی میں پہلی منزل والے ایک گھر میں رہتے تھے۔ میں وہ رقعہ لے کر ان کے مکان کی سیڑھیاں چڑھا۔ سیڑھیوں کے بائیں طرف پہلی منزل پر ان کا ایک بیٹھک نما کمرہ تھا، جس کے درمیان میں فرش پر بچھے ہوئے ٹاٹ پر ایک چھوٹی سی میز کے سامنے احسان دانش تشریف فرما تھے اور چاروں طرف دیوار وں کے ساتھ رکھے بینچوں پر ان کے شاگرد، عقیدتمند اور دوسرے ملاقاتی بیٹھے تھے۔ اجازت پانے پر میں بھی ایک بینچ پر خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اپنا تعارف کروایا اور ڈاکٹر صاحب کا رقعہ پیش کیا۔ احسان دانش صاحب نے رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ ایک فل سکیپ کاغذ کو طولی انداز میں دہرا کر کے دائیں طرف اپنا کلام لکھ کر مجھے دے دیں، دیکھ لوں گا۔ میں نے اگلے روز اپنی دو غزلیں پورے صفحے کے دائیں والے آدھے حصے میں نقل کر کے پیش کیں تو احسان صاحب نے فرمایا دو تین روز کے بعد لے لیجے گا۔ چند روز کے بعد حاضر ہوا تو اصلاح شدہ کلام کے ساتھ وہی پرچہ مجھے واپس عنایت کر دیا گیا۔ میں نے تہہ کر کے پرچہ جیب میں رکھ لیا کہ ہوسٹل کمرے میں جاکر آرام سے دیکھوں گا۔ مگر اشتیاق اور بے تابی بہت تھی کہ جلد از جلد معلوم ہو احسان صاحب نے کیا اصلاح فرمائی ہے۔ بڑی مشکل تھوڑی دیر بیٹھا اور اجازت لے کر سیڑھیاں اتر آیا۔ انارکلی سے باہر نکلتے ہی رہا نہ جا سکا اور میں نے جیب سے پرچہ نکالا تو دیکھا کہ میری غزلوں کے سامنے باقی کے آدھے حصے پر احسان صاحب کے ہاتھ کی اصلاح شدہ غزلیں لکھی ہوئی تھیں۔ اب جو توجہ سے پڑھا تو معلوم ہوا کہیں میرے الفاظ تبدیل ہو گئے ہیں اور کہیں خیال بدل گیا ہے۔ میرا فوری ردِ عمل یہ تھا کہ اب یہ میرے اشعار تو نہیں رہے۔ پتہ نہیں یہ غیرت تھی کہ حماقت میں نے کمرے تک پہنچنے سے پہلے اصلاح شدہ کلام والا پرچہ پرزے پرزے کر کے باہر سڑک ہی پر پھینک دیا۔ اس وقت تو اس بات کا ذرا بھی پچھتاوا نہیں تھا۔ مگر آج محسوس کرتا ہوں کہ وہ پرچہ سنبھال رکھتا تو احسان دانش کی تنقید و اصلاح کے حوالے سے ادبی ریکارڈ کی ایک اہم دستاویز ہوتی۔

ہمارے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر دلاور حسین تھے۔ اونچے لمبے قد و قامت والے۔ جوانی میں کرکٹ کے کھلاڑی رہ چکے تھے۔ اپنے انداز کی منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ شہر بھر میں لطیفوں کی حدود چھوتی ہوئی ان کی مزے مزے کی باتیں مشہور تھیں۔ ایک پرانی سی سائیکل پر کالج آتے تھے جس کی بریک کا کام اپنے لمبی ٹانگوں ہی سے لے لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی یہ بریک عین پرنسپل آفس کی کرسی کے قریب پہنچ کر لگتی اور پھر چپراسی کو حکم ملتا کہ اسے لے جا کر کالج کے سائیکل سٹینڈ پر کھڑاکر دے۔ ان کا کمرہ کالج گیٹ کے قریب ہی تھا۔ جب کہ وائس پرنسپل ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا چھوٹا سا حجرہ کالج ہال کی بے چھت ادھوری عمارت گزر کر ذرا آگے واقع تھا۔ شہر کی بیشتر عالم فاضل شخصیات پرنسپل سے ملے بغیر سیدھی ڈاکٹر صاحب کے حجرے پہنچ کر دم لیتیں۔ کچھ اور وجوہات بھی رہی ہوں گی مگر ہمیں چند ماہ بعد ہی معلوم ہو گیا کہ پرنسپل اور وائس پرنسپل کی آپس میں بنتی نہیں ہے۔ اس ان بن کا انجام یہ ہوا کے ڈاکٹر صاحب کالج سے مستعفی ہو گئے۔ طلبہ نے ڈاکٹر صاحب کی بحالی کے لئے پرنسپل کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تو ڈاکٹر دلاور اپنی ٹائی ڈھیلی کیے اور اپنا ہیٹ ہاتھ میں لئے دفتر سے برآمد ہوئے اور مظاہرے کی قیادت کرنے والے اگلے طلبہ کے سامنے جھکتے ہوئے اپنا ہیٹ ان کے پائوں میں رکھنے کایوں تاثر دیاکہ سوائے دو قائدین کے سب طلبہ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ دلاور صاحب دونوں لیڈر طالبعلموں کو گردنوں سے دبوچ کراپنے دفتر میں لے آئے اور فاتحانہ لہجے میں بولے ’’اوئے پُترو تسی دلاور دے خلاف مظاہرہ نئیں کروا سکدے‘‘

