سڑک کہانی —– عظمی ذوالفقار

0

گھر کی چھت سے نیچے سڑک پر جھانکتے ہوئے روز کتنے ہی چہرے نظر آتے ہیں جو پل بھر کو زہن کی کوئی نہ کوئی قندیل روشن کرکے غائب ہوجاتے ہیں۔ مغرب کا وقت ہے، سورج دن بھر کی مشقت کے بعد سستانے جاچکا ہے جو اکا دکا پرندہ فضا میں محوِ پرواز ہے اسے بھی گھر سے ‘لیٹ کمر’ کا خطاب ملنے والا ہے۔ سڑک پہ ایک موٹر سائیکل والا جا رہا ہے جس نے ایک بچہ آگے اور دو نسبتاً بڑے پیچھے بٹھا رکھے ہیں۔ ذہن میں کوئی گھنٹی بجتی ہے کہ کل کا بہانہ کارگر نہ ہونے پر کرکٹ بیٹ یا سکول شوز کی فرمائش پر آج باپ قربانی کا بکرا بنا ہے۔ دونوں بڑے بچوں کو تیار ہوتا دیکھ کر ماں نے چھوٹے والے کو روکنے کی کوشش کی ہوگی مگر وہ بچہ ہی کیا جو نزاکتیں سمجھ کر رک جائے۔ میں اوپر کھڑے کھڑے ہی بیٹ کی آمد پر بچے کی چمکتی آنکھیں اور دوستوں کو دکھاتے ہوئے اسکے لہجے کی کھنک محسوس کرتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بائیک کی زن کے بعد نظر نکر والے مرغی فروش پر جاٹکتی ہے۔ پنجرے میں چند خوابیدہ سی باقی ماندہ مرغیاں گاہک کے انتظار میں سوچتی ہوں گی پنجرے کے حبس اور مکھیوں سے تو پرلوک سدھارنا ہی بہتر ہے۔ مرغی فروش بھی میلے کپڑوں میں، کھجاتا ہوا کرسی پر بیٹھا گھر جانے کے انتظار میں اپنے ورکر کو ہدایات دے رہا ہے۔ اسے دیکھ کر ہمیشہ یہی خیال آتا ہے کے ہر وقت گندگی میں رہنے والے شاید جراثیم اور بو سے امیونٹی پیدا کر ہی لیتے ہیں۔
اخے، ، ، رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
(سوری چچا غالب آپکو مرغی خانے میں لا کھڑا کیا)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ارے۔ ۔ دور سے ہمسایوں کی دو بچیاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے لہک لہک کر چلتے ہوئے دکھائی دیں۔ شام کو پڑھائی کا وقت ختم ہو نے پر اکثر انہیں ‘چیز’ لینے کے لیے مل کر جاتا دیکھتی ہوں۔ دونوں کے گھر الگ ہیں پر دل جڑے ہیں۔ ایک تو وہی آٹھ نو سالہ بچی ہے جو چاند رات پر مجھ سے مہندی لگوانے سب سے پہلے آپ موجود ہوتی ہے۔ اور بازو تک مہندی لگوا کر ہی نکلتی ہے۔ دوسری بچی کو گلی میں جب بھی چھوٹے بچوں کی کلاس بناکر ڈنڈا پکڑ کر ٹیچر بنتے دیکھا تو میرے وجدان سے ہمیشہ یہی آواز آی کہ یہ زندگی میں کسی سے دبنے والی ہرگز نہیں بلکہ منوانے پر یقین رکھتی ہے۔ من میں آتا ہے کیا یہ دونوں عملی زندگی کے آغاز کے بعد بھی اسی بہناپے کو قائم رکھ پائیں گی؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکا ہاتھ ہلا ہلا کر فون پہ کسی سے بات کرتا اور سڑک کے چکر کاٹتا جاتا ہے۔ کبھی مسکراتا ہے تو کبھی ادھر ادھر دیکھ لیتا ہے۔ شاید گھروالوں کے سامنے ٹھیک سے بات نہیں ہو پاتی۔ سامنے آنے والے درخت کی چھال ناخنوں سے کترتا ہے اور اونچائی پر موجود پتے کو توڑنے کی کوشش کر کے لاشعوری طور پر شاید خود کو کسی بڑے کام کا اہل ثابت کر رہا ہے۔ خیر کسی متضاد خیالات والے کو قائل کرنا کونسا چھوٹا کام ہے۔ میرے زہن نے دفعتاً پھلجھڑی چھوڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سڑک پہ بل کھاتے رکشے سے دو عورتوں کی جھلک دکھائی دی جو سامان ترتیب سے لگاتے ہوئے گھر والوں کو شاپنگ دکھا کر داد سمیٹنے کا سوچ رہی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پیسوں کا حساب کر رہی ہوں۔ مگر رُکیے، ، ، سوچیں گی تو تب، جب باتوں میں وقفہ آئے گا۔ ابھی تو بات کپڑوں اور دکانداروں پر تبصرے سے ہوتے ہوئے سسرال پر جا ٹکے گی۔ ارے نہیں، سب برائیاں نہیں ، کچھ تعریفی باتوں کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ اپنے اپنے بچوں کی پسند ناپسند سے لے کر گھریلو ہیلپر کی حرکتیں بھی زیر بحث آینگی۔ بھئ اور کوئی جانے نہ جانے، خواتین کی سوچ کے انداز یہ رکشے والے تو خوب سمجھتے ہیں۔ روز اتنی کھچڑیاں پکتے جو دیکھتے سنتے ہیں۔ پھر بھی معلوم نہیں ان کے گھروں کی لڑائیاں بند ہو گئی ہیں یا ابھی چلتی ہے ؟
میرے اندر کے جیمز بانڈ نے انگڑائ لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایک طرف سے دس گیارہ سالہ شلوار قمیض میں ملبوس لڑکا دکھائ دیتا ہے۔ جس میں کندھوں پر اپنی چھوٹی بہن کو بٹھا رکھا ہے۔ ہلکا چلنے پر بچی رونے لگتی ہے۔ اور لڑکے کے بھاگنے پر رونا بھول جاتی ہے ساتھ چلتی ہوئی دوسری بہن بھی اس بھاگنے رکنے کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہوے بھائی کو ہدایات بھی جاری کر رہی ہے۔ بچے کی مسکراہٹ میں کوئی جادو ضرور ہوتا ہے جو اردگرد کے سب لوگوں کی کہیں اندر دبی مسکراہٹ کو کھینچ کر باہر لے آتا ہے۔ سوچتی ہوں کیا بڑی ہو کر بھی بچی کے لاشعور میں بھائی کے یہ لاڈ محفوظ رہیں گے؟

ان چند ملگجی پلوں میں میں کتنے گھروں کے اندر تک جھانک آئی۔ کتنی اور کیسی کیسی کہانیاں اردگرد بکھری پڑی ہیں اب آپ سوچئے کہ ہم کس کہانی کے کے کردار ہیں اور کہاں محض تماشائی !!!!!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20