کرونا وائرس : بائیو وار اور افواہوں کی جنگ — الیاس بابر اعوان

0

چین کے صوبہ ہُوبے کے شہر ووہان میں قائم تحقیقی ادارہ برائے وائرسز ان دنوں بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا کو کرونا وائرس جیسی وبا کا سامنا ہے جس کے متعلق کہا جارہا ہے کہ اس کا مرکز وائرس پر تحقیق کرنے والے ادارہ ہی ہے۔ دُنیا کے منفی طور پر زرخیز ذہنوں نے طاقت کے مراکز کو ایٹمی جنگ سے زیادہ خطرناک جنگی طریق ہائے کار اور ٹولز سے متعارف کروا دیا ہے ان میں سے ایک بائیو وار ہے۔ اس ممکنہ یا مبینہ جنگ میں ان دیکھے (مگر کسی قدر معلوم) دشمن اپنے مخالفین پر ایٹم بم اور دیگر خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرکے دنیا بھر کی طعن و تشنیع کو اپنے گلے کا ہار بنانے کی بجائے ایسے وائرس، بیکٹیریا یا دیگر متاثرکرنے والے بائیو ایجنٹس کو استعمال کرنے کے خواہاں ہیں جو انسانوں، جانوروں، فصلوں اور دیگر فطری مظاہر کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ دشمن ملک کو ایک مقامی جنگ میں مبتلا کردیا جائے اور وہ بیماریوں اور وبائوں سے لڑتے لڑتے ختم ہو جائے۔

حالیہ کرونا وائرس کے بارے میں بہت سی افواہیں گردش میں ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ سب چین دشمن طاقتوں کی اختراع شدہ ہیں۔ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولجی کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب چین کو سارس وائرس کا سامنا تھا۔ رواں برس جنوری میں جب یہاں کے ایک سائنس دان نے یہ انکشاف کیا کہ کرونا وائرس کا بنیادی ماخذ چمگاڈر ہے جہاں سے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہوا چونکہ ووہان میں موجود ایک فوڈ مارکیٹ میں ان چمگاڈروں کی فروخت برائے غذائی جنس کے عام تھی۔ قیاس ہے کہ اس کا آغاز وہاں سے ہُوا۔ دوسری طرف ایک اور افواہ گردش میں ہے کہ چین شاید اس لیبارٹری میں ایسے وائرس بنانا چاہ رہا تھا جنہیں وہ اپنے مخالفین کے خلاف بطور بائیو ویپن (ہتھیار) کے استعمال کرسکے لیکن کسی وجہ سے یہ وائرس اس لیبارٹری سے خارج ہُوا اور خود چینی عوام اس کا شکار ہو گئی۔ اس افواہ میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں کچھ بھارتی سائنس دانوں کے ایک تحقیقی مقالے نے بھی اہم کردار ادا کیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کرونا وائرس اور ایچ آئی وی میں مماثلت پائی جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا کہ اس کو باقاعدہ طور پر انجینئر کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس مقالے سے بعد ازاں ان سائنس دانوں نے دستبرداری کا اعلان کردیا کہ ابھی ان کی تحقیق نامکمل ہے۔ تاہم اس مقالے سے دنیا بھر میں کم از کم ایک بحث ضرور چھڑ گئی کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ چین خود یہ وائرس بطور بائیو ہتھیار کے تیار کر رہا تھا تاکہ عالمی منڈی میں اپنی مرضی کا کھیل کھیل سکے۔

ایک معروف میڈیکل جرنل The Lancet میں چین سے باہر کے ۲۷ سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے نتائج کی روشنی میں یہ دعوٰی کیا ہے کہ یہ وائرس انسان کا انجینئر کردہ نہیں بلکہ اس کا ماخذ جنگلی حیات ہے۔ تاہم لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے ایک سائنس دان نے دو فروری کو اپنے WeChat اکائونٹ پر ایک وضاحتی نوٹ پوسٹ کیا جس میں اس نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ وائرس کا تعلق لیبارٹری سے نہیں ہے بلکہ یہ قدرت کی طرف سے انسان کی غیر مہذب (غیر انسانی) غذائی اجناس کے استعمال کے خلاف بطورِ سزا ہے۔ جس کے بعد کچھ حد تک معاملات سلجھے ہی تھے کہ چین کی وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کی طرف سے سائنس دان Shi Zhengli کو ایک قانونی نوٹس موصول ہُوا کہ اس نے ایسا بیان کیوں دیا؟ جس سے ایک مرتبہ بھی وائرس سے متعلق شکوک و شبہات نے سر اٹھا لیا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شی کے اس بیان سے چین کی واضح اکثریت کی سماجی زندگی کے متاثر ہونے کا خطرہ تھا ایک لحاظ سے یہ ایک بیانیاتی اختراعِ نو بھی تھا۔ اس نوٹس میں لیبارٹریز کو تنبیہہ بھی کی گئی تھی کہ وہ اپنے نظام کو بہتر بنائیں کہ اور وائرس اور دیگر جرثوموں کی افزائش اور تحقیق سے متعلق ایس او پیز پر عمل در آمد کریں۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ نوٹس در اصل چینی ریاست کی طرف سے ایک اعترافی بیان بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ایسا ہُوا ہے جس کا تعلق یقیناً لیبارٹریز سے ہے۔

