زیرِ آسماں: کتابِ زندگی (شاہد صدیقی کی نئی کتاب) —- قاسم یعقوب

0

شاہد صدیقی کی نئی کتاب “زیرِ آسمان” ان کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے ، جو انھوں نے گزشتہ ایک دو برسوں میں ملک کے مختلف بلاگز، جرائد اور اخبارات کے لیے لکھیں۔ ان تحریروں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان میں شاعری کا رس بھی ہے، افسانے کی سی تصویر کشی بھی ، تلخ تاریخی حقائق بھی اور اپنے سماج کو بہتر کرنے کے خواب بھی۔ میں کچھ دنوں سے ان تحریروں کے حصار میں ہوں۔ ہر تحریر اپنے گرد حصار قائم کرنے کی بجائے قاری کے گرد وہ تخلیقی حصار بناتی ہے جسے ہم اسلوب یا زبان کا جادو کہہ سکتے ہیں۔ شاہد صدیقی تحریر کے مواد کے ساتھ ساتھ زبان پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ان کا اسلوب تخلیقی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تاریخی اور سماجی و سیاسی مسائل کو بھی تخلیقی اسلوب میں ڈھال کے ادبی فن پارہ بنا دیا ہے۔

اس کتاب کے سات حصے ہیں۔ موضوعاتی سطح پر تمام حصے بتدریج آگے بڑھتے ہیں۔ سب سے پہلے اپنی ماضی کو یاد کیا گیا ہے جب کہ آخری حصے میں خطے کے سیاسی و بین الاقوامی مسائل پر موقف پیش کیا گیا ہے۔

1۔  میرے آس پاس: صدیقی صاحب اس حصے کی تحریروں میں اپنے والد، والدہ، بچپن اور سکول کے ابتدائی یام کو یاد کرتے ہیں۔ان تحریروں میں ادبی رنگ غالب ہے۔

2۔  آگہی کا سفر:یہ حصہ ان کی جدوجہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔ گورڈن کالج، خواجہ مسعود ، سجاد شیخ وغیرہ کے ساتھ ان کی زندگی کے بہترین دنوں کو سامنے لاتا ہے۔

3۔  ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ: اس حصے میں مزاحمت کے استعاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔سلطان سارنگ، دلا بھٹی، مظفر خان، رائے احمد کھرل، بھگت سنگھ، کپٹن سرور اور ذولفقار علی بھٹو کی مزاحمتی تحریکوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ وہ ادارے بھی صدیقی صاحب نے قلم بند کیے ہیں جو اس خطے میں انگریز راج مخالف رویوں کی وجہ سے پروان چڑھے تھے۔صوبہ خیبر کے اطراف میں حاجی ترنگ زئی کا کردار بہت اہم تھا۔

4۔  جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے: اس حصے میں ان تحریروں کو جمع کیا گیا ہے جو صدیقی صاحب کے بقول ان کے عشق کا سامان ہیں۔شکیل عادل زادہ۔ مسٹر بکس والے یوسف بھائی، مظہر کلیم، منو بھائی ، کنور مہمندر سنگھ بیدی اورامینہ سید صاحبہ۔ یہ وہ صاحبانِ فن ہیں جوزندگی میں تحریک (Motivations) کا باعث بنتے رہے ہیں۔ انھی میں ایک کتاب دیوان سنگھ مفتون کی سوانح عمری “ناقابلِ فراموش” بھی ہے۔

5۔  قدیم بستیوں کا سفر: صدیقی صاحب اپنے اردگرد ان جگہوں کو بھی نہیں بھولتے جو ان کے مزاج، مطالعہ اور ماضی کی تعمیر و تخلیق کا شعوری یا غیر شعوری طور پرحصہ بنتی رہی ہیں۔یہ جگہیں ہماری شخصی مزاج کا لازمی حصہ بن چکی ہوتی ہیں ، ہمارے سماج کا چہرہ ہوتی ہیں مگر ہم ان پر توجہ نہیں دیتے، ان کے لیے کچھ وقت نکالنا یا ان کو یاد کرنا تو دور کی بات ان کے ناموں سے بھی وقف نہیں ہوتے۔ مگریہ جگہیں چوں کہ ہمارا ماضی ہوتی ہیں، اس لیے ہمارے سماجی کے اجتماعی شعور کا حصہ بنی رہتی ہیں۔شاہد صدیقی ان جگہوں تک پہنچے ہیں اور ان کو خوب کھنگال کے ہمارے لیے ماضی کی یادیں بنا کے لائے ہیں۔انھوں نے بتانے کی کوشش کی ہے کسی بھی سماج کو سمجھنے کے لیے اس کے تشکیلی سوتوں کو تلاش کیا جائے۔ ان جگہوں میں توپ مانکیالہ،کٹاس راج، ہڑپہ،موہنجوداڑو وغیرہ شامل ہیں۔

6۔  سخن دلنواز کی ساحری: کتاب کا یہ حصہ بہت خوبصورت اور کسی افسانوی دنیا کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔اپنے ماضی کے سفر پر نکلے ہوئے ان سنگِ میلوں کو یاد کرنا بہت تلخ بھی ہو جاتا ہے اور کبھی بہت حسین بھی۔ صدیقی صاحب نے ہمارے لیے حسین بنا کے پیش کیا ہے۔ ان یادوں کے اندر اس قسم کی انسپریشن بھی ہے۔مانچسٹر یونیورسٹی ، ہاسٹل اور کچنار پارک۔۔۔ ان تحریروں کا رس آپ کے گلے سے اترکے ہی رہتاہے اور ٹھنڈک بینائی میں گھر کر لیتی ہے۔

7۔  گردو پیش : آخری حصے میں ان تحریروں کو جمع کیا گیا ہے جو ملکی اوربین الاقوامی مسائل پر لکھی گئی ہیں۔ ان میں کشمیر اور کراچی سر فہرست ہیں۔ اس حصے میں اس بچے کو بھی یاد کیا گیا ہے جسے معمولی چوری پر کراچی کی سڑکوں پر عوام الناس نے مار مار کے جان سے مار دیا تھا۔ جی یہی وہ بچہ تھا جس کا ابھی ٹائم آنا تھا۔ صدیقی صاحب اس بچے کو بھی ملکی مسئلہ بتا رہے ہیں۔ جی ہاں، ہمارے اصل مسائل واقعی یہی ہیں۔

گو یہ تحریریں مختلف اخبارات اور بلاگز میں شائع ہوتی رہیں مگر ان کا مزاج “کالمی” نہیں۔ ان کے اندر گہرا تفکر اور مطالعہ کا تخلیقی مزاج چھپا ہے۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ صدیقی صاحب نے ٹیکسی نمبر چھے سو چودہ بھی یاد رکھا۔ 614 نہیں مرا، ماضی اور زندگی کا ایک خواب روٹھ گیا، خوبصورت باب بند ہو گیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ، حاجی ترنگ زئی، علی گڑھ اور دیوبند: یہ چار ادارے نہیں، اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی سطح پر مزاحمت کے استعارے تھے۔ہر ایک ادارے نے خطے میں علم کی روشنی سے استعماری اندھیرے کو مٹانے کی کوشش کی۔یہاں کسی مذہبی تعصب و تفریق کے بغیر ان مزاحمت کاروں کا ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے اس دھرتی ماں کی حفاظت اور سالمیت کی جنگ لڑی۔ نیشنل کالج والے لالہ لاجپت رائے اور پھر اس تحریک سے اٹھنے والا لائل پور کا سکھ سپوت “بھگت سنگھ” ہمارا مان اور فکر ہیں۔صدیقی صاحب نے سیاست کے خارزار سے صرف ذوالفقار علی بھٹو کےمزاحمتی کردار کا انتخاب کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے طاقچوں میں اگر کوئی ابھی تک روشن چراغ نظر آ رہا ہے توبھٹو صاحب کا ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ میںبھٹو کی مزاحمت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔

مانچسٹر یونیورسٹی کی حسین یادوں میں “حرفِ تمنا” اس کتاب کی حسین ترین تحریر ہے۔راج کے خط کا اردو ترجمہ اتنا خوبصورت ہے کہ میرا دعویٰ ہے کہ انگریزی میں اس کا اصل متن بھی اس کے آگے پھیکا ہوگا۔ ” کل مانچسٹر میں میرا آخری دن ہے، کل میں یونیورسٹی آوں گی، صرف آپ کے ڈیپارٹمنٹ۔ جہاں میں اپنا یہ خط آپ کے Pigeon Hole میں رکھ دوں گی”۔

میں آپ کو سارا خط نہیں سنائوں گا۔ اس تحریر کی بارش بھری خاموشی نے مجھے سحر زدہ کیے رکھا۔اس تحریر کی طرح ہی نثر کی دل نشینی پوری کتاب میں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہے۔اسی طرح کچنار پارک اسلام آباد کی خوبصورتی میں بیٹھ کےبھی مانچسٹر یونیورسٹی کی یاد اس کتاب کے صفحوں میں سمٹ آئی ہے ۔

اصل میں کچھ تحریروں میں ماضی اور مستقبل ایک ہو جاتے ہیں۔ جہاں وقت کا دھارا بہتا ہوا تو ملتا ہے مگر اس کی سمت کا تعین ختم ہو جاتا ہے۔ ماضی حال اور مستقبل کی کرب ناک تقسیم مٹ جاتی ہے۔ماضی، حال اور حال، مستقبل بن جاتا ہے۔ مستقبل ماضی لگنے لگتا ہے۔جو کبھی ہو چکا ہوتا ہے وہ ساتھ آ کھڑا ہوجاتا ہے۔جو ہو رہا ہوتا ہے وہ بھی ساتھ ساتھ بہنے لگتا ہے۔جیسے سمندر کی تہوں میں کئے جانے والاسفر کچھ خبر نہیں دیتا کہ آپ کہاں اور کس طرف کو جا رہے ہیں۔افتی نسیم کا شعر ہے:
کٹی ہے عمر کسی آبدوز کشتی میں
سفر تمام ہوا اور کچھ نہیں دیکھا

جی بالکل ایک آبدوز کشتی کے سفر کی طرح کچھ پتا نہیں ہوتا کہ آپ کہاں ہیں اور کدھر جا رہے ہیں۔ سفر کا ماضی، حال اور مستقبل کہاں ہے۔ صدیقی صاحب خود بھی لکھتے ہیں:”کہتے ہیں کہ محبت میں ماضی کا صیغہ ہوتا ہے نہ ہی مستقبل کا۔ سارے زمانے ڈھل کر حال بن جاتے ہیں، وقت ایک لمحے میں رک جاتا ہے اور پھر صدیوں میں محیط ہوجاتا ہے۔”

یوں انسان محبت کی اس دریافت کی تخلیق میں اپنا سفر طے کرنا شروع کر دیتا ہے ، جہاں وقت کا مستقیمی خط دائرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ آپ ہر لمحہ اپنے ماضی یا ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے وقت گزار رہے ہوتے ہیں۔راستے میں لال کُرتی، بینک روڈ اور کالج روڈ بھی آتیں ہیں مگر آپ ٹھہرے ہوئے سفر پر چل رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ ماضی آپ کے ساتھ رہتا ہے، جدا نہیں ہو پاتا، والد اور ماں کی یادیں بھی: “سمت کا اندازہ کرکے میں چلتا گیا اور پھر ایک بوسیدہ درخت کے قریب مجھے ماں کی قبر مل گئی۔ قبر کی لوح، جہاں پر نام اور تاریخ وفات درج تھے، گھاس میں چھپ گئی تھی۔ میں قبر کے پاس بیٹھ گیا اور گھاس کو ہاتھ سے ایک طرف ہٹانے لگا، بالکل ویسے ہی جس طرح بچپن میں ماں میری پیشانی سے بال ہٹاتی تھی۔”

زندگی کا حصہ ہوتے ہوئے زیرِ آسماں جن اٖفضل کاموں پر فخر کیا جا سکتا ہے ، وہ شاید یہی ہے۔ ماں کی قبر کی وسعت میں انسان کتنا وسیع ہو جاتا ہے۔ صدیقی صاحب نے کمال خوبصورتی سے اس وسعت کو کتاب کے صفحات میں پھیلا دیا ہے۔ اس کتاب کا بنیادی تھیم اپنی شناخت کی اس ریز گاری کو اکٹھا کرنا ہے جو وقت کے نام پر عمر ایک ایک کر کے لٹا تی رہی ہے۔ہماری شناخت دیوار پر لگی اُس تصویر کی طرح ہوتی ہے ، جو ہر وقت نظر تو آتی رہتی ہے مگر کوئی کوئی اُن کیلوں کا سوچتا ہے جس کے سہارے وہ تصویر اٹکی ہوئی ہوتی ہے۔آسمان والے آسمان کا سوچتے ہوں گے۔ہم خاک زاد تو زمین کا ہی سوچیں گے۔ آسمان ہماری دسترس میں نہیں ہے:
ظفرؔ زمیں زاد تھے زمیں سے ہی کام رکھا
جو آسمانی تھے آسمانوں میں رہ گئے ہیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20