عہد حاضر، علمِ کلام اور مسلم علما کی ذمہ داری — شیخ سعید فودة

0

سعید عبدالطیف فودة معاصر اشعری متکلم اور اصولی، اردن سے تعلق رکھتے ہیں۔ دو درجن کے قریب کتب کے مصنف اور محقق، آپ اردن،مصر،مراکش کئی افریقی ممالک اور انڈونیشیا، ملائیشیا تک علم کلام، دین کے اصولی مباحث اور مغربِ جدید سے متعلق اعلی علمی مباحث کے لیے مدعو کیے جاتے ہیں۔ جدیدیت، مابعد جدیدیت، وجودیت، سیکولرازم اور ہیومنزم پر آپ کے کافی لیکچرز بزبان عربی موجود ہیں۔ شیخ سعید “عالِم کی نظر عالَم پر ہوتی ہے” کا انتہائی مصداق کہے جا سکتے ہیں۔
ذیل کی گفت گو ان کے لیکچر کا ایک حصہ ہے جس میں یہ علم کلام کی معاصر عہد میں ضرورت پر کلام کرتے ہیں۔ آئیے ملاحظہ کریں کہ ایک جہاں دیدہ روایتی تعلیم یافتہ عالم ہمارے لیےکیا اہم بات رکھتے ہیں۔

تنبیه: یہ چونکہ ایک گفت گو ہے، اس لیے متن میں الجھن کا پیدا ہونا ممکن ہے۔بہر حال ہم نے حتی الوسع درستگی کے ساتھ اس تقریر کو عبارت میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔
تنبیه دوم : ان شا ء اللہ تعالٰی اردو میں شیخ سعید فُودَة کی مزید تقاریر اور مضامین عن قریب ’دانش۔پی کے‘ پہ میسر ہوتے رہیں گے۔
تنبیه سوم :لفظ فودة – فا کے پیش، واؤ کے سکون اور دال کے زبر کے ساتھ ہے جس میں عربی والی گول تا کو ہا پڑھا جاتا ہے۔
مترجم: احمدالعباد، حسین احمد


میرا خیال ہے کہ اس دور میں علم کلام پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر اور ضروری ہوچکا ہے۔ عزیزان ذی قدر، مشرق و مغرب ہر دو جگہ مسلمانوں کو درپیش مسائل اب اشاعرہ و معتزلہ کے اختلافات کی طرح نہیں ہیں اور نہ ہی یہ تجسیم و تنزیہہ کے قائلین کے نزاعات ہیں۔ اگرچہ یہ اختلافات بھی موجود ہیں لیکن مسائل صرف ان تک محدود نہیں ہیں۔ مسئلہ اب علم کلام کے چند گنے چنے فروعی اختلافات تک محدود نہیں رہا ہے جیسے ذات وصفات کے جھگڑے کہ صفات، ذات سے جدا ہیں یا عین ذات ہیں؟ مسلمانوں کے یا آگے بڑھ کر یوں کہئے کہ پوری دنیا کے اہل علم کے اختلافات اب یہاں تک محدود نہیں رہے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ اگرچہ ان مسائل پر بات کرنا بھی موجب خیر و برکت ہے کیونکہ یہ علم کلام کے کچھ بنیادی پیچیدہ مسائل میں سے ہیں۔ ایک طرح سے یہ خوش آئند بات ہے کہ ہمارے علما نے علم کلام کے مسلمہ اصولوں پراتفاق کرلیا اور محض کچھ فروعی مسائل میں اختلافات تک بات آگئی ہے۔ لیکن اِس دور میں اب لوگ اصول دین، جنھیں علمائے متقدمین علم کلام کا سب سے بنیادی اور اہم مسئلہ گردانتے تھے، کے حوالے سے مختلف شبہات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یعنی لوگ اب ان بنیادی مسائل کے بارے میں بھی متردد ہیں جن سے لاعلمی تک کسی مسلمان کے لئے روا نہیں۔ مثلا حضورﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہی لیجئے، آج کل اس مسئلے پر مسلمانوں کی کثیر تعداد شکوک و شبہات میں مبتلا ہے اور یہ اصول دین میں سے ایک نہایت ہی بنیادی اصول ہے۔ بلکہ یہ تو اسلام کا اصل الاصول ہے۔ فضلائے کرام! ہمارے مخاطَب مسلمانوں کے کوئی مخصوص گروہ نہیں ہیں۔ ہماری دعوت ساری انسانیت کے لئے ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن سے انسانیت کا ایک معتدبہ حصہ نبرد آزما ہے۔ مثلا بہت سے لوگوں کو معاملات نبوت میں تردد ہے یعنی کیا نبوت واقعی کوئی وجود رکھتی بھی ہے یا نہیں؟ بہت سوں کو وجود باری کے متعلق شکوک نے گھیرا ہوا ہے کہ کیا خدا موجود بھی ہے کہ نہیں؟ یہ محض وہ مسائل نہیں ہیں جو مختلف اسلامی فرقوں میں محل نزاع رہے ہیں۔ کیونکہ وہ نزاعی مسائل جن کی طرف ابھی ہم اشارہ کرچکے وہ تو اکثرعلم کلام کے کچھ انتہائی فروعی باتوں میں اختلافات پر مبنی ہیں۔ اکثر علما ان کی بنا پر تکفیر کے بھی روادار نہیں ہیں۔ مگر آج کل کے جو مسائل ہماری توجہ کے شدید متقاضی ہیں وہ اصول دین کے اثبات کے مسائل ہیں۔ شرق و غرب کے بہت سے اہل علم وجود خدا کے منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا اپنی نہاد میں مادی ہے، دنیا ازلی ہے، خدا کے وجود پر کوئی دلیل دستیاب نہیں۔ وہ یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ تم لوگ پہلے کہتے تھے کہ انبیا و رسل کی صداقت پر بین دلائل موجود ہیں اور وہ دلائل معجزات ہیں اور معجزہ نام ہے خرق عادت کا۔ اب بہت سے اہل علم کا موقف ہے کہ خرق عادت تو محال ہے کیونکہ عادت (قانون طبیعی) عقلی بنیادوں پر قائم ہے جو کہ حتمی اور محکم ہیں اور ان میں تغیر ممکن نہیں۔ لہذا معجزہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اور بھی ایسی کئی باتیں ہیں۔ یہ ان چند مسائل میں سے ہیں جو وقت کے ذہین ترین افراد کے دماغ میں ابھر رہے ہیں۔

عزیزو، لوگ آج کل ان مسائل میں سر نہیں کھپاتے کہ کیا خدا سمت میں مقید ہے یا سمت سے ماورا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اگرچہ ان مخصوص مسائل پربھی مسلمانوں کے کچھ مخصوص گروہ داد تحقیق دے رہے ہیں لیکن وقت کے ذہین ترین افراد کچھ اور طرح کے مسائل پر بات اٹھا رہے ہیں جیسا کہ کیا ہمیں اسلام کی حاکمیت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی ضروت ہے بھی یا نہیں؟ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر کیا کسی بھی مذہب کو ماننا لازم ہے یا نہیں؟ کیا کسی مذہب کی حاکمیت کا طوق پہننا ہم پر واجب ہے یا ہم خود اپنے متعین کردہ آخلاق کی روشنی میں اپنے لئے اصول حاکمیت و حکومت طے کرنے میں آزاد ہیں؟ کیا ایسا کوئی خدا ہے بھی یا نہیں جو بنی نوع انسان کو ہدایت کا مجاز ہے؟ ان مسائل پر پوری دنیا کے لوگوں میں بحث چھڑی ہوئی ہے اور یہ بحث اب جدیدیت، سیکولرزم، روشن خیالی، قرآن کی از سرِ نو تفہیم اور اسی طرح کے دیگر خوش کن ناموں کے ساتھ مسلمانوں کے گھروں میں آہستہ آہستہ سرایت کئے جارہی ہے۔ اور میں پورے تیقن کے ساتھ یہ بتا رہا ہوں کہ مختلف مسلم ممالک میں بہت سے تعلیم یافتہ افراد اس طرح کی تحاریک سے بہت گہرے اثرات قبول کرچکے ہیں۔ یہ ایک نیا امتحان درپیش ہے جن سے سابقہ وقتوں میں مسلمانوں کا پالا نہیں پڑا کیونکہ مسلمانوں کے قلوب غلبۂ اسلام کی شادمانی سے لبریز تھے لیکن اب چونکہ ممالک اسلامیہ کے حصے بخرے ہوچکے ہیں، مسلمان پراگندہ اور منتشر ہیں، اور ان کے ہاتھ سے سب اختیار جاتا رہا ہے۔ نہ ان کی زمین ان کے قبضے میں ہے، نہ ان کی دولت اور نہ ہی ان کا دین۔