بہرحال اس وقت دنیا دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے ایک دھڑا جس میں صرف چین اکیلا کھڑا ہے جب کہ دوسری طرف وہ تمام ممالک کھڑے ہیں جنہیں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے خطرہ تھا۔ ایک دھڑا اور بھی ہے جس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کھڑا بھی ہے کہ نہیں اس میں وہ خاموش ممالک شامل ہیں جن کے مفادات دونوں دھڑوں سے جڑے ہوئے ہیں وہ خاموشی میں ہی عافیت تلاش کر رہے ہیں۔ شی کے بیان کے بعد لیبارٹری نے جو بیان جاری کیا اس میں ان الزامات کو رد کیا گیا کہ کرونا وائرس کے پہلے مریض کا تعلق اس تحقیقی لیبارٹری سے تھا جو یہاں بطور ایک سائنس دان کے یہاں کام کررہا تھا۔ لیبارٹری نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے لیبارٹری میں تحقیقی کام کرنے والے سائنس دانوں کے حوصلے پست ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف اس وبا کے پھیلنے سے قبل ایک مقامی ڈاکٹر Li Wenliang نے نمونیا سے ملتے جلتے وائرسز کے تیزی سے پھیلائو کے متعلق ایک تنبیہہ کی تھی جسے بعد ازاں ووہان پولیس نے سمن جاری کیے تھے کہ وہ خواہ مخواہ افواہیں پھیلا رہا ہے۔ جب کہ یہی ڈاکٹر بعد میں کرونا وائرس کا شکار بنا اور اس وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔

پروفیسر Dali Yang جو جو یونیورسٹی آف شکاگو میں سیاسیات کے استاد ہیں نے ای میل کے ذریعے ڈاکٹر لی کی موت پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر لی کی وارننگ کو سنجیدہ لینے کی بجائے ریاست کا اس کے خلاف ہوجانا وبا کے خلاف اناڑی پن کا مظاہرہ تھا اگر ابتدا میں اسے سنجیدہ لے لیا جاتا تو شاید وبا اس طرح نہ پھیلتی۔ اس سارے میں چین مخالف دنیا یہ پروپیگنٖڈا کرتی نظر آتی ہے کہ چین کے ان اقدامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں یقیناکچھ کالا ہے جسے چینی حکومت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ چین میں کرونا وائرس کی وبا سے قبل سارس کی بیماری نے بھی تقریباً اسی درجے کی تباہی پھیلائی تھی اور اگر واقعتاً چین بائیو ہتھیاروں پر کام کررہا ہوتا تو اسے سارس سے بہت کچھ سیکھناچاہیے تھا۔ لیکن بادی النظر میں ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

اگر آپ امریکہ اور برطانیہ کے ٹی وی چینلز کا بغور تجزیہ کریں تو آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چین اس وبا کی روک تھام میں ناکام ہو چکا ہے اور بہت جلد یہ وائر س چین سے نکل کر دنیا کے دیگر ممالک کو شدید متاثر کرنے جا رہا ہے اور اس میں چین کی نااہلی شامل ہے۔ یاد رہے دنیا کے بہت سے ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے۔ قطعِ نظر اس کے کہ کوئی ملک یا ممالک بائیو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہیں تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ وائرس بارود سے زیادہ خطرناک ٹول ہے جو تباہی پھیلاتے ہوئے قومیت کا خانہ نہیں دیکھتا۔ یہ دنیا قوموں کی نہیں بلکہ انسانوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ نوعِ انسانی کو درپیش خطرات ہم سب کا مشترکہ خطرہ ہونے چاہییں۔ تمام انسانوں کو اس کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی سی کرنی چاہیے بلکہ ایک مشترکہ سعی ہی اس کُرہِ ارض کو پر امن اور پرسکون جگہ بناسکتی ہے۔ ہمیں مشکل وقت میں چین کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے نہ کہ اس پر الزامات کی بوچھاڑ کر نی چاہیے۔ چینی قوم ایک جفاکش قوم ہے جو جلد یا بدیر اس پر قابو پا لے گی لیکن خدانخواستہ یہ وبا دنیا کے ان ممالک میں پھیل گئی جن کا صحت کا انفراسٹرکچر اٹھارویں صدی میں سانس لے رہا ہے تو سوائے موت کے بقا کا دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ الامان الحفیظ

[اس آرٹیکل میں مذکور بنیاد ی معلومات جین لی کے آرٹیکل سے لی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ جین لی سائوتھ چائنا مارننگ پوسٹ سے بطور ٹیکنیکل رپورٹر منسلک رہی ہیں جب کہ ان دنوں بلوم برگ بزنس ویک سے بطور بزنس رپورٹر کے منسلک ہیں]

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20