شبیر ! کیمرہ بند کرو —– رقیہ اکبر چوہدری

0

آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی کی کوئی چیختی چلاتی وڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی ہو تو اس پہ میں نے کچھ لکھا ہو، کہیں ایک آدھ کمنٹ البتہ ضرور کر دیتی رہی۔

مگر دو دن پہلے ایک خاتون کی موٹر وے پولیس کے ساتھ گفتگو پہ گزارش کی کہ اب اس ایک خاتون کی وجہ سے تمام عورت برادری کو گالی مت دینے بیٹھ جانا کیونکہ برے رویئے کسی صنف کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے اس لئے آپ بھی “بغض فیمینسٹاں” میں اسے ایک ہی صنف کے ساتھ نتھی مت کر دینا۔

یہ محض ایک واقعہ نہیں ہے جس پہ چند لائنیں لکھ کر ایک پرہجوم ٹرولنگ کا حصہ بنا جائے بلکہ اس ایک واقعے کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پہ سنجیدگی کے ساتھ بات ہونی چایئے۔

کسی بھی مہذب معاشرے کو لے لیں سزا ہمیشہ جرم کے مطابق ہی دی جاتی ہے۔  Give the devil his due شیطان کو بھی جو وہ ڈیزرو کرتا وہ دو۔  نا اس سے زیادہ نا کم۔

لیکن ہم شاید ہمیشہ ہی زیادتی کرنے والی قوم ہیں۔

شروع میں کچھ سنجیدہ احباب نے یہ وڈیو اس لئے شیئر کی کہ ایک مقامی بولی کی توہین کیوں کی جا رہی ہے مگر بعد میں تو لوگوں نے حدیں ہی پار کر دیں۔

اگرچہ خاتون کے یہ الفاظ “تمہیں عورتوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں” خود اس کی بدزبانی اور لہجے پہ سوٹ نہیں کرتے تھے۔ یہ دراصل عورت کارڈ کھیلنے کی بھونڈی کوشش تھی جسے کسی طور بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی خاتون جو اپنے لباس کی تراش خراش سے مردانہ امتیاز کی نفی کرتی پائی گئی وہ عورت ہونے کا ایج لینے کا حق ہرگز نہیں رکھتی اسے پھر اسی ایک لیول پہ آکر بات کرنی چایئے تھی۔

دوئم اس کا اپنا انداز گفتگو، لب و لہجہ اور الفاظ کا چناو ہرگز اس عورت جیسا نہیں تھا جو چاہتی ہے کہ اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا جائے۔

دیکھئے اگر آپ کو عورت ہونے کا فائدہ چاہئے تو آپ کو اپنے الفاظ اور ان کے استعمال پہ بھی مکمل توجہ دینی ہو گی اور بالکل ایسے ہی اگر مرد یہ چاہیں کہ انہیں مرد ہونے کا اعزاز بخشا جائے تو انہیں بھی اپنے اندر مردانہ بردباری، برداشت اور وقار پیدا کرنا پڑے گے تبھی وہ مقام اسے مل سکتا ہے۔

بدقسمتی سے مرد ہو یا عورت دونوں ہی اپنے اپنے کارڈ کھیلتے ہیں۔ مرد عورتوں کو ہراساں کرتا ہے سرعام، کبھی زبان سے، کبھی ہاتھ سے اور کبھی نظروں سے، کیونکہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت ہے آگے کیا بولے گی بھلا۔ ۔ ۔ مردوں کے ہجوم میں چپ ہو جائے گی۔ اور ہراساں کرنے والے مرد کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو تا ہے کہ اس خاتون کے ارد گرد والے اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیں گے کہ:

خاموش! تم عورت ہو اپنی عزت کا خیال رکھو اور چپ ہو جاو ورنہ وہ تو مرد ہے کچھ بھی الٹا سیدھا بول دے تو کیا عزت رہ جائے گی تمہاری۔

تو یہاں وہ مرد “مرد کارڈ” کھیلتا ہے۔

اس مسئلے کے کچھ اور پہلو بھی ایسے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر گئے۔

پہلی بات: کیا یہ کوئی اتنا سنگین اور بڑا اشو تھا جس کا سوشل میڈیا پہ تماشا بنایا جاتا؟
اگر یہ اشو بہت بڑا ہوتا تب بھی آپ کو کس نے حق دیا کہ ایک جذباتی لمحے کے جواب میں (جو عموما ہم سب پر آتا ہے) آپ ایک عورت کی کردار کشی کریں۔

اگر زرتاج گل، مریم نواز، بشری بی بی یا آصفہ بھٹو کے کردار پر کوئی دو لفظ بھی بول دے تو سارے “سیاسی ورکرز” شرافت اور عزت کا راگ الاپتے پہنچ جاتے ہیں تو جب انہی سیاسی مبلیغین کی دیواروں پر مذکورہ خاتون کے کردار پر انتہائی نامناسب تبصرے کئے جا رہے تھے تب کوئی نہ بولا۔

آخر اس وڈیو کو لگانے اور پھیلانے کا آپ سب کا مقصد اس کے علاوہ کیا تھا کہ نازیبا رویئے اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کی حوصلہ شکنی کی جائے تو اب جب کہ “نیک نیتی” سے کی گئی آپ کی ان کاوشوں کے بدلے میں ایک عورت کے کردار اور نسائیت پہ حملے کئے جا رہے تھے تو آپ نے کیوں نہ اس کاسدباب کیا؟

کیا صرف اس لئے کہ وہ ایک عام عورت تھی؟
لینڈ کروزر پہ لاو لشکر کے ساتھ آئی ہوئی کوئی معروف خاتون نہیں تھی اس لئے؟
کیا اس کا جرم اتنا بڑا تھا کہ مردوں کے ہوسناک تبصروں سے اس کی عزت کی دھجیاں بکھیرنا حق اور جائز سمجھ لیا گیا؟
اس نے تو محض قانون کے رکھوالوں سے بحث کی، شٹ اپ کہا اور آپ لوگوں نے اس کی عزت کی چادر ہی لیرولیر کر دی۔

کیوں؟
کیا آپ کیلئے مادری زبان کی حرمت عورت کی حرمت سے زیادہ مقدم ہے؟

اور افسوس کا مقام ہے دن رات عورت کو مغربی کلچر سے بچانے کی فکر میں غلطاں کسی شخص نے یہ جرات نہ کی کہ ایک شریف عورت پہ نازیبا جملے بازی پہ دو حرف ہی لکھ دے۔

آئے دن ٹریفک میں پھنسے لوگ یا ٹریفک قوانین کو توڑتے ہوئے لوگ کبھی اپنے سے آگے والی گاڑی اور کبھی پیچھے والی گاڑی کے ڈرائیور سے الجھ پڑتے ہیں، کبھی قانون کے رکھوالوں کے ساتھ منہ ماری ہوتی رہتی ہے لیکن کیا ہم ہر چھوٹے موٹے جھگڑے کا یوں تماشا بناتے رہیں گے؟

سوچیں جیسے اس خاتون نے کہا کہ اگر آپ اس طرح کسی اہلکار سے الجھ پڑیں تو کیا آپ پسند کریں گے، کسی کو اس بات کا حق دیں گے کہ وہ آپ کی وڈیو بنانا شروع کر دے؟

اس عورت نے کسی کو دھمکی نہیں دی، کوئی سفارشی فون نہیں کیا، کوئی جھوٹا الزام نہیں لگایا پھر اس کی وڈیو بنائی ہی کیوں گئی؟

یہ ساری بحث اور گرماگرمی ہرگز کرائم کی لسٹ میں نہیں آتی کہ کوئی بھی “خدائی فوجدار” آئے، اس کی وڈیو بنا کر اپنے ہی جیسے کسی شہری کو کٹہرے میں کھڑا کر کے سوال جواب کرے۔

یہ قانون اور عوام کے بیچ ایک معمولی سا معاملہ تھا جسے اصولا قانون کے رکھوالوں کو حل کرنا چاہیے تھا۔  وڈیو بنانے والے نے پیچیدہ اور تکلیف دہ بنا دیا۔

معلوم نہیں پولیس اہلکار نے پنجابی زبان میں کیا کہا۔ ۔ ۔ کس انداز میں کہا کیونکہ خاتون نے کہا ’ہی سیڈ سمتھنگ بیڈ‘ اب اللہ جانے وہ بیڈ کیا تھا، تھا بھی یا نہیں، یا کس طرح بولا گیا۔
کیوں کہ معاملہ صرف الفاظ کا ہی نہیں انداز کا بھی ہوتا ہے بعض اوقات عام سی بات ایسے انداز سے کی جاتی ہے جس میں تحقیر و تذلیل نمایاں ہوتی ہے تو سننے والا مشتعل ہو جاتا ہے۔
اور جب تک آپ معاملے کی تہہ تک نہ پہنچ جاتے، حقیقت کیا ہے اس کی کھوج نہ لگا لیتے آپ کو یہ حق ہرگز نہیں تھا کہ مذکورہ خاتون کے کردار کی دھجیاں بکھیرنے دیتے۔

معاملے کی حقیقت سے اس خاتون نے پردہ اٹھاتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ پولیس اہلکار نے پنجابی زبان میں اسے کہا تھا: سوہنڑیو! شیشہ تھلے کر لو۔
ہو سکتا ہے خاتون جھوٹ بول رہی ہوں لیکن اگر یہ جھوٹ نہیں تو سوچیں ایسے کسی ڈائیلاگ پر آپ کی بہو بیٹیوں کا کیا ردعمل ہوتا؟
اور اگر جھوٹ بھی ہے تب بھی کیا اس کی غلطی ایسی سنگین تھی کہ بیچ چوراہے اس کی عزت کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا۔

میں ہرگز اس خاتون کے لب و لہجے اور الفاظ کی حمایت نہیں کر رہی مگر یہ ضرور کہوں گی کہ یہ کوئی ایسا جرم بھی بہرحال ہرگز نہیں تھا جس کو اشو بنایا جاتا۔

حضرت علی کا قول ہے: مجرم کو پتھر وہ مارے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔

ایک دوست نے ٹھیک توجہ دلائی کہ اس وڈیو کے وائرل ہونے سے معلوم نہیں اس لڑکی کے اہل و عیال کس قدر کربناک مشکل میں پڑ چکے ہوں گے، اور نجانے کب تک اس تضحیک کا نشانہ بنتے رہیں گے اور نجانے اس چھوٹی سی غلطی/بدتمیزی کا خمیازہ کیسے اور کب تک بھگتیں گے۔

آپ کا چھوٹا سا عمل کسی کیلئے زندگی بھر کی سزا بھی بن سکتا ہے۔ ۔ ۔

یوں لگتا ہے ہم سب کو ہی کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی “شبیر” دیکھ رہا ہے ، ہمارے پل پل کی خبر رکھ رہا ہے، ہر لمحہ ہر پل واچ کر رہا ہے۔ ۔ ۔

اب تو حال یہ ہے کہ باہر نکلنے سے ڈر لگتا ہے کہ آپ نے اپنے بچے کو بھی ڈانٹا تو آپ کی وڈیو بن کر وائرل ہو سکتی ہے۔

ڈیانا کی وڈیو بنانے والوں نے کسی کی جان ہی لے لی۔ مگر ہم سمجھیں تو۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20