سو، مغرب کے سربرآوردہ زعما اب امریکہ کے مفادات کے پیش نظر، بش اور اوبامہ کے ایما پر، علما سے قرآن کی تفہیم پر نظر ثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ تمھیں ہمارے مجوزہ اصولوں کے مطابق اسلام پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ تمھیں بچوں اور تعلیمی اداروں کے مناہج تدریس و نصاب پر اس زاویے سے دوبارہ غور کرنا چاہئے کہ اس میں ایسی کوئی چیز شامل نہ ہو جو عالمی فکر و دانش کے خلاف ہو۔ عالمی فکر و دانش کی اس تحریک کو ان لوگوں نے انسانیت پرستی کے نام سے متعارف کرایا ہے جس کا سر عنوان یہ ہے کہ انسان کی عزت سب چیزوں پر مقدم ہے۔ انسانیت پرستی کی اس تحریک کا خلاصہ عمانوئیل کانٹ نے اپنے اس رسالے میں بیان کیا ہے جو اس نے سیکولرزم کے نظریے کے تعین کے پیش نظر مرتب کیا اور جس پر اسے انعام بھی ملا اور یہی وہ اعلامیہ ہے جو لوگوں میں اب رواج پاگیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ سیکولرازم یہ ہے کہ انسان اپنی حد تک، اپنے ماسوا کی کسی بھی قوت مقتدرہ کی بالادستی کے بغیر، ہر اس عمل کے کرنے میں آزاد ہو جو وہ اپنے تئیں روا سمجھتا ہے۔ “اپنے ماسوا کی کسی بھی قوت مقتدرہ کی بالادستی کے بغیر” کا یہ ٹکڑا کیا کہہ رہا ہے؟ یہ بیان پہلی نظر میں بہت اچھا معلوم ہوتا ہے، نہایت دل خوش کن اور یقیں بخش نظر آتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی حقیقت یہ ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خدا سے ہدایت کے لئے رجوع کرے، اس کے لئے کسی پیغمبر سے رہنمائی لینا درست نہیں ہے، اس کو زیب نہیں دیتا کہ وہ تشریع یا قانون سازی میں رہنمائی کے لئے کسی پیغمبر کی پیروی کرے۔ یہ موجودہ دور کی جدیدیت اور سیکولرزم کا لب لباب ہے۔

اب یہ ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے جس میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ اس سے علم کلام کی فروعات کی مدد سے نمٹا جا سکے۔ یہ خود دین سے اعراض ہے۔ تو اب اس سے نمٹنے کا کام کس کا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کے مسائل پر تحقیق اور بحث و مباحثے کے لئے مناسب ہیں۔ کیا یہ محدثین کا کام ہے یا فقہا کا یا مفسرین کا؟ آخر کون ہیں وہ؟ کیا اہل تصوف کا کام ہے یہ؟ کون ہیں جو وجود باری کے اثبات کی ذمہ داری اٹھائیں گے، معاصر اور آئندہ کے نظریاتی فکری سانچوں کا رد کریں گے، مسلمانوں کا کون سا گروہ اس کا اہل ہے؟ مسلمانوں کے کون سے طبقے کو یہ زیبا ہے کہ وہ ایسے مسائل کا سامنا کرے اور ان کی تحقیق کے لئے مستعد رہے۔ کیا نحوی یہ کام کریں گے یا اہل لغت یا شعرا یا ادبا اس کام کے لئے موزوں ہوں گے؟بے شک اس کام کے لئے اصولِ دین کے جاننے والے ہی سب سے زیادہ موزوں ہیں، ایسے افراد، جن کی معاشرہ پشت پناہی کرے، جنھیں اہل علم، اہل حکم، اہل جاہ و حشم اور مشائخ کبار اس علم کے حصول کے لئے ان کی اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر مخصوص کریں، انھیں علم کلام پڑھنے پر راغب کریں اور انھیں علائق دنیوی سے آزاد کریں۔ تاکہ یہ لوگ وہ فرض کفایہ بخوبی ادا کرسکیں جو اللہ نے امت مسلمہ پر واجب کر رکھا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20