اُردو شاعری کے آیت اللہ عظمیٰ —– اے خالق سرگانہ

0

اسلام آباد میں ایک تقریب میں افتخار عارف صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لندن میں ایک ادبی تقریب میں شامل تھے اُن دنوں فیض احمد فیض بھی وہیں تھے وہ بھی تقریب میں پہنچ گئے اُن کے آنے پر تمام حاضرین اُن کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ تقریب میں ایک ایرانی بھی موجود تھے وہ کچھ حیران ہوئے انہوں نے افتخار عارف سے فارسی میں پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ افتخار عارف صاحب نے کہا کہ یہ اُردو ادب کے آیت اللہ عظمیٰ ہیں۔ تقریب فیض صاحب کی سالگرہ کے موقع پر اکیڈمی آف لیٹرز کے فیض آڈیٹوریم میں ہوئی۔ فیض آڈیٹوریم کی یہ افتتاحی تقریب تھی۔

مقررین نے فیض صاحب کے بارے میں یادوں کو تازہ کیا۔ فیض کی بیٹی سلیمیٰ ہاشمی نے جو لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس کی پرنسپل رہی ہیں، اس موقع پر فیض صاحب کے علاوہ عاصمہ جہانگیر کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں تو مصلحت کا شکار ہوتی ہیں لیکن مشکل حالات میں کلمہ حق کہنے والوں کی قدر کی جانی چاہئے۔ منّیزہ ہاشمی پی ٹی وی میں کام کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے جب اُن کے بقول اپنے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کا تذکرہ فیض صاحب سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسے موقع پر سوئچ آف کر لینا چاہئے یعنی ایسی صورتحال میں خاموشی اختیار کرنا چاہئے اور نظر انداز کر دینا چاہئے۔ فیض صاحب کے نواسے علی ہاشمی نے بھی کچھ باتیں کیں اور اُن کا کچھ کلام سنایا۔

فیض احمد فیض صرف شاعر نہیں بلکہ ادیب اور صحافی بھی تھے وہ سیاست میں ایک خاص نقطہ نظر کے حامل تھے اُن کی زندگی میں بڑے نشیب و فراز آئے وہ قیدوبند کی صعوبتوں سے بھی گزرے، ملک بدر بھی ہوئے ترقی پسند سوچ کی وجہ سے کئی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بھی بنے لیکن انہوں نے اس پر سوئچ آف رکھا اور کسی تنقید کا جواب نہیں دیا۔ بہرحال وہ ایک انسان تھے لہٰذا زندگی میں کہیں اُن سے کوئی اونچ نیچ ہوئی ہوگی لیکن اُن کی عظمت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی معاصر کے بارے میں تلخ بات نہیں کہی۔

پاکستان کے ایک سابق سفیر کرامت اللہ غوری نے اپنی کتاب ’’بار آشنائی‘‘ میں لکھا ہے کہ جب وہ جاپان میں پاکستان کے سفارتخانے میں کام کر رہے تھے تو فیض صاحب ٹوکیو آئے۔ صدر ضیاء الحق کا زمانہ تھا اور فیض صاحب اُن دنوں ’’ناپسندیدہ‘‘ شخصیت تھے تاہم غوری صاحب نے انہیں اپنے گھر مدعو کیا۔ تاہم غوری صاحب نے لکھا ہے کہ جب افغانستان پر سوویت یونین نے قبضہ کر لیا تو اتنے بڑے واقعے پر فیض صاحب خاموش رہے انہوں نے سویت یونین کی مذمت نہیں کی۔

لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ علامہ اقبال کے بعد سب سے بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے نظریے اور رومان کو جس خوبصورتی سے اپنی شاعری میں سمویا اُس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ انہیں نہ صرف ملک کے اندر قبولیت عام حاصل ہوئی بلکہ عالمی سطح پر بھی اُن کی تحسین ہوئی۔ انہیں سوویت یونین نے لینن ایوارڈ سے نوازا۔ ایک روسی مصنفہ نے اُن کی زندگی پر روسی میں کتاب لکھی۔ یاسر عرفات جیسے لیڈروں نے اُن کے کلام کو سراہا۔ وہ بیروت میں فلسطینیوں کے ترجمان رسالے ’’لوٹس‘‘ کے ایڈیٹر رہے۔

آجکل بھارت میں حکومت کے ظلم و جبر کے خلاف جو تحریک چل رہی ہے وہاں فیض کا کلام جلسے جلوسوں میں گونج رہا ہے ہر شخص کی زبان پر ہے کہ ہم دیکھیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: