بات کرکے دیکھتے ہیں، مشاہیرِعلم و ادب سے انٹرویوز —- مبصر: نعیم الرحمٰن

0

انٹرویو یا مصاحبہ دورحاضر میں ایک اہم صنف ادب بن گئی ہے۔ معروف انٹرویو نگار منیر احمد منیر کے بقول ’’ایک اچھا انٹرویو لینے والا اپنے مخاطب سے وہ باتیں بھی کہلوا  لیتاہے، جو وہ آپ بیتی یا سوانح میں مصلحت کے تحت ان کہی چھوڑ دیتا ہے۔ منیر احمد منیر، حسن رضوی، رؤف کلاسرا، ڈاکٹر طاہر مسعود، قرۃ العین طاہرہ اور سائرہ غلام علی نے علمی، ادبی اور سیاسی شخصیات کے بہترین انٹرویوز کیے ہیں۔ سراج احمد تنولی کے مشاہیرِ علم وادب سے انٹرویوز کی کتاب ’’بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘ حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔ جدید اردو نظم و نثر لکھنے والی تینتالیس اہم شخصیات سے مصاحبے اس کتاب میں شامل ہیں۔ سراج احمد تنولی نے روزنامہ ’’سرگرم‘‘ میں شائع شدہ انٹرویوز کا انتخاب کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ خیبر پختونخوا سے شائع ہونے والی یہ اپنی نوعیت اور موضوع کے اعتبار سے پہلی کتاب ہے۔ دلکش سرورق سے آراستہ میانوالی کے قدرے غیرمعروف پبلشر نے کتاب انتہائی خوبصورت انداز سے شائع کی ہے۔ سفید بہترین کاغذ پر چار سو چھتیس صفحات کی کتاب کی قیمت آٹھ سو روپے بھی مناسب ہے۔

سراج احمد تنولی کاتعلق ضلع مانسہرہ کے ایک خوبصورت قصبے ’دربند‘ سے ہے۔ ہزارہ ادبی لحاظ سے بہت زرخیزخطہ ہے، یہاں مختلف علوم کے علماء، شاعر، ادیب، فنکار کثیر تعداد میں ہمیشہ رہے ہیں۔ لیکن نوجوان سراج احمد نے مشاہیرِ علم و ادب کے انٹرویوز کی شکل میں ایساکام کیا ہے۔ جس کی ہزارہ کی ادبی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یونی ورسٹی تعلیم کے دوران ہی سراج احمدتنولی نے کالم مقامی اخبارات میں شائع ہونے لگے۔ اور وہیں سے وہ روزنامہ ’’سرگرم‘‘ کے مدیر محمد پرویز کی نگاہ میں آگئے اور انہوں نے اپنے اخبارکا ایک صفحہ سراج احمد کے حوالے کر دیا۔ جنہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ علم و ادب سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے علمی اور ادبی شخصیات کے انٹرویوز کا ایسا سلسلہ شروع کیا۔ جس نے ان کی اور اخبار کی ساکھ میں اضافہ کردیا۔ کسی دور دراز علاقے کے کسی نوجوان نے طالب علمی کے دور میں شاید ہی ایسا مقام حاصل کیا ہو، جو سراج احمد تنولی کو ان انٹرویوز کے ذریعے حاصل ہوا۔

ادبی انٹرویو، ملاقات نگاری یامصاحبہ نگاری اردو ادب اور ادبی صحافت نیارحجان ہے۔ جس کے ذریعے قاری کو تخلیق کارکی ذات، نظریہ ادب، فکری رحجانات، روحِ عصرسے آگاہی اور ادبی تحریروں کے پس منظر اور پیش منظر سے بخوبی آگاہ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ انٹرویو سے پڑھنے والے کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کابھی قاری کو جواب ملتا ہے۔ سراج احمد تنولی کے کیے مصاحبے محض مکالمے نہیں علم و ادب کے بھرپور منظر نامے ہیں۔ جن میں اہل ِ ادب کے ماضی کے خدوخال بھی ہیں اور حال کی تصاویر بھی۔ جن سے ہم مستقبل کے دھندلے نقوش بھی کشید کرسکتے ہیں۔ ان شخصیات کا انتخاب ہی سراج احمد تنولی کی ادب شناسی کے روشن دلیل ہے۔ ادبی مراکز سے دور ایک چھوٹے سے شہر میں ادبی صفحے کے روپ میں ادب کدہ آباد کرنا ان کی ادب سے کمٹ منٹ واضح کرتا ہے۔ کتاب مرتب کرکے انہوں نے خیبر پختونخوا کے پہلے انٹرویو نگار کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