ڈاکٹر برہان احمد فاروقی تواس وقت کے نامور جدید مذہبی دانشور ڈاکٹر فضل الرحمٰن کے پاس ’’المرکزالاسلامی‘‘ کراچی چلے گئے۔ اور ہمیں فلسفہ پڑھانے کا کام ڈاکٹر دلاور صاحب نے اپنے ذمے لے لیا اور پرنسپل آفس ہی میں کلاس لینے لگے۔ ڈاکٹر دلاور صاحب کا حافظہ بلا کا تھا۔ بی اے فائنل میں عمومی نفسیات کا مطالعہ شاملِ نصاب تھا۔ جنرل سائیکالوجی کے نام سے لکھی ہوئی وُڈ ورتھ کی کتاب ہمارے ہاتھوں میں ہوتی تھی۔ ایک روز آتے ہی متعلقہ موضوع پر انگریزی میں جو بولنا شروع ہوئے تو پندرہ بیس منٹ بغیر وقفے کے بولتے ہی چلے گئے۔ ہم سب حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کہنے لگے بھئی میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو کتابیں کھولو۔ دیکھو میں نے ابھی صفحہ نمبر چالیس سے پینتالیس تک کی عبارت آپ کے سامنے دہرائی ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں لوگوں سے کئی پرانے لطیفے سن رکھے تھے۔ تاہم کچھ واقعات کے ہم عینی گواہ ہیں۔ ایک بار رومال کی ضرورت محسوس ہوئی تو جیب میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو اندر سے نکلنے والا کپڑا ختم ہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ گھر سے آتے ہوئے جلدی میں میز پوش جیب میں ٹھونس لائے ہیں۔ ایک روز لیکچر کے دوران اچانک کہنے لگے ’’او جی نئیں بن سکدا، بالکل نئیں بن سکدا‘‘ ہم نے پوچھا سر کیا نہیں بن سکتا۔ بولے ’’بچے کہندے نیں گھر ڈرائنگ روم دے نال اک گیسٹ روم ہونا چاہی دا اے۔ میں آہناں واں جگہ تھوڑی اے۔ گنجائش ای نئیں ہیگی، نئیں بن سکدا۔‘‘

استادِ محترم ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب کی دوری کو یوسف اختر صدیقی اور میں نے بڑی شدت سے محسوس کیا۔ مجھے تو یوں محسوس ہوا جیسے گھنے درخت کے سائے سے زبردستی ہٹا کر کڑکتی دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کے کراچی چلے جانے کے بعد ہم دونوں دوست پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور جب بھی ملتے خبر ہی نہ ہوتی کہ کب اور کیسے ڈاکٹر صاحب کا ذکر چل نکلتا۔ خالی پیریڈوں میں اور کلاسوں سے فارغ ہونے کے بعدبھی انہیں کی باتیں کرتے رہتے۔ پھرہم نے الگ الگ ڈاکٹر صاحب کو خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کر لیا۔ مگر میں اپنا ہرخط اور اس کے جواب میں آنے والا ڈاکٹر صاحب کا خط یوسف صاحب کو ضرور پڑھواتا اور یوسف صاحب بھی ایسا ہی کرتے۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔ اس حصہ میں ڈاکٹر صاحب کے کچھ یادگار، طویل علمی خطوط بھی شامل ہیں)


(جلیل عالی کی خود نوشت ’’شام و سحر سے آگے‘‘ کا ایک باب)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20