بچوں سے زیادتی کے کیسز کے تفتیشی سے ملاقات —- سمیع احمد

0

پاکستان میں سالانہ اوسطاََ دو ہزار سے زائد بچے بچیاں اغوا کر لیے جاتے ہیں۔ ریپ اور اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے معصوم لڑکے لڑکیوں کی اوسط تعداد بھی ہزار سے زائد ہوتی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایسے جرائم کے ہیں جو پولیس کو رپورٹ کیے جاتے ہیں جب کہ ایسے بہت سے جرائم سماجی بے عزتی کے خوف یا مجرموں کی طرف سے دھمکیوں جیسی وجوہات کے باعث پولیس کو رپورٹ کیے ہی نہیں جاتے۔ پاکستان میں اس نوعیت کے جرائم کا قومی سطح پر ریکارڈ رکھنے کا کوئی خصوصی نظام موجود نہیں۔

پاکستان اکثریتی طور پر مسلم آبادی والا ملک ہے، سوال یہ ہے کہ اس ریاست میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی شرح مقابلتاََ اتنی زیادہ کیوں ہے؟ ایسے جرائم کی تفتیش کرنے والے پولیس اہلکار ان جرائم کے عملی اسباب کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آج ہم ان سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سماجی طور پر ایسے جرائم کے پس منظر محرکات کیا ہوتے ہیں۔

یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے زیادہ افراد ان کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں، اسی طرح مدرسین، قریبی محلہ دار بھی اس گھناؤنے فعل میں ملوث پائے جاتے ہیں، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایسے عناصر سے واقف نہیں؟ کیا ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا، ان سے اپنے بچوں کو دور رکھنا ہماری ذمہ داری نہیں؟ کیا ہم اکثر ایسے عناصر کو خود سے نظرانداز نہیں کرتے؟ ہمارے ارد گرد ایسے شخص موجود ہیں جن کے اندر یہ جراثیم پائے جاتے ہیں مگر ہمارا ان کو نظرانداز کرنا ان کے حوصلے میں اضافے کا سبب بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سے کوتاہی برتتے ہیں اور ہمارے بچے بڑے حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

تفتیشی افسروں کے مطابق 2019 بہت تشویشناک سال رہا ان کے مطابق (دیے گۓ اعداد و شمار تفتیشی افسر کے ذاتی خیالات ہیں) پاکستان میں بچوں کے اغوا کے مجموعی طور پر 3920 واقعات سامنے آئے تھے۔ گزشتہ برس ملک میں کم سن بچیوں سے لے کر نابالغ لڑکیوں تک کے ریپ کے کل 679 واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بھی 366 واقعات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ 4000 سے زائد واقعات میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوششیں کی گئیں۔ علاوہ ازیں پچھلے برس پاکستان میں لڑکوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے 180 اور لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے 158 واقعات بھی پولیس کو رپورٹ کیے گئے۔

پاکستان جیسے اکثریتی طور پر مذہبی معاشرے میں لوگ جنسی جرائم کا ارتکاب کیوں کرتے ہیں اور کیا عدالتوں کی طرف سے سزا کا خوف ممکنہ مجرموں کو جرائم سے دور رکھنے میں مدد دیتا ہے؟ ان سوالات کے جواب میں تفتیشی افسر نے بتایا، غربت ایسے جرائم کی اہم ترین وجہ ہے۔ جنسی جرائم میں ملوث افراد معاشرتی دباؤ استعمال کرتے ہوئے پہلے سے محرومی کے شکار افراد کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مظلوم اگر کوئی غریب بالغ لڑکی ہو تو معاملہ اس کے ساتھ شادی کی پیشکش کر کے اپنے طور پر حل کر دیا جاتا ہے۔

جب میں نے پوچھا کہ ایسے جرائم کی اطلاع پولیس کو دیے جانے کے بعد بھی زیادہ تر واقعات میں مظلوم کو انصاف کیوں نہیں ملتا تو جواب دیتے ہوئے تفتیشی نے بتایا، جنسی جرائم کے مجرموں کو سزائیں دلوانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ اور میڈیکل رپورٹ بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ایسے ٹیسٹ جرم کے ارتکاب کے تین دن کے اندر اندر کروانا ہوتے ہیں۔ بہت سے مقدمات ایسے ٹیسٹ بروقت نہ کرائے جانے کے باعث ہی خارج کر دیے جاتے ہیں۔

جنسی جرائم کے ارتکاب کی پاکستان میں عام مذہبی شخصیات کی طرف سے کیا وضاحت کی جاتی ہے، یہ جاننے کے لیے میں نے ایک مذہبی تحریک کے صدر سے رابطہ کیا انہوں نے کہا، مسئلہ ہمارے ہاں اسلام سے دوری ہے۔ اسلام نے عورت کو ایک خاص مقام دیا ہے۔ جب خواتین اور چھوٹی بچیاں سرعام اور بے پردہ بازاروں میں گھومتی ہیں، تو مردوں پر شیطان غالب آجاتا ہے اور وہ جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایسا تو نہیں ہوتا کہ عورت باپردہ ہو اور کوئی اس پر حملہ کرے۔
ان کا یہ ذاتی موقف پاکستان میں عوام اور ماہرین کی بہت بڑی اکثریت کی رائے سے متصادم ہے، کیونکہ سماجی طور پر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کسی لڑکی یا عورت پر اس لیے جنسی حملہ کر دیا جائے کہ اس نے پردہ نہ کیا ہوا۔ پردہ تو عام طور پر بالغ خواتین یا جوان لڑکیاں کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں تو بہت سے کم سن بچے بچیوں کا بھی ریپ اور قتل دیکھنے میں آتا ہے۔

خواتین کے خلاف جنسی جرائم کا عورتوں کے پردہ کرنے یا نہ کرنے سے کیا تعلق ہوا؟ یہ کہنا کہ لڑکیاں اور عورتیں اس لیے جنسی جرائم کا نشانہ بنتی ہیں کہ وہ پردہ نہیں کرتیں، یہ قابل مذمت سوچ ہے۔ آبادی کے نصف حصے کو گھر میں بند کر دینا کہاں کا انصاف ہو سکتا ہے اور پھر ترقی کیسے ہو گی؟ بات صرف لباس کی نہیں، محرومی کی بھی ہے، جہالت اور سماجی منافقت کی بھی۔ اس درندگی کی بھی، جو ان مردوں کی آنکھوں اور ذہنوں میں ہوتی ہے، جو ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ویسے مجرم جو زینب اور رمشہ جیسی کم سن بچیوں کے ریپ اور قتل کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں مجموعی سیاسی ماحول بدعنوانی اور سماجی ماحول دباؤ کا شکار ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم، تفریح اور تخلیق کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے تو ان کی توانائیاں مجرمانہ اور غیر تعمیری کاموں میں ضائع نہیں ہوں گی۔ چوری، قتل اور ڈکیتی کی طرح کسی معاشرے میں جنسی جرائم کا تعلق بھی وہاں کے مجموعی ماحول، باہمی برداشت، شہریوں کی قانون پسندی، ذہنی اطمینان اور دوسروں کے لیے احترام جیسے عوامل سے ہوتا ہے۔ جہاں ایسے عوامل کی شرح غیر تسلی بخش ہو گی، وہاں جرائم بھی زیادہ ہوں گے۔ عوام کو اجتماعی طور پر آزادی کے ساتھ ساتھ ذمے داری اور ہر حال میں قانون پسندی کا احساس دلانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ لوگوں کی صرف صحت ہی نہیں بلکہ سوچ اور سماجی رویوں کو بھی صحت مند ہونا ہو گا۔

ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس تو نہیں مگر ہم صبح شام ریاستی اداروں، پولیس اور عدلیہ کو کوستے رہتے ہیں، حال میں ہی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی کیس سامنے آئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اکثیریت میں عوام الناس نے ریاست، عدلیہ اور پولیس پر سوالات اٹھائے، مگرکسی نے بھی اپنے آپ سے کچھ نہیں پوچھا، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو اس وقت تک نہیں روکا جاسکتا جب تک ہم خود یہ ذمہ داری نہیں لیتے، کیونکہ بچے صرف ریاست کی ہی نہیں ہم سب کی بھی ذمہ داری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بچوں کو جنسی استحصال سے کیسے بچایا جا سکتاہے؟ ثناء غوری
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20