پبلشر سمیع اللہ خان نے ’سراج کاجنون‘ کے عنوان سے تعارف میں انٹرویو کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھاہے۔

’’لفظ انٹرویو کا ماخذ تلاش کیا جائے تواس کی جڑیں فرنچ لفظ entrevue سے جا ملتی ہیں جس کا مطلب آمنے سامنے بیٹھ کر میٹنگ کرنا یا رسمی ملاقات ہے جبکہ ماڈرن فرانسیسی زبان میں لفظ انٹرویو انگریزی میں منتقل ہواہے۔ اس لفظ کو سراج احمد تنولی ہزارہ کی تاریخ کے پہلے فرد اور خیبر پختونخوا کے دوسرے فرد کے طور پرکام میں لاچکے ہیں۔

پروفیسر اسحاق وردگ کے مطابق ان سے قبل کے پی کے میں جناب خاطر غزنوی نے ’’داستان امیر حمزہ شنواری‘‘ نامی کتاب ادبی مکالمے کی صورت میں ترتیب دی تھی مگر یہ پوری تصنیف ایک ہی تخلیق کار سے سروکار رکھتی تھی۔ پہلا مشہور انٹرویو جسے علاحدہ صنف کے طورپر تسلیم کیا گیا۔ 1756ء میں آرچ بشپ ٹموتھی گبز شویلی کا لیا گیا تھا۔ ادب کی دنیا میں مشہور ناول نگاروں کے انٹرویوز دی پیرس ریویو نے 1940ء میں شروع کیے۔ اسی طرح شوبز میں اس کام کا آغاز 1969ء میں ہوا۔ ٹیلی ویژن کی تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھاجانے والا انٹرویو مائیکل جیکسن کا تھا، جسے نوے ملین لوگوں نے دیکھا۔ جہاں تک اردو صحافت میں پہلے انٹرویو کا تعلق ہے اس سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت تو نہیں لیکن جھنگ کے ایک ادبی طالب علم مبشر احمد کے مطابق یہ سہرا مولوی محمد باقر کے سر ہے۔‘‘

سمیع اللہ خان کی تحریر کافی معلومات افزاہے، اوراس سے انٹرویو، اس کی تاریخ اور پس منظرکے بارے میں کئی نئی باتیں قاری کے علم میں آتی ہیں۔

حمید شاہد جیسے فسوں گر افسانہ نگار، دانشور اور نقاد فلیپ پرکتاب کے بارے میں رائے دیتے ہیں۔

