یوم حیا کی بے حیائی ——- خرم شہزاد

0

کہتے ہیں کہ کسی تاجر نے نیل پالش کا اسٹاک منگوایا لیکن وہ خراب نکل آیا۔ وہ نیل پالش لگاتے ہی تھوڑی دیر بعد اتر جاتی تھی۔ بہت پریشان ہوا کہ اب نقصان کو کس طرح سے پورا کیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا آپ دکان کے باہر لکھ کر لگا دیں کہ ہم نے دنیا کی پہلی حلال نیل پالش درآمد کی ہے جسے وضو کے وقت باآسانی اتارا جا سکتا ہے۔ وہی کہنے والے کہتے ہیں کہ نہ صرف چند دن میں تاجر کا اسٹاک ختم ہو گیا بلکہ کئی گنا منافع بھی کمایا۔

یہ کہانی آپ نے مختلف ذرائع سے سنی اور پڑھی ہو گی جس کا حاصل یہی ہے کہ اگر کسی بھی برائی کو مذہب کے پردے میں پیش کر دیا جائے تو اس کی سنگینی نہ صرف ختم ہو جاتی ہے بلکہ وہ متبرک بھی شمار کی جاتی ہے۔ مجھے یہ کہانی آج کے ویلنٹائن ڈے کے جواب میں مذہب کے ٹھیکہ دار طبقہ کی طرف سے یوم حیا منانے کی وجہ سے یاد آئی۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے مسافتوں کو سمیٹا نہیں بلکہ ختم ہی کر دیا ہے۔ آپ لڈن شہر میں رہتے ہوئے لندن پیرس اور نیویارک میں بھی موجود ہو سکتے ہیں اور وہاں ہونے والے کسی بھی واقعے کے چشم دید گواہ ہونے سے آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسے میں مغرب اور اس کی تہذیب کے دلدادہ اگر کوئی کام کرتے ہیں تو ہم پر اس کا جواب فرض نہیں ہو جاتا۔ ویلنٹائن ڈے اہل مغرب کا ایک تہوار ہے جس کے اثرات ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث ہمارے ہاں بھی محسوس کئے جانے لگے۔ بہت ممکن تھا کہ دیگر مغربی رسومات اور تہواروں کی طرح اس تہوار سے بھی ہماری صرف آشنائی رہتی لیکن اسلام کے ٹھیکہ دار طبقے نے خود بھی اس تہوار کی رنگا رنگی کو محسوس کرتے ہوئے اسے ہمارے معاشرے میں نافذ کروا کر دم لیا ہے۔ آپ شائد اس بات سے اختلاف کریں گے لیکن اس دن کے آتے ہی ہرطرف سے بیانات اور عجب بے ڈھنگی تقاریر نے اس دن کو ان لوگوں میں بھی روشناس کروادیا جن کے پاس روٹی کمانے کے علاوہ کسی اور کام کی فرصت ہی نہیں ہوتی تھی۔

ویلنٹائن ڈے کے رد یا جواب میں جو لوگ حیا ڈے، حجاب ڈے وغیرہ منانے کا اعلان کرتے ہیں ان سب سے سوال ہے کہ آخر یہ کہاں لکھا ہے کہ کسی بھی مغربی تہوار اور رسم کے جواب میں اسلام کی طرف سے بھی کچھ نہ کچھ روشناس کروایا جائے۔ کسی بھی معاشرے اور علاقے کے رسوم و رواج اور تہوار ان لوگوں کے رہن سہن، عادات، مذہب اور خیالات سمیت دیگر درجنوں عوامل سے ترتیب پاتے ہیں، کیا یہ ہمارے اندر کی احساس کمتری ہے کہ ہم ہر معاشرے کے تہواروں اور رسوم کے جواب میں کچھ نہ کچھ اسلام کے نام پر پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمیں ماننا چاہیے کہ ہماری اسی احساس کمتری نے ہمارے اندر ایک ڈر کی کیفیت پیدا کی ہے۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کا اجلاس قران کی تلاوت سے شروع ہوتا ہے لیکن عیسائیت کو نیوزی لینڈ میں کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا۔ وہاں کی وزیر اعظم صرف ایک واقعے کی وجہ سے اسلحہ کے بارے قوانین بدل دیتی ہے اور جمعے کا خطبہ اور نماز پورے ملک میں ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کی جاتی ہے لیکن کہیں بھی اسلام کے غلبے اور عیسائیت کے زوال کی بحث شروع نہیں ہوتی۔ نو گیارہ کے واقعے کے بعد مسلمانوں کو امریکہ میں سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود ایک پولیس کمشنر کی حلف برداری میں قران کی تلاوت سے امریکیوں میں کسی ڈر اور احساس کمتری کا خدشہ پیدا نہیں ہوا تو پھر آخر ہماری برصغیر میں ذرا سی بات پر اسلام کیونکر خطر ے میں آ جاتا ہے۔

دوسری اوراہم بات کردار کی ہے۔ برصغیر میں اسلام کے پھیلاو میں اولیاء کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہم میں سے ہر دوسرے تیسرے شخص کو ایسی درجنوں کہانیاں ازبر ہوں گی کہ فلاں ولی کے کردار سے متاثر ہو کر اتنے ہزار لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ فلاں بزرگ کے کردار نے ظالم حکمرانوں کو جھکنے پر مجبور کر دیا، تو سوال یہ ہے کہ آج کے مسلمان کا کردار کہاں گیا ہوا ہے۔ جب آپ معاشرے میں بڑھتے ہوئے مغربی اثرات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہیں تو میں سوچنے لگ جاتا ہوں کہ آخر ویلنٹائن ڈے منانے والی ہزاروں لاکھوں لڑکیوں کی ماوں کے کردار اور تربیت میں ایسی کون سی کجی رہ گئی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو نماز روزے کا پابند نہ بنا سکیں۔ میں یقینا اس بات کو حق سمجھوں گا کہ ان لڑکیوں کے بھائیوں میں غیرت کی بے انتہا کمی ہے بلکہ ان کی ذات کی بے غیرتی نے گھر کی خواتین کو بھی راہ سے بھٹک جانے میں شہ دی ہے۔ میں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں پھیلے ہوئے اسلام کے ٹھیکہ دار ایک بڑے طبقے سے بھی سوال کروں گا کہ آپ کے کردار نے دوسروں کو اتنا متاثر کیوں نہ کیا کہ وہ اسلام کی حقیقی روح کی طرف لوٹ سکیں۔ یہ دن منانے والے نہ مریخ سے آتے ہیں ناں پلوٹو پر لوٹ جاتے ہیں بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ہی لوگ ہیں جن کے سامنے ہمارا مضبوط کردار ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی غیر اسلامی کام کرنے سے پہلے کئی بار سوچیںلیکن ایسا کوئی کردار کسی کا ہے ہی نہیں کہ قابل تقلید ہو۔  ویسے آج کے دن کے حوالے سے میں اس سوچ میں بھی ہوں کہ اس دن کے مخالفین کی ایک بڑی تعداد کا دل بھی انہیں رنگا رنگی پر مجبور تو کرتا ہوگا تو کیا انہوں نے یہ سوچا کہ میل ملاپ کو مذہب کا لبادہ پہنا دیا جائے؟ پھولوں اور چاکلیٹ کی جگہ کوئی اور تحفہ دیا جاتا ہے لیکن بہر حال موبائل نمبرز کے تبادلے کی کوئی صورت تو باقی ہے۔

آج کے دن اسلام اس خطے میں خطرے میں ہے اور اسی لیے ٹھیکہ داران اسلام اپنی پوری قوت سے اسلام بچانے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ہر آنے والا دن پچھلے دن سے بدتر ہی آتا جا رہا ہے۔ ویلنٹائن ڈے اگر بے حیائی کے پھیلاو کا دن ہے تو حجاب اور حیا ڈے بھی اسی زمرے میں آتے ہیں کیونکہ آپ بھی دن منانے کے قائل ہیں۔ اسلام میں حجاب اور حیا پوری زندگی کے لیے نافذ ہے لیکن آپ اسے ایک دن سے مختص کرتے ہیں تو آپ کے لیے اچھے الفاظ بہر حال استعمال نہیں ہو سکتے۔ خود سوچیں کہ اسلام کے نام پر آپ کون سی دکانداری چلا رہے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20