دو جواب —— فرحان کامرانی

0

”کیا سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے؟“
”ہاں اور نہیں“
”کیا ابھی دن کا وقت ہے؟“
”ہاں اور نہیں“
”کیا پرندے اڑ سکتے ہیں؟“
”ہاں اور نہیں“
”کیسا لگا؟ یقینا اچھا نہیں لگا ہو گا، مسلمات پر تشکیک یا دو یا تین جوابات انسان کی ذہنی دنیا کو الجھا دیتے ہیں۔ انسان کی فطرت میں سوالات کے صحیح جوابات حاصل کرنے کی خواہش پائی جاتی ہے مگر سوالات تو انسان حیات و کائنات کے ہر مظہر کے حوالے سے پوچھتا رہتا ہے اور جوابات بھی ہزار طرح کے ہیں مگر بنیادی سوالات کے جوابات میں تضاد ایک ساتھ ایک ذہن میں نہیں رہ سکتا۔ چلئے ایک اہم سوال پوچھتے ہیں اور اس سوال کا جواب اپنے دل کو ٹٹول کر اپنے دین و ایمان اور اپنے نظریات کو مدنظر رکھ کر پوری سچائی سے دیجئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا خدا ہے؟
جواب میرے لئے تو ہے کہ ”ہاں ہے، بالکل ہے“ ہمارے لبرلوں کی ا کثریت کے لئے بھی اتفاق سے اس سوال کا جواب یہی ہے کہ خدا ہے مگر کچھ ایسے لبرل اور کچھ ایسے سرخے بھی ہیں کہ جن کے لئے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔
جن کے لئے اس سوال کا جواب نفی میں ہے ان کو ایک طرف رکھ کر چلئے اُن کے بارے میں بات کرتے ہیں جن کے لئے اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر خدا ہے تو کیا اُس نے انسانوں کو کوئی پیغام حیات دیا ہے؟ کیا کوئی ایسا انسان (یا ایسے انسانوں کا طبقہ) موجود ہے کہ جو ربّ سے باتیں کرتا ہو۔ جس تک ربّ کا پیغام آیا ہو؟

اِس سوال کا جواب میرے لئے تو بڑا واضح اور قطعی ہے کہ ”ہاں بالکل خدا نے ایسے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار افراد بھیجے۔ اُن تمام نے پیغام الٰہی کو انسانوں تک پہنچایا۔ ہم مسلم ان تمام افراد پر ایمان رکھتے ہیں اور تمام الہامی کتب پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ امتداد زمانہ نے اکثر الہامی کتب کے اکثر مضامین کو تحریف زدہ کر دیا، اب موجود واحد پیغام حق جو خالص ہے، اسلام ہے۔“

اوپر والے جواب تک بھی بہت سے لبرل اور سرخے نما لوگ ہمارے ساتھ آتے ہیں مگر اِس جگہ پر پہنچ کر ہمارے راج کمار ہیرانی (PK فیم) صاحب اپنے PK کے ساتھ الگ کھڑے ہو جاتے ہیں اور PK کی زبانی فرماتے ہیں کہ دراصل ”دو بھگوان ہیں، ایک وہ کہ جس نے ہم سب کو بنایا، اُس کے بارے میں ہم کچھ بھی جانتے نہیں۔۔۔۔۔“ اِس کے بعد وہ جو فرماتے ہیں وہ فلم میں سنئے۔ بہرحال ”کچھ بھی جانتے نہیں“ والی بات کا مطلب ہے انبیاء اور مرسلین کا انکار اور صحیفوں اور الہامی ہدایت کاانکار۔ یعنی دراصل یہ بھی خدا کا ہی انکار ہے۔ اِس PK والی سوچ سے اپنی اپنی ڈفلی اور اپنے اپنے راگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یہیں سے “My God is good” اور “I believe in a love god” جیسے مغربی ہذیانات کا غیر مختتم سلسلہ شروع ہوتا ہے۔

ہمارے یہاں یہ والا طبقہ تو بہرحال کم ہے مگر اپنی اپنی مرضی کے مذہبی تشریحات کرنے والا لبرل گروہ بہرحال پیدا ضرور ہو گیا ہے۔ چلئے، ہم اپنے سوالات و جوابات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ جب خدا ہے، انبیاء و مرسلین ہیں، صحائف انبیاء و اساطیر ہیں تو پھر اُن پر ایمان رکھنے کا مطلب کیا ہے؟

خدا، رسول اور صحیفے کو ماننے کا مطلب صرف ایک ہے کہ ماننے والے کا ہر عمل نظری طور پر صحیفے میں موجود خدائی احکام کے تابع ہو گا۔ ممکن ہے کہ خدا، رسول اور صحیفے کو ماننے والے کسی شخص کا کوئی رویہ احکام خدا کے خلاف بھی ہو جائے مگر نظری طور پر وہ شخص بھی اپنے عمل کو غلط سمجھے گا۔ اِس لئے کہ وہ اگر خدا کے حرام کو خود پر حلال کر کے اِس کی جواز جوئی کرے تو یہ اِس کے برابر ہو گا کہ اُس نے خدا کا انکار کیا اور خود کو اپنے نفس کو یا غلط ترغیبات و تحریصات دینے والے شیطان کو اپنا خدا بنا لیا۔ قرآن اِس بات پر شاہد ہے کہ پچھلی اُمتیں یہی کرتی رہی تھیں۔ بنی اسرائیل نے سبت کے دن دریا پر مچھلی نہ پکڑنے کے الہامی حکم کو اِسی طریقے سے توڑا تھا۔ بعد میں جو الہامی کتب میں تحریفات ہوئیں وہ بھی سب اپنی پسند کو حلال اور اپنی ناپسند کو حرام بنانے کے ہی مظاہر تھے۔ مگر تب ہدایت کا الہامی سلسلہ جاری و ساری تھا۔ انبیاء و مرسلین مبعوث ہو رہے تھے اور وہ انسانی انحرافات کو ختم کر دیا کرتے۔
پھر ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ تب انحراف عموماً بنیادی عقائد میں کم ہی ہوتا۔ قرآن میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل اور نصاریٰ بہت اچھی طرح حضور اکرمؐ کو پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ہی آخری نبی ہیں۔یعنی اُن کے بنیادی عقائد کے ماخذ تب تک مکمل طور پر ملاوٹ شدہ نہیں ہوئے تھے۔ اُن ادوار کے تمام تر انحرافات بھی آج کے انحرافات کا عشر عشیر بھی نہیں۔ انکار خدا یا دہریت ماضی میں کبھی اتنا بڑا مظہر نہیں۔ اِس موجودہ دور کی تو تمام ہی جڑ بنیاد دراصل دہریت ہی ہے۔ اِس دہریت کے زہر میں ڈوبے سماج کے پاس تمام اوپر مذکورہ سوالات کے جوابات ہمارے جوابات سے صریحاً مختلف ہیں۔ پھر سارا ہی سماج انہی دہریت پر مبنی خیالات کو بڑے زور و شور سے برت رہا ہے۔ اسی لئے اب سماج کے پاس ہر سوال کے دراصل دو جوابات ہیں۔ یہ دو جوابات ہاتھی کے ظاہری دانتوں اور حقیقی دانتوں کی طرح ہیں۔ یعنی اصل جواب وہ نہیں جو اس معاشرے کے لوگ اپنی زبان سے دے رہے ہیں بلکہ اصل جواب وہ ہے جو ان کے عمل سے ظاہر ہو رہا ہے۔

مثلاً لوگ کہتے ہیں کہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔چلئے مان لیتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ اگر خدا پر ایمان ہے تو ”توّکل“ بھی خدا پر ہی ہونا چاہئے مگر توّکل تو خدا کے علاوہ ہر شے پر ہے، یعنی حقیقی جواب یہ ہے کہ وہ خدا کو نہیں مانتے۔
پھر لوگ بڑی شدّت سے بتاتے ہیں کہ وہ سنی ہیں، شیعہ ہیں، بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں۔ چلئے مان لیتے ہیں۔ اکثر اہل حدیث اور دیوبندی حضرات نذر و نیاز کا حلوہ نہیں کھاتے اور بہت سے بریلوی اور شیعہ دیوبندی اور اہل حدیث کی مسجد میں نماز پڑھنے کو ہی نہ جانے کیا سمجھتے ہیں مگر اِس قدر بڑے بڑے دعوے کرنے والے یہ اکثر لوگ بڑے مزے سے سود بھی کھاتے ہیں اور اس کی جواز جوئی بھی کرتے ہیں۔ اِن میں سے بہت سے موقع ملنے پر رشوت بھی کھاتے ہیں اور اِن میں سے اکثر افراد اپنی بہنوں کا حصہ جائیداد میں مار لیتے ہیں اور یتیموں کا مال کھا جانے کو بھی درست جانتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب صورت حال ہے کہ سارا مذہب اذان سے قبل درود و سلام اور شب برات کے حلوے پر ہی جاگتا ہے اور حسینیت محض محرم میں جاگتی ہے۔

اِس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی جواب یہ ہے کہ آج کے دور میں بہت کم ہی لوگوں کا کوئی مذہب ہے ورنہ اکثر تو لامذہب ہیں۔ ہاں وہ ایسا اپنی زبان سے کہتے نہیں کیونکہ جانتے ہیں مگر عمل میں آج کے لوگوں کی کثرت کا کوئی مذہب نہیں۔

ہر بنیادی سوال کے دو دو جوابات نے نوع انسان کو جس زوال سے ہم کنار کیا ہے وہ اب زندگی کے ہر مظہر میں نمایاں ہے ہی۔ اَب زندگی بے رنگ ہے یا اُس کا رنگ کچھ عجیب ہی ہے۔ یہ وہ زندگی نہیں جو ہم سے مذہب چاہتا ہے۔ یہ وہ رنگ ہے جو انسان نے خود ہی ایجاد کر لیا ہے۔ یہ رنگ ہے لالچ کا، مسابقت اور خودغرضی کا۔ یہ وہ رنگ ہیں جو اپنی نہاد میں ہی تردید مذہب ہیں۔ انسانیت کی فلاح کا رستہ صرف ایک جواب کے حصول میں ہے، صحیح اور واحد جواب کے حصول میں۔ جب تک یہ نہ ہو گاتب تک انسانیت محض گمراہ ہی رہے گی مگر اس بات کا احساس بھی اب ہمیں کب ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20