’’عین ایسے زمانے میں جب ہمارے ہاں اخبارات کے صفحات سے لگ بھگ علمی اور ادبی مکالمے غائب ہوگئے ہیں اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے ایسے مکالموں کی روایت دم توڑ چکی ہے، نوجوان کالم نگار، ذہین صحافی اور بلاگر سراج احمد تنولی نے انتہائی سنجیدگی سے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور اساتذہ کے لیے سوالات مرتب کیے اور انہیں کچھ نہ کچھ کہنے پر اُکسایا، یوں کہ غالب کا کہا سچ ہوا۔ ’میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیا‘ سراج احمدتنولی سوال کی طاقت جانتے ہیں تاہم وہ مکالمے کی تہذیب سے بھی آگاہ ہیں ہیں یہی سبب ہے کہ متنوع موضوعات پر انتہائی مناسب سوالات سے انہوں نے اپنے عہد کی نمایاں شخصیات کوکھل کربات کرنے کی تحریک دی ہے۔ یہ ایساطرزِ عمل اور مکالمے کے لیے ایسی فضا تھی کہ جواب دیتے ہوئے کہیں بھی اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ جس سے بھی مکالمہ ہوا اس نے اپنی زندگی کی کتاب کھول کر رکھ دی، اپی عمر بھر کا مطالعہ حاضر کر دیا اور تجربات اور فکر کی روشنی میں مسائل اور مشکلات کاحل سامنے رکھا۔ سراج احمد تنولی نے بہت اچھا کیا کہ ان انٹرویوز کو ایک کتاب میں یکجا کر دیا ہے اس طرح ان کی یہ سرگرمی محض اخبارات کے صفحات آکر گم نہیں ہوگی، مستقل افادیت کی حامل بھی رہے گی۔‘‘

معروف افسانہ، ناول و سفرنامہ نگار سلمیٰ اعوان کا کہنا ہے۔

’’بہت ہی شکریہ سراج احمدتنولی کاکہ ان کی اس کتاب نے مجھے اردو ادب اور تعلیمی میدان کی بے شمار گراں قدر شخصیات سے ملوایا۔ کچھ کو میں غائبانہ جانتی تھی۔ اُن کی تخلیقات کے حوالے سے شنائی تھی مگر اُن کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ نہ تھی۔ اس کتاب نے مجھ پراُن کی ذات کی بہت سے پرتیں کھولیں، بہت سے گوشے واکیے۔ میں نے زیادہ تو نہیں تاہم تعارف میں نام سے تو آگے بڑھی، بہت اچھا لگا، کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کام کیا اور مزید کررہے ہیں مگر منظر عام پرنہیں یا کم از کم میرے علم میں نہیں۔ اس کتاب نے مجھے اُن سے بھی روشناس کروایا۔ اُن کے عمدہ اور منفرد خیالات سے آگاہی ہوئی۔‘‘

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹرقبلہ ایازنے کتاب کے بارے میں کہا۔

’’زیرِ نظر مسودہ سراج احمدتنولی صاحب کی کاوشوں کامظہرہے۔ جو بجاطور پرتحسین کا حقدار ہے۔ یہ روزنامہ ’سرگرم‘ کے لیے اورملک اوربیرونِ ملک مقیم دانشور، ادبا، شعرا، مصنفین، مولفین اور ماہرین تعلیم کے تینتالیس عدد انٹرویوز پر مشتمل ایک وقیع دستاویز ہے۔ اس میں متعلقہ حضرات کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ پران کی مختصر آرا بھی شامل ہیں۔ مثلاً سی پیک اور موجودہ حکومت کی کارکردگی وغیرہ۔ نیز نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے مفید مشورے بھی شامل ہیں۔ بعض حضرات کے انٹرویوز میں، ان کی ذاتی زندگی سے ہٹ کر، معاشرہ کے لیے سرانجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ موجود ہے۔ بحیثیت مجموعی سراج احمد تنولی صاحب نے بڑی محنت کی ہے اور کتاب کو اہلِ علم کے لیے مفید علمی سرمایہ بنادیاہے۔‘‘

معروف ادیب و دانشور جمیل احمد عدیل ’’چند شبد سراج کے اعتراف میں‘‘ لکھتے ہیں۔

’’سراج احمد تنولی کے پیش نگاہ ایک مشکل اور تھی کہ انہیں متذکرہ گفت و شنید کو سب سے پہلے اخبار کے ذریعے قاری کی نذرکرناتھا چنانچہ ایک پیرامیٹر ’عام ریڈر‘ کی مناسبت سے بہرصورت موجود رہنا تھا، یوں سوال و جواب عمیق سطحوں عمداً گریزاں رکھے گئے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ رسمیات کو غالب نہیں آنے دیاگیا۔ اس سے بھی انکارنہیں کہ بعض سوالات ان مکالموں میں مشترک ہیں کیونکہ شخصی اعتبارسے شناسائی کی اہمیت ہمیشہ دامنگیر رہتی ہے۔ لیکن یہ طے ہے اس تناظر میں سوال ایک سے بھی ہوں تو جواب ایک جیسے نہیں ہوسکتے کہ ہر فرد کی داستاں جدا ہوتی ہے، طرزِ احساس اپنی انفرادیت کے اثبات پر پابندرہاہے۔‘‘

پیش لفظ میں سراج احمد تنولی نے لکھاہے۔

’’یہ انٹرویوز ادبی شخصیات کے سفر زیست کے مختلف گوشے جو خود ان شخصیات کی زبانی ہمارے سامنے آئے ہیں۔ بالخصوص ان شخصیات کی عملی و ادبی کاوشیں، معاشرے میں ان کا کردار، کامیاب زندگی کا احوال، ملکی مسائل پران کی رائے، بچوں کی تعلیم و تربیت اورمختلف امور پر ان کے خیالات بھی حددرجہ اختصار مگر نہایت جامعیت کے ساتھ آشکار ہوتے ہیں۔ انٹرویوز کی اصولی افادیت کو دیکھتے ہوئے اب انہیں کتابی صور ت میں پیش کیاجارہاہے اور انشااللہ امید ہے کہ یہ انٹرویوز ان شخصیات پرتحقیق کرنے والے طلباوطالبات کے بھی کام آئیں گے اور وہ نوجوان، جوان اور معمر افراد جوان شخصیات کے متعلق جاننا چاہتے ہیں، ان سے پیار کرتے ہیں اور علم وادب سے شغف رکھتے ہیں وہ بھی اس کتاب سے ضرور مستفید ہوں گے۔ ‘‘

’’بات کرکے دیکھتے ہیں‘‘ میں منفرد ناول ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اور ’’جندر‘‘ کے تخلیق کارشاعر، ناول نگار اور مدیر اختر رضا سلیمی سے لے کر محقق، تاریخ نویس، سفرنامہ نگار اور معلم اسدسلیم شیخ، نامور شاعر، ادیب اور کہانی نویس احمد حسین مجاہد، شاعر اظہر فراغ، معروف افسانہ نگار امین بھایانی، مانسہرہ کے شاعر امان اللہ امان، شاعر، نقاد و ماہر تعلیم پروفیسر کلیم احسان بٹ، پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل حمید، افسانہ نگارجمیل احمد عدیل، معروف نعتیہ شاعرحسین امجد، نامور شاعرہ حمیرہ جبین، نوجوان شاعر خالق آرزو، ڈاکٹر قبلہ ایاز، ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول، شاعر، نثرنگار اور بیوروکریٹ ڈاکٹر کلیم محمد کلیم، نقاد اورنگ زیب نیازی، شاعر، نقاد اور محقق ڈاکٹر طارق ہاشمی، نامورادیب اور تاریخ داں رضی الدین رضی، معروف شاعرہ انٹرنیشنل میگزین کی بیورو چیف روبینہ ممتاز روبی، ہزارہ کے نامور شاعر رستم نامی، نئی نسل کی شاعرہ رضوانہ ملک، ہندکو ادیب سید ماجد شاہ، صوفیانہ شاعر، دانشور، ادیب اور ماہر اقبالیات سید فہیم کاظمی، افسانہ وناول نگار سرور غزالی، ابھرتی ہوئی افسانہ نگار سیمیں کرن، مصنفہ، شاعرہ شمائلہ حسین، اردو پنجابی کے افسانہ نگار اور شاعر شاہد جمیل احمد، شاعرہ اور افسانہ نگارشگفتہ شفیق، افسانہ و سفرنامہ نگارشاہین کاظمی، آسٹریلیا میں مقیم معروف سفرنامہ نگارطارق محمود مرزا، مانسہرہ کی علمی و ادبی شخصیت فیاض احمد سواتی، مشہور شاعرہ لبنیٰ صفدر، سینئر بیوروکریٹ اور افسانہ نگار محمدجاوید انور، افسانہ نگار و ناول نگار محمود ظفر اقبال ہاشمی، صدارتی ایوارڈ یافتہ افسانہ نگار محمد حمید شاہد، مانسہرہ کے شاعرمحمد حنیف، غزل کے شاعر محمد اکرم جاذب، استاد، شاعرہ اور افسانہ نگار منزہ احتشام گوندل، کم عمرادیب محمد نعیم یاد، شاعر مرید باقر انصاری، شاعر و ادیب ناصر ملک، شاعر واحد سراج اور برطانیہ میں مقیم شاعر و ادیب یشب تمنا کے انٹرویوز شامل ہیں۔

بے مثال ناولز ’’جاگے ہیں خواب میں‘‘ اور ’’جندر‘‘ کے تخلیق کاراورشاعراختر رضا سلیمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ

’’میں سمجھتا ہوں کہ اردو ناول کو عالمی سطح پرپذیرائی نہ ملنے کی وجہ یہ نہیں کہ اردو میں اعلیٰ پائے کا ناول نہیں لکھا گیا۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ناول کی عالمی منڈی میں اپنے مال کا اسٹال ہی نہیں لگایا۔ یہ اسٹال تب ہی لگ سکتاہے کہ تمام بڑے ناولوں کے انگریزی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہوں۔ بدقسمتی سے دنیاکی دوسری زبانوں سے اردو میں تو بہت اچھے ترجمے ہوئے لیکن کسی بھی بڑے اردو ناول کا انگریزی زبان میں کوئی اچھا ترجمہ نہیں ہوا۔ عبداللہ حسین اورقرۃ العین حیدر نے خود اپنے ناولوں کے ترجمے انگریزی میں کیے لیکن وہ جتنے بڑے ناول تھے ان کے ترجمے اس پائے کے نہیں تھے۔ میری معلومات کی حدتک صرف ایک اردوناول کا انگریزی میں اچھاترجمہ ہوا اور وہ تھا انتظارحسین کا ’’بستی‘‘۔ بستی اچھا ناول ہے لیکن میری نزدیک وہ اردو کے دودرجن کے قریب بڑے ناولوں میں شامل نہیں لیکن اس کے باوجود وہ نہ صرف بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوا بلکہ اسے فرانس کاسب سے بڑا ادبی اعزاز بھی ملا۔ ‘‘

اختررضاسلیمی نے’’حرف کار‘‘ کے نام سے اردو املا کا پہلا ایسا سافٹ ویئر بنایا جو اردو املا کی غلطیاں خودکار طریقے سے درست کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اس بارے میں استفسار پر انہوں نے بتایا۔ ’’ادبیات کی ایڈیٹنگ کرتے ہوئے میری کوشش ہوتی تھی کہ اس میں شامل تمام تخلیقات کی املا ایک ہوں۔ یہ نہیں کہ ایک صاحب نے ’لئے‘ لکھا، دوسرے نے ’لیے‘ اور تیسرے نے’لیئے‘لکھ دیاتواسی طرح شائع ہو جائیں۔ ایک رات میں لیٹا ہوا اپنی ایڈیٹ کی ہوئی کتاب پڑھ رہاتھا اس میں، باوجود کوشش کے املا کی غلطیاں موجود تھیں۔ میں ان کے مستقل حل کے بارے میں سوچتا رہا۔ اچانک مجھے انگریزی کے ورڈ کا خیال آیا جو کچھ غلط لفظوں کو خودکار طریقے سے درست کردیتاہے۔ میں نے سوچاکہ اردو کابھی کوئی سافٹ ویئر تیار کرایا جائے۔ میں نے اسی وقت اپنے دوست سعید رضاخان سے بات کی جوکئی سافٹ ویئر بنا چکے ہیں۔ ان سے اس موضوع پرتبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہابن توجائے گا۔ لیکن اس میں لفظوں کے حوالے سے جو عملی کام ہے وہ کون کرے گا۔ میں کہامیں خود۔ اس طرح ’‘حرف کار‘‘ تیار ہوگیا۔ ‘‘

ان انٹرویوز سے مشاہیرِ علم وادب کی شخصیت اورحیات کے علاوہ کیے کام، اب تک چھپی کتابوں، آنے والی کتب کے بارے میں قاری کوعلم ہوتاہے، ساتھ ہی ان کی زیر مطالعہ کتابوں اور مطالعے کی عادات کابھی پتہ چلتاہے۔ جیسے انٹرویوز سے یہ بات سامنے آئی کہ جاسوسی ناول نگارابن صفی کو ادبی دھارے میں شامل نہ سمجھنے کے باوجود کئی نامور اہلِ قلم باقاعدہ ابن صفی کو پڑھتے رہے ہیں۔ پھر علم و ادب سے وابستہ ان افراد نے زندگی میں کسی مقام تک پہنچنے کے لیے کیا کچھ کیا۔ ادبی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔

معروف افسانہ نگارامین بھایانی نے ایک مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا۔

’’آج کے دورمیں ادیبوں کاسب سے بڑا مسئلہ اُن کے کام کی اشاعت، تقسیم کاری اوراُن کے تخلیقی کا معاوضہ اور چند صورتوں میں جائز معاوضہ بھی نہ ملناہے۔ ملک بھیرمیں موجود اشاعتی اورکتاب کی فروخت میں سرگرم ادارے دن دونی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں جبکہ اچھے سے اچھے ادیب کوکتاب خود شائع کروانی پڑتی ہے کہ ناشرین کا بس یہ ہی واویلا ہے کہ کتاب نہیں بکتی۔ مزے کی بات ہے کہ کتاب نہیں بکتی مگریہ سارے ادارے دن رات دھڑادھڑ مہنگی سے مہنگی کتابیں نہ صرف شائع کررہے ہیں بلکہ ملک کے طول وعرض میں آئے دن ہونے والے کتابی میلوں میں لاکھوں کروڑوں کی کتابیں فروخت کرتے نظر آتے ہیں ایک ناشرکسی بھی کتاب کی طباعت میں شامل تمام تر تخلیق کاروں مثلاً کاتب، مصور، گرافکس آرٹسٹ و ڈیزائنرکے علاوہ کاغذ اور دیگر میڑیل کی خریداری، پرنٹنگ پریس، بائنڈر، کتابیں فروخت کرنے والے، کتاب کی ترسیل کرنے والے، حتٰی کہ کتاب کوٹرک پرلوڈ کرنے والے تک کو ادائیگی کرتے ہیں مگر غضب تو دیکھئے کہ ادائیگی نہیں کرتے تو ادیب کو نہیں کرتے جس کے لکھے کے سبب وہ پوری کتاب جس سے ناشرسمیت اتنے سارے لوگ کما رہے ہیں۔ بلکہ اب تو یہ ہورہاہے کہ اوپر بیان کردہ تمام تراخراجات ناشرادیب کی جیب سے نکلوا رہاہے اورجملہ ادائیگیاں کرنے کے بعد اپنے منافع اورکتاب کی فروخت سے حاصل شدہ آمدنی جیب میں رکھ کرادیب کو’کتاب نہیں بکتی‘ کا مفت ایوارڈ کہہ لیں یا خراجِ تحسین تھما کر چلتا کر دیتا ہے۔‘‘

یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ لیکن تمام ناشرین ایسے نہیں ہیں۔ ملک میں بہت سے اچھے ناشربھی ہیں۔ جوکتاب کو عمدگی سے شائع کرنے کے بعداس کی مارکٹنگ بھی کرتے ہیں اور مصنف کوبھی اس کاحق دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر ’’بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘ ایک دلچسپ اور قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔ جسے ہر اہلِ علم سے پڑھنے کی سفارش کی جاسکتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20