نعوذ باللہ ——— محمد اویس حیدر کا افسانہ

0

وقار کی شادی کو ابھی صرف تین سال ہی گزرے تھے لیکن وہ شدید ذہنی دباو کا شکار ہو چکا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کی اپنی بیوی کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہیں تھی بلکہ اس دباو کی وجہ صرف اس کی بیوی کا حاملہ نہ ہونا تھا۔

تین سال قبل جب نو بیاہتی دلہن وقار کے گھر آئی تو اس نے بہت جلد ہی حسنِ اخلاق سے اپنے سسرال والوں کے دل میں گھر کر لیا تھا۔ صالحہ دراصل ایک سلیقہ شعار لڑکی تھی۔ وہ وقار کے گھر میں مٹھاس بن کر آئی اور اس کے درودیوار میں محلول ہو گئی۔ صالحہ کو ایک کامیاب بیوی بننے کا ہنر آتا تھا، جبھی وہ اپنے سامنے کھانا کھاتے ہوئے تھکے ہارے وقار کو یوں مسکرا کر دیکھتی کہ گویا اپنے ہاتھ سے نوالے بنا کر کھلا رہی ہو۔ وقار کا پیٹ روٹی سے اور نگاہیں صالحہ کو دیکھتے رہنے سے بھرتی چلی جاتیں۔ صالحہ نے اسی طرح وقار کی نگاہوں میں اپنی صورت اور دل میں محبت بھر دی تھی۔ پھر جب صالحہ بھی وقار سے کوئی فرمائش کرتی تو وہ اسے ضرور پورا کرتا تاکہ صالحہ سے ملنے والی محبت کے بدلے اسے بھی اسکی من پسند خوشی کا تحفہ دے سکے۔ چھٹی کے دن اکثر دونوں گھومنے باہر چلے جاتے۔ ریلیز ہونے والی ہر نئی فلم سینما میں جا کر دیکھتے۔ دراصل دونوں کو اپنا فارغ وقت ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھ کر گرازنا پسند تھا جس کے لیے وہ کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کرتے ہی رہتے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو ہی اپنے لیے زندگی کا لطف بنا لیا تھا اور یوں والدین کی پسند سے کی گئی اس شادی کے بعد دونوں کی زندگی پُرلطف طریقے سے گزر رہی تھی۔

شادی کو چھ ماہ ہو چکے تھے جب وقار کی ماں نے پوچھا کہ ہمارے کان خوشخبری کی آواز سے ابھی تک محروم کیوں ہیں تو صالحہ خود اس محرومی کی کوئی وجہ بیان کرنے سے قاصر تھی۔ لیکن اس سوال نے اسے پریشان ضرور کر دیا۔ پھر شام کو صالحہ کے ساتھ کھانا کھاتے وقت جب وقار نے روٹی سالن کے ساتھ صالحہ کے چہرے کی مسکراہٹ کو گم شدہ پایا تو پوچھا

کیا بات ہے صالحہ تم کچھ پریشان لگ رہی ہو ؟

ہاں تھوڑی پریشان تو ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ امی پوچھ رہیں تھیں آج کہ اتنے مہینے ہو گئے لیکن کوئی خوشخبری نہیں، آخر کیوں؟

ہممممم، تو اس میں تمہارے پریشان ہونے کی کیا بات ہے یہ تو اللہ کے کام ہیں، ہمارا اس پہ بھلا کیا زور؟

وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں ہمیں کسی اچھی ڈاکٹر کو بھی دکھانا چاہیے۔ صالحہ نے وقار کو صلاح دیتے ہوئے کہا

چلو ٹھیک ہے۔ ہم کل ہی کسی ڈاکٹر کو دکھا لیتے ہیں، لیکن تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ اللہ کے فیصلے ہیں اور اللہ نے چاہا تو بہت جلد خیر پڑ جائے گی۔

دونوں اگلے دن اپنے محلے کی قابل ڈاکٹر سے ملے اور اس کے لکھے ٹیسٹ بھی کروا لیے جن کی کچھ دنوں میں رپورٹس مل گئیں اور جب وہ ڈاکٹر کو دکھائیں تو اس نے ان ٹیسٹس کی مثبت رپورٹس پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا جس پر وقار اور صالحہ بھی مطمئن ہو گئے۔ لیکن یہ اطمینان زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا جب دوائیں کھانے کے باوجود کئی ماہ تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آیا۔ ہر مہینے صالحہ کا امید سے نہ ہونا ان کی بندھی امیدوں پر پانی پھیر دیتا اور یوں دونوں بغیر کسی جرم کے ہی اپنے اردگرد موجود لوگوں کی سوالیہ نظروں کے سامنے اندر ہی اندر خود کو بے بس سمجھتے ہوئے نامحسوس طریقے سے پانی پانی ہوتے رہتے۔ بے بسی کا یہ رِستہ پانی ان کی محبت کی بنیادوں کو سیم زدہ کرتا چلا جا رہا تھا۔

شادی کو دو سال بیت چکے تھے۔ دونوں نے مختلف ڈاکٹرز کو بدل بدل کر بھی دیکھ لیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ خوشخبری کی اس محرومی نے ان کی زندگی سے آہستہ آہستہ سارے لطف کو غائب کر دیا۔ اگرچہ دونوں اب بھی ایک دوسرے سے اتنا ہی پیار کرتے تھے اب بھی چھٹی کا دن انہیں باہر گزارنا پسند تھا لیکن اس باہر گزارنے میں اب ایک بنیادی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ پہلے وہ تفریح کی خاطر باہر جاتے تھے جبکہ اب کھلی فضا میں اپنے اندر پل پل پیدا ہوتی گھٹن کو خارج کرنے کی خاطر، تاکہ سکون کا سانس آ سکے۔ دونوں کو زیادہ پریشانی یہ تھی کہ جب ساری رپورٹس نارمل ہیں دونوں میں کسی مرض کی نشخیص نہیں ہو پا رہی تو پھر اس خوشی کا راستہ آخر کس شہ نے روک رکھا ہے ؟ لیکن اس سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں تھا۔ تمام اسباب کے موجود ہوتے ہوئے نتیجے کا رک جانا دونوں کے لیے بے بسی کی انتہا تھی۔ جیسے کوئی تڑپتی مچھلی صحرا کے سراب میں اپنے لیے زندگی تلاش کر رہی ہو۔

پھر ایک دن صالحہ کو یہ خیال گزرا کہ یقیناََ کوئی رکاوٹ ہے جو ہماری خوشی کا راستہ روکے کھڑی ہے۔ کسی منحوس بلی نے تو ضرور ہماری خوشیوں سے جل کر راستہ کاٹا ہے۔ لیکن سوال پھر یہ پیدا ہوا کہ اس کاٹ کی کاٹ کیسے ہو ؟

مجھے میری امی کے گھر کے ساتھ رہنے والی ایک سہیلی نے بتایا ہے ایک عامل نوری بابا کے بارے میں، کہتی ہے کہ جن ہیں ان کے پاس جو فوراََ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ کسی نے کوئی عمل تو نہیں کروایا ہوا ؟ اس طرح وہ عمل کا توڑ بھی کر دیتے ہیں اور مراد بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

ارے صالحہ یہ کیا بیہودہ بات ہے ؟ وقار نے حیرانگی سے پوچھا۔ کیا تم ان سب باتوں پر یقین رکھتی ہو ؟ ایمان سے دور ہوتے ہیں ایسے لوگ اور جو ان کے پاس جائے وہ بھی ایمان سے دور ہو جاتا ہے۔ سمجھی ؟

ارے اس میں بھلا ایمان کی بات کہاں سے آ گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہم ڈاکٹرز کے پاس پہلے ان کا عقیدہ پوچھ کر جاتے رہے ہیں؟ نہیں نا! تو اسی طرح اب روحانی علاج ہی تو کروانے جانا ہے ان کے پاس بھی، ان عامل بابا کا کیا ایمان ہے وہ جانیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا ایمان تو خدا پر قائم ہے اور قائم رہے گا بھی ہم دعائیں تو اسی سے مانگ رہے نا۔ لیکن وہ ہر کام کسی نا کسی سبب سے ہی کرتا ہے ہو سکتا ہے کہ یہی وہ سبب ہو جو اس رکاوٹ کو دور کر سکے۔

یہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں کہ جب خدا پر ایمان ہے تو پھر ان عاملوں کا پتہ کیوں پوچھ رہی ہو لوگوں سے ؟ لوگ تو کچھ بھی کہہ دیتے ہیں، لیکن ہمیں تو صرف خدا پر یقین رکھنا چاہیے اور اسی سے دعا کرنی چاہیے اور بس!!! خدا کو بھلا کیا اسباب کی ضرورت ہے کچھ دینے کے لئے ؟؟ مجھے نہیں جانا کسی عامل وامل کے پاس۔ وقار نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا۔

صالحہ سن کر خاموش ہو گئی جیسے اکثر ہو جایا کرتی تھی۔ اس نے کبھی وقار سے کسی بات پر بھی تکرار نہیں کی تھی اسی لئے ہمیشہ کی طرح آج بھی آگے سے کچھ نہ کہا اور سر جھکائے خاموشی سے وقار کی ہاں میں ہاں ملا دی۔

صالحہ کی خاموشی نے وقار کے دل پر گہرا اثر ڈالا اور کچھ غور کرنے کے بعد صالحہ کی بات اسے زیادہ غیر مناسب بھی نہیں لگی۔ اس لئے تھوڑا وقت گزرنے کے بعد وقار اندر ہی اندر خود سے بحث کر کے اس بات پر قائل ہو گیا جس پر وہ صالحہ کو پہلے انکار کر رہا تھا۔

کہاں بیٹھتے ہیں یہ عامل نوری بابا ؟ وقار نے دبی سی آواز میں صالحہ سے پوچھا

وہ نہر والی سڑک کے قریب رحمٰن پورہ ہے نا وہاں پر۔ وہ میری سہیلی شمیم بتا رہی تھی کہ صرف عصر سے عشا کے درمیان بیٹھتے ہیں۔ صالحہ نے خوشی سے جواب دیا

ہممممم، ابھی تو مغرب کا وقت ہونے والا ہے میرے خیال میں ہم پہنچ جائیں گے ان کے اٹھنے سے پہلے تک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چلو چلتے ہیں۔

جب عامل بابا کے کمرے میں دیوار پر لکھا کلمہ طیبہ، آیت الکرسی اور درود شریف نظر آئے تو وقار کو کچھ تسلی ہو گئی۔ پھر کئی ماہ تک طبی ادوایات کی جگہ اب تعویذات کو پانی میں گھول گھول کر پینے کا سلسلہ چلتا رہا۔ کبھی کالی، پیلی اور سبز دالوں کو درختوں کے نیچے پھینکا گیا تو کبھی گوشت کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں بنوا کر انہیں چیل کووں کے آگے پھینکا گیا۔ گلے میں اور پیٹ پر دم کی ہوئیں ڈوریاں باندھی گئیں، نمازوں کے بعد مخصوص اذکار کیے گئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اس طرح جو بے یقینی پہلے سے وقار کے اندر موجود تھی وہ مزید تقویت پکڑ گئی یہاں تک کہ ایک روز نماز پڑھ کر وقار نے اللہ تعالیٰ سے عامل بابا کے پاس علاج کی غرض سے جانے کی بھی معافی مانگ لی۔ مگر پھر اس کے اندر موجود ڈیپریشن پیدا کرنے والے بہت سے سوالات میں آہستہ آہستہ مزید اس سوال کا بھی اضافہ ہو گیا کہ عامل نوری بابا کے پاس جانا غلط تھا یا وہاں جانے کی معافی مانگنا ؟ مراد پوری کیوں نہ ہو سکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا عامل بابا کا عمل کمزور تھا یا مجھ میں موجود یقین کی کمی نے ہونے نہیں دیا ؟ وقار شدت سے اس بات کو محسوس کر رہا تھا کہ اللہ جس شہ کو روک لے کوئی دے نہیں سکتا، اسی لیے اللہ جو بھی دے شکر ہی کرنا چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ دے تو سہی!!! وقار نے قدرے بلند آواز میں خود کلامی کی۔

تین سال بیت گئے۔ اگرچہ یہ بہت زیادہ عرصہ تو نہیں تھا لیکن شادی کے چھ ماہ سے ہی لوگوں کی سوالیہ نظروں کو دیکھ دیکھ کر لاحق ہو چکی تشویش اور تمام علاج معالجوں میں ناکامی تین سال کا سفر طے کرتے ہوئے احساسِ محرومی کا وہ پھوڑا بن چکی تھی جس کی بدبو سے ان کا دم گھٹتا تھا۔ دونوں کو لگنے لگا تھا کہ جیسے شادی کے ان تین سالوں میں وہ مایوسی کی صدیاں گزار چکے ہوں۔ اس پر لوگوں کی باتیں اور راہ راہ کی تدبیریں انہیں پھوڑے پر بیٹھنے والی بھنبھناتی مکھیوں کی مانند تکلیف دیتی تھیں۔ جنہیں وہ جتنی بار اڑاتے وہ پلٹ کر پھر وہیں آن بیٹھتیں۔

مہینے کی آخری تاریخوں میں جب ایک روز وقار اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جا رہا تھا تو پہلے اچانک پیٹرول ختم ہو گیا۔ وہ پیدل موٹر سائیکل کو دھکیلتے ہوئے قریبی پمپ تک پہنچا اور جیب میں ہاتھ ڈالا تو صرف دو سو روپے نکلے۔ اس نے سو روپے کا پیٹرول ڈلوا کر دوبارہ کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ اب موٹر سائیکل کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ چڑھتے دن کے ساتھ دھوپ کی شدت آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی اور وقار اپنی پنکچر موٹر سائیکل کو دھکیلتا ہوا کسی پنکچر لگانے والے کی تلاش میں تھا۔ پھر کوئی لگاتار بیس منٹ تک خوار ہونے کے بعد وہ جونہی ایک پنکچر والے کے پاس پہنچا تو ایک برقعہ پوش عورت جو گود میں ایک ننھے بچے کو اٹھائے ہوئے تھی قریب آئی اور کہنے لگی

بھوکی ہوں صاب جی اور بچے نے بھی کچھ نہیں کھایا، کچھ کھانے کے لیے لے دو صاب جی

وقار پنکچر والے کے قریب اپنی پنکچر موٹر سائیکل تھامے کھڑا تھا اور جیب میں صرف سو روپے کا ایک نوٹ پڑا تھا۔ وہ بھکارن کی بات سن کر ایک دم جھنجھلا گیا۔ پھر اس کے دل میں جانے کیا خیال آیا کہ اس نے وہ سو ررپے کا نوٹ بھکارن کو پکڑایا اور خود پیدل ہی موٹر سائیکل دھکیلتا دفتر کی جانب بڑھنے لگا دل میں سوچ کر کہ وہاں کسی سے کچھ پیسے پکڑ لیتا ہوں۔ جبکہ اسے بخوبی اندازہ تھا کہ یوں پیدل چلتے ہوئے دفتر پہنچنے میں مزید آدھا گھنٹہ لگ سکتا ہے دیر سے پہنچنے کی کلاس الگ ہو گی اور پنکچر ٹائر کو مسلسل گھسیٹنے سے اس کا ستیاناس ہو جانا بھی عین ممکن ہے۔

غیر یقینی طور پر سو روپے کا نوٹ دیکھ کر بھوک کی ستائی بھکارن کی آنکھوں میں چمک کی لہر دوڑ گئی اور وہ دعا دیتی ہوئی چلی گئی ” اللہ تمہاری دلی مراد پوری کرے “

اولاد کو لے کر دونوں تقریباََ مایوس ہو چکے تھے اور دعاوں پر بھی ان کا یقین اب کمزور پڑ چکا تھا کہ ٹھیک ایک ماہ بعد صالحہ امید سے ہو گئی۔ آنگن میں اترتی خوشی دیکھ کر دونوں پھولے نہیں سما رہے تھے۔ صالحہ ایسے چمک اٹھی تھی جیسے چاند کی روشنی نے غسل دے دیا ہو اور وقار بھی زندگی میں لوٹ آنے والے ان مسرت خیز لمحوں میں کھو کر روزانہ خوشیوں کے جھولے جھولنے لگا تھا۔ صالحہ میں حمل کے ایک ایک دن کا سُرور بھرتا چلا جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے ایک ایک ریشے سے خوشی چھلکتی تھی۔ چھ ماہ بعد لیڈی ڈاکٹر نے انہیں بچے کی جنس کے متعلق بھی بتا دیا کہ خدا انہیں بیٹا عطا کرنے والا ہے۔ وقار نے پہلے ہی اپنے بچے کے لیے کپڑوں وغیرہ کی شاپنگ بھی کرنی شروع کر دی۔ وہ اپنی بیوی کے پیٹ سے منہ لگا کر اپنے ہونے والے بچے سے روزانہ کئی مکالمے کرتا اور صالحہ اسے دیکھ کر ہنستی رہتی۔ وقار باقاعدگی سے چیک اپ کے لیے صالحہ کو لے کر ہسپتال جاتا اور پھر ایک دن جس کے انتظار میں انہوں نے محرومی کی صدیاں گزاری تھیں وہ ان کی گود میں آ گیا۔

وقار اور صالحہ کا بیٹا اب قریب ڈیڑھ سال کی عمر کو پہنچنے والا تھا اور دونوں اپنے آنگن میں ہنستی مسکراتی نئی زندگی کو دیکھ کر بے حد خوش تھے۔ اگرچہ وقار کی تنخواہ میں دونوں میاں بیوی کے علاوہ اب اس تیسری ذمہ داری کا بوجھ بھی پڑ چکا تھا مگر پھر بھی زندگی آسانی سے گزر رہی تھی۔ پھر ایک روز وقار دفتر سے جب گھر آیا تو پتہ چلا کہ امید کی شکل میں ایک اور خوشخبری بھی صالحہ کے پیٹ میں سما چکی ہے۔ اس خبر سے خوش دونوں کی فرطِ طرب اس وقت فرطِ حیرت میں بدل گئی جب انہیں لوگوں کی ایسی باتیں سننے کو ملیں

اتنی بھی کیا جلدی تھی بھئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی پہلا بچہ دو سال کو بھی نہیں پہنچا اور نئے کی پڑ گئی۔ کچھ تو خیال کرنا چاہیے۔

اگر اللہ نے ایک دے دیا ہے تو تم لوگ کچھ وقفہ تو رکھو، اچھا نہیں ہوتا ماں اور بچے کے لیے اتنا تھوڑا وقفہ۔ آخر سنبھالے گا کون ؟

اپنی آمدن اور مہنگائی کو تو پہلے دیکھو، یہ وقت ہے بھلا یوں اوپر نیچے بچے پیدا کرنے کا؟

دونوں کی مستیاں ہی ختم نہیں ہوتیں، خیر سے اب اماں ابا بن چکے ہیں تو ساتھ میں کچھ احتیاط بھی تو سیکھ لینی چاہیے۔

اللہ اللہ، بھئی دو سالوں تک تو ایک بچے کا حق ہوتا ہے دودھ پینے پر، ابھی تو وہ مدت بھی پوری نہیں ہوئی تھی، تھوڑا احساس تو کرنا چاہیے تھا۔

لوگوں کی ایسی باتیں سن کر انہیں بھی اند ہی اندر لگنے لگا کہ شائد واقعی ان سے کہیں کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے، لوگ شائد ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ اگرچہ خوشی کی خبر ہے مگر واقعی ابھی اتنی جلدی نہیں ملنی چاہیے تھی۔ بہرحال وقت کہاں رکتا ہے لہذا یہ وقت بھی گزرتا گیا۔ وقار کی ذمہ داری اب پہلے سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔ ننھے بچے کی دیکھ بھال صحت کا خیال، ڈائپرز، اس کے کھلونے، خشک دودھ کے ڈبوں کی خرید اور ساتھ ساتھ حاملہ بیوی کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جانا، مزید مہنگی ادوایات کا خریدنا۔ اسی طرح اگلے نو ماہ گزر گئے اور وہ وقت آن پہنچا جب وقار کے ہاتھوں میں نرس نے دوسرا نومولود بیٹا پکڑا کر اپنی مٹھائی کے پیسے لیے۔

گھر میں اب دو دو بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں، صالحہ ایک کو چپ کرواتی تو دوسرا شور کرنے لگتا۔ اسی طرح دودھ پلانے، اسے ہضم کروانے اور پھر بچوں کو سلانے کی تگ و دو میں پوری رات گزر جاتی مگر نہ ٹھیک طرح وقار سو پاتا اور نہ ہی صالحہ۔ وقار نے اب اپنی نوکری کے ساتھ پارٹ ٹائم ایک اور کام بھی شروع کر لیا تھا تاکہ گھر کے اخراجات پورا کرنے میں دقت نہ ہو۔ البتہ اب دو کاموں میں سے گھر کے لیے وقت نکالنا اس کے لیے ضرور دقت آمیز ہو گیا۔ اور صالحہ پر بھی گھر گرہستی کا بوجھ خاصہ بڑھ گیا تھا۔ ہر لمحے وہ کسی نا کسی کام میں ہی مگن رہتی۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی تو اسے آئینہ دیکھنے کا وقت بھی نہ ملتا۔ اسی طرح مزید ایک سال گزر گیا۔ بڑے بیٹے نے اب ننھے ننھے قدموں کے ساتھ چلنا اور توتلی زبان کے ساتھ آدھے آدھے لفظوں کو بولنا شروع کر دیا تھا جبکہ دوسرا بیٹا ابھی رینگنے کی ہمت اکٹھی کر رہا تھا۔ صالحہ نے تو ابھی سے ہی مختلف اسکولوں کی بھی معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی تھیں۔ وقار کو اندر ہی اندر کبھی یہ نئی تشویش بھی ہونے لگتی کہ آگے چند سالوں میں جب تعلیمی اخراجات بھی شروع ہو جائیں گے تو گزارا کرنا کہیں مشکل نہ ہو جائے۔

دوسرے مہینے بھی تاریخ پر آنے والے ایام جب نہیں آئے تو صالحہ کو کچھ شک گزرا اور چیک اپ کروانے پر معلوم ہوا کہ اللہ کے فضل سے اس کے پیٹ میں پھر سے ایک ماہ کا حمل موجود ہے۔ قدرت کی کرنی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس بار یہ خبر سن کر دونوں کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ خوش ہوا جائے یا پریشان ؟

دو دن گزر گئے ہیں لیکن آپ کوئی ٹھیک سے جواب ہی نہیں دے رہے۔ ۔ ۔ ۔ اب کیا اسی طرح منہ لٹکائے خاموش پھرتے رہنا ہے آپ نے ؟ صالحہ نے اپنے چھوٹے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے وقار سے سوال کیا۔ آپ ہی نہیں میں خود بھی یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہتی ہوں کہ جب باقی سب کو اس آنے والے تیسرے بچے کا پتہ چلے گا تو پھر سب نے طعنے دے کر باتیں سنانی ہیں۔ وقار جو سنجیدگی کے ساتھ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا صالحہ کی بات سن کر چونک گیا اور پھر مزید کچھ سوچ کر بولا

مہنگائی بھی تو روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، تم خود بھی تو دیکھو کہ اخراجات کیسے آمدن سے بڑھنے لگے ہیں۔ یہ بھی تو ایک پریشان کن بات ہے نا۔

پھر اب کرنا کیا ہے یہ بھی تو بتائیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا تو تب دوسرے بچے کا بھی خود سے کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن اب یہ تیسرا بچہ۔ اللہ میاں خود ہی دیتے جا رہے ہیں تو کیا کیا جائے ؟ صالحہ نے پوچھا

پتہ نہیں اللہ میاں دے رہے ہیں یا ہم سے کوئی غلطی ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے!! میرے خیال میں ہمیں کل اس فیملی پلاننگ والی ڈاکٹر کے ہسپتال جانا چاہیے۔ وقار نے جواب دیا۔

آپ کے خیال میں یہ ٹھیک ہے ؟ صالحہ کے چہرے پر اضطراب پھیلنے لگا

تمہں کیا لگتا ہے ؟ وقار نے پوچھا

میرے خیال میں ؟؟؟ شائد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں۔ اور ہم اب کر بھی کیا سکتے ہیں۔ صالحہ نے کافی دیر تک سوچنے کے بعد وقار کو جواب دیا۔

اگلے روز وقار صالح کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھائے لیڈی ڈاکٹر کے پاس اس کے پرائیویٹ ہسپتال لے جا رہا تھا۔ اور پیچھے بیٹھی صالحہ ان راستوں کو غور سے دیکھ رہی تھی جن سے گزر کر وہ اولاد مانگنے دربدر کبھی ڈاکٹروں تو کبھی عاملوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ راستے بھی وہی تھے اور مسافر بھی وہی مگر منزل اپنا مقام بدل چکی تھی۔ یہ راستے ہجوم کے باوجود تب بھی ویران لگتے تھے کیونکہ محرومی کا احساس انہیں اندر سے کھائے ہوئے تھا اور اندر کی ویرانی باہر کے نظاروں کو بھی ویران کر دیتی ہے۔ مگر ہجوم سے بھرے یہ راستے آج بھی ویران تھے کیونکہ مستقبل کے خوف کی شکل میں موجود اندر کے بے ہنگم شور نے ان کی بصارتوں اور سماعتوں کو نگل لیا تھا۔

لیڈی ڈاکٹر سے میٹنگ کے بعد صالحہ کو نرس کمرے میں لے گئی اور وقار کو باہر بیٹھنے کا کہہ دیا تھا۔ کچھ دیر بعد ڈیوٹی پر پہنچنے والی دوسری نرس نے کاونٹر پر رجسٹرز کے پاس سکارف پہنے کھڑی پہلی نرس سے اندر گئی پیشنٹ کے بارے میں جب پوچھا تو کاونٹر پر سکارف اوڑھے کھڑی نرس نے یہ دیکھے بغیر کہ پیشنٹ کا میاں وقار کچھ ہی فاصلے پر کھڑا ڈیسپنسر سے اپنے لیے ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر رہا ہے کہنا شروع کیا

وہی روز روز کا پرانا کیس اور کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اولاد کو ترستے جانے کہاں کہاں سے علاج کرواتے اور دعائیں مانگتے پھرتے ہیں اور دوسری طرف ان جیسے لوگ ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کبھی اپنے چہروں پر اُجالوں میں کیے گناہوں کی سیاہی ملے رات کے اندھیروں میں منہ چھپا کر پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ نکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھ کر بھی قدرت کی عنایت کا خون بہانے آ جاتے ہیں۔

لیکن وہ اپنے عمل کی صفائی یہ کہہ کر دیتے تو ہیں کہ ہمیں تو پتہ نہیں چلا بس غلطی سے ہو گیا ورنہ ہمارا تو ابھی کوئی پلان نہیں تھا اور نہ ہی ہم ابھی افورڈ کر سکتے ہیں۔ ڈیوٹی پر آئی نئی نرس نے کاونٹر پر سکارف اوڑھے کھڑی پہلی نرس کو جواب دیا۔

ہاں چونکہ وہ یہ نہیں سمجھتے نا کہ بغیر ارادے کے ملنے والی شہ ہی تو قدرت کا تحفہ ہوتی ہے۔ یہ اسے اپنی غلطی کہتے ہیں، ٹھیک ہے ہو گئی ان سے غلطی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ان کے ہاتھ میں تو صرف سبب اور عمل ہے نا ؟ جبکہ نتیجہ تو قدرت دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمام اسباب کے ہوتے ہوئے وہ چاہے تو کچھ نہ دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور چاہے تو بغیر سبب کے دے دے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نتیجے کو کیا کہیں گے ؟ قدرت کی غلطی ؟؟؟ نعوذ باللہ !!!

وقار کے ہاتھ سے یک دم پانی کا بھرا گلاس چھوٹ کر کرچی کرچی بکھر گیا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20