اشاعتی اداروں کا احتساب: وقت کی ضرورت —— خرم شہزاد

0

وطن عزیز میں ایک زمانے سے ہر خاص و عام کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا تھا کہ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے لیکن فوج نے اپنے احتساب اور چیک ایند بیلنس سسٹم کی ایک جھلک عوام کو دکھائی جس میں کسی کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔ اب جبکہ جرنیلوں کا کچھ احتساب شروع ہو چکا ہے اور ججوں کے لیے بھی ریفرنس فائل ہو رہے ہیں تو کسی کو یہ کہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ احتساب سے بالاتر ہے۔ چنانچہ لگے ہاتھوں کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے روتے منہ بسورتے کچھ اور لوگوں کا بھی احتساب شروع ہونا چاہیے۔ پاکستان میں جہاں ایک طرف منشیات اور سمگلنگ کے کاروبار سے وابستہ افراد کسی احتساب کی زد میں نہیں آتے وہیں اردو بازار میں کھمبیوں کی طرح اگے ہوئے اشاعتی اداروں کے مالکان بھی احتساب اداروں کے سامنے سے سلمانی ٹوپی پہنے گزر جاتے ہیں۔ کسی کو خیال تک نہیں آتا کہ یہ لوگ بھی پاکستان میں نہ صرف کاروبار کر رہے ہیں بلکہ کئی ارب روپے کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ان کے معاملات کس قدر شفافیت کے حامل ہیں اور دوسرے کاروباریوں کی طرح یہ ملکی معیشت میں کتنا اور کس قدر حصہ ڈال رہے ہیں، یہ سوال کون اور کب پوچھے گا۔

کاروباری افراد کے معاملات ہمیشہ سے ہی عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر رہے ہیں۔ جہاں کاروبار دن دوگنا رات چو گنا پھل پھول رہا ہوتا ہے وہیں مالکان کے رونے کی آوازیں ملک کے دوسرے کونے تک سنائی دیتی ہیں کہ اب کاروبار میں کچھ نہیں رہا، حکومتی پالیسیاں اب دن بدن کاروباری افراد کے لیے سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہیں۔ نئے قوانین اور ٹیکس نظام نے حالات کو اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ اب کاروبار لپیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔ ۔ ۔ کاروباری افراد کا یہ رونا آپ کو ہر زمانے میں سننے میں ملے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ روز ایک نیا کاروبار کھولنے کے لیے معاملات طے کرتا کاروباری بھی نظر آئے گا۔ دوسرے کاروباری افراد کی طرح یہ رونا اشاعت کے کاروبار سے وابستہ افراد میں بھی سب سے پسندیدہ رہا ہے۔ کاغذ کی قیمت اور ڈالر کی بڑھتی قدر ایسے بہانے ہیں جو گزشتہ تین چار دہائیوں سے متواتر بیان کئے جا رہے ہیں اور اب تو صورت حال اتنی دلچسپ ہو چکی ہے کہ اپنے سوال کا متوقع جواب ہمیں پہلے ہی پتہ ہوتا ہے کہ اشاعتی اداروں نے کیا اور کیوں کہنا ہے، ہاں بھلا کہنے کا انداز سب کا جدا رنگ لیے ہوئے ہوتا ہے۔

یقینا کاروبار میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لیکن یہ بات تو پھر بھی پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو بازار میں اتنے درخت نہیں ہوتے جتنے پبلشرز موجود ہوتے ہیں۔ دکانیں نہیں بلکہ بازار کتابوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نئی کتاب، رسالہ یا اشاعتی مواد مارکیٹ میں بھیجا نہ جا رہا ہو۔ آخر اتنی اشاعت کسی وجہ سے ہی ہو رہی ہے اور اس اشاعت کا منافع بھی کوئی وصول رہا ہے تو ایسے میں سوال اٹھائے جانے کی ضرورت لازمی محسوس کی جاتی ہے۔

اشاعتی اداروں پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ صرف کتابیں، رسالے یا ڈائجسٹ چھاپ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک مکمل کاروبار ہے۔ کسی اور کاروبارکی طرح اس میں بہت سے درجے اور افراد شامل ہوتے ہیں۔ لکھاری سے مسودہ وصول کرنے کے بعد کاغذ کی خریداری، کمپوز سے کمپوزنگ، پرنٹر سے پرنٹنگ اور جلد ساز سے جلد بندی تک اشاعتی ادارے کے مالک کو درجنوں افراد سے نہ صرف واسطہ پڑتا ہے بلکہ انہیں سرمایہ فراہم کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ کچھ بھی مارکیٹ کیا جائے۔ دکانداروں کا کمیشن اس کے علاوہ ہوتا ہے لیکن عمومی طور پر ہمارے ذہن میں اس بارے میں صرف دو افراد کا ہی خیال آتا ہے، ایک لکھاری جس نے کچھ بھی لکھا اور دوسرا اشاعتی ادارے کا مالک، جس نے شائع کروا کر مارکیٹ کر دیا اور اس کے بعد کہانی ختم ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں اشاعت سے وابستہ اداروں کے لیے کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے جس کے تحت ان کا احتساب کیا جائے اور ان کے معاملات دیکھے جا سکیں۔ کوئی بھی شخص جب مرضی چاہیے کتاب، رسالہ یا کچھ بھی شائع کر کے مارکیٹ کر سکتا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں نہ ہی مارکیٹ میں کسی نئے اشاعتی ادارے کے قیام کے بارے کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے۔ جو تھوڑا بہت قانون موجود ہے وہ اس قدر کمزور ہے کہ اس کی وجہ سے گرفت میں آنے کا کسی کو ڈر ہی نہیں۔ کتابوں سے وابستہ افراد نے ایک سال میں کتنی کتابیں شائع کی اور اس پر لکھاری کو کس قدر معاوضہ دیا گیا، اشاعتی مراحل میں کس قدر رقم خرچ ہوئی اور کتنا منافع سالانہ وصول کیا گیا، اس کا حساب کتاب کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح اخبارات کا کوئی آڈٹ کرنے والا نہیں کہ ایک اخبار روزانہ کتنی تعداد میں شائع ہوتا ہے، اس نے حکومتی اور عوامی اشتہارات کی مد میں کتنا کمایا اور اس کے اخراجات کس قدر ہیں۔ ایف بی آر کے پاس کوئی بھی شخص اپنی مرضی کی ٹیکس ریٹرن فائل کر سکتا ہے اور اس کی پڑتال کرنے کا کوئی واضح نظام موجود نہیں ہے۔ یہاں تو اشاعتی ادارے آئی ایس بی این نمبر تک لینا گوارا نہیں کرتے اور نہ ہی باقاعدہ ملازم رکھنے کا رواج ہے کہ اکثر تو چل چلاو سے کام چلا رہے ہیں لیکن منافع بیگ بھر کرکما رہے ہیں۔

اس لیے ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اشاعتی اداروں کے لیے کوئی باقاعدہ نظام تشکیل دیا جائے جس میں کوئی بھی اشاعتی ادارہ اپنی باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد ہی کام کا آغاز کر سکے۔ اس کے باقاعدہ ملازمین کا نہ صرف انداج ہو بلکہ اشاعتی ادارے کی ہر کتاب کا رجسٹر ہونا بھی ضروری ہو۔ ہر کتاب کے مصنف کو معاوضے کی ادائیگی کا باقاعدہ ریکارڈ بھی موجود ہونا ضروری ہو اور کاغذ والے سے لے کر جلد ساز تک ہر شخص کی خدمات کی فراہمی پر بذریعہ بینک ادائیگی کا نظام ہونا چاہیے تاکہ بوقت ضرورت حکومتی ادارے ان اشاعتی اداروں کے معاملات کی پڑتال کرتے ہوئے ان کی شفافیت پر نظر رکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام اشاعتی اداروں کے لیے آڈٹ کا کوئی نظام بھی لاگو کرنا چاہئے تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ درجنوں لوگوں کو ادائیگی کرنے والے ادارے کے پاس صرف لکھاری کو دینے کے لیے معاوضہ کیوں نہیں ہوتا۔ شائد اسی طرح کی کچھ کوششوں اور قانونی پیش بندیوں سے ہی ہم لکھاری کے لیے کچھ کر سکیں اور اپنے مستقبل کو کسی قدر اچھا اور معیاری ادب فراہم کر سکیں۔

مصنف بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز ہیں اور مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہیں فالو کرنے کے لیے: www.twitter.com/khurram_shazad1
www.instagram.com/khurram_shahzad217
www.facebook.com/khurramnocomments

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20