آئیے عمر اکمل سے سیکھیں —— خبیب کیانی

0

کچھ لوگوں سے مل کر یا ان کے بارے میں جان کربے اختیار دل چاہتا ہے کہ انہیں یہ دعا مانگنے کا مشورہ دیا جائے کہ ـــــ یا اللہ، میں اپنے آپ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

آج صبح جب آنکھ کھلی توٹی وی پر ہیڈ لائن چلتی دیکھی ۔۔پاکستان کرکٹ کا بگڑا بچہ پھر مشکل میں۔۔ خبر تھی عمر اکمل پر ایک نئی پابندی کی، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان پر انٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کی تحقیقات جاری ہیں۔ ایسے شاندار ٹیلنٹ کے حامل کھلاڑی کو بہت محنت، تسلسل اور دل جمعی کے ساتھ اپنے آپ کو تباہ کرتے دیکھنا بہت تکلیف دہ ہے۔

کھیلوں کی نفسیات میں دلچسپی رکھنے والے ایک ماہر نفسیات کے طور پر عمر اکمل کی کہانی شروع سے میری توجہ کھینچتی رہی ہے۔ اپنے کیرئیرکے ابتدائی دنوں میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین کرکٹ نے عمر اکمل کو نیکسٹ بگ تھنگ اور دی رائیزنگ سٹار جیسے خطابا ت سے نوازا۔ ان کی شاٹس کی رینج اور بیٹنگ اور فیلڈنگ کے دوران کمال پھرتی سے بال پر جھپکنے کی صلاحیت بلا شبہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ سب کچھ اچھے انداز سے آگے بڑھتا دکھائی دے رہا تھا مگر پھر پے در پے عمر اکمل سے جڑے تنازعات سامنے آنا شروع ہوئے جن کا سلسلہ آج تک تھم نہیں پایا۔ اب تو اگر بطور ماہر نفسیات مجھے اپنے کسی کلائینٹ کو سمجھانا ہو کہ خود کو نقصان نہ پہنچائیں تو کئی بار منہ سے نکل جاتا ہے کہ please, dont be an umar akmal to yourself.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے عمر اکمل یہاں تک پہنچے کیسے؟ اس کا جواب سٹیفن کووے کی کتاب primary greatness سے مل سکتا ہے۔ کووے نے یہ کتاب اس بات کے گرد لکھی ہے کہ تمام انسان عظمت یا greatness کے متلاشی ہوتے ہیں اور یہ تلاش کوئی بری بات بھی نہیں۔ کووے کا کہنا ہے greatness دو طرح کی ہوتی ہے، ایک پرائمری اور ایک سیکنڈری۔ پرائمری greatness کے متلاشی افراد اپنے کردار، اقدار اور محنت سے کسی مقام تک پہنچتے ہیں، کبھی بھی کسی مقام یا رتبے کو اپنے سر پر سوار نہیں ہونے دیتے، کامیابی مل جائے تو بھی اپنی محنت میں کمی نہ لانے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی سیکھتے رہنے کی لگن کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں جو نہ صرف ان کی عاجزی کو برقرار رکھتی ہے بلکہ کے ان کو اپنے کام میں مستقل بہتری کی جانب بھی گامزن رکھتی ہے۔ اس کے تقابل میں اگرسیکنڈری greatness کو پرکھا جائے تو اس کے متلاشی افرادروپے پیسے، شہرت، وقتی فائدوں اور ٹائٹلز کی نمود و نمائش کے پیچھے بھاگتے ساری عمر گزار دیتے ہیں۔ کووے کا کہنا ہے کہ شارٹ ٹرم فائدے کے لیے اپنی اقدار کو یا اپنے کردار کو دائو پر لگا دینا سیکنڈری greatness کے حامل افراد کا خاصا ہوتی ہے۔ کووے اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ پائیدار کامیابی کا دارومدار ٹیلنٹ یا ذہانت سے کہیں بڑھکر ہمارے کردار کی پختگی سے ہوتا ہے۔

Image result for umar akmalعمر اکمل شائد اسی نکتے پر مار کھا گئے کہ ان کاخیال ہے کہ صرف ان کا ٹیلنٹ ان کو آگے لے کر جانے کے لیے کافی ہے۔ اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہی وہ سٹارڈم کا شکار ہو گئے۔ وارڈن کے قانونی اقدام کو اپنے سٹارڈم کا سہارا لے کر چیلنج کرنا ہو یا دیگر تمام تنازعات، کرکٹر عمر اکمل ہمیشہ سٹار عمر اکمل کے ہاتھوں پٹتے نظر آئے۔ سپورٹس سائیکالوجی ایک عرصے سے اس نکتے پر اپنی ریسرچ کو مرکوز کیے بیٹھی ہے کہ سپورٹس سٹارڈم کیسے کچھ کھلاڑیوں کے کیرئیر کو تباہ کرنے کا باعث بن جا تا ہے۔ سپورٹس سٹارڈم بنیادی طور پر اس شہرت اور عزت کو کہتے ہیں جو کسی کھلاڑی کو ابتدائی طور پر کسی بھی کھیل میں اچھی کارکردگی کی بنا پر ملتی ہے۔یہاں یہ نکتہ اہم ہے کہ اس شہرت اور عزت کا باعث کھلاڑی کی کارکردگی ہوتی ہے۔ یہ سٹارڈم کسی ایک اچھی اننگز سے بھی مل سکتا ہے اور بعض اوقات کافی لمبے سفر کے بعد بھی۔ اگر ہم ایک دم سے سٹارڈم حاصل کرنے والے کھلاڑی کی مثال لیں تو شاہد آفریدی کے کیس میں یہی ہوا کہ کم ترین گیندیں کھیلتے ہوئے انہوں نے تیز ترین سینچری بنا ڈالی اور راتوں رات وہ شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچ گئے جن کا اس دور میں کوئی کھلاڑی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اور اگر ہم جائزہ لیں لمبی کوشش کے بعدسٹارڈم کا تو شاید مصباح الحق ایک بہتر مثال ہیں کہ ایک عرصے کی محنت کے بعد ان کو موقع ملا اور پھر وہ کپتان بھی بنے اور پاکستان کو نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بھی بنایا۔ اس سب بات چیت میں اہم یہ ہے کہ اس میں کھیل میں کمال پہلے ہے اور عزت و شہرت بعد میں۔ بطور ماہر نفسیات میں یہ وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عمر اکمل بطور کھلاڑی اس ترتیب کو الٹنے کی وجہ سے ہی تمام مشکلات کا شکار ہوئے۔ کچھ ایسے ہی حالا ت کا سامنا ویرات کوہلی کو بھی کرنا پڑا جب اپنی شہرت کے آغاز میں ہی ان کی توجہ کرکٹ سے ہٹ کر تشہیرٰ ی کمپنیوں کی آفرز اور پارٹیز کی طرف جا نکلی۔اس قدر توجہ اور سوشل اپروول بڑوں بڑوں کو ٹریک سے گرا کر وقت کی دھول میں شامل کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔ ویرات کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کے اس دور کے ایک کوچ جو غالبا راہول ڈریوڈ تھے وہ اس وقت ان کے آس پاس موجود تھے اور ویرات کا کہنا ہے کہ مجھے ایک شام میرے اس کوچ نے بلا کر کہا کہ ویرات تم سٹا ر اس لیے ہو کہ تم اچھا کھیلتے ہو، اس لیے نہیں کہ تم اچھا دکھتے ہو اور یہ بھی یاد رکھو کہ تم تب تک ہی سٹار رہو گے جب تک تم اچھا کھیلو گے، اچھا دکھنے والے اور لڑکے بھی آئیں گے لیکن جو ٹیلنٹ تمھارے اندر ایسا اور کوئی نہیں آئے گا، ٹیلنٹ کو فوکس سے پروٹیکٹ کرو، اپنی توجہ مت کھونا، کھیلو گے تو عزت پائو گے۔ ویرات کا کہنا ہے کہ اس چھوٹی سی بات چیت نے مجھے نے اپنے فوکس کو سیٹ کرنے میں مدد دی اور میں نے اپنی فٹنس اور تکنیک پر کام کرنا شروع کیا جو کہ آج دن تک میری سب سے اہم روٹین ہے، مجھے یہ سمجھ آگئی کہ عزت گراونڈ کے اندر کما کر باہر جانا ہے۔ ویرات کو تو یہ سمجھ آگئی کہ کسب کمال کن پہلے ہے اور عزیز جہاں شوی بعد میں لیکن ہمارے عمر اکمل جیسے ٹیلنٹ کو یہ نکتہ آج تک سمجھ نہیں آپایا۔

فوکس کے کھو جانے جانے کے بعد عمر اکمل کا دوسرا بڑا مسئلہ غلط رول ماڈل کو چننا بھی ہے، عمر اکمل اور احمد شہزاد اپنے کیرئیر کے ابتدائی دنوں میں شاہد آفریدی اور ان کے سٹا ر ڈم کے گرویدہ نظر آئے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شاہد آفریدی کے کیس میں کوئی لاجک اپلائی نہیں کی جا سکتی، وہ خالصتا ایک ایسی کہانی ہیں جس کے بارے میں رب فیصلہ کر لیتا ہے کہ اس کہانی کو عزت دینی ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے، ایک اوسط ریکارڈ کا کھلاڑی رب کے کرم کی وجہ سے اتنا کھیل گیا، ساری زندگی اپنی گیم پر کوئی کام کیے بنا اس کو موقعے بھی ملتے رہے اور محبت بھی، ایسا عام طور پر ہوتا نہیں ہے۔ انہیں جہاں مواقع اور محبت ملی وہیں اپنے دور میں وہ پاکستان ٹیم کی برینڈ ویلیو کا بھی ایک بڑا سبب بنے رہے۔ عمر اکمل اسی رول ماڈل کو ریپلیکیٹ کرنے کے چکر میں مارے گئے۔ ان کو لگا کہ لالہ والا سٹارڈم حاصل کرنا عام سی بات ہے۔ گیم اہم نہیں ہے، ہیرو دکھنا اہم ہے، لالہ کچھ بھی کر لیں ان کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا اس لیے میں نے بھی وہی کرنا ہے ہے جو میرے دل میں آئے گا۔ ان کی بیٹنگ بھی اسی مائنڈ سیٹ کے ہاتھوں متاثر ہوئی آپ ان کے میچز کی ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں بارہا وہ ٹیم کو درپیش صورت حال کے ادراک کے بغیر آفریدی بننے کے چکروں میں آئوٹ ہوتے رہے۔ آف دی فیلڈ اور آن دی ایک غلط رول ماڈل کو چننا عمر اکمل کے کیرئیر کو آج کے دن تک لے آیا۔ ان کے آس پاس شاید بہت سے خیر خواہ موجود رہے ہوں لیکن اس طرح کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ آپ کو ہر مشورہ دینے والا، راہ دکھانے والا اپنا دشمن لگتا ہے۔ گمان یہی ہے کہ آغاز میں کچھ لوگوں نے اس شاندار ٹیلینٹ کو ٹریک پر رکھنے کی کوشش کی ہوگی مگر رسپانس نہ ملنے کی وجہ سے سب آہستہ آستہ دور ہوتے گئے اور جو نزدیک رہے وہ وہ لوگ تھے جو عمر اکمل کو وہ سنا رہے تھے جو عمر اکمل سننا چاہتے تھے۔ جیسے ایک نا سمجھ بادشاہ ایک سلطنت ڈبوتا ہے ویسے ہی عمر اکمل اپنے کیرئیر کو ڈبونے کی کوش کر تے رہے ہیں جو کہ تا حال جاری ہے۔

کرکٹ بورڈ کو  کھلاڑیوں کو نہ صرف گیم کی ٹریننگ فراہم کرنی چاہیے بلکہ فوکس کو برقرار رکھنے، آن دی فیلڈ اور آف دی فیلڈ رویے، میڈیا اور تشہیری اداروں کی توجہ کو ڈیل کرنے، شہرت و عزت کو مینیج کرنے اور سٹارڈم کے نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی کھلاڑیوں کی تربیت کا بند وبست بھی کیا جانا چاہیے۔

اس سارے معاملے میں اگر کامران اکمل کا رول دیکھا جائے تو وہ بھی کچھ خاص دور اندیشی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے نظر نہیں آتے۔ فٹنس ٹیسٹ کا حالیہ واقعہ ہو یا ماضی کے مسائل، کامران اکمل اپنے بھائی کو ڈیفنڈ کرتے ہی نظر آئے۔ ہم ماہرین نفسیات ہر روز مختلف سیشنز میں لوگوں کو سمجھا تے ہیں کہ بعض اوقات ہم اپنے فیملی ممبرز کے ساتھ دے کر بظاہر تو خلوص کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں مگر دراصل ہم ان کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ مخلص ہوتے ہوئے بھی غلط ہونا ممکن ہے اور اس کیس میں بھی ہمیں خلوص تو نظر آتا ہے لیکن اس خلوص سے ہونے والے نقصان سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی کھلاڑیوں کو نہ صرف گیم کی ٹریننگ فراہم کرنی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ، فوکس کو برقرار رکھنے، آن دی فیلڈ اور آف دی فیلڈ رویے، میڈیا اور تشہیری اداروں کی توجہ کو ڈیل کرنے، شہرت و عزت کو مینیج کرنے اور سٹارڈم کے نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے بھی کھلاڑیوں کی تربیت کا بند وبست بھی کیا جانا چاہیے۔ یہ عمر اکمل ایفیکٹ اس وقت امام الحق، شاداب خان اور حسن علی میں بھی کچھ حد تک نظر آرہا ہے اور احمد شہزاد تو خیر پرانے ساتھی ہیں عمر اکمل کے ان راستوں پر۔ ان تمام کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی بھی اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاداب اس پی یس ایل میں کافی پریشر میں نظر آئیں گے، اللہ کرے وہ مجھے غلط ثابت کر دیں۔ بابر اعظم نوجوان کھلاڑیوں میں سے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے کمال ظرف کے ساتھ شہرت اور عزت کو ہینڈل کیا ہے۔ اپنی شاندار کامیابیوں کے باوجود بھی بابر اعظم یہ بھولنے کو تیار نہیں ہیں کہ کسب کمال کن پہلے آتا ہے اور عزیز جہاں شوی بعد میں۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے اور اسی ترتیب کو الٹنا عمر اکمل نا کامی کا باعث۔ میرا ماننا ہے کہ عمر اکمل ہے اگراپنی اپروچ کا تجزیہ کر یں اور کھلاڑی عمر اکمل کو ہیرو عمر اکمل سے زیادہ ٹائم دیں تو ان کی واپسی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرکٹ اور ذوقِ جمال: عاطف حسین
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: