تفریق مابین مرد و زَن ——— اعزاز احمد کیانی

0

نہیں مطلب کسی پہ طنز کرنا
ہنسی میں مسکرایا جا رہا ہے

زیر نظر تحریر کے تناظر میں مندرجہ بالا شعر سے مراد یہ ہے یہ تحریر کسی فردِ واحد پر تنقید نہیں ہے بلکہ میرے پیش نظر ایک بنیادی اصول اور ایک غلطی کی وضاحت ہے. ذاتیات شائد وہ واحد موضوع ہے جو میرا موضوع نہیں ہے۔

میرے نزدیک کسی بھی مسئلہ و معاملہ پر گفتگو سے قبل بنیادی اصول سمجھ لینا ازحد ضروری ہے. کسی بھی مسئلہ و معاملہ کے متعلق فیصلہ کرنے , کوئی رائے قائم کرنے یا کوئی حکم لگانے کی تین ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں. اول مذہب, دوم اخلاقیات اور سوم قوانین. مذاہب ,اخلاقیات اور قوانین میں جنس کی کوئی تفاوت نہیں ہوتی ہے. مرد اور عورت کے لیے نہ الگ الگ مذاہب ہیں نہ الگ الگ قوانین اور نہ ہی الگ الگ اخلاقی اصول ہوتے ہیں.

خدا اور خدا کا مذہب عورت اور مرد کے مابین جنس کی بنیاد پر کوئی تفاوت روا نہیں رکھتا. خدا کے جتنے بھی احکام ہیں ان کی اطاعت اور انکا اطلاق مرو و عورت پر یکساں طور پر ہوتاہے. حسنات و صحیحات کے تمام معیارات اور گناہ و بدی کے تمام اعلانات مرد و عورت کے لیے ایک ہی ہیں. خدا کے ہاں ایک ہی میزان ہے جس پر مرد و عورت دونوں تولے جائیں اور اسی ایک میزانِ و عدل و انصاف پر ایک ہی اصول کے تحت مرد و عورت دونوں کے لیے ایک ہی جنت و جہنم کی بشارت و وعید ہے.

ترجمہ:
اور جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ صاحب ایمان تو یہ وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی تل کے برابر بھی کوئی حق تلفی نہیں کی جائے گی. نساء 124

ترجمہ:
اور چور خواہ مرد ہو یا عورت ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ بدلہ ہے ان کے کرتوت کا اور عبرت ناک سزا ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے. المائدہ 138

مذہب کی طرح اخلاقی اصولوں کی ہابندی بھی مرد و عورت پر یکساں عائد ہوتی ہے. اخلاقی اصول مردانہ و زنانہ نہیں بلکہ انسانی ہوتے ہیں. کوئی بھی جرم, گناہ, ظلم اور برائی اپنے آپ میں مکمل ہوتی ہے اور قابل نفرت و قابل مذمت ہوتی ہے اسے اپنی تکمیل و ثبوت کے لیے نہ کسی خارجی و مصنوعی سہارے کی احتیاج ہوتی ہے اور نہ جنس کی تخصیص کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ وہ فی نفسہہ مذموم بالذات ہوتی ہے.

مذہب و اخلاقیات کی طرح قوانین بھی انسانی ہوتے ہیں. قانون مرد و عورت کی تفریق سے یکساں لاعلم ہوتا ہے اور یہی قانونی مساوات کا تصور ہے. جب کہا جاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ قانون کسی ظاہری آنکھ سے محروم ہے اور اس میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے بلکہ اس کا ایک ہی مفہوم ہے قانون انسانی تقسیم و طبقات سے بالاتر اطلاق چاہتا ہے اور یہی دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے.

مذاہب اخلاقی اصول اور قوانین ہمیشہ جنس سے بالاتر ہوتے ہیں اور انہیں جنس سے بالاتر ہی ہونا چاہئیے. کسی عورت کو مجرد اس بنیاد پر چھوٹ نہیں دی جا سکتی کہ وہ عورت ہے اور نہ کسی مرد کو اس بنیاد پر اضافی سزا دی جا سکتی ہے کہ وہ مرد ہے. نہ عورت کی نزاکت کی بنیاد پر اپنا زبان و قلم روکا جا سکتا ہے اور مرد کے قَوام ہونے کی بنیاد پر اپنی زبان اور اپنا قلم روکا جا سکتا ہے بلکہ بے لاگ و بے باک تبصرہ بجاٰے خود اخلاقیات کا تقاضا ہے

وہ لوگ غلطی اور سنگین غلطی پر ہیں جو معاملات کو مرد و عورت میں تقسیم کر کے یا مرد و عورت کے ساتھ مخصوص کر کے دیکھتے ہیں. اقبال نے اگرچہ کسی اور پس منظر میں کہا تھا کہ:

تمیز بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے

میرے نزدیک جس طرح بندہ و آقا کی تمیز مہلک اور فسادِ آدمیت ہے بعینہ تمیز و مرد و عورت بھی مہلک ہے. میں یہ سمجھنے سے قاصر اور یکسر قاصر ہوں کہ آخر اس طرح کے معاملات کو کیسے مرد و عورت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور کیسے مرد و عورت کے لیے جدا جدا معیارات متعین کیے جا سکتے ہیں.
میرے نزدیک ہمیں اس روایتی تقسیم اور مرد و عورت کے خوف سے بالاتر ہو کر فیصلہ و تبصرہ کرنا چاہئیے اور اسی میں انسانیت کی بقا ہے.

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20