میاؤں نامہ :) —— سمیرا امام

0

شیکسپیئر نے فرمایا:
“دنیا ایک اسٹیج ہے”
اور فرمان اگر شیکسپیئر کا ہو تو غلط ہو ہی نہیں سکتا۔

تو صاحبو ہم نے بھی مان لیا کہ دنیا یقیناً ایک اسٹیج ہے اور دنیا کے اس اسٹیج پر رنگا رنگ کردار اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
لیکن دنیا کی اس اسٹیج پر ایک خاتون کے لئے اہم کردار اور خاص طور پہ مشرقی خاتون کے لئے اہم ترین کردار اُس کے شوہرِ نامدار کا ہوتا ہے۔
اب یہ کردار کن کن حوالہ جات کی بنیاد پر اہمیت کا حامل ہے اس کا دارومدار خاتونِ خانہ کی اپنی اپنی سمجھ دانی کے مطابق ہوتا ہے۔
اپنی اپنی سمجھ دانی کے مطابق اس لئے کہ دنیا میں مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک اور زمین سے لے کر آسمان تک تمام شوہر نامی حضرات ایک ہی جیسی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ بلا تفریقِ رنگ و نسل (نسب اور خاندان کی ہم بات نہیں کرتے کہ فرقہ واریت اور تعصب کو ہوا دینا ہمیں پسند نہیں۔)
ہماری زندگی کے دائرہ کار میں بھی شوہر نامی مخلوق بہ صفات کاملہ موجود ہے اور نہ صرف موجود بلکہ دائرے کا احاطہ کئیے ہوئے ہے۔

ہمارے میاں بڑی نامی گرامی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اب کہاں جانے جاتے ہیں یہ تو ہمیں بھی معلوم۔ نہیں لیکن بہر حال۔ جانے جاتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں ایک خاتون سے ہماری ملاقات ہوئی موصوفہ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی بات کا آغاز خواہ کسی بھی موضوع سے ہوتا اختتام یقیناً اور قطعاً موصوفہ کے میاں کے حسن کے قصیدے پر ہی منتج پاتا۔
اُس دن زندگی میں پہلی بار ہمیں خیال آیا کہ وہ شخصیت جو ہمارے میاں کے عہدے پر بڑی شان اور تمکنت سے براجمان ہیں وہ دیکھنے میں کیسے ہیں۔
بہت سوچ بچار کے بعد موصوف کی ظاہری شخصیت کے کچھ نمایاں پہلو ہم پر آشکار ہوئے۔ کالے ‘گنجے’ موٹے
یادداشت کی اتنی بہترین کارکردگی پر جتنا افسوس ہمیں اس دن ہوا شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ کیا تھا اگر تخیل کے پردے پر ان کی گھور سیاہ آنکھیں اور دلفریب تبسم کا خیال حاوی ہوجاتا۔ لیکن مجال ہے کبھی اچھے وقتوں میں بھی ہمارے دماغ کا رے ڈار ان کی کسی اچھائی کو کیچ کر لے۔ (اور کوئی ہو تب نا)
اس لئیے پیشتر اس کے کہ اُن محترمہ کے سامنے ہم میاں کی ان خصوصیات کو بیان کر کے نکو بنتے کھسک لئے۔

ہمیں لکھنے لکھانے کا شوق بچپن سے ہی تھا گو بچپن میں ادب کے میدان میں ہم کوئی کار ہائے نمایاں سر انجام نہ دے سکے لیکن ہماری ڈائریاں گواہ ہیں کہ جب جب اور جس جس دن ہمارے والدین نے ہماری عزت افزائی کی اور ہمارے نازک جذبات کو ٹھیس پہنچا کر ہمیں جذباتی اور نفسیاتی طور پر دق کیا ہر اس دن ہم نے ان کی ظالمانہ صفات پر متعدد مقالہ جات لکھے ہیں۔ خاندان کی عزت کے پیش نظر ان مقالہ جات کی اشاعت خاندان کے گزر جانے تک ملتوی ہے۔ جیسے ہی ان کی عمریں اپنی طبعی مدت پوری کر لیں گی اس دن کے بعد لوگ عباسیوں کے ظلم کی داستان بھول جائیں گے۔
خیر بچپن کی تحریری کاوشوں کا حال تو آپ جان ہی گئے ہیں ہم نے سوچا بڑھاپے میں ہی کوئی شاہکار تخلیق کر لیا جائے۔

قلم کاغذ سنبھال کر ہم نے جو لکھنا شروع کیا تو گلی محلے تک کے تمام کرداروں پہ افسانے لکھ ڈالے۔
اپنی تحریر کی خوبصورتی اور کردار نگاری کے حسن بیان سے ہم بخوبی واقف تھے۔ خود شناسائی بھی آخر ایک ہنر کہلاتا ہے۔
ہمارے میاں صاحب دنیائے ادب کے افق پر چمکنے والے بہترین شاعر ‘نثر نگار’ تجزیہ نگار اور نقاد ہیں۔
زندگی بھر کی ان تھک۔ محنت اور کاوشوں کے باوجودبھی ہم آج تک موصوف کو اپنی کسی بھی خوبی سے متأثر کرنے میں ناکام ہیں اب جب کہ ہمارے اندر عقابی روح معاف کیجیئے گا ادبی روح بیدار ہو چکی تھی تو سوچا کیوں نہ انھیں اپنی تحریری صلاحیتوں سے متأثر کر کے چاروں شانے چت کیا جائے۔ لیکن بلی کے گلے میں آخر گھنٹی باندھے کون؟
اور یہاں مسئلہ بلی کا نہیں “Bull” کا تھا۔ اگر سینگ وینگ مار دئیے تو اس عمر میں ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ جینے کی تاب ہم میں نہ تھی۔

لیکن بہرحال سورج کی روشنی کو انگلی سے چھپایا نہیں جا سکتا اور چھپانا کس کافر کو تھا ہم تو خود نمائی چاہتے تھے۔
اب یہ تو بہت معیوب حرکت لگتی کہ اپنی گندی لکھائی میں لکھی جانے والی تحریر کو ان کے آگے رکھ دیتے اور فرماتے حضور ذرا بتائیے تو کیسا لکھا بلکہ کیسا لگا؟
بڑی سوچ بچار کے بعد بالآخر ڈرتے جھجھکتے شرماتے لجاتے ارشاد فرمایا۔
اجی سنتے ہیں
جواب تو نہ آیا گھوری البتہ ضرور آگئی۔ (ہم۔ کونسا ڈرتے تھے کمر کس کے اگلا جملہ بھی داغ دیا)
وہ اردو محفل پہ نوجوان نسل نے ادب کے فروغ میں بڑا سکہ جما رکھا ہے ہم نے بھی ایک آدھ تحریر لگا ڈالی۔
” اچھی بات ”
آپ ذرا پڑھ کر تبصرہ لکھ ڈالئیے گا۔
“ہوں”
یہ بے نیازی دیکھ کر ایسا خون کھول اٹھا کہ پوچھئیے مت جی تو چاہتا پاس پڑی جوتی اٹھا کر ایسا نشانہ باندھوں کہ وار خطا جانے کا کوئی احتمال نہ ہو لیکن وہ تمام آیات و احادیث یاد آگئیں جو میاں صاحب شوہر کی عزت و ادب کے زمرے میں ہمہ وقت سماعت کی نذر فرمایا کرتے۔ خدا کے بعد سجدہ جائز ہوتا تو شوہر کو ہوتا وغیرہ وغیرہ۔
اور کچھ مجبوری یہ بھی تھی کہ اماں باوا نے ادب آداب تمیز سکھا رکھی تھی بد قسمتی سے۔
ارے بیگم نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا نہ شہنائی بجی نہ پٹاخے پھوٹے (یہ کام تو ہماری شادی پہ نہ ہوا تھا اب کیا خاک ہوتا) کم سے کم نظر اٹھا کر “بہت خوب” ہی ارشاد فرما دیتے ان کا کیا بگڑتا ہمارا جی خوش ہو جاتا۔
لیکن دوستو وہ شوہر ہی کیا جو بیوی کا جی خوش کرنے کی خاطر کوئی کام سر انجام دے دے۔
یہی “بہت خوب” نہ فرمانے والے شوہر چند ہی دن بعد کسی موصوفہ کی سٹھیائی ہوئی تحریر کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے پائے گئے۔
نہ زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹا اور نہ ہی ہم پہ کوئی اثر یوا کہ محترمہ کی تحریر ہماری تحریر کے مقابلے میں قدرے بہتر تھی۔ لیکن اس حقیقت کو دل سے ماننے میں ہم آج تک متأمل ہیں۔

دنیا کی ہر عورت میاں نامی ہستی کو اپنی مٹھی میں کرنے اور ان کے حواسوں پر ہمہ وقت چھائے رہنے کا بد ترین شوق ہوتا ہے اب مٹھی میں تو ہم۔ کر نہ سکتے تھے کہ ہماری ننھی منی مٹھی میں اس قسم کی دیو ہیکل بلا کا سمانا ناممکن تھا ہاں البتہ حواسوں پر چھانے میں ہم نے کوئی حرج نہ سمجھا۔
اپنے تمام تر نقوش پر غور کرکے مایوس ہونے کے بعد بالآخر میاں سے بالوں کے متعلق رائے لینے کو بہتر گردانا۔
ہماری بچپن کی سہیلی کا کہنا ہے کہ ہم پہ بالوں کا فلاں ہئیر کٹ بہت جچتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے محترمہ درست فرماتی ہیں کیا؟
مشہور زمانہ بد ترین ہنکارا بھرنے کے بعد ارشاد ہوا جو جی میں آئے کرو کسی زمانے میں جن زلفوں کے ہم اسیر تھے ان پر عرصہ ہوا قینچی پھر چکی ہے۔
ہائیں ! آپ نے کبھی بتایا نہیں آپ ہماری زلفوں کے اسیر بھی تھے؟
جواب ندارد۔
لیکن اس جملے کے زیرِ اثر تمام قسم کے جدید ہیئر کٹ پہ دو حرف بھیج کے ہم بازار سے تیل کی یہ بڑی بوتل خرید کے لے آئے اور بہترین قسم کی گرمی میں دن رات سر پہ تیل کی مالش کرتے ہوئے پائے گئے (اس تمام سرگرمی کے دوران ہمارے بہن بھائیوں کی مشکوک نظروں کا سامنا ہم۔ نے جس دل سے کیا وہ ہم ہی جانتے ہیں)
ایک ہفتے بعد انچی ٹیپ سے بالوں کی لمبائی ماپتے ہوئے میاں موصوف کا جملہ دوبارہ یاد آیا۔ ” ہم جن زلفوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” یعنی ہمارا نام تو لیا ہی نہیں گیا تھا تو ہم آخر جان کس خوشی میں جوکھم میں ڈالے بیٹھے ہیں جی چاہتا تیل کی بوتل دیوار پہ مار کر آسان زندگی کی جانب پہلا قدم بڑھا ڈالیں۔ لیکن ” عوریت ” کی کتاب میں شکست کا لفظ نہیں۔ ہم نے بھی ٹھان لی اگر اپنی زلفوں کو ” جن کی زلفوں ” سے حسین نہ بنا ڈالا تو ہمارا نام۔ بھی بیگم نہیں (یہ الگ بات زلفیں بھی لگتا ہے ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہیں)
ان تمام زمینی حقائق سے آگاہی رکھنے کے باوجود جب ہم نے

اسکی آنکھیں بتاؤں کیسی ہیں؟
جھیل سیف الملوک جیسی ہیں
اور
نازکی اس کے لب کی کیا کہئیے
قسم کے اشعار پڑھے تو ہماری محدود عقل نے فقط یہ جاناکہ یہ شاعر بھی تو بیگمات کی تعریف میں رطب اللسان ہیں (وہ تو بعد میں ذاتی تجربے کی بناء پر پتہ چلا کہ شاعر کے شعر کا بیگم۔ کے حسن و جمال سے کوئی لینا دینا نہیں) تو کیا ہی حرج ہے اگر تاریخ میں ہمارے حسن کا قصیدہ بزبان ہمارے شاعر میاں قائم و دائم رہ جائے۔
اب زندگی بھر کی وفاؤں کا اتنا تو صلہ ہو کہ پورا دیوان نہ سہی ایک آدھ غزل میں ہی ہمارا تذکرہ ہو جائے۔
اسی ازلی ڈھٹائی سے موصوف کو مخاطب کیا۔
آپ کی فلاں غزل میں آپ نے مجھے طعنے کیوں دئیے ہیں؟
سٹھیا گئی ہو کیا؟
دیکھئیے میں شاعرہ نہ سہی لیکن ادبی ذوق سے مجھے بڑی گہری واقفیت ہے۔ جس جس دن آپ کی مجھ سے تو تکار اور ناراضگی ہوئی اس اس دن آپ نے غزل کہی۔
اور آپ کی ہر غزل میں جو ظالم محبوب نظر آتا ہے میں ہی ہوں۔
چلئیے شکر خدا کا اتنا تو مان لیا آپ نے
لہجہ متبسم تھا ہمیں بھی مدعا بیان کرنے کو شہہ مل گئی۔
دیکھیں آپ کے تمام مظالم کو میں نے دل و جان سے معاف کیا لیکن کیا آپ کا دل نہیں چاہتا بیوی کے حسن کی مدح سرائی میں ایک آدھ غزل لکھنے کو اور پھر غزل تو نام ہی حسن و جمال کے بیان کا ہے نہ کہ گلے شکوؤں کی داستان کا
بیگم! حسن و جمال ہوتا تو مجھے کوئی مضائقہ نہ تھا۔ کہنا یہی مراد تھا لیکن شخصیت ادبی ہیں یوں گویا ہوئے
وہ بیگم صاحبہ بات دراصل یوں کہ شعر ایک آمد کے تحت کہے جاتے ہیں اور مجھ پہ کبھی ویسی آمد نہ ہوئی اور میں نے کبھی ایسا ایسا کچھ محسوس بھی نہیں کیا۔ ۔ ۔

زندگی بس اسی وجہ سے ساتھ گزر رہی ہے کہ ہمیں سامنے کی بات سمجھ نہیں آتی کجا اتنی گھما پھرا کے کہی گئی باتیں۔
محترم کی ہر بات کے دو پہلو نکلتے ہیں۔ مثبت اور منفی
اگر میں منفی مراد لوں تو میری منفی ذہنیت کا شاخسانہ گردانتے ہیں اور اگر مثبت مراد لوں تو اپنا آپ بے وقوفانہ لگتا ہے۔
انھوں نے تو مجھ پر کبھی کوئی غزل نہیں لکھنی (یا اللہ یہ پڑھ کر ہی غیرت آجائے۔)
لیکن ان کی شان میں ہم۔ نے ایسی غزل ضرور لکھی کہ اگر فیس بک پر شائع ہوتی تو کم سے کم ایک لاکھ فالورز سے کیا ہی کم یوتے۔
اور ہم۔ بھی غزل کے اختتام میں ضرور ارشاد فرماتے زیادی سے زیادہ likes دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔ غزل پیش خدمت ہے۔
میرے ابا کے داماد
تیری بری بہت عادات
تیری اتنی موٹی توند
ہو دیو دار کی جیسے گوند
گنجا سر تیرا فٹ بال
تیرے گئے کہاں ہیں بال
تیری سیدھی نہ کوئی کَل
پھر بھی سنوں تیری بک بک
میرے ابا کے داماد
تیری بری بہت عادات
(اگر یہ غزل مطلع مقطع بحر قافیے ردیف اور اوزان سے خالی ہے تو آپ کا کیا جاتا ہے؟ کچھ غزلیں ایسی بھی ہوتی ہیں بس آپ کو پتہ نییں۔ اب ضروری تو نہیں ایک انسان تمام علوم پہ عبور رکھتا ہو)

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: