ثانی اثنین ہجرت پہ لاکھوں سلام —- دبیر حجازی

0

سعادت و فلاحِ دارین کے ساتھ ساتھ تقرّبِ الوہیت کے درجات طے کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے کہ بندے کا ہر ظاہری و باطنی عمل سیرت نبوی کے نور سے منور ہو اور سبھی حرکات و سکنات کردارِ نبوی کے مشابہ ہوں، کہ یہی بندے سے اس کے ایمان کا بھی تقاضا ہے کیونکہ رضائے الہی اولاً نبی کریم ﷺ کی طرف متوجہ ہوتی ہے پھر ان کے واسطے سے دیگر تک پہنچتی ہے تو جس شخص کو جتنی کامل مشابہت نبی کریم سے ہوئی یا ہوگی اسے اتنا ہی زیادہ حصہ ملا اور ملے گا مثلا صحابۂ کرام کامل طور پر نبوی رنگ میں رنگ چکے تھے تو وہ ساری امت سے افضل ٹھہرے، رضی اللہ عنھم و رضو عنہ کے مرتبۂ علیا پر فائز ہوئے اور کفار اس مشابہت و پیروی سے دوری پہ انتہا کو پہنچ چکے لہذا وہ رضائے الہی سے بھی بالکل دور غضب قہار کی گھاٹی میں جا گرے۔

دیکھا جائے تو ظاہری اعمال میں مشابہت اختیار کرنا ممکن اور آسان ہے لیکن باطنی مشابہت اختیار کرنا بہت مشکل ہے یعنی بندے کے قلب و ذہن میں اٹھنے والے خیالات، اس کی سوچیں اس کی طبیعت و کلام حتی کہ اختیاری کے علاوہ ہر غیر اختیاری افعال کے اعتبار سے بھی وہ محبوب حقیقی کے رنگ میں رنگ جائے، یہ چیز فضل الہی کے بنا نہیں حاصل ہو سکتی۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سب صحابہ میں ممتاز نظر آتے ہیں کہ ظاہری و باطنی افعال اور اندازِ گفتگو و نشست سمیت ہر ہر عمل میں مشابہتِ نبوی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طبیعت کا حصہ بن چکی تھی جیسا کہ حضرت علی کَرَّمَ اللہ تعالٰی وجہَہُ الکریم فرماتے ہیں: اے ابو بکر! آپ رسول اللہ ﷺ سے چال، ڈھال، اور رحمت و فضل میں سب سے زیادہ مشابہ تھے، یہ تو اجمالی بات تھی لیکن سیرت نبوی و صدیقی کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو ہماری بات کی تصدیق پر بہت سی روایات مل جائیں گی مثلا:

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کے مابین مشاورت پر مبنی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے ہر موقع پر صدیقی رائے و مشورہ کا میلان بھی نبوی رائے کی جانب ہوتا تھا مثلاً جنگ بدر کے قیدیوں کے متعلق صدیقی رائے نبی کریم کی رائے کے موافق تھی، یوں ہی صلح حدیبیہ کے وقت عمرہ سے روکنے پر فاروق اعظم جیسے جلیل القدر صحابی بھی جلال میں آ گئے تھے لیکن جیسےسرکار ﷺ وعدۂ الہی پر مطمئن تھے یوں ہی صدیق اکبر بھی نبوی بشارت پر مطمئن تھے۔

بتوں اور بت پرستی سے نفرت و دوری رسول اکرم ﷺ سمیت سبھی انبیاء کرام کی طبیعت و خمیر میں شامل ہوتی ہے صدیق اکبر بھی اسی سعادت سے مشرف تھے قبولِ اسلام سے پہلے بھی کبھی آپ نے کسی بت کے سامنے سر نہ جھکایا حتی کہ بچپن میں ایک بار آپ نے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے بت کو منہ کے بل گرا دیا تھا۔

صدیق اکبر کا انداز گفتگو بھی نبوی رنگ میں رنگا ہوا تھا حضور جوامع الکلم کا ملکہ رکھتے تھے کہ مختصر الفاظ میں معانی کا سمندر موجزن ہوتا تھا مثلا ”اسلم تسلم، الخراج بالضمان“یوں ہی سیدنا صدیق اکبر کا کلام بھی فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہوتا تھا، وصالِ نبوی کے بعد جب خلافت کے موضوع پر انصار و شیخین میں گفتگو ہوئی تو اس کے متعلق ابو ذویب ہذیلی سے منقول ہے خیال رہے کہ ہذیلی خود بھی مخضرمین شعراء میں ممتاز شناخت رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں: انصار نے گفتگو کی جو بہت دراز ہو گئی اس کے بعد ابوبکر نے گفتگو شروع کی، ساری خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں کہ ابوبکر ایسے شخص ہیں جو بلا وجہ گفتگو دراز نہیں کرتے اور وه قول فيصل کے مقامات سے آگاہ ہیں، خدا قسم انہوں نے ایسا کلام کیا کہ ہر سننے والا دل و جان سے ان کو مان لے۔ یوں ہی صلح حدیبہ کی روایت کا مطالعہ کیا جائے تو فاروقی سوالات کے جواب میں جو جو جملے سرکار ﷺ نے ارشاد فرمائے ویسے ہی جوابات صدیقی زبان سے نکلے حتی کہ آخر میں سرکار ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم ضرور بیت اللہ تک پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے تو صدیق اکبر نے بھی ویسا ہی فرمایا۔

اخلاق و عادات میں بھی صدیق اکبر بالکل نبوی کردار کے مظہر تھے پہلی وحی کے نزول کے بعد سرکار ﷺ کو امی جان سیدہ خدیجہ نے تسلی دیتے ہوئے آپ کی چند اعلی صفات گنوائی تھیں کہ آپ صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کی خبر گیری فرماتے، عاجزوں کا بوجھ اٹھاتے، مہمان نوازی فرماتے اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اور جب صدیق اکبر کفار کی سختیوں اور مصائب سے تنگ آ کر مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو ابن دغنہ نے اس ارادے سے روکتے ہوئے آپ کی بھی وہی صفات گنوائی اور انہیں الفاظ میں گنوائیں جو کہ سیدہ خدیجہ نے سرکار کی شان میں بیان کئے تھے، ابن دغنہ نے کہا: آپ جیسے شخص کو یہاں سے نہ جانا چاہئے اور نہ ہی ہم جانے دیں گے، آپ صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کی خبرگیری فرماتے، عاجزوں کا بوجھ اٹھاتے، مہمان نوازی فرماتے اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20