رینکنگ کے مغالطے اور مقبولیت کی دوڑ: ثمینہ رشید

0

پاکستان میں یوں تو کچھ اردو ویب پیجز اور سائٹس کافی عرصے سے موجود ہیں اور کسی نہ کسی طور اپنا کردار ادا کررہی ہیں لیکن جدید طرز کی اردو ویب سائٹس کا رجحان زیادہ پرانا نہیں۔ یہ ویب  سائٹس پرنٹ میڈیا کی طرح معاشرے کی نمائندگی کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں۔ پچھلے ایک دو سال کے اندر ہی ہم نے کئی اردو ویب سائٹس کو بنتے اور مقبول ہوتے دیکھا۔ عمومی طور پر کچھ ویب سائٹس لبرل، رائٹ ونگ اور کچھ متوازن ہونے کا دعوی بھی کرتی ہیں لیکن اس سے قطع نظر تقریبا تمام ویب سائٹس عمومی موضوعات پہ بلا تفریق لکھنے والوں کو پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہیں۔

بہت سے نئے لکھاریوں کو عوامی مقبولیت انہی ویب سائٹس کی بدولت حاصل ہوئی اور اب سوشل میڈیا پہ اردو تحریریں پڑھنے والے قارئین کافی ایسے لکھاریوں سے آشنا ہیں جن کے ناموں سے اس قبل وہ نا واقف تھے۔ اس کم عرصے کی شہرت و مقبولیت نے جہاں بہت سے اچھے لکھاریوں کو آگے آنے کا موقع دیا وہیں کچھ ایسے لوگوں کو بھی کو آگے بڑھایا جن کو بصورتِ دیگر ایک لکھاری کے طور پہ شناخت ملنا مشکل تھی۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس شناخت اور مقبولیت کی بنیاد جن دو چیزوں پر ہے وہ حقیقت میں ایک مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔

سوشل میڈیا یا اردو ویب سائٹس میں کسی کی شہرت اور مقبولیت کو دو  پیمانوں پہ پرکھا جاتا ہے۔ نمبر ایک ویب سائٹس کی رینکنگ یا مقبولیت پر اور نمبر دو کسی تحریر پر آنے والے ویوزیا مناظر۔
اسی بنیاد پہ آج کل ویب سائٹس پہ رینکنگ اور ویوز کی ایک دوڑ سی لگی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس قضیے سےیہاں دو سوال جنم لیتے ہیں۔

۔  کیا یہ ویوز واقعی سچ ہوتے ہیں؟
۔   اور اگر سچ نہیں تو انکا نقصان کیا ہے؟

تو پہلے سوال کا جواب ہے “نہیں”۔ ویب سائٹس پہ کسی بھی تحریر پہ جو ویوز نظر آتے ہیں وہ ہرگز حقیقی ویوز نہیں ہوتے۔

اور کیونکہ یہ سچ نہیں تو نقصان یہ ہے کہ اگر حقیقی ویوز سامنے آجائیں تو مقبولیت اور رینکنگ کا سارا کھیل ختم ہوجائے گا۔

ویب سائیٹس پر ہر آرٹیکل کے ساتھ جو ویوز کی تعداد دکھائی جاتی ہے، اس کو تکنیکی طور پہ با آسانی حسب منشا بڑھایا جا سکتا ہے، جس کا فائدہ بعض ویب سائیٹس اٹھاتی ہیں، اور بظاہر اپنی مقبولیت کو حقیقی سے بہت زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔

ایک سادہ ٹیسٹ یہ ہے کہ اگر آپ کسی آرٹیکل کو اسی وقت ریفریش یا ری لوڈ کریں، تو ان ویوز کی تعداد ہر بار بڑھ جاتی ہے، حالانکہ اسکو پڑھنے والا ایک ہی بندہ ہوتا ہے۔ اب اگر ویب سائٹس والوں نے پانچ کا فیکٹر لگا رکھا ہے تو ایک پڑھنے والا جب اس تحریر کو پڑھنے کے لیے پیج لنک پہ جائے گا تو ویب سائٹ ایک ویو پہ ایک کی جگہ پانچ ویوز کو ٹوٹل ویوز میں جمع کرکے پڑھنے والوں کی تعداد کو ظاہر کرے گی۔ یعنی ہر بار لوڈ کرنے پر ویوز کی تعداد کو کسی مستقل سیٹ کئے گئے حاصل ضرب کے ساتھ کل ویوز میں شامل کرتی رہے گی۔

اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر ایک ریڈر دس بار پیج لوڈ کرے گا یا ریفریش کرے گا تو دس ویوز بڑھ جائیں گی، حالانکہ اسکا حقیقی پڑھنے والا ایک ہی ہوگا۔اسکے علاوہ کوئی نئی پوسٹ شائع کرتے وقت اسکے ویوز کی گنتی کو ایک کے بجائے کسی بھی عدد جیسے سو یا پانچ سو سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ کو ایک آرٹیکل کے ہزار ویوز نظر آتے ہیں تو ہوسکتا ہے اسکے کل ریڈرز ایک سو سے زیادہ نہ ہوں۔ شاید ان اعدادو شمار کو پڑھ کر نئے لکھنے والوں کو ایک دھچکا لگے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ ہی سچائی ہے ۔

بعض ویب سائیٹس تو اس ویوز کے لالچ میں ساری اخلاقیات کو ایک سائڈ پر رکھ دیتی ہیں۔
کچھ ویب سائیٹس ایسی بھی ہیں جنہوں نے ایسے کام میں پڑنے کی بجائے ویوز کو دکھانا ہی موقوف کر دیا ہے، جو کہ میرے خیال میں ایک اچھا قدم نہیں ہے۔ کیونکہ سچائی کو ظاہر نہ کرنا بھی دروغ گوئی سے کم نہیں۔

اب آپ اسی معاملے کو ایک دوسرے زاوئیے سے دیکھیے اس طرح کرنے سے یہ ویب سائٹس ایک قسم کی اخلاقی گرواٹ کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جھوٹ اور مبالغے کے چلن کو فروغ دے رہی ہیں۔

ویوز کے اس گورکھ دھندے کے نتیجے میں ہونے والا ایک اور نقصان یہ ہے کہ نئے لکھاری خود کو عظیم دانشور سمجھنے کے “عظیم” مغالطے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ مغالطہ خود ان نئے لکھاریوں کیلئے نقصان دہ اور آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اسی غلط فہمی کی بنیاد پہ ان کے لئے اپنی اصلاح اور بہتری کا موقع بھی ختم ہوجاتا ہے۔ نتیجتاً ایک بڑی تعداد میں معاشرے میں بڑبولوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس سارے سلسلے میں ایک اور پہلو جو نظر آتا ہے کہ اب خیال یا اسلوب کے معیار کے بجائے سارازوور ویوز پر ہے۔ لائکس کی طرح ویوز کی بھی دوڑ لگ گئی ہے۔ تحریر کی کوالٹی کا فیصلہ اسکے ویوز کی تعداد سے لگایا جانے لگا ہے۔ لوگ پڑھنے کا فیصلہ بھی ویوز کی تعداد دیکھ کر کرتے ہیں۔

مجھے امید ہے اس تحریر کو پڑھ کر بہت سارے قارئین کو بھی غور کرنے کا موقع ملے گا کہ زمانے کے جس چلن کو وہ اپنا رہے ہیں وہ سرے سے حقیقی نہیں۔ اور اس طرح قارئین بھی نہ صرف بہت سے ایسے لکھنے والوں کو پڑھنے کی کوشش کریں گے جن کے ویوز بے شک کم ہوں لیکن جن کا خیال اور اسلوب عمدہ ہو۔ کیونکہ اس ویوز کے مغالطے میں بہت سی ایسی تحریریں نظر انداز ہوجاتی ہیں جو حقیقتا پڑھے جانے اور داد دئیے جانے کے قابل ہوتی ہیں۔

جہاں تک لکھنے والوں کا تعلق ہے ان کے لئے بھی میری یہ تحریر حقائق کشا ثابت ہوگی۔ کیونکہ لکھنے والے کا کام ہے اپنے اسلوب میں نکھار لانا اور خیال اور سوچ کے کینوس کو وسعت دینا۔ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور اس پورے عمل کو مہمیز کرنے کے لئے لکھاری کو کسی بھی ویوز اور تعریف سے بے نیاز ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین راستہ اچھا مطالعہ، تحقیق، غورو فکر، خود احتسابی اور کسی بھی معاملےکا غیر جانبداری اور مختلف زاویوں سے جائزہ شامل ہے۔ ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کی آراء کا احترام اور کسی بھی ایشو پہ تنقید برائے تنقید کی جگہ مدلل اور منطقی جواب دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ ویوز اور مقبولیت کے مغالطے کا جلد یا بدیر اختتام ہونا ہی ہے۔ اس لئے اگر لکھنے والا اپنے آپ کو اس مغالطے سے نکال کر اپنے مقصد پہ نظر رکھے تو اس کی پرواز میں رینکنگ اور ویوز کی زنجیر حائل نہیں ہوسکتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم  ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ  کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ادبی و معاشرتی موضوعات پر قلم و دل سے مقدمہ لکھتی